تازہ ترین
کورونا وائرس: ایک دن میں مزید 8 اموات،وادی میں 100کا ہندسہ عبور
جموں وکشمیر میں کورونا سے متعلق اموات کی تعداد بڑھ ک 115تک ہوگئی
خبراردو:-
سرینگر: جموں وکشمیر میں کورونا وائرس کی قہر ساما نیاں جاری رہنے کے بیچ وادی کشمیر کے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ،صدر اسپتال اور سی ڈی اسپتال میں کورونا وائرس اور دیگر امراض میں مبتلاء سرینگر،کولگام،شوپیان، سوپور اور بڈگام سے تعلق رکھنے والے زیر علاج8مریضوں کی موت ہوگئی۔
اس طرح جموں وکشمیر میں کورونا سے متعلق اموات کی تعداد بڑھ کر115ہوگئی۔وادی کشمیر میں 100کا ہندسہ عبور ہوچکا ہے اور یہاں اب102ہلاکتیں ہوئیں جبکہ جموں میں یہ تعداد13ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں کشمیر میں مزید 8 افراد کورونا وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے۔
وادی میں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں 4 اورایس ایم ایچ ایس (صدر اسپتال) میں جمعرات کے روز3مریضوں کی موت ہوئی جبکہ سی ڈی اسپتال میں ایک مریض کی موت ہوئی۔ جمعرات کی صبح ہونے والی پہلی 2کورونا ہلاکتیں کولگام کے ہٹی پوری اور بارہمولہ کے ایک شہری کی تھیں جبکہ دوسری 2ہلاکتیں بٹہ مالو سرینگر اور بڈگام کے شہریوں کی تھیں جبکہ بعد ازاں مزید4افراد کی موت ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ،ڈاکٹر نذیر چوہدری نے بتایا کہ ضلع سرینگر کے بٹہ مالو علاقے سے تعلق رکھنے والی65 سالہ خاتون اور ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والے 75سالہ مریض جن کا کورونا ٹیسٹ جمعرات کو مثبت آیا، کی موت بدھ کی رات ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ دونوں مریض نمونیا اور ہائپر ٹینشن کے علاوہ دیگر کئی امراض میں مبتلا تھے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں کو بدھ کے روز یہاں داخل کیا گیا تھا۔ اس سے قبل جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام اور شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے 2مریضوں کی صورہ میڈیکل میں موت ہوئی تھی۔سکمز کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ،ڈاکٹر فاروق جان نے ان اموات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کولگام کے یاری پورہ علاقے سے تعلق رکھنے والے55 سالہ کورونا متاثرہ مریض کو یہاں 22 جون کو لایا گیا تھا اور جمعرات کے روز دن کے قریب سوا 12بجے اس کی موت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ متوفی ہائپر ٹینشن کے علاوہ بھی کئی امراض میں مبتلا تھا۔موصوف ڈاکٹر نے کہا کہ بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے 65 سالہ مریض کو یہاں دس روز قبل لایا گیا تھا اور جمعرات کو اس کی یہاں حرکت قلب بند ہونے سے موت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ متوفی بھی ہائپر ٹینشن اور دوسرے امراض میں مبتلا تھا۔جمعرات کو بعد دوپہر اُس وقت پانچویں موت ہوئی جب کولگام کے65سالہ شہری کی موت صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں ہوا۔مذکورہ مریض کا بھی کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے سپر انٹنڈ نٹ،پروفیسر فاروق جان نے کہا کہ تاریگام کولگام کے مذکورہ مریض کو23جون کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ان کا کہناتھا کہ مریض کو جی ایم سی اننت ناگ سے یہاں منتقل کیا گیا تھا۔مریض مختلف امراض میں مبتلاء تھا ور 2بجکر30منٹ پر انتقال کرگیا۔
دن کی چھٹی موت صدر اسپتال سرینگر سے رپورٹ ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کولگام کے شہری کی صدر اسپتال سرینگر میں جمعرات کو موت ہوئی اور وہ کورونا پازیٹیو تھا۔صدر اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ،ڈاکٹر نذیر چودھری نے بتایا کہ کولگام کے شہری کو 30جون کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور وہ کئی امراض میں مبتلاء تھا اور جمعرات کو اسپتال میں اُسکی موت ہوئی۔دن کی 7ویں موت سی ڈی اسپتال سے رپورٹ ہوئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ حبہ کدل سرینگر کا60سالہ شہری کی کووڈ۔ 19کیلئے مخصوص اسپتال سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ سرینگر میں موت ہوئی۔
اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم ٹاک نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مریض کو اسپتال میں 29جون کو داخل کیا گیا تھا۔مریض ذیابطیس، نمونیا اور ہائپر ٹینسیو امراض میں مبتلاء تھا اور یہ کورونا پازیٹیو مریض تھا جسکی موت جمعرات کو ہوگئی۔سہ پہر پانچ بجے کے قریب سکمز صورہ میں زیر علاج اور ایک کورونا مریض کی موت واقع ہوئی۔
سکمز کے سپر انٹنڈنٹ پروفیسر فاروق جان نے بتایا کہ نادی گام شوپیاں کا 65سالہ شخص کورونا سے جاں بحق ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مذکورہ شخص کو یکم جولائی کے روز اسپتال میں بھرتی کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ مذکورہ شخص کئی امراض جن میں نمونیا شامل ہیں کا شکار تھا۔ یہ دن کے دوران ہونے والی آٹھویں کورونا ہلاکت تھی۔قابل ذکر ہے کہ کورونا کے متاثرین میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔جمعرات کو وادی کشمیر میں ہوئی8اموات کیساتھ ہی جموں و کشمیر میں کورونا سے متعلق اموات کی مجموعی تعداد بڑھ کر115 ہوگئی۔ان اموات میں سے102کا تعلق کشمیرجبکہ13کا تعلق صوبہ جموں سے رکھتے ہیں۔
وادی کشمیر میں ضلع سرینگر میں اب تک کورونا سے متعلق سب سے زیادہ27 اموات درج ہوئی ہیں اور دوسرے نمبر پر ضلع بارہمولہ ہے جہاں اب تک18 افراد کی اس وائرس میں مبتلا ہو کر موت ہوئی ہے۔ضلع کولگام میں 16، شوپیاں میں 13، اننت ناگ میں 9، بڈگام میں 8، کپوارہ میں 6، پلوامہ میں 4 اور بانڈی پورہ میں ایک مریض کورونا میں مبتلا ہوکر زندگی کی جنگ ہارگیا ہے۔
جموں وکشمیر میں کورونا متاثرین کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
