تازہ ترین
ہند۔چین کشیدگی :وزیراعظم ہند کا اچانک اور غیر متوقع دورہ لہیہ
بھارت کا چین کو پیغام
فوجی افسران سے لی سرحدی صورتحال پر بریفنگ،فوجی جوانوں سے کیا خطاب کہا ’توسیع پسند طاقتیں یا تو ہار گئیں یا واپس گئیں‘
خبراردو:-
سرینگر،لہیہ: ہند۔چین کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی اور تناؤ کے بیچ جمعہ کو اچانک اور غیر متوقع طور پر وزیر اعظم ہند نریندر مودی لہیہ لداخ پہنچ گئے،جہاں انہوں نے سرحدی صورتحال کے حوالے سے فوجی افسران سے بریفنگ لی۔ یک روزہ ”سر پرائز دورے‘‘ کے دوران نریندر مودی نے فوجی اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توسیع پسندی کا دور ختم ہوگیا کیونکہ توسیع پسند طاقتیں یا تو ہار گئی ہیں یا انہیں واپس جانے کیلئے مجبور ہونا پڑا ہے۔
انہوں نے فوجی جوانوں سے مخاطب ہوکر کہا’آپ کا جذبہ ہمالیہ کی بلندیوں سے بھی اونچا ہے‘۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے جمعہ کی صبح لہیہ لداخ پہنچ کر سب کو حیران کردیا۔اچانک اور غیر متوقع دورے کے دوران جہاں اعلیٰ فوجی عہدیداروں نے انہیں تازہ ترین سرحدی صورتحال کی تفصیلات فراہم کیں۔
وزیر اعظم ہند کے ہمراہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل، بپن راوت اور فوج کے سربراہ، جنرل منوج مکند ناروانے بھی تھے۔ قابل ذکر ہے کہ نریندرمودی نے یہ دورہ اس وقت کیا، جب چین اور ہندوستان کے درمیان حقیقی کنٹرول لائن پر ماہ مئی سے کشیدگی جاری ہے جس نے حالیہ دنوں کے دوران شدت اختیار کی ہوئی ہے۔ اس تناظر میں وزیر اعظم ہند کا یہ اچانک دورہ انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔
دفاعی ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم جمعہ کی صبح حقیقی کنٹرول لائن پر”نمو نامی فارورڈ ایریا“اچانک پہنچے اور وہاں فوج، فضائی فورس اور آئی ٹی بی ٹی کے اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو فوج کے اعلیٰ عہدیداروں نے حقیقی کنٹرول لائن کی تازہ ترین سر حدی صورتحال کے حوالے سے مکمل تفصیلات فراہم کیں۔ ان کا کہناتھا کہ اس موقع وزیر اعظم فوجی جوانوں سے بھی ملے اور انہیں مشکل حالات میں جانفشانی سے فرائض انجام دینے پر حوصلہ افزائی کی۔
https://www.facebook.com/Khabarurdu/videos/270980927679110/?t=1
یاد رہے کہ مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کا جمعہ کے روز متوقع دورہ لیہہ موخر کیا گیا۔اس سے قبل آرمی چیف جنرل ناروانے نے 24 جون کو مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن کا دورہ کر کے موجودہ زمینی صورتحال کا جائزہ لیا تھا۔ واضح رہے کہ لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر15 اور16 جون کی درمیانی شب کو چین اور بھارت کی افواج کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی جس میں ایک کرنل سمیت 20 ہندوستانی فوجی اہلکار ہلاک جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوگئے تھے۔
چین کا بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا تھا لیکن وہ اسے تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق فوج نے موجودہ صورتحال اور کسی بھی دفاعی کارروائی کے لئے جنگی ساز و سامان بشمول توپیں، میزائل، ٹینک اور لڑاکا طیارے سری نگر۔لیہہ شاہراہ اور بھارتی فضائیہ کے ہوائی جہازوں کے ذریعے حقیقی کنٹرول لائن کے نزدیک پہنچا دیے ہیں۔ تاہم دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ لداخ میں جنگی ساز و سامان کو دفاع کے لئے لایا جارہا ہے جنگ کے لئے نہیں۔
ہندوستان مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے حق میں ہے۔لداخ میں وزیر اعظم نے سیکیورٹی بریفنگ حاصل کرنے کے بعد فوجی اسپتال کا دورہ کیا،جہاں انہوں نے زخمی اہلکاروں کی عیادت کی۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اس دورے کے دوران وزیرا عظم ہند نریندرمودی نے چین پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ توسیع پسندی کا دور ختم ہوگیا ہے، یہ تری کا دور ہے۔ان کا کہناتھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ توسیع پسند طاقتیں یا تو ہار گئی ہیں یا انہیں واپس جانے کیلئے مجبور ہونا پڑا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جو کمزور ہیں وہ کبھی بھی امن کی پہل نہیں کرسکتے، بہادری کیلئے امن ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ ہو یا امن، جب بھی ضرورت پڑی ہے، دنیا نے ہمارے بہادروں کی جیت اور امن کی کوششوں کو دیکھا ہے،ہم نے انسانیت کی بھلائی کیلئے کام کیا ہے۔جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آپ کا جذبہ ان اونچائیوں سے زیادہ ہے جہاں آپ تعینات ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ خود کفیل ہندوستان کا عہد آپ کی قربانی اور دلیری کی وجہ سے مزید مضبوط ہوتا ہے۔
لیہہ میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ14 کور کی بہادری کے بارے میں ہر جگہ بات کی جائے گی، آپ کی بہادری اور دلیری کے قصے ملک کے ہر گھر میں گونج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ماتا کے دشمنوں نے آپ کی آگ کو مزید بھڑکا دی ہے۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
