تازہ ترین
ریاست کے نامور عالم دین ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئے
الطاف جمیل ندوی
موت کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے کسی کو بھی مفر نہیں۔ جب پیارے نبی محمد- صلی اللہ علیہ وسلم -کو موت آکر رہی؛تو پھر دوسرے کی کیا بات! موت تو مہربان رب کے دیدار کا ایک ذریعہ ہے؛اگر آدمی کا انتقال نہ ہو؛تو اپنے رحیم وکریم رب کا دیدار کیسے کرے گا
موت نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ چاہے انسان ہویا حیوان یا پھر چرند وپرند ہو، سب جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ نظام اس دنیا کے پیدا کرنے والے کا ہی بنایا ہوا ہے۔ سچے مالک نے قرآن کریم میں فرمایا ہے: ”کُلّ نَفْس ذَائِقَة الْمَوْت“ (سورہ آل عمران، آیت:۱۸۵) ترجمہ:(تم میں) ہرجان دار کو موت کا مزہ چکھنا ہے؛ چناں چہ سب کے سب انبیاء ورسل، صحابہ وتابعین اوراولیاء وصلحا کو اس جہان سے کوچ کرنا پڑا۔ ہم سب کو بھی ایک دن جانا ہوگا
وادی کشمیر کے ضلع اسلام آباد کی جامع مسجد راحت دیدی کے خطیب و امام مدرسہ جامع الکبیر کے مہتمم مولانا مبارک کے انتقال کی خبر بجلی بن کر گری اہل علم کے درمیان اہل علم کے قافلہ کے ایک عظیم ساتھی کا یوں بچھڑ جانا انتہائی کربناک ہے پر کیا کیا جائے تقدیر الہی کے سامنے ہم تو صرف دعا کے علاوہ آنسوؤں اور آہون کی سوغات ہی دے سکتے ہیں اس کے سوا ہم سب محتاج ہیں
مولانا کا مختصر تعارفی خاکہ
افسوس کہ سمجھا نہ اھل نظر نے ھم کو
ھم وقت کی زنبیل میں ھیروں کی طرح تھے
نام ۔۔مولانا مبارک احمد شیخ ابن غلام محی الدین شیخ
آبائی وطن ۔۔پاریون کولگام مگر کچھ دہائیوں سے مہی پورہ میں سکونت پزیر تھے اور وہی ناکح بھی ہوا تھا
پانچ بچے ہیں ۔۔دو بیٹیاں اور تین بیٹے۔۔۔ابھی تک صرف ایک بیٹی کی شادی ہوئی ہے
۴۸سال کی عمر میں کل رات خالق حقیقی کے در پر حاضر ہوئے
مولانا مرحوم انتہائی درجہ کے سادہ و منکسر المزاج کے مالک تھے شرافت سادگی ان کی زندگی کا جز تھا لوگ اکثر ایک بات کئی بار پوچھتے محال ہے کہ مولانا کے ماتھے پر شکن نمودار ہو بلکہ ہر بار انتہائی ادب و احترام کے ساتھ جواب دیتے ہر کسی سے مشفقانہ رویہ اختیار کرتے اسی سادہ مزاجی کے سبب ضلع اسلام آباد کی مقبول شخصیت تھی ہر کوئی ان سے استفادہ کرنے کے لئے کوشاں رہتا اور خوشی و مسرت کے جذبات لے کر رخصت ہوجاتا مولانا اپنی زات میں ایک انجمن اک بزم تھے جامع مسجد میں خطابت کے فرائض انجام دیتے تھے جہاں کا ہر نمازی مولانا کی جدائی پر اشک بار آنکھوں سے مولانا کو الوداع کر رہا ہے لوگوں کی کثیر تعداد شریک نماز جنازہ ہوئی اور کچھ ایسے بھی تھے جن کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں
مختصر تعلیمی و تبلیغی سفر
ابتدائی تعلیم دارالعلوم سواء السبیل کھانڈی پورہ میں حاصل کی اسکے بعد اپنے شیخ عارف بااللہ حضرت مولانا حمید اللہ صاحب کھانڈی پورہ کے حکم سے اپنی تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کے لئے دارالعلوم بلالیہ کی جانب سفر کیا ۔اسکے بعد وہاں کچھ سال رہ کر وہاں سے عالمیت کرکے اپنے شیخ کے حکم سے 1996 میں اسلام آباد میں مشہور و معروف مسجد رحت دیدی میں بطور امام کے منصبے پر فائز ہوئے ۔۔اور اپنی وفات تک وہیں دین کی خدمت انجام دے رہے تھے۔۔۔۔جہاں اس وقت کفر وشرک کی بہت زیادہ یلغاریں تھیں۔۔۔جہاں مولانا کو تقریبا ابتدائی 15 سالوں تک شرک و بدعت کے پجاری پریشان کرتے تھے اور مولانا کو بہت ستایا گیا ۔ایک مرتبہ فرمانے لگے بیٹا جس مسجد میں آپ ہو یہاں یہ دینی ماحول بنانے کے لئے مجھے اور (جبار کاک کو ۔۔جو تقریبا 35 سالوں سے اس مسجد کی خدمت انجام دے رہے ہیں)یہاں کے لوگوں نے داڈھی پکڑ کر گسیٹا گیا لیکن ہم برداشت کرتے رہے کیوں کہ شیخ کا حکم تھا۔۔۔۔مولانا اپنے شیخ کو پیار سے( مولوی صوب کہتے تھے)کبھی بھی انکی بات کو انہوں نہیں ٹالا ہوگا ۔۔۔
لیکن اس مسجد میں جہاں صرف شرک بدعت کی محفلیں ہوتی تھی۔۔مولانا کی بے انتہاء محنت کی وجہ سے اللہ کے فضل سے پھر دعوت تبلیغ کا مرکز بن گیا۔۔اور اتنے ہی پر بس نہیں بلکہ 2012 سے مدرسے کی ابتداء بھی اسی مسجد سے ہوئی اور مدرسہ بننے تک ۔۔جو کہ تقریبا ڈھائی سال کی مدت ہے۔۔۔اسی مسجد میں مدرسہ رہا۔۔۔اور میں ناچیز اس مدرسے کا سب سے پہلا طالب علم تھا۔۔۔۔۔
مدرسہ کی تعمیر و تجدید میں جو محنت مولانا نے کی شاید ہی کسی عالم کے حصہ میں ایسی محنت و مشقت آئی ہو ۔۔
ایک طالب علم کے تاثرات مجھے آج بھی یاد ہے کی جب مدرسے کے لئے زمین خریدی گئی تو اسکی قیمت اس وقت ایک کروڈ تیس لاکھ مقرر ہوئ ۔۔اور وہ رقم 4 مہینے کے اندر اندر ادا کرنی تھی۔۔ورنہ زمین واپس کرنی تھی۔۔۔۔تو مولانا نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے محنت شروع کی اور اپنے ساتھ اپنے قریبی تین ساتھیوں کو ساتھ لیا ۔۔۔اور پورے رات دن محنت کرتے رہے ۔۔اللہ گواہ ہے کہ میں اور جبار کاک ہر دن رات کے بارہ بجے کبھی ایک بجے تک کھانا کھانے کا انتظار کرتے تھے۔۔۔۔اور اللہ کے فضل سے چار مہینے کے اندر اندر مولانا نے پورا قرضہ ادا کردیا لوگوں نے بھی مولانا مرحوم کو مایوس نہیں کیا بلکہ ہر کسی صاحب نے بڑھ چڑھ کر اپنی طرف سے مقدور بھر معاونت کی
اتنی بڑی رقم کا جمع کرنا کوئی اسان کام نہیں تھا ۔۔۔مگر مولانا کے ان چوبیس سالوں کی محنت نے ۔۔ جو مولانا نے جامع مسجد سے شروع کی تھی کا یہ بدلہ ملا مولانا نے اسلام آباد کے لوگوں میں اپنے اخلاق حسنہ ۔۔شریف النفسی اور معتدل شخصیت کی وجہ سے عوام کے دلوں میں رچ بس گئے تھے اور عوام کے لئے قابل اعتماد شخصیت کے بطور جانے پہچھانے جاتے تھے
کشمیر کے معروف کالم نگار
مولانا الطاف حسین ندوی کشمیری کے تاثرات
مولانا مبارک صاحب رحمۃ اللہ علیہ انتہائی نرم مزاج مبلغ اور بہت ہی ملنسار ہمدرد داعی دین تھے ۔ میں نے مکتبہ فکر دیوبند سے وابستہ کشمیری مبلغین اورعلماء میں ایسا نرم خو شخص نہیں دیکھا ہے ۔مولاناچراغ الدین رحمۃ اللہ علیہ اور مفتی عبدالغنی ازہری صاحب مدظلہ العالی کے بعد یہ وہ پہلے دیوبندی عالم اور مبلغ ہیں جنہوں نے کامیابی کے ساتھ اسلام آباد قصبہ میں نہ صرف کامیاب دینی ادارہ قائم کیا بلکہ تبلیغی جماعت کے لیے بھی رحت دیدی مسجد میں مرکز قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔تائید الٰہی سے انکار نہیں مگر ان کامیابیوں میں مولانا کی ذاتی لگن خلوص و محبت اورجہد مسلسل سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ مبارک صاحب نے امامت خطابت اور کامیاب عامل کے طور پر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو دین کے لئے وقف کیا اور یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے یہ فروعی اور مسلکی وفکری اختلافات کو اہمیت نہیں دیتے تھے جس سے یہ مشن میں کامیاب ہوئے اور انہیں اس بات کایقین تھاکہ کشمیری مسلمان چند مہینوں یا سالوں تک بڑے سے بڑے اختلاف کرنے والے عالم کو برداشت ضرورکرلیتے ہیں مگر بلاآخر اس طرح نظراندازکردیتے ہیں کہ خود وہ بھی دنگ رہ جاتاہے اس لئے کہ مسلکی اورفکری اختلافات کو جس جلتے معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے وہ کشمیریوں کی فطرت سے بہت بعید ہے
ان کے چھوٹے بھائی مکرمی منیب صاحب کے تاثرات
میرا بھائی والد کی طرح میرے لئے فکر مند رہتا تھا جب بھی بازار جاتے اپنے بچوںکی ضروریات کے لئے تو مجھ سے ضرور پوچھتے کہ کچھ چاہئے میں ہاں یا نا کرتا پر کچھ نہ کچھ آکر میرے ہاتھ میں تھمادیتے
جب مولانا مرحوم عمرے کی سعادت کے لئے رخت سفر باندھ رہے تھے میں تھوڑا سا ملول لگ رہا تھا تو مولانا نے میرے پاس آکر میرا کاندھا تھپ تھپایا اور بولے منیب کوئی بات نہیں ہے میرے بعد تم بھی جاؤ گئے گر اللہ نے چاہا جب عمرہ کرکے واپس آئے تو کچھ دن بعد میں نے یوں ہی کہا بھائی جان میں کب جاؤں گا آپ نے بتایا تھا تو کہا بس میں نے انتظام کرلیا ہے جلد ہی پاسپورٹ آجائے گا میں اپنے اس والد جیسے بھائی کو دیکھتا ہی رہ گیا کہ مجھے خبر ہی نہیں مگر بھائی نے انتظام بھی کرلیا ہے روانگی کے وقت میرے والد صاحب نے کچھ رقم دی تو بھائی نے ڈانٹا والد صاحب سے کیوں لی رقم میں دوں گا انہیں واپس کردو
میں دوران تعلیم ریاست سے باہر تھا میرے نکاح کی بات چلی گھر آکر شش و پنچ میں تھا کہ کیا کروں بھائی سے بات کی کہ کچھ خریداری کرنی ہے بازار سے بھائی نے جواب دیا کہ میں نے کرلی ہے دیکھ لو پسند آئے تو بہتر نہیں تو میں پھر سے انتظام کرتا ہوں ان ضروریات کا جو آپ کی پسند کی نہیں ہوں گئی میں بھائی سے نہیں بلکہ اپنے محسن اپنے مربی اپنے دوست سے محروم ہوا ہوں ان کی جدائی کا غم اٹھائے زندگی گزارنا انتہائی کٹھن اور صبر آزما ہے
آئے عشّاق، گئے وعدہٴ فردا لے کر
اب انھیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر
برادر طلحہ ندوی کی زبانی منظر جنازہ
جنازہ کے متعلق یہ معلوم ہوا کہ 2:30 بجے ہوگا ،اس لئے میں نے جمعہ کی تیاری میں مشغول ہونا چاہا مگر دل اچاٹ، کئی بار کتاب کھولی ایک دو منٹ پڑھتا تھا، دل نہ لگنے کی وجہ سے دوبارہ بند کرتا تھا ، بعد میں 12:30بجے نماز جنازہ کا وقت مقرر ہوا ،تو عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازہ میں شرکت کے لئے رخت سفر باندھا ، ہچکیاں ہم سفر تھیں ،کرونا وائرس کے باعث تمام بڑے راستے مسدود تھے ، ایس ٹی ایف اور پولیس جنازے میں شرکت سے روکتے تھے مگر ہجوم عاشقان پیدل کھیتوں اور باغوں کے تنگ راستوں سے گزرتے ہوئے مہی پورہ کولگام پہنچتے تھے ،تین جگہ ہمیں بھی روکا گیا بالآخر ایک تنگ گلی سے ہم بھی جنازہ گاہ میں پہنچے۔
اللہ اکبر ____کیا منظر تھا ،
کیا آپ نے کبھی کسی شہید کا جنازہ پڑھا ؟
اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو پھر آپ کو سمجھنا مشکل نہ ہوگا ______
دور دور تک سر ہی سر نظر آتے تھے ، ہر ایک کی آنکھیں نم اور چہرے پر غم کے بادل ، ان اداس چہروں کے بیچ جب ہم پہنچے تو عین اسی وقت حضرت رحمہ اللہ کا جنازہ پہنچ گیا ،نعرہ تکبیر کی آواز فضا میں گونجی__واہ واہ __ جس نے پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بلند کیا تھا ،منبر ومحراب میں ، جلسوں اور جلوسوں میں ،خلوت اور جلوت میں ،آج اس کے جنازہ پر بھی اسی رب واحد کا نام بلند ہوا ۔۔۔۔ سبحان اللہ
مفتی غلام محی الدین صاحب مدظلہ نے اعلان کیا کہ عارف باللہ مفتی عبدالرشید صاحب تشریف لارہے ہیں جب تک ان کی تشریف آوری ہوگی ، تب تک وہ مختصر خطاب کریں ، بعد اذاں حضرت مولانا ارشد صاحب ندوی حفظہ اللہ سے خطاب کی فرمائش، حضرت ندوی صاحب نے جوں ہی مائیک ہاتھ میں لی ان پر گریہ طاری ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام لوگوں پر گریہ طاری ہوا ، کچھ دیر بیان فرمایا ، مفتی عبدالرشید صاحب بھی تشریف لا چکے تھے انہوں نے بھی دو تین منٹ خطاب فرمایا ،اس کے بعد ان ہی (حضرت مفتی عبدالرشید صاحب) کی اقتدا میں ہزاروں لوگوں نے نماز جنازہ ادا کی ، جنازہ گاہ میں رونے کی آوازیں تھیں ، ہچکیاں تھیں ،سب غم کے پہاڑ کے نیچے دبا ہوا محسوس کرتے تھے ،
بالآخر حضرت مولانا مبارک صاحب رحمہ اللہ کو ہزاروں عاشقوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا
حق تعالی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا اللہ تعالی ان کا نعم البدل عطا فرمائے اہل وادی کے ساتھ ساتھ ضلع اسلام آباد کو
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا، سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحد کرنا اور خود انحصاری کے تئیں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسٹر مودی آج یہاں چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چنمیہ مشن سے وکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی کا بنیادی نظریہ نوجوانوں کی طاقت کو فروغ دے کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔ چنمیہ مشن کے نوجوان کارکنوں نے تقریباً 300 دنوں میں 40 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے اور اسی عرصے میں چنمیہ مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ ایسے میں وکست بھارت اور چنمیہ مشن کے سفر کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشن کے سنت، آچاریہ، سادھک اور کارکن وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی نے ہندوستانی علم، ثقافت اور ورثے کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا۔
چنمیہ مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ہندوستانی اقدار بھی سکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور انفرادی نشوونما کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کی تعلیم دیتے تھے۔
مسٹر مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور اس کے تئیں فخر کے احساس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں رام مندر اور اجین کے مہاکال مہالوک جیسے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی مراکز کا احیا ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بیرونِ ملک چوری کرکے لے جائی گئی 650 سے زیادہ قدیم مورتیاں واپس لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے مقاصد الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کی ترقی اور وقار سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
