تازہ ترین
سلام انسانیت کے محافظو سلام

مصنف:الطاف جمیل ندوی
دنیا میں اب ایک کلچر سا بن گیا ہے کہ کسی کی خدمات کے اعتراف کے بطور ہم اسے یادگار بنانے کے لئے ایک دن مقرر کر جائیں جو کسی خاص شعبہ سے وابستہ محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مخصوص ہو آج کل وبائی آفت کی اس مارا ماری صورت حال جس کے خوف سے کلیجہ منہ کو آتا ہے اس کڑے وقت میں جو طبقہ سب سے آگئے کھڑا ہے آہنی زندگی آرام و سکون کو بلا کر اپنے گھر سے دور اپنے بچوں کی کلکاریاں سننے کو ترسنے کے باوجود اپنے کام میں مگن ہے وہ ہے شعبہ طب سے وابستہ طبی عملہ جو اپنی خدمات کو انجام دیتے ہوئے اپنی زندگیوں سے بھی کچھ اطباء اور نیم طبی عملہ کہی ایک جگہوں پر ہاتھ دھو بیٹھے ہیں آج کے دن کی مناسبت سے ہم نے بھی سوچا چلو انہیں خراج تحسین پیش کیا جائے کیوں کہ آج ڈاکٹروں کا قومی دن منایا جارہا ہے۔ انسانیت کے لئے ڈاکٹروں اور Physicians کی کڑی محنت پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ہر سال پہلی جولائی کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس سال Doctor’s Day کا موضوع ہے ”کووڈ19سے ہونے والی ہلاکتوں کو کم کرنا“۔
آج جبکہ پوری دنیا کورونا وائرس وبا کے خلاف لڑ رہی ہے‘ ڈاکٹروں کی اہمیت کو پہلے سے کہیں زیادہ تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ دن اُن تمام ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرنے کیلئے ہے‘ جو اپنی صحت پر اپنے مریضوں کی صحت کو ترجیح دیتے ہیں اور چوبیس گھنٹے انہیں طبی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا پہلا قومی دن جولائی 1991 میں منایا گیا تھا۔ بھارت میں یہ دن ڈاکٹر Bidhan Chandra Roy کی سالگرہ کے ساتھ ساتھ برسی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر Roy بھارت کے مشہور ڈاکٹر اور مغربی بنگال کے سابق وزیراعلیٰ تھے وبا کے چلتے ڈاکٹر صاحبان اور نرسز نے جو ان تھک محنت کی اس کا صلہ ہم انہیں کہاں دے پائیں گئے صلہ رب الکریم کے پاس ہے انکی محنت ان کی کاوشوں کا کسی نے کیا خوب کہا ہے
Some heroes don’t wear caps, we call them doctors
کسی نامعلوم شخص کی طرف سے ڈاکٹرز کی شان میں کہا گیا یہ یک سطری جملہ ایسا ہے جسے ہم سب اپنی زندگیوں میں کبھی نہ کبھی محسوس کرتے ہیں۔ بے شک ڈاکٹرز ہماری زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک، دونوں واقعات کی تصدیق یہی کرتے ہیں۔ مرض کیسا ہی خطرناک کیوں نہ ہو، اللہ کے حکم سے یہ ڈاکٹرز ہی ہیں جو علاج کرکے ہمیں شفایاب کرتے ہیں۔ یہ بے غرض لوگ ہیں جو ہم سب کے فائدے کےلیے اس خطرناک وبا کے دنوں میں نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنے پیاروں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
دنیا بھر کے مختلف ممالک مختلف تاریخوں میں ڈاکٹرز کا دن مناتے ہیں تاکہ ان فرشتوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔ مگر سال 2020 میں اس وبا کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور اس دوران اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے بعد یہ مستحق ہیں کہ کسی خاص دن نہیں بلکہ ہمیشہ ان کی خدمات کو تسلیم کیا جائے اور ان کا شکریہ ادا کیا جائے
قومی یومِ اطباء
اگر چہ ہمارے ہاں ان Anniversaries کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ہو بھی کیونکر جب کہ ہم ایک ایسی امت کے اجزائے تراکیبی ہیں جس کا مقصدِ وجود ہی پوری کائنات کی بھلائی ہو۔ہمیں ایک ایسے بلند و بالا نصب العین سے متصف کیا گیا کہ رہتی دنیا تک ہم ہی مِشعَلِ راہ بننے کے اہل ہیں ہمیں کہا گیا کہ،کنتم خیر امة اخرجت للناس، گویا سارے جہاں کا درد ہمارے سینوں میں بھردیا گیا اور اب ہم ہی ہیں جو اس کا درماں تلاش کریں لیکن اس مطلب یہ نہیں کہ ہم قوم کے ان جانبازوں کو کسی مقام کے قابل نہ سمجھیں مشکل حالات میں اپنی جانوں کو بے خطر آزامئشوں کی بٹھیوں میں یہ جان کر بھی ڈالتے ہیں کہ وہ شاید اپنی عزیز جانوں سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔ہمیں اپنے آقا صلى الله عليه و سلم نے صاف صاف یہ بات سکھادی کہ اہلِ زمین کے احسانات کبھی فراموش نہ کرنا۔
تو یہی ہے وہ بات جس کی بدولت جب آج اقوامِ غیر اپنے اطباء کو ان کی جانفشانی کے عوض یاد کرتے ہیں تو ہمیں تو بدرجہء اولیٰ یہ فریضہ انجام دینا ہے کہ اپنے ان عظیم لوگوں کو شاباشی دیں ان کی پیٹھ تھپتھپائیں جو آج کے ان ناگفتہ بہ حالات میں اپنی زندگیوں کی پرواہ کئے بغیر انسانیت کو اس عالمی وباء سے بچانے کے لئے دن رات کوشش کرتے ہیں۔
مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہے کہ ہم ان کے احسانات کا بدلہ نہیں چکاپائے بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم ان کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں کہی بار ہم نے انہیں خون کے آنسو رلایا ہے اور ان کے احسانات کا وہ صلہ دیا کہ یہ ہی نہیں بلکہ ہر صاحب فہم شرم سار ہوگیا اور ہمارے لئے سوہان روح بن گیا کئی بار ان کے بچے آنسو آنکھوں میں سجا کر کہتے ہیں بابا مت جائیں آج پر یہ اپنے فرائض کے تئیں ہلکی سی غفلت کے بھی روادار نہیں ہوتے ہمارے ہاں تو اس کی اور زیادہ افادیت بڑھ جاتی ہے جب یہ ہڑتال ہو کرفیو ہو یا کتنے بھی نامساعد حالات ہوں اپنے گھروں سے نکل جاتے ہیں تو ان کے اہل خانہ انتہائی غم و اندوہ کی حالت میں ان کی واپسی کے لئے پریشان رہتے ہیں آج اس وبائی صورت حال میں ہمارے عزیز محترم جہانگیر احمد ندوی حفظہ اللہ اپنے چھوٹے بھائی کے تجربات بتاتے ہیں جو اپنی آنکھوں دیکھا حال کچھ یوں بیان کرتے ہیں ندوی صاحب کہتے ہیں کہ
مجھے اپنے چھوٹے برادر کے توسط سے یہ تکلیف دہ معلومات حاصل ہوئی کہ Isolation Wards میں تعینات طبی و نیم طبی عملہ اپنی پہچان اس خوف سے مخفی رکھتے ہیں کہ کہیں ان کے عزیز و اقارب کے ساتھ لوگ ناروا سلوک نہ کریں بہت افسوس ہوا یہ سن کر کہ ہم کس قدر گرچکے ہیں کہ اپنے محسنوں کو احسان کے بدلہ اپنی شناخت چھپانی پڑھ رہی ہے کیسی عبرت ناک صورت حال ہے کہ ہم اپنے ہی محسنون کے تئیں بجائے ان کی دلیری و جرآت کا اعتراف کرتے ان سے کچھ ایسا وطیرہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ ہم سے خوف محسوس کرتے ہیں اس وبا کے چلتے تو ہمیں ان کا ممنون ہونا چاہئے تھا پر ہم واقف ہیں کہ کہی ایک مقامات پر ڈاکٹر حضرات کو گالی گلوچ سے بھگایا گیا اور ان کی تذلیل کی گی
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے لئے آہنی کلیجہ بنانے والے ان اطباء حضرات اور نیم طبی عملہ کو اس نازک مرحلہ پر ساتھ دیں ان کی ہمت باندھیں ان کی کمر تھپتھپائیں اور انہیں سلامِ عزیمت و عقیدت پیش کریں تاکہ فہ فخر کے ساتھ سر اُٹھاکر انسانیت کو اس وبا سے باہر نکالنے کے لئے کام کرسکیں اور انہیں فخر محسوس ہو کہ ہم واقعی قوم کی امیدوں پر کھرےاترے ہیں چین جہاں اس وبا کی ابتداء ہوئی ایسی بھی تصاویر سامنے آئیں کہ ڈاکٹر لوگ جب اپنے گھروں کو روانہ ہوئے تو انہیں ملائیں پہنائیں گئی مختلف ممالک میں ان کے جرآت مندانہ اقدامات کے اعتراف کرتے ہوئے ان کی عزت افزائی کے لئے مختلف طریقوں سے انہیں احساس دلایا گیا کہ واقعی آپ سب قوم کے سب سے پیارے ہو
یہاں لوگ صرف غیض و غضب کرنا اچھا سمجھتے ہیں مانا کہ اس شعبہ سے وابستہ عملہ جو ہے ان میں بھی ہزاروں خامیاں ہیں پر یہ کیا کم ہے کہ اپنی زندگی اپنی خوشیاں اپنے گھریلو معاملات کو بلا کر یہ آج کھڑے ہیں یہ آج پوری جرآت سے اس مصیبت میں کام کر رہے ہیں ہمیں شکایت ہوسکتی ہے ان خونی بھیڑیون سے جو اس عظیم شعبہ سے وابستہ ہوکر اپنی دنیا بنانے میں مگن ہیں پر ہم نے بھی دیکھا ہوگا کہ کچھ اطباء حضرات ایسے بھی ہیں جنہیں دیکھ کر یا جن کو سن کر ہی سکون سا آتا ہے کہ یہ ضروری میرے مرض کا علاج کرے گا جنہوں نے کٹھن اور صبر آزما حالات میں بھی اپنے کام کے تئیں غفلت نہیں کی ہم نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں بھی اپنے بیمار کی موت پر بھیگ جاتی ہیں جب یہ علاج و معالجہ کے سلسلے میں انتھک محنت کرکے کہتے ہیں NO MORE تو یقین کریں سب سے زیادہ دکھ انہیں کو ہوتا ہے کیونکہ یہ زندگی کے آخری مرحلہ پر اس بیمار کو بچانے کے لئے اپنی پوری قوت صرف کردیتے ہیں اور اس کے کرب کو انہیں لمحات میں جان کر اپنی مقدور بھر کوشش کرنے کے باجود بھی جب بیمار زندگی کی جنگ ہار جاتا ہے تب ان کی بے بسی ان کی بے کسی قابل دید ہوتی ہے اور NO MORE کہنا ان کے لئے سب سے زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے اور سر جھکا کر سامنے سے گزر جاتے ہیں جیسے سب سے بڑے گناہگار یہی ہوں
چلئے ہم ان کی خدمات کا اعتراف کرنے کے لئے انہیں ایک بار دل سے سلام کہتے ہیں ان کے ہاتھ چوم لیتے ہیں کہ آئے مسیحا جا اللہ تیری دنیا و آخرت تیرے لیے وجہ تسکین قلب و جگر بنا دے
سلام اے انسانیت کے محافظو سلام
آج میری طرف سے اپنے ان محسنوں کے نام
آج دل میں اک ہوک سی اٹھی یہ سوچ کر سوچا
کہ ارے کون لوگ ہیں یہ اتنی بڑی بڑی ڈگریاں لے کر
بھی اسپتال میں بیمار کو سہارا دیتے ہیں
کیا یہ بہت غریب ہیں کہ انہیں جیب خرچ بھی نہیں
کیا انہیں کھانے کو بھی کچھ ملتا نہیں
کیسے لوگ ہیں یہ دو پیسوں کے لئے موت سے آنکھیں ملا رہے ہیں انہیں کیا ڈر نہیں لگتا کیا انہیں اپنوں کی یاد نہیں آتی ان کے بچے نہیں ہیں کیا کیا ان کا دل نہیں ہے جو بچنے کی خواہش نہیں مچلتی
یہ اپیلیں کر کیوں رہے ہیں خود گھروں میں کیوں نہیں رہتے یہ کیا بات ہوئی خود اسپتال میں پیسہ کما کر ہمیں گھر رہنے کا کہہ رہے ہیں یہ کیا بات ہوئی اسپتال میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ دعوتیں اڑا رہے ہیں
تو یاد آیا
اصل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو
یہ ہمارے اصلی ہیرو ہیں
یہ ہمارے اصلی جانباز ہیں
یہ ہمارے اصلی خیر خواہ ہیں
ان کے دل میں پر صرف اپنوں کے لئے نہیں دڑھکتے
بلکہ انسانیت کے لئے
ان کے ارمان بھی مچلتے ہیں جینے کے پر یہ اپنے ارمان دفن کردیتے ہیں
یہ ذرق برق لباس کا شوق تو رکھتے ہیں پر بیمار کے لئے ہلکا پھلکا ہی ہیں لیتے ہیں
انہیں بھوک لگتی ہے پر مریض کو دیکھ کے ہی مر جاتی ہے
یار
دل کرتا ہے آج تک سیلوٹ کرنا نہیں سیکھا
پر دل سے انکو سیلوٹ کرنے کو جی چاہتا ہے
کیوں کہ اب انہوں نے دل میں جگہ بنا لی ہے
تم جیو اس مشکل وقت میں
پوری قوم تمہارے لئے دعا گو ہے
تم جیت جاؤ یہ بازی
ہزاروں نگاہیں منتظر تک رہی ہیں
سلام تمہاری ہمت و شجاعت کو یہ دل تم پر قربان ہوئے جارہا ہے آئے ملت کے خیر خواہو تم سلامت رہو
اب میرے
دوستو پلیز
سب کے سب
انہیں ایک سیلوٹ دل سے ہی کردو
کومنٹ میں کسی ساتھی ڈاکٹر کو ایڈ کرکے
دل سے سلام و سیلوٹ کرے
(بشکریہ الطاف جمیل ندوی )
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
