تازہ ترین
کورونا وائرس کی وبا کے خاتمے کا ابھی کوئی امکان نہیں
عالمی صحت تنظیم کی ٹیم کووڈ۔19 کے ذرائع کا پتہ لگانے کے لئے چین جائے گی
خبراردو:-
سرینگر: عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں کورونا وائرس کے شکار لوگوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 5لاکھ سے زیادہ ہے۔
مذکورہ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈراس عدنان گیبری ایسیس کا کہنا ہے کہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں ہے اور اس کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈراس عدنان گیبری ایسیس نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمگیر وبا خاتمے کے قریب بھی نہیں ہے اور اس کا عالم گیر سطح پر پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
پیر کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ایجنسی کو پہلی مرتبہ اس وائرس کے بارے میں اطلاع ملنے کے چھ ماہ کل منگل کو پورے ہو جائیں گے۔ ان کے ادارے کو اطلاع ملی تھی کہ چین میں نمونیا کے غیر معمولی کیسز ہوئے ہیں۔ یہی کرونا وائرس کے آغاز کی پہلی علامت تھی۔
ان کا کہناتھا کہ چھ مہینے پہلے ہم میں کوئی بھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ نیا وائرس عالمگیر وبا بن جائے گا۔ اس کے بعد سے عالمی ادارہ صحت نے شکار اور ہلاک ہونے والوں کا پورا ریکارڈ رکھا ہے۔ اسی ریکارڈ کے مطابق اب تک پوری دنیا میں کرونا متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ اور ہلاک شدگان کی تعداد پانچ لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔
ٹیڈراس نے کہا کہ اکثر ملک یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم کرونا وائرس کے ساتھ زندگی گذارنے کی کس طرح کی منصوبہ بندی کریں۔ کیونکہ یہ زندگی کا نیا معمول بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے ملکوں نے اس پر بہت حد تک قابو پایا ہے اور پھیلنے کی رفتار کو سست کیا ہے، مگر وہ اس کو مکمل طور سے مٹا نہیں سکے۔ کچھ ملکوں نے جب اپنی معیشت کو کھولا تو انہوں نے دیکھا کہ وائرس کا پھیلاؤ بڑھ گیا۔ٹیڈراس نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اب بھی تذبذب کا شکار ہیں، کیوں کہ وائرس کے پھیلنے کی گنجائیش موجود ہے۔ ٹھوس حقیقت یہی ہے کہ وائرس ختم ہونے کا نام بھی نہیں لے رہا ہے۔
ٹیڈراس نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اس ہفتے اپنا اجلاس بلا رہا ہے، جس میں کرونا وائرس کے بارے میں ہونے والی اب تک کی تحقیقات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور ترجیحات کو نئے سرے مرتب کیا جائے گا۔درجنوں ویکسین ابھی تجرباتی طور پر پہلے سٹیج پر ہیں اور کچھ تجربات کے آخری مرحلے تک پہنچ چکی ہیں۔ادھر ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے درمیان عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ وہ اس کے وائرس کا منبع تلاش کرنے کے لئے ماہرین کی ایک ٹیم اگلے ہفتے چین بھیجے گی۔
کووڈ۔19 پر باقاعدہ پریس کانفرنس کے دوران عالمی ادارہ صحت کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس گیبریس نے پیر کو کہا”ڈبلیو ایچ او نے ہمیشہ کہا ہے کہ وائرس کے منبع کی تلاش انتہائی ضروری ہے۔ تب ہی ہم اس وائرس سے بہتر طور پر اس وقت مقابلہ کرسکتے ہیں جب ہمیں اس کے بارے میں سب کچھ معلوم ہوجائے اور یہ بھی کہ اس کا آغاز کیسے ہوا۔
ہم اگلے ہفتے اس کی تیاری کے لئے ایک ٹیم چین بھیج رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہم یہ جان سکیں گے کہ یہ وائرس کیسے شروع ہوا اور ہم مستقبل کے لئے کس طرح تیاری کر سکتے ہیں“۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ وائرس انتہائی جارحانہ انداز میں پھیل رہا ہے۔ کسی ویکسین یا علاج کے دریافت ہونے تک انتظار کرنے کے بجائے ہم رابطے کا پتہ لگانے، سوشل ڈسٹنسنگ وغیرہ جیسے اقدامات سے اس کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا”اب تک ایک کروڑ سے زیادہ کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے اور پانچ لاکھ سے زیادہ افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
ہمیں جن اقدامات کے بارے میں معلوم ہے انہیں اپنا کر اس کو روکا جا سکتا تھا۔ ویکسین اور علاج ان اقدامات میں معاون ثابت ہوں گے“۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ اگر حکومتیں سنجیدگی سے اپنا کام کرتی ہیں اور کمیونٹی کی سطح پر لوگ اپنا تعاون دیتے ہیں تو وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔ ہم ویکسین تلاش کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ تب تک ڈبلیو ایچ او کی صلاح ہے کہ ہمیں اپنی طرف سے ان اقدامات کو اپنانا چاہئے۔ بہت سے ممالک نے دکھایا ہے کہ اس وائرس کو روکا جاسکتا ہے۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
