تازہ ترین
لوگوں کو تکلیف سے باہر نکالنے کےلئے سیاسی سرگرمیاں ناگزیر :عمران رضا انصاری
’ریاست کی بحالی ہمارے لئے اہم ‘
خبراردو:-
سرینگر: ریاست کی بحالی کو اہم قرار دیتے ہوئے ممتاز شیعہ رہنما اور پیپلز کانفرنس کے جنرل سیکریٹری، عمران رضا انصاری نے کہا ہے کہ لوگوں کو تکلیف سے باہر نکالنے کےلئے سیاستدانوں کو اپنی سرگرمیاں بحال کرنی چاہئے ۔
رہائی کے بعد پہلی مرتبہ کشمیر نیوز سروس کیساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عمران رضا انصاری نے جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال پر کھل کر بات کی ۔ ان کا کہناتھا ’ہم نہیں چاہتے ہیں کہ اقتدار یا کسی عہدے کےلئے سیاسی سرگرمیاں بحال ہونی چاہئے ،یہ سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں جا کر لوگوں کو درپیش مشکلات کو دیکھیں ‘ ۔
عمران انصاری نے کہا ’یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم لوگوں کے پاس صرف ووٹ مانگنے کےلئے جائیں ‘ ۔ انہوں نے کئی سوالات کے جواب میں کہا ’سیاستدانوں کا یہ رول بنتا ہے کہ وہ اپنے علاقے کی خوشحالی کو یقینی بنائےں ،اگر وہ سیاست پر بات نہیں کرسکتے ،کم سے کم اُنہیں عوامی حامل کے مسائل پر بات کرنی چاہئے ‘ ۔ عمران رضا انصاری نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’جب لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ بڑی سیاسی جماعتیں ہمارے بارے میں بات کیوں نہیں کرتیں ،تو وہ یہ بہانہ بناتے تھے کہ اُنکے لیڈران جیل میں ہیں ،اب تو تقریباً سبھی سیاستدان آزاد ہیں ،کم سے کم ہ میں لوگوں کے مسائل پر بات کرنی چایئے ،اگر ہم سیاسی مسائل پر بات نہیں کرسکتے ‘ ۔
انہوں نے کہا ’ممبران پار لیمنٹ کو کل لیفٹیننٹ گور نر کیساتھ ملاقات کرکے اُس کیساتھ عوامی مسائل اٹھانے چاہئے ،لیکن ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ منجمد ہے ‘ ۔ انہوں نے یہ بھی رائے دی کہ سیاست دانوں کو اپنی اَنا چھوڑ کر موجودہ حکومت سے لوگوں کے مسائل پر بات چیت کرنا چاہئے ۔ ان کا کہناتھا کہ ہ میں ان الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا کہ کورپشن بہت زیادہ تھی ،ہم کوئی کام نہیں کرتے،ٹھیک ہے ، ہ میں لوگوں کی راحت کی خاطرکسی نہ کسی کے دروازے پر دستک دینی چاہئے ،لوگوں کو اب بھی ہم سے کافی توقعات ہیں ۔
ان کا کہناتھا کہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم اُنکے درد کی نمائندگی،اُن لوگوں سے کریں جو اس وقت امور چلا رہے ہیں ‘ ۔ عمران رضا انصاری نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بیورو کریٹ کا غذپر حکومت کررہے ہیں ‘ ۔ پیپلز کانفرنس کے جنرل سیکریٹری عمران رضا انصاری نے کہا ’اگر موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے ،تو بہت سارے پہلوہیں ،اگر کوئی اس پر بات کرے گا ،دفعہ370کی تنسیخ کے بعد لوگوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اقتصادی و ترقیاتی منظر نامہ تبدیل ہوجائے گا ۔ ان کا کہناتھا کہ’ ہم ہر روز اخبارات میں یہ پڑھتے اور دیکھتے ہیں اس سیکریٹری نے اس علاقے کا دورہ کیا لیکن کہیں پر ترقی کا کوئی نام ونشان نہیں ہے ، میں نے خود کئی علاقوں کا دورہ کیا ‘ ۔
عمران رضا انصاری نے کہا ’ساری ترقی کا غذات پر ہورہی ہے ،جب بجلی ،پانی اور سڑکوں کی حالت دیکھتے ہیں ،تو یہاں صفر ترقی ہوئی ہے ۔ عمران رضا انصاری نے کہا ’ہمارے پاس 4مشیر ہیں ،وہ اس حکومت میں کتنا کام کرسکتے ہیں ،افسر تو مشیروں کے مبلغ ہوتے ہیں ،سیاسی نظام میں ہم زمین پر ہوتے ہیں خواہ وہ بجلی ٹرانفار مر کی مرمت ہو ،سڑک کی تعمیر یا پانی کی پاءپ بچھانی ہو،کیا بتائیں آپ کو پتہ کہ کئی علاقوں میں دوماہ تک ٹرانسفار مر کی مرمت نہیں کی گئی ،جب ہم افسران کی نوٹس میں معاملے کو لاتے ہیں تو وہ کووڈ ۔ 19کی وجہ سے تاخیر کا بہانہ بناتے ہیں ،ہر ایک چیز کےلئے کووڈ کو مورد ِ الزام ٹھہرانا صحیح نہیں ۔ ان کا کہناتھا کہ جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہونا چاہئے ،مرکزی وزیر داخلہ ن5اگست 2019کو پار لیمنٹ میں خود کہا تھا کہ یہ عارضی اقدام ہے ،اب تو ریاستی درجہ بحال ہونا چاہئے ۔ گپکار اعلامیہ پر ان کا کہناتھا کہ’ اس میں ہم نے جمہوری حیثیت کا مطالبہ کیا ہے ،اس وقت میں لوگوں کےلئے زیادہ فکر مند ہوں ،میری ترجیح لوگوں کو راحت دینا ہے ‘ ۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
