تازہ ترین
مسئلہ کشمیر ایک تاریخی حقیقت،سخت گیر رویہ لا حاصل عمل:تحریک حریت
دفعہ370کی تنسیخ مارشل لاء کارروائی
سرینگر: تحریک حریت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ایک تاریخی حقیقت ہے اوراس کو سخت گیر رویے سے حل کرنے کا عمل لا حاصل ہے۔کے این ایس کو موصولہ ایک تحریری کے مطابق تحریک حریت نے کہا کہ گزشتہ سال 4 اور5اگست کی درمیانی شب میں بھارت کی بر سر اقتدار پارٹی نے پارلیمنٹ کے اندر صرف اپنی عادی اکثریت کے بل بوتے پر آئین و قانون اور جمہوری و اخلاقی روایات و اقدار حیات کو کلی طور نظر انداز کرکے ریاست جموں کشمیر کی جغرافیائی اور علاقائی حیثیت کو یکطرفہ طور بلا کسی جواز کے ختم کرنے کا اعلان کیا اور ہندوستانی آئین و دستور میں درج دفعات 370 اور35 اے کے اندراجات کو اپنی من پسند تاویل و توجیہ سے نرا بس کی گانٹھ بن کر بڑی سینہ زوری سے کالعدم قرار دیا۔
بیان کے مطابق اس اعلان شاھی کا نفاذ ریاست کے لاکھوں بلکہ کروڑ بھر کی آبادی کو آخری وقت تک بے خبر رکھ کر بلا مبالغہ لاکھوں مردان جنگی اور بھاری بھرکم ہتھیاروں سے لیس نیم فوجی دستوں کی شہر و دیہات کی ہر گلی اور ہرکوچہ و بازار میں تعیناتی کے بعد کرفیو لگا کر پوری آبادی کو گھروں میں محصور کردیا۔کسی کو باہر آنے اور دم مارنے کی جگہ نہیں رکھی گئی۔بیان کے مطابق عوام الناس نیاس ساری غیر متوقع اور ہولناک صورت حال کے بلا کسی اطلاع واعلان کے پیش آنے کی وجہ سے کام کاج سے محروم ہوکر مسلسل ہڑتال سے اپنا خاموش احتجاج مہینوں تک جاری رکھا اور اس طرح کی پوری یکطرفہ کارروائی کو مارشل لاء جیسی کارروائی قرار دے کر اپنی بیزاری اور غم و غصے کا اظہار کیا۔
گویا کشمیری عوام نے’خموشی گفتگو ھے بیزبانی ہے زباں میری‘ کے عملی اظہار سے دنیا پر اور خود ہندوستان کے نیتاوں پر واضح کردیا کہ ھم رات کے اندھیرے میں روبہ عمل لائی جانے والی غیر قانونی،غیر جمہوری نیز بھارت کے دستور و آئین میں فراھم کردہ قانونی رویوں کے علی الرغم اس یکطرفہ غیر انسانی اور غیر مہذب فوجی قبضے کو کسی جواز اور تسلیم و رضا کے کھاتے میں ڈالنے کے لئے ہرگز تیار نہیں۔یہ الگ بات ھے کہ آپ اپنی چوری اور سینہ زوری کو کسی قانونی عمل کا نام دیتے ہوں۔بیان کے مطابق اب جبکہ ایک سال کا عرصہ ہونے کو قریب ہے۔بھارتی نیتا اور ریاست میں قا ئم افسر شاہی کی انتظامیہ تناسب آبادی کی تبدیلی کو یقینی بنانے کی خاطر اسناد شہریت جاری کررہی ھے۔
بھارتی صوبہ بہار کے ریاست جموں کشمیر میں کام کرنے والے ایک سرکاری افسر کو باشندہ کشمیر کہلانے کا اختیار دے رہی ھے اور بزعم خویش باہر کی غیر مسلم آبادی کو شہری حقوق فراھم کرکے کشمیر میں مسلمانوں کی اکثر یتی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا اپنی دانست میں ’کار لائقہ‘ انجام دے رہی ھے۔ نیز ریاست بالخصوص کشمیر کے اندر شراب خانوں کو قائم کرکے کشمیریوں کو اخلاق باختگی کا شکار کرانا چاہتی ھے۔بیان کے مطابق ھم واضح کردینا چاھتے ھیں کہ یہ مسلمانوں کے دین و مذھب میں مداخلت کا کھلم کھلا اقدام ھے،جس کا آئین و قانون اور خود کسی مذھب کی جانب سے جواز فراھم نہیں ھوتا ھے۔شراب اسلامی تعلیمات کے مطابق برائیوں کی جڑ ہے۔
اس برائی کو عام کرکے عوام الناس بالخصوص نوجوانوں کو خر مستیوں میں مشغول و منہمک رکھنے کی سرکاری فیصلے کو نافذ کرنے کی ھم پرزور مذمت بھی کرتے ھیں اور چوپٹ راج کے اس غیر دانشمندانہ فیصلے کو قابل مزاحمت بھی سمجھتے ھیں۔ بیان کے مطابق ھم میدان سیاست میں کام کرنے والے لوگ ھیں۔ہم نے سیاست اختیار نہیں کی کیوں کہ سیاست کوئی پیشہ نہیں ھے۔سیاست میں دھونس،دباو اور دھاندلی کا نہیں بلکہ دلیل و برہان اور علم و آگہی کا چلن ہونا چاھئیے۔اخلاق و کردار کی بلندی نہ کہ جبروقہر اور نسلی تفوق۔بیان کے مطابق ان دنوں ھماری ریاست میں فوجی قوت قاہرہ کا دور دورہ نظر آرہا ھے۔
برسر اقتدار حکومت کے ریاست جموں کشمیر کی جغرافیائی اور ریاستی پوزیشن تبدیل کرنے کے عمل کا آغاز ریاست کے پشتنی باشندوں بالخصوص کشمیری مسلمانوں اور ان میں بھی نوجوان پود کی پوری نسل کو ختم کرنے اور عام لوگوں کے خون بہانے کی کارروائیوں کو ’پوتر اور مباح قرار دیا ھے یہی وجہ ہے کہ ظالموں نے ہمارے شباب ملی کے خون سے ہاتھ رنگنے کے بعد لواحقین اور متعلقین کو آخری دیدار اور دفن کرنے کے حق سے بھی محروم کردیا ہے۔بیان کے ممطابق تحریک حریت جموں کشمیر کا مطالبہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ایک تاریخی حقیقت ھے اس کو سخت گیررویے سے حل کرنے کا عمل لا حاصل ہے۔
کشمیری اپنے قومی وقار کی پاسبانی کی خوگر نہتی قوم ھے جو بے وسیلہ اور کسی قوت نافذہ سے محروم قوم ضرور ھے،اس نے غیر ملکی تسلط کے چرکے سہنے کے عمل کو مسلسل دیکھا ھے لیکن اس قوم کی تاریخ گواہ ھے کہ اس نے غلامانہ زندگی قلب و ذہن سے قبول کرنے کی سپراندازی (سرنڈر) کبھی نہیں کی۔
افسوس ھے کہ عالمی ضمیر مردہ اور خوابیدہ ھے لیکن ساتھ ہی یہ صورت حال بھی کچھ کم رنج دہ اور افسوسناک نہیں ھے کہ ریاست کی جغرافیائی سرحدوں سے اپنے چھوٹے بڑے ملکوں کی سرحدی ھمسائیگی رکھنے والے ممالک بھی کشمیریوں کی چیخ و پکار بہرے کانوں سننے کے جیسے عادی ھو گئے ہیں۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
