تازہ ترین
ریاست کے نامور عالم دین ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئے
الطاف جمیل ندوی
موت کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے کسی کو بھی مفر نہیں۔ جب پیارے نبی محمد- صلی اللہ علیہ وسلم -کو موت آکر رہی؛تو پھر دوسرے کی کیا بات! موت تو مہربان رب کے دیدار کا ایک ذریعہ ہے؛اگر آدمی کا انتقال نہ ہو؛تو اپنے رحیم وکریم رب کا دیدار کیسے کرے گا
موت نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ چاہے انسان ہویا حیوان یا پھر چرند وپرند ہو، سب جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ نظام اس دنیا کے پیدا کرنے والے کا ہی بنایا ہوا ہے۔ سچے مالک نے قرآن کریم میں فرمایا ہے: ”کُلّ نَفْس ذَائِقَة الْمَوْت“ (سورہ آل عمران، آیت:۱۸۵) ترجمہ:(تم میں) ہرجان دار کو موت کا مزہ چکھنا ہے؛ چناں چہ سب کے سب انبیاء ورسل، صحابہ وتابعین اوراولیاء وصلحا کو اس جہان سے کوچ کرنا پڑا۔ ہم سب کو بھی ایک دن جانا ہوگا
وادی کشمیر کے ضلع اسلام آباد کی جامع مسجد راحت دیدی کے خطیب و امام مدرسہ جامع الکبیر کے مہتمم مولانا مبارک کے انتقال کی خبر بجلی بن کر گری اہل علم کے درمیان اہل علم کے قافلہ کے ایک عظیم ساتھی کا یوں بچھڑ جانا انتہائی کربناک ہے پر کیا کیا جائے تقدیر الہی کے سامنے ہم تو صرف دعا کے علاوہ آنسوؤں اور آہون کی سوغات ہی دے سکتے ہیں اس کے سوا ہم سب محتاج ہیں
مولانا کا مختصر تعارفی خاکہ
افسوس کہ سمجھا نہ اھل نظر نے ھم کو
ھم وقت کی زنبیل میں ھیروں کی طرح تھے
نام ۔۔مولانا مبارک احمد شیخ ابن غلام محی الدین شیخ
آبائی وطن ۔۔پاریون کولگام مگر کچھ دہائیوں سے مہی پورہ میں سکونت پزیر تھے اور وہی ناکح بھی ہوا تھا
پانچ بچے ہیں ۔۔دو بیٹیاں اور تین بیٹے۔۔۔ابھی تک صرف ایک بیٹی کی شادی ہوئی ہے
۴۸سال کی عمر میں کل رات خالق حقیقی کے در پر حاضر ہوئے
مولانا مرحوم انتہائی درجہ کے سادہ و منکسر المزاج کے مالک تھے شرافت سادگی ان کی زندگی کا جز تھا لوگ اکثر ایک بات کئی بار پوچھتے محال ہے کہ مولانا کے ماتھے پر شکن نمودار ہو بلکہ ہر بار انتہائی ادب و احترام کے ساتھ جواب دیتے ہر کسی سے مشفقانہ رویہ اختیار کرتے اسی سادہ مزاجی کے سبب ضلع اسلام آباد کی مقبول شخصیت تھی ہر کوئی ان سے استفادہ کرنے کے لئے کوشاں رہتا اور خوشی و مسرت کے جذبات لے کر رخصت ہوجاتا مولانا اپنی زات میں ایک انجمن اک بزم تھے جامع مسجد میں خطابت کے فرائض انجام دیتے تھے جہاں کا ہر نمازی مولانا کی جدائی پر اشک بار آنکھوں سے مولانا کو الوداع کر رہا ہے لوگوں کی کثیر تعداد شریک نماز جنازہ ہوئی اور کچھ ایسے بھی تھے جن کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں
مختصر تعلیمی و تبلیغی سفر
ابتدائی تعلیم دارالعلوم سواء السبیل کھانڈی پورہ میں حاصل کی اسکے بعد اپنے شیخ عارف بااللہ حضرت مولانا حمید اللہ صاحب کھانڈی پورہ کے حکم سے اپنی تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کے لئے دارالعلوم بلالیہ کی جانب سفر کیا ۔اسکے بعد وہاں کچھ سال رہ کر وہاں سے عالمیت کرکے اپنے شیخ کے حکم سے 1996 میں اسلام آباد میں مشہور و معروف مسجد رحت دیدی میں بطور امام کے منصبے پر فائز ہوئے ۔۔اور اپنی وفات تک وہیں دین کی خدمت انجام دے رہے تھے۔۔۔۔جہاں اس وقت کفر وشرک کی بہت زیادہ یلغاریں تھیں۔۔۔جہاں مولانا کو تقریبا ابتدائی 15 سالوں تک شرک و بدعت کے پجاری پریشان کرتے تھے اور مولانا کو بہت ستایا گیا ۔ایک مرتبہ فرمانے لگے بیٹا جس مسجد میں آپ ہو یہاں یہ دینی ماحول بنانے کے لئے مجھے اور (جبار کاک کو ۔۔جو تقریبا 35 سالوں سے اس مسجد کی خدمت انجام دے رہے ہیں)یہاں کے لوگوں نے داڈھی پکڑ کر گسیٹا گیا لیکن ہم برداشت کرتے رہے کیوں کہ شیخ کا حکم تھا۔۔۔۔مولانا اپنے شیخ کو پیار سے( مولوی صوب کہتے تھے)کبھی بھی انکی بات کو انہوں نہیں ٹالا ہوگا ۔۔۔
لیکن اس مسجد میں جہاں صرف شرک بدعت کی محفلیں ہوتی تھی۔۔مولانا کی بے انتہاء محنت کی وجہ سے اللہ کے فضل سے پھر دعوت تبلیغ کا مرکز بن گیا۔۔اور اتنے ہی پر بس نہیں بلکہ 2012 سے مدرسے کی ابتداء بھی اسی مسجد سے ہوئی اور مدرسہ بننے تک ۔۔جو کہ تقریبا ڈھائی سال کی مدت ہے۔۔۔اسی مسجد میں مدرسہ رہا۔۔۔اور میں ناچیز اس مدرسے کا سب سے پہلا طالب علم تھا۔۔۔۔۔
مدرسہ کی تعمیر و تجدید میں جو محنت مولانا نے کی شاید ہی کسی عالم کے حصہ میں ایسی محنت و مشقت آئی ہو ۔۔
ایک طالب علم کے تاثرات مجھے آج بھی یاد ہے کی جب مدرسے کے لئے زمین خریدی گئی تو اسکی قیمت اس وقت ایک کروڈ تیس لاکھ مقرر ہوئ ۔۔اور وہ رقم 4 مہینے کے اندر اندر ادا کرنی تھی۔۔ورنہ زمین واپس کرنی تھی۔۔۔۔تو مولانا نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے محنت شروع کی اور اپنے ساتھ اپنے قریبی تین ساتھیوں کو ساتھ لیا ۔۔۔اور پورے رات دن محنت کرتے رہے ۔۔اللہ گواہ ہے کہ میں اور جبار کاک ہر دن رات کے بارہ بجے کبھی ایک بجے تک کھانا کھانے کا انتظار کرتے تھے۔۔۔۔اور اللہ کے فضل سے چار مہینے کے اندر اندر مولانا نے پورا قرضہ ادا کردیا لوگوں نے بھی مولانا مرحوم کو مایوس نہیں کیا بلکہ ہر کسی صاحب نے بڑھ چڑھ کر اپنی طرف سے مقدور بھر معاونت کی
اتنی بڑی رقم کا جمع کرنا کوئی اسان کام نہیں تھا ۔۔۔مگر مولانا کے ان چوبیس سالوں کی محنت نے ۔۔ جو مولانا نے جامع مسجد سے شروع کی تھی کا یہ بدلہ ملا مولانا نے اسلام آباد کے لوگوں میں اپنے اخلاق حسنہ ۔۔شریف النفسی اور معتدل شخصیت کی وجہ سے عوام کے دلوں میں رچ بس گئے تھے اور عوام کے لئے قابل اعتماد شخصیت کے بطور جانے پہچھانے جاتے تھے
کشمیر کے معروف کالم نگار
مولانا الطاف حسین ندوی کشمیری کے تاثرات
مولانا مبارک صاحب رحمۃ اللہ علیہ انتہائی نرم مزاج مبلغ اور بہت ہی ملنسار ہمدرد داعی دین تھے ۔ میں نے مکتبہ فکر دیوبند سے وابستہ کشمیری مبلغین اورعلماء میں ایسا نرم خو شخص نہیں دیکھا ہے ۔مولاناچراغ الدین رحمۃ اللہ علیہ اور مفتی عبدالغنی ازہری صاحب مدظلہ العالی کے بعد یہ وہ پہلے دیوبندی عالم اور مبلغ ہیں جنہوں نے کامیابی کے ساتھ اسلام آباد قصبہ میں نہ صرف کامیاب دینی ادارہ قائم کیا بلکہ تبلیغی جماعت کے لیے بھی رحت دیدی مسجد میں مرکز قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔تائید الٰہی سے انکار نہیں مگر ان کامیابیوں میں مولانا کی ذاتی لگن خلوص و محبت اورجہد مسلسل سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ مبارک صاحب نے امامت خطابت اور کامیاب عامل کے طور پر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو دین کے لئے وقف کیا اور یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے یہ فروعی اور مسلکی وفکری اختلافات کو اہمیت نہیں دیتے تھے جس سے یہ مشن میں کامیاب ہوئے اور انہیں اس بات کایقین تھاکہ کشمیری مسلمان چند مہینوں یا سالوں تک بڑے سے بڑے اختلاف کرنے والے عالم کو برداشت ضرورکرلیتے ہیں مگر بلاآخر اس طرح نظراندازکردیتے ہیں کہ خود وہ بھی دنگ رہ جاتاہے اس لئے کہ مسلکی اورفکری اختلافات کو جس جلتے معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے وہ کشمیریوں کی فطرت سے بہت بعید ہے
ان کے چھوٹے بھائی مکرمی منیب صاحب کے تاثرات
میرا بھائی والد کی طرح میرے لئے فکر مند رہتا تھا جب بھی بازار جاتے اپنے بچوںکی ضروریات کے لئے تو مجھ سے ضرور پوچھتے کہ کچھ چاہئے میں ہاں یا نا کرتا پر کچھ نہ کچھ آکر میرے ہاتھ میں تھمادیتے
جب مولانا مرحوم عمرے کی سعادت کے لئے رخت سفر باندھ رہے تھے میں تھوڑا سا ملول لگ رہا تھا تو مولانا نے میرے پاس آکر میرا کاندھا تھپ تھپایا اور بولے منیب کوئی بات نہیں ہے میرے بعد تم بھی جاؤ گئے گر اللہ نے چاہا جب عمرہ کرکے واپس آئے تو کچھ دن بعد میں نے یوں ہی کہا بھائی جان میں کب جاؤں گا آپ نے بتایا تھا تو کہا بس میں نے انتظام کرلیا ہے جلد ہی پاسپورٹ آجائے گا میں اپنے اس والد جیسے بھائی کو دیکھتا ہی رہ گیا کہ مجھے خبر ہی نہیں مگر بھائی نے انتظام بھی کرلیا ہے روانگی کے وقت میرے والد صاحب نے کچھ رقم دی تو بھائی نے ڈانٹا والد صاحب سے کیوں لی رقم میں دوں گا انہیں واپس کردو
میں دوران تعلیم ریاست سے باہر تھا میرے نکاح کی بات چلی گھر آکر شش و پنچ میں تھا کہ کیا کروں بھائی سے بات کی کہ کچھ خریداری کرنی ہے بازار سے بھائی نے جواب دیا کہ میں نے کرلی ہے دیکھ لو پسند آئے تو بہتر نہیں تو میں پھر سے انتظام کرتا ہوں ان ضروریات کا جو آپ کی پسند کی نہیں ہوں گئی میں بھائی سے نہیں بلکہ اپنے محسن اپنے مربی اپنے دوست سے محروم ہوا ہوں ان کی جدائی کا غم اٹھائے زندگی گزارنا انتہائی کٹھن اور صبر آزما ہے
آئے عشّاق، گئے وعدہٴ فردا لے کر
اب انھیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر
برادر طلحہ ندوی کی زبانی منظر جنازہ
جنازہ کے متعلق یہ معلوم ہوا کہ 2:30 بجے ہوگا ،اس لئے میں نے جمعہ کی تیاری میں مشغول ہونا چاہا مگر دل اچاٹ، کئی بار کتاب کھولی ایک دو منٹ پڑھتا تھا، دل نہ لگنے کی وجہ سے دوبارہ بند کرتا تھا ، بعد میں 12:30بجے نماز جنازہ کا وقت مقرر ہوا ،تو عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازہ میں شرکت کے لئے رخت سفر باندھا ، ہچکیاں ہم سفر تھیں ،کرونا وائرس کے باعث تمام بڑے راستے مسدود تھے ، ایس ٹی ایف اور پولیس جنازے میں شرکت سے روکتے تھے مگر ہجوم عاشقان پیدل کھیتوں اور باغوں کے تنگ راستوں سے گزرتے ہوئے مہی پورہ کولگام پہنچتے تھے ،تین جگہ ہمیں بھی روکا گیا بالآخر ایک تنگ گلی سے ہم بھی جنازہ گاہ میں پہنچے۔
اللہ اکبر ____کیا منظر تھا ،
کیا آپ نے کبھی کسی شہید کا جنازہ پڑھا ؟
اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو پھر آپ کو سمجھنا مشکل نہ ہوگا ______
دور دور تک سر ہی سر نظر آتے تھے ، ہر ایک کی آنکھیں نم اور چہرے پر غم کے بادل ، ان اداس چہروں کے بیچ جب ہم پہنچے تو عین اسی وقت حضرت رحمہ اللہ کا جنازہ پہنچ گیا ،نعرہ تکبیر کی آواز فضا میں گونجی__واہ واہ __ جس نے پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بلند کیا تھا ،منبر ومحراب میں ، جلسوں اور جلوسوں میں ،خلوت اور جلوت میں ،آج اس کے جنازہ پر بھی اسی رب واحد کا نام بلند ہوا ۔۔۔۔ سبحان اللہ
مفتی غلام محی الدین صاحب مدظلہ نے اعلان کیا کہ عارف باللہ مفتی عبدالرشید صاحب تشریف لارہے ہیں جب تک ان کی تشریف آوری ہوگی ، تب تک وہ مختصر خطاب کریں ، بعد اذاں حضرت مولانا ارشد صاحب ندوی حفظہ اللہ سے خطاب کی فرمائش، حضرت ندوی صاحب نے جوں ہی مائیک ہاتھ میں لی ان پر گریہ طاری ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام لوگوں پر گریہ طاری ہوا ، کچھ دیر بیان فرمایا ، مفتی عبدالرشید صاحب بھی تشریف لا چکے تھے انہوں نے بھی دو تین منٹ خطاب فرمایا ،اس کے بعد ان ہی (حضرت مفتی عبدالرشید صاحب) کی اقتدا میں ہزاروں لوگوں نے نماز جنازہ ادا کی ، جنازہ گاہ میں رونے کی آوازیں تھیں ، ہچکیاں تھیں ،سب غم کے پہاڑ کے نیچے دبا ہوا محسوس کرتے تھے ،
بالآخر حضرت مولانا مبارک صاحب رحمہ اللہ کو ہزاروں عاشقوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا
حق تعالی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا اللہ تعالی ان کا نعم البدل عطا فرمائے اہل وادی کے ساتھ ساتھ ضلع اسلام آباد کو
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
