تازہ ترین
اردو ادب کا شہزادہ
خبراردو:-
مصنف:الطاف جمیل ندوی
کچھ لوگ جنہیں انسان چاہتا ہے انجان ہوکر ان کی تحریری صلاحیتوں کو دیکھ کر اور پھر گر اچانک وہ لوگ مہربان ہوجائیں تو خوشیاں آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگتی ہیں جیسے کہ میرے ساتھ ہوا-
ایک ماہ قبل میں نے انہیں فیس بک پر دیکھا تو ایک مسیج کردی ان کو اپنی طرف سے اظہار محبت کے لئے کیوں کہ ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا پھر کچھ یوم بعد انہوں نے واپس مسیج کی اور مجھ سے میرا پتہ پوچھا انجانی سی خوشی ہوئی کہ اتنے بڑے صاحب قلم کا یہ بڑپن پوچھنے پر کہا کہ میری کچھ کتابیں ہیں وہ میں بھیج رہا ہوں پھر ایک روز وہ کتابیں بھی مل گئیں جن میں ان کے رشحات قلم کا کمال جمال یکساں دیکھنے کو ملا گرچہ ابھی تک انہیں پڑھنے کا وقت نہ ملا پر ہر دن ان پر نظر پڑے اس لئے اپنے سامنے ہی رکھ لیں ہیں
آج سے تقریبا بیس سال پہلے میں نے ان کے مضامین پڑھنا شروع کئے جو اکثر اس نام سے کشمیر عظمی کی زینت بنا کرتے ہیں ۔۔۔ چلتے چلتے ۔۔ اب انہوں نے ان مضامین کو کتابی شکل دی ہے اور ایک اچھی خاصی کتاب تیار ہوئی ہے ان کے جو مضامین میں نے پڑھے ہیں میں اپنی حد تک سمجھتا ہوں کہ یہ مضامین قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں پڑھنے کے دوران ایسا لگتا ہے کہ میں خیالوں ہی خیالوں میں اس تحریر کے کرداروں کو محسوس کررہا ہوں جیسے میرے سامنے ہی یہ سب ہو رہا ہو-
ان کی تخلیقات ادبی اصلاحی معاشرتی سماجی ہر طرح سے آتی رہتی ہیں ان کا نام ہے اردو ادب کی دنیا میں اور مجھ جیسے ہزاروں قاری ان کا مطالعہ کرتے ہوں گئے میں نہیں جانتا ان کے احساسات کیا ہوں گئے مگر مجھے ان کی تخلیقات سے والہانہ لگاؤ ہے میں ان کی اکثر تحریروں میں وہی چاشنی وہی سوز محسوس کرتا ہوں جو کبھی تجلی کے مشہور و معروف مسجد سے میخانے تک میں محسوس کرتا تھا وہاں کردار بھی ہوا کرتے تھے پر یہاں بنا کرداروں کے ہی کام کیا جارہا ہے اس کے پیش لفظ سہیل سالم لکھتے ہیں
بسمل صاحب کے کالموں کا مطالعہ کرتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے کالم نگار قاری کو لطیف اور لطیف تر رومانی ماحول اور فضا میں لے جانے کی کوشش کرتا ہے پھر اس کے بعد زندگی کی تلخ سچائیوں انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کو ذہن میں نقش کرتا ہے
صاحب موضوف افسانہ نگار بھی ہیں جو میرا میدان نہیں ہے اس لئے اس پر بات کرنا میرے بس میں ہے ہی نہیں اس سلسلے میں بھی ایک کتاب خوشبو کی موت کے نام سے ملی جس کے پیش لفظ لکھنے والے مشہور و معروف معالج ڈاکٹر نذیر مشتاق لکھتے ہیں کہ جناب شہزادہ بسمل اپنے افسانوں میں واقعات کی جس فنی مہارت اور پُر اثر انداز میں منظر کشی کرتے ہیں اُس کا اندازہ افسانے پڑھنے کے بعد ہوتا ہے ۔
جملوں کی ساخت اور استعاروں کا استمال مصنف کو اتنا اچھا آتا ہے کہ افسانوں کا ہر جملہ قاری کے دل کے تا روں کو چھیڑ کر اس کے جذبات و احساسات اور امنگوں میں خاموش ارتعاش پیدا کرتا ہے ‘‘۔(خوشبو کی موت ص۱۳
اس کے علاوہ ایک کتابچہ جھیل ڈل کی فریاد جس کے ابتدائی اقتباس بنام یہ خوبصورت کتاب میں
‘‘ ڈاکٹر جوہر قدوسی یوں رقم طراز ہیں
’’صدیوں پرانی کہانی جو اس جھیل کی جیتی جاگتی اور چلتی پھرتی تصویر ہما رے سامنے پیش کرتی ہے ۔ڈل کی اس ایک کہانی میں صدیوں پر پھیلے ہوئے عہد بہ عہد کی تہہ درتہہ دسیوں کہانیاں جنم لیتی ہیں اور پڑھنے والے کے ذہن کو ایک نئے ہی عالم میں پہنچا دیتی ہیں ۔ایک ایسا عالم جہاں جھیل ڈل خود اپنی زبان میں ہماری کوتاہ اندیشیوں پر خندہ زن ہو کر کبھی ہنسنا شروع کردیتی ہے اور کبھی اپنے تئیں ہمارے نا روا سلوک پر ماتم کرنے لگتی ہے ۔کہیں یہ جھیل مسرور و مخمور ہو کر فخر کے ساتھ اپنے کارناموں کا ذکر کرنے لگتی ہے اور کہیں اپنے دامن کے چاک ہونے پر مغموم و مجروع ہو کر رونا شروع کر دیتی ہے ۔کہیں پر اپنے زیر سایہ ہو رہی سرگرمیوں کی چشم دید گواہ بن کر ان کی دلچسپ رودار سناتی ہے اور کسی جکہ تاریخ کے اتھاہ سمندر میں غوطہ لگا کر چند موتی نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے ‘‘۔
(خدا کے لئے مجھے بچائوص۷)
ایک اور کتاب رقص بسمل کے نام سے ملی یہ بھی ایک افسانوی مجموعہ ہے جس میں سات افسانوں کا مجموعہ ہے جس کے بارے میں پروفیسر ظہور الدین لکھتے ہیں کہ ان کہانیوں کے موضوعات دیکھتے ہوئے ایک بات جو محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ ان میں اکثر خواتین پر ہونے والے مظالم کو پیش کیا گیا ہے
اس میں مجھے جو کاوش ان کی سب سے اچھی لگی جس پر انہیں جتنی بھی مبارکباد دی جائے کم ہے اور ان کا حق بھی بنتا ہے کہ انہوں نے یہ خدمت انجام دی ہے کتاب مختصر ہے کچھ ہی اوراق پر مشتمل پر دل سوزی عیاں ہے محبت عقیدت ادب نمایاں ہے کتاب کا تصور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہندو ازم کی کتب میں اس میں مختلف ابواب انہوں نے قائم کئے ہیں جہاں یہ وید وغیرہ کے حوالہ جات نقل کرکے یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ ہندو ازم کے بانی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف کئے بنا نہ رہ سکے اور انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی پیغمبر آخر زاماں ھادی بر حق تسلیم کیا ہے یہ کتاب ایک بہترین اور قابل داد کوشش ہے دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دے رہے حضرات کے لئے ایک گراں قدر تحفہ ہے جو ہندوستان میں غیر مسلموں میں دعوت کا کام کر رہے ہوں اس کتاب میں دو باتیں نام سے انہوں نے تمہید میں لکھا ہے کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عالمین کے سردار ہادی و رحمت ابتداء آفرینش سے لیکر اپنی بعثت تک تمام انبیاء کرام کے امام بورئے پر سوتے تھے فاقہ کرتے پیوند کپڑے پہنتے راتوں کو صرف امت کے لئے روتے کاش ہم آپ کو جانتے پہچھانتے تب آج ساری دنیا میں ہماری یہ حالت نہ ہوتی اس اقتباس کو پڑھ کر اک ہوک سی اٹھی میرے دل میں شہزادہ بسمل کا حال اس کے برعکس نہ ہوگا حب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہوکر لکھتے ہیں یہ ہدیہ عقیدت لے کر میں رب کے سامنے سربسجود ہوں کہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ان اوراق کو شرف قبولیت بخش کر مجھے میری کوتاہیوں پر بخش دے حب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہوکر رہنا کمال ہے اور جب میں اس اقتباس یا تمہید کو پڑھ رہا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ اک فدائی جھالیوں کو پکڑ کر یہ سب کہہ رہا ہے اور آنکھوں کے کونے سے دو آنسو پورے چہرے کا کہتے ہوئے طواف کر رہے تھے میرے یہ میرے لئے بھی سعادت سے کم نہیں
بات ہورہی ہے معروف صاحب قلم شہزادہ بسمل کی جن کا اصل نام غلام قادر خان ہے محترم ریاست کے معروف ادیب اور کالم نویس ہیں۔ان کے ادبی کالم تقریبا چالیس پنتالیس سالوں سے مقامی اخباروں اردو رسالوں میں متواتر شائع ہوتے رہے ہیں جن میں ہفتہ وار ”قلم “، ماہنامہ ”الحیات“،ہفتہ روزہ ” احتساب “ اور روز نامہ ” کشمیر عظمیٰ “ قابل ذکر ہیں
شہزادہ بسمل جموں اینڈ کشمیر فکشن رائٹرس گلڈ کے دیرینہ کارکن ہیں اور آجکل گلڈ کے نائب صدر اول ہیں
موصوف کے لئے یہ الفاظ کم ہیں کوشش کروں گا کہ ان کی تخلیقات پر ایک جاندار تبصرہ کر سکوں صاحب کے اخلاقیات کے لئے شاید اتنا کافی ہو کہ شریف النفس سادہ مزاج اسلامی شعائر کے پابند اور انتہائی کلمات انسان ہیں میں انکی محبتوں کا مشکور ہوں کہ چچا جان کی وفات پر جو فون مجھے موصول ہوئے ان میں شہزادہ بسمل کا فون بھی میرے لئے قابل تعریف ہے کہ بنا جانے موضوف مجھے فون کرتے ہیں اور دعائیہ کلمات کہنے کے ساتھ ساتھ تلقین صبر کرنا نہیں بھولتے میں ان کا بے حد ممنون ہوں کہ انہوں نے اپنی تخلیقات کا تحفہ دیا اور ساتھ میں دعائیں بھی اللہ تعالی اپنے حفظ و امان میں رکھے
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
