تازہ ترین
بانڈی پورہ ہلاکت:بھاجپا لیڈر ،والد اور بھائی سپرد خاک،حملہ آؤروں کی نشاندہی ہوگئی
’یہ حملہ منصوبہ بند تھا ،لشکر طیبہ کے2جنگجو ملوث ،ایک مقامی دوسرا غیر مقامی ‘:آئی جی پی
خبراردو:-
بانڈی پورہ: انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون ،وجے کمار نے بانڈی پورہ ہلاکت خیز واقعہ کو پہلے سے منصوبہ بندحملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آءوروں کی نشاندہی ہوگئی ہے اور اس واردات میں لشکر طیبہ کے 2جنگجو ملوث ہیں ،جن میں ایک مقامی اور دوسرا غیر مقا می ہے ۔ اس دوران حملے میں ہلاک ہوئے بھاجپا لیڈر ،اُسکے والد اور بھائی کو جمعرات کے روز مقامی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق شمالی ضلع بانڈی پورہ کے قصبہ میں واقع مسلم آباد علاقے میں بدھ کی شب نامعلوم بندوق برداروں نے فائرنگ کرکے بی جے پی لیڈر شیخ وسیم باری ،اُسکے والد اور بھائی کو ابدی نیند سلا دیا ۔
https://www.facebook.com/Khabarurdu/videos/671503020102861/?t=22
اس سلسلے میں انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون ،وجے کمار نے بانڈی پورہ دورہ کیا اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا ،انکے ہمراہ انسپکٹر جنرل نے شمالی کشمیر کے ڈی آئی جی پولیس اور ایس ایس پی بانڈی پورہ بھی تھے ۔ ۔ پولیس اسٹیشن با نڈی پورہ میں واقعہ کے حوالے سے معلومات اور دیگر جانکاری حاصل کرنے کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے آئی جی پی کشمیر زون ،وجے کمار نے بتایا کہ بھاجپا لیڈر ،اُسکے والد اور بھائی کی ہلاکت کی منصوبہ بندی پہلے کی گئی تھی اور یہ حملہ منصوبہ بند تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وسیم اپنی اہلیہ کے میکے گیا تھا،وہاں لوٹ کر گھر گیا اور پھر دکان پر بیٹھا ۔ ان کا کہناتھا ’جب وسیم اپنی دکان پر گیا،جہاں اس کا والد اور بھائی پہلے ہی موجود تھے ،تواُسکے ذاتی محافظ (پی ایس اوز) اپنے کمروں میں چلے گئے،ملی ٹنٹ آئے انہوں نے پستول سے نزدیک سے جسم کے اہم اعضا پر گولیاں چلائیں ‘ ۔
ان کا کہناتھا کہ ایک حملہ آءور نے گولیاں چلائیں جبکہ دوسرا حملے کو انجام دینے کےلئے اسکی رہنمائی کر رہا تھا ۔ آئی جی پی نے دورہ بانڈی پورہ کے دوران ’سی سی ٹی وی فوٹیج ‘کا معائینہ پولیس اسٹیشن بانڈی پورہ میں کیا،جو مہلوک بھاجپا لیڈر کے گھر کے مد مقابل ہے ۔ ان کا کہناتھا ’تینوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا ،زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے ‘ ۔
آئی جی پی نے کہا ’حملہ آءوروں کی نشاندہی ہوچکی ہے ،اس میں لشکر طیبہ کے جنگجو ملوث ہیں ،جن میں ایک مقامی عابد اور دوسرا پاکستانی ملی ٹنٹ ہے ‘ ۔ انہوں نے کہا ’عنقریب ان دونوں حملہ آءوروں کو زیر کیا جائیگا‘ ۔ ان کا کہناتھا کہ یہ حملہ پہلے سے منصو بہ بند تھا ۔ ایک سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہا ’حملہ آءوروں نے گاڑی استعمال نہیں کیا بلکہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ حملہ آءورپیدل آئے ۔ انہوں نے کہا اس میں سیکیورٹی کی کہیں چوک نہیں تھی بلکہ حملے کے وقت8ڈسٹرکٹ پولیس اہلکار،وسیم کے گھر میں موجود تھے ،جو کافی ہیں ‘ ۔ آئی جی پی نے مزید کہا ’ہم نے فوج اور سی آر پی ایف کے افسروں کی موجودگی میں سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی، لشکر طیبہ سے وابستہ دو جنگجووَں نے یہ حملہ کیا ہے ‘ ۔
ان کا کہناتھا کہ دو پی ایس او زہی ملی ٹنٹوں کو زیر کرتے تھے ،ہمارے اہلکاروں سے غلطی ہوئی جس پر کارروائی کی گئی ‘ ۔ انسپکٹر جنرل نے کہا کہ مہلوک لیڈر کے سبھی 10 ذاتی محافظوں کو نہ صرف گرفتار کیا گیا ہے بلکہ انہیں نوکریوں سے بر طرف بھی کیا گیا ہے،وہ زیر حراست ہیں ۔ آئی جی پی نے کہا کہ اگر کسی بھی سیاسی کارکن ،سر پنچ اور پنچ کو خطرہ لگ رہا ہے ،وہ متعلقہ ایس پی سے رابطہ قائم کریں ،اُنہیں سیکیورٹی فراہم کی جائیگی ۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا ان افراد کو سیکیورٹی مزید بڑھا دی جائیگی ،جو پہلے سے سیکیورٹی کور میں ہےں ،تو انہوں نے کہا ’معاملہ سیکیورٹی بڑھانے یا کم کرنے کا نہیں ہے ،معاملہیہ ہے کہ سیکیورٹی جوان کتنے الرٹ رہتے ہیں ،وہ کس بہادری سے لڑتے ہیں ،8اہلکار بہت ہیں ‘ ۔
اس دوران حملے میں ہلاک ہوئے بھاجپا لیڈر ،اُسکے والد اور بھائی کو جمعرات کے روز مقامی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔ تینوں باپ ،بیٹوں کی میتیں جمعرات کی صبح قانونی اور طبی لوازمات کے بعد آبائی گھر لائی گئیں ،جس دوران یہاں رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے ۔ بعد ازاں مرحومین کی میتوں کو آبائی قبرستان میں سپرد لحد کیا گیا ۔ یاد رہے کہ نامعلوم بندوق برداروں نےبدھ کی شب بی جے پی کے ضلع صدر وسیم باری، والد بشیر احمد اور بھائی عمر بشیر پر اندھا دھند گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں ان تینوں کی موت ہوئی ۔ اس دوران بھاجپا کے جموں وکشمیر صدر رویندر رینا سمیت کئی بھاجپا لیڈران نے بانڈی پورہ جاکر سوگوار کنبے سے تعزیت اور ہمدردی کی ۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
