تازہ ترین
ریاست کے نامور عالم دین ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئے
الطاف جمیل ندوی
موت کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے کسی کو بھی مفر نہیں۔ جب پیارے نبی محمد- صلی اللہ علیہ وسلم -کو موت آکر رہی؛تو پھر دوسرے کی کیا بات! موت تو مہربان رب کے دیدار کا ایک ذریعہ ہے؛اگر آدمی کا انتقال نہ ہو؛تو اپنے رحیم وکریم رب کا دیدار کیسے کرے گا
موت نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ چاہے انسان ہویا حیوان یا پھر چرند وپرند ہو، سب جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ نظام اس دنیا کے پیدا کرنے والے کا ہی بنایا ہوا ہے۔ سچے مالک نے قرآن کریم میں فرمایا ہے: ”کُلّ نَفْس ذَائِقَة الْمَوْت“ (سورہ آل عمران، آیت:۱۸۵) ترجمہ:(تم میں) ہرجان دار کو موت کا مزہ چکھنا ہے؛ چناں چہ سب کے سب انبیاء ورسل، صحابہ وتابعین اوراولیاء وصلحا کو اس جہان سے کوچ کرنا پڑا۔ ہم سب کو بھی ایک دن جانا ہوگا
وادی کشمیر کے ضلع اسلام آباد کی جامع مسجد راحت دیدی کے خطیب و امام مدرسہ جامع الکبیر کے مہتمم مولانا مبارک کے انتقال کی خبر بجلی بن کر گری اہل علم کے درمیان اہل علم کے قافلہ کے ایک عظیم ساتھی کا یوں بچھڑ جانا انتہائی کربناک ہے پر کیا کیا جائے تقدیر الہی کے سامنے ہم تو صرف دعا کے علاوہ آنسوؤں اور آہون کی سوغات ہی دے سکتے ہیں اس کے سوا ہم سب محتاج ہیں
مولانا کا مختصر تعارفی خاکہ
افسوس کہ سمجھا نہ اھل نظر نے ھم کو
ھم وقت کی زنبیل میں ھیروں کی طرح تھے
نام ۔۔مولانا مبارک احمد شیخ ابن غلام محی الدین شیخ
آبائی وطن ۔۔پاریون کولگام مگر کچھ دہائیوں سے مہی پورہ میں سکونت پزیر تھے اور وہی ناکح بھی ہوا تھا
پانچ بچے ہیں ۔۔دو بیٹیاں اور تین بیٹے۔۔۔ابھی تک صرف ایک بیٹی کی شادی ہوئی ہے
۴۸سال کی عمر میں کل رات خالق حقیقی کے در پر حاضر ہوئے
مولانا مرحوم انتہائی درجہ کے سادہ و منکسر المزاج کے مالک تھے شرافت سادگی ان کی زندگی کا جز تھا لوگ اکثر ایک بات کئی بار پوچھتے محال ہے کہ مولانا کے ماتھے پر شکن نمودار ہو بلکہ ہر بار انتہائی ادب و احترام کے ساتھ جواب دیتے ہر کسی سے مشفقانہ رویہ اختیار کرتے اسی سادہ مزاجی کے سبب ضلع اسلام آباد کی مقبول شخصیت تھی ہر کوئی ان سے استفادہ کرنے کے لئے کوشاں رہتا اور خوشی و مسرت کے جذبات لے کر رخصت ہوجاتا مولانا اپنی زات میں ایک انجمن اک بزم تھے جامع مسجد میں خطابت کے فرائض انجام دیتے تھے جہاں کا ہر نمازی مولانا کی جدائی پر اشک بار آنکھوں سے مولانا کو الوداع کر رہا ہے لوگوں کی کثیر تعداد شریک نماز جنازہ ہوئی اور کچھ ایسے بھی تھے جن کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں
مختصر تعلیمی و تبلیغی سفر
ابتدائی تعلیم دارالعلوم سواء السبیل کھانڈی پورہ میں حاصل کی اسکے بعد اپنے شیخ عارف بااللہ حضرت مولانا حمید اللہ صاحب کھانڈی پورہ کے حکم سے اپنی تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کے لئے دارالعلوم بلالیہ کی جانب سفر کیا ۔اسکے بعد وہاں کچھ سال رہ کر وہاں سے عالمیت کرکے اپنے شیخ کے حکم سے 1996 میں اسلام آباد میں مشہور و معروف مسجد رحت دیدی میں بطور امام کے منصبے پر فائز ہوئے ۔۔اور اپنی وفات تک وہیں دین کی خدمت انجام دے رہے تھے۔۔۔۔جہاں اس وقت کفر وشرک کی بہت زیادہ یلغاریں تھیں۔۔۔جہاں مولانا کو تقریبا ابتدائی 15 سالوں تک شرک و بدعت کے پجاری پریشان کرتے تھے اور مولانا کو بہت ستایا گیا ۔ایک مرتبہ فرمانے لگے بیٹا جس مسجد میں آپ ہو یہاں یہ دینی ماحول بنانے کے لئے مجھے اور (جبار کاک کو ۔۔جو تقریبا 35 سالوں سے اس مسجد کی خدمت انجام دے رہے ہیں)یہاں کے لوگوں نے داڈھی پکڑ کر گسیٹا گیا لیکن ہم برداشت کرتے رہے کیوں کہ شیخ کا حکم تھا۔۔۔۔مولانا اپنے شیخ کو پیار سے( مولوی صوب کہتے تھے)کبھی بھی انکی بات کو انہوں نہیں ٹالا ہوگا ۔۔۔
لیکن اس مسجد میں جہاں صرف شرک بدعت کی محفلیں ہوتی تھی۔۔مولانا کی بے انتہاء محنت کی وجہ سے اللہ کے فضل سے پھر دعوت تبلیغ کا مرکز بن گیا۔۔اور اتنے ہی پر بس نہیں بلکہ 2012 سے مدرسے کی ابتداء بھی اسی مسجد سے ہوئی اور مدرسہ بننے تک ۔۔جو کہ تقریبا ڈھائی سال کی مدت ہے۔۔۔اسی مسجد میں مدرسہ رہا۔۔۔اور میں ناچیز اس مدرسے کا سب سے پہلا طالب علم تھا۔۔۔۔۔
مدرسہ کی تعمیر و تجدید میں جو محنت مولانا نے کی شاید ہی کسی عالم کے حصہ میں ایسی محنت و مشقت آئی ہو ۔۔
ایک طالب علم کے تاثرات مجھے آج بھی یاد ہے کی جب مدرسے کے لئے زمین خریدی گئی تو اسکی قیمت اس وقت ایک کروڈ تیس لاکھ مقرر ہوئ ۔۔اور وہ رقم 4 مہینے کے اندر اندر ادا کرنی تھی۔۔ورنہ زمین واپس کرنی تھی۔۔۔۔تو مولانا نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے محنت شروع کی اور اپنے ساتھ اپنے قریبی تین ساتھیوں کو ساتھ لیا ۔۔۔اور پورے رات دن محنت کرتے رہے ۔۔اللہ گواہ ہے کہ میں اور جبار کاک ہر دن رات کے بارہ بجے کبھی ایک بجے تک کھانا کھانے کا انتظار کرتے تھے۔۔۔۔اور اللہ کے فضل سے چار مہینے کے اندر اندر مولانا نے پورا قرضہ ادا کردیا لوگوں نے بھی مولانا مرحوم کو مایوس نہیں کیا بلکہ ہر کسی صاحب نے بڑھ چڑھ کر اپنی طرف سے مقدور بھر معاونت کی
اتنی بڑی رقم کا جمع کرنا کوئی اسان کام نہیں تھا ۔۔۔مگر مولانا کے ان چوبیس سالوں کی محنت نے ۔۔ جو مولانا نے جامع مسجد سے شروع کی تھی کا یہ بدلہ ملا مولانا نے اسلام آباد کے لوگوں میں اپنے اخلاق حسنہ ۔۔شریف النفسی اور معتدل شخصیت کی وجہ سے عوام کے دلوں میں رچ بس گئے تھے اور عوام کے لئے قابل اعتماد شخصیت کے بطور جانے پہچھانے جاتے تھے
کشمیر کے معروف کالم نگار
مولانا الطاف حسین ندوی کشمیری کے تاثرات
مولانا مبارک صاحب رحمۃ اللہ علیہ انتہائی نرم مزاج مبلغ اور بہت ہی ملنسار ہمدرد داعی دین تھے ۔ میں نے مکتبہ فکر دیوبند سے وابستہ کشمیری مبلغین اورعلماء میں ایسا نرم خو شخص نہیں دیکھا ہے ۔مولاناچراغ الدین رحمۃ اللہ علیہ اور مفتی عبدالغنی ازہری صاحب مدظلہ العالی کے بعد یہ وہ پہلے دیوبندی عالم اور مبلغ ہیں جنہوں نے کامیابی کے ساتھ اسلام آباد قصبہ میں نہ صرف کامیاب دینی ادارہ قائم کیا بلکہ تبلیغی جماعت کے لیے بھی رحت دیدی مسجد میں مرکز قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔تائید الٰہی سے انکار نہیں مگر ان کامیابیوں میں مولانا کی ذاتی لگن خلوص و محبت اورجہد مسلسل سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ مبارک صاحب نے امامت خطابت اور کامیاب عامل کے طور پر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو دین کے لئے وقف کیا اور یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے یہ فروعی اور مسلکی وفکری اختلافات کو اہمیت نہیں دیتے تھے جس سے یہ مشن میں کامیاب ہوئے اور انہیں اس بات کایقین تھاکہ کشمیری مسلمان چند مہینوں یا سالوں تک بڑے سے بڑے اختلاف کرنے والے عالم کو برداشت ضرورکرلیتے ہیں مگر بلاآخر اس طرح نظراندازکردیتے ہیں کہ خود وہ بھی دنگ رہ جاتاہے اس لئے کہ مسلکی اورفکری اختلافات کو جس جلتے معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے وہ کشمیریوں کی فطرت سے بہت بعید ہے
ان کے چھوٹے بھائی مکرمی منیب صاحب کے تاثرات
میرا بھائی والد کی طرح میرے لئے فکر مند رہتا تھا جب بھی بازار جاتے اپنے بچوںکی ضروریات کے لئے تو مجھ سے ضرور پوچھتے کہ کچھ چاہئے میں ہاں یا نا کرتا پر کچھ نہ کچھ آکر میرے ہاتھ میں تھمادیتے
جب مولانا مرحوم عمرے کی سعادت کے لئے رخت سفر باندھ رہے تھے میں تھوڑا سا ملول لگ رہا تھا تو مولانا نے میرے پاس آکر میرا کاندھا تھپ تھپایا اور بولے منیب کوئی بات نہیں ہے میرے بعد تم بھی جاؤ گئے گر اللہ نے چاہا جب عمرہ کرکے واپس آئے تو کچھ دن بعد میں نے یوں ہی کہا بھائی جان میں کب جاؤں گا آپ نے بتایا تھا تو کہا بس میں نے انتظام کرلیا ہے جلد ہی پاسپورٹ آجائے گا میں اپنے اس والد جیسے بھائی کو دیکھتا ہی رہ گیا کہ مجھے خبر ہی نہیں مگر بھائی نے انتظام بھی کرلیا ہے روانگی کے وقت میرے والد صاحب نے کچھ رقم دی تو بھائی نے ڈانٹا والد صاحب سے کیوں لی رقم میں دوں گا انہیں واپس کردو
میں دوران تعلیم ریاست سے باہر تھا میرے نکاح کی بات چلی گھر آکر شش و پنچ میں تھا کہ کیا کروں بھائی سے بات کی کہ کچھ خریداری کرنی ہے بازار سے بھائی نے جواب دیا کہ میں نے کرلی ہے دیکھ لو پسند آئے تو بہتر نہیں تو میں پھر سے انتظام کرتا ہوں ان ضروریات کا جو آپ کی پسند کی نہیں ہوں گئی میں بھائی سے نہیں بلکہ اپنے محسن اپنے مربی اپنے دوست سے محروم ہوا ہوں ان کی جدائی کا غم اٹھائے زندگی گزارنا انتہائی کٹھن اور صبر آزما ہے
آئے عشّاق، گئے وعدہٴ فردا لے کر
اب انھیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر
برادر طلحہ ندوی کی زبانی منظر جنازہ
جنازہ کے متعلق یہ معلوم ہوا کہ 2:30 بجے ہوگا ،اس لئے میں نے جمعہ کی تیاری میں مشغول ہونا چاہا مگر دل اچاٹ، کئی بار کتاب کھولی ایک دو منٹ پڑھتا تھا، دل نہ لگنے کی وجہ سے دوبارہ بند کرتا تھا ، بعد میں 12:30بجے نماز جنازہ کا وقت مقرر ہوا ،تو عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازہ میں شرکت کے لئے رخت سفر باندھا ، ہچکیاں ہم سفر تھیں ،کرونا وائرس کے باعث تمام بڑے راستے مسدود تھے ، ایس ٹی ایف اور پولیس جنازے میں شرکت سے روکتے تھے مگر ہجوم عاشقان پیدل کھیتوں اور باغوں کے تنگ راستوں سے گزرتے ہوئے مہی پورہ کولگام پہنچتے تھے ،تین جگہ ہمیں بھی روکا گیا بالآخر ایک تنگ گلی سے ہم بھی جنازہ گاہ میں پہنچے۔
اللہ اکبر ____کیا منظر تھا ،
کیا آپ نے کبھی کسی شہید کا جنازہ پڑھا ؟
اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو پھر آپ کو سمجھنا مشکل نہ ہوگا ______
دور دور تک سر ہی سر نظر آتے تھے ، ہر ایک کی آنکھیں نم اور چہرے پر غم کے بادل ، ان اداس چہروں کے بیچ جب ہم پہنچے تو عین اسی وقت حضرت رحمہ اللہ کا جنازہ پہنچ گیا ،نعرہ تکبیر کی آواز فضا میں گونجی__واہ واہ __ جس نے پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بلند کیا تھا ،منبر ومحراب میں ، جلسوں اور جلوسوں میں ،خلوت اور جلوت میں ،آج اس کے جنازہ پر بھی اسی رب واحد کا نام بلند ہوا ۔۔۔۔ سبحان اللہ
مفتی غلام محی الدین صاحب مدظلہ نے اعلان کیا کہ عارف باللہ مفتی عبدالرشید صاحب تشریف لارہے ہیں جب تک ان کی تشریف آوری ہوگی ، تب تک وہ مختصر خطاب کریں ، بعد اذاں حضرت مولانا ارشد صاحب ندوی حفظہ اللہ سے خطاب کی فرمائش، حضرت ندوی صاحب نے جوں ہی مائیک ہاتھ میں لی ان پر گریہ طاری ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام لوگوں پر گریہ طاری ہوا ، کچھ دیر بیان فرمایا ، مفتی عبدالرشید صاحب بھی تشریف لا چکے تھے انہوں نے بھی دو تین منٹ خطاب فرمایا ،اس کے بعد ان ہی (حضرت مفتی عبدالرشید صاحب) کی اقتدا میں ہزاروں لوگوں نے نماز جنازہ ادا کی ، جنازہ گاہ میں رونے کی آوازیں تھیں ، ہچکیاں تھیں ،سب غم کے پہاڑ کے نیچے دبا ہوا محسوس کرتے تھے ،
بالآخر حضرت مولانا مبارک صاحب رحمہ اللہ کو ہزاروں عاشقوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا
حق تعالی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا اللہ تعالی ان کا نعم البدل عطا فرمائے اہل وادی کے ساتھ ساتھ ضلع اسلام آباد کو
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
