تازہ ترین
چاہ بہار ریلوے منصوبے سے بھارت کا انخلا: پاکستان کے لیے امکانات اور خدشات!
آصف شاہد:
’چین نے بھارت کو چاہ بہار زاہدان ریل منصوبے سے نکال باہر کیا ہے‘۔
چین بھارت سرحدی تصادم کے بعد تہران بیجنگ اسٹریٹجک معاہدے کی روشنی میں اس خبر کو نمایاں اہمیت ملی ہے۔ اس خبر سے فوری طور پر ایک تاثر لیا گیا کہ بھارت چاہ بہار بندرگاہ منصوبے سے باہر ہوگیا ہے۔
اب تک کی صورتحال میں یہ تاثر درست نہیں کیونکہ دی ہندو میں ریل منصوبے سے باہر کیے جانے کی خبر شائع ہونے کے دوسرے دن ایران کی خبر ایجنسی مہر نے خبر دی کہ ایران کے راستے افغانستان کی تیسری ٹرانزٹ کنسائنمنٹ چاہ بہار بندرگاہ سے بھارت کی مندرہ اور جواہر لال نہرو پورٹس کے لیے روانہ کردی گئی ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کی خبر سے یہ واضح ہوگیا کہ اب تک چاہ بہار بندرگاہ سے بھارت مکمل باہر نہیں ہوا۔ بھارت نے 2014ء میں چاہ بہار پر کام شروع کیا اور بندرگاہ کی تعمیر کے لیے 8 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی۔ دسمبر 2018ء میں بھارت نے چاہ بہار بندرگاہ کا انتظام سنبھالا۔ انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کو 18 ماہ کی لیز ملی تھی جو بعد میں 10 سال کردی گئی۔ ریل منصوبے سے باہر کیے جانے کے بعد اب تک بندرگاہ کے کنٹرول میں تبدیلی یا اس لیز سے متعلق کوئی نئی خبر نہیں آئی۔
چاہ بہار بندرگاہ بھارت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، پاکستان کے ساتھ تعلقات کی خرابی کی وجہ سے بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت بھارت کے لیے اہم ہے اور چاہ بہار بندرگاہ کے کنٹرول کے ساتھ بھارت کو افغانستان تک براہ راست رسائی مل رہی ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ کو افغانستان سے منسلک کرنے کے لیے کئی روڈ اور ریل منصوبے ہیں جن میں زرنج دیلارم روڈ جسے روٹ 606 کا نام بھی دیا گیا ہے وہ بھارت نے بنوائی۔ یہ سڑک قندھار ہرات شاہراہ سے جا ملتی ہے اور وسطی ایشیا تک رسائی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
گلف آف عمان میں ہونے کی وجہ سے چاہ بہار کی اسٹریٹجک اہمیت بھی ہے۔ یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز کے دہانے پر ہے اور گوادر سے صرف 100 میل کی دُوری پر ہے۔ آبنائے ہرمز تیل کی سب سے بڑی گزرگاہ ہے، لیکن ایران سعودی عرب کشیدگی کے دوران بھارت نے چاہ بہار کے کنٹرول کی بنیاد پر آبنائے ہرمز میں بحری گشت بڑھا دیا تھا۔
چاہ بہار زاہدان ریل منصوبے سے بھارت کو نکال باہر کیے جانے کا محرک تہران بیجنگ اسٹریٹجک معاہدہ بتایا جاتا ہے۔ اس اقتصادی اور سیکیورٹی معاہدے کا حجم 400 ارب ڈالر بتایا جا رہا ہے لیکن اس کی تفصیل نیویارک ٹائمز سے لی گئی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس معاہدے کا مسودہ موجود ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ میں ابھی تک یہ معاہدہ پیش نہیں کیا گیا اور چین نے تو اس معاہدے پر لب بھینچ رکھے ہیں۔
اس معاہدے کے تحت چین ایران میں انفرااسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گا اور 25 سال تک ایران کا تیل خریدے گا۔ ایران میں چین کی دلچسپی کی کئی وجوہات ہیں لیکن ایک وجہ پاکستان میں سی پیک منصوبے میں سست روی بھی ہے۔
2018ء میں پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سی پیک کو کئی دھچکے لگے۔ حکومتی عہدیداروں نے پچھلی حکومت کی مخالفت میں سوچے سمجھے بغیر بیانات داغے اور سی پیک منصوبوں پر دوبارہ مذاکرات کے اعلانات کیے۔ چین بھی اس صورتحال سے پریشان ہوا اور سی پیک سے متعلق منصوبوں پر کام تعطل کا شکار ہوگیا۔
چین نے خطے میں اپنی موجودگی اور اثر برقرار رکھنے کے لیے نئے راستوں کی تلاش شروع کی اور پچھلے سال اگست کے آخر میں ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف کے دورہ بیجنگ کے موقعے پر چین نے ایران کو 400 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش کی۔ اب جو معاہدہ بتایا جا رہا ہے یہ جواد ظریف کے اسی دورے کا ثمر تھا۔
چین نے ایران کے تیل اور گیس کے شعبوں میں 280 ارب ڈالر اور ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر میں 120 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش کی تھی۔ چین نے امریکا کی نئی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل کی درآمد جاری رکھنے کا بھی وعدہ کیا جبکہ بھارت ایرانی تیل کی خریداری سے ہٹ رہا تھا۔ اہم بات یہ کہ ایران میں چین کے منصوبوں میں چین کی کمپنیوں کا پہلا حق تسلیم کیا گیا ہے، اب اگر چین کی کمپنیاں کسی منصوبے سے خود پیچھے ہٹ جائیں تو اس کے بعد منصوبے کی کھلی بولی ہوسکتی ہے۔ مبیّنہ طور پر چین نے منصوبوں کی سیکیورٹی کے لیے 5 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کی بات بھی منوا لی ہے۔
چین کو سی پیک اور گوادر بندرگاہ سے جو فوائد مل سکتے تھے ایران کی اسٹریٹجک لوکیشن اسے تمام تر فوائد مہیا کرتی ہے بلکہ اضافی فائدہ آبنائے ہرمز تک رسائی ہے۔ افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی پاکستان کی طرح ایران سے بھی ممکن ہے۔
چین کا ایران کے ساتھ براہِ راست زمینی راستہ نہیں ہے لیکن ایران کا محل وقوع اسے زیادہ پُرکشش بناتا ہے کیونکہ اس کی وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی ہے اور اگر افغانستان میں امن نہیں ہوتا تب بھی وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی ممکن رہے گی۔
چین کی سرمایہ کاری سے ایران کی معیشت کو سہارا ملے گا، جبکہ ایران کی بندر عباس اور چاہ بہار کے ریل اور روڈ رابطے بڑھیں گے۔ ازبکستان اور قازقستان کے ذریعے ریل رابطے چین اور افغانستان کو ملاتے ہیں اور ستمبر میں 41 کارگو کنٹینرز افغانستان سے چین بھجوائے گئے۔ چین ایران کے ساتھ مال برداری کے لیے ان ریل رابطوں کو بھی استعمال میں لاسکتا ہے۔
تحریکِ انصاف کی حکومت نے سی پیک منصوبے کو تقریباً لپیٹ دیا تھا لیکن پچھلے سال 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی کے بعد پاکستان کو ایک بار پھر چین کی طرف دیکھنا پڑا۔
چین کو فوری قائل کرنا آسان نہیں اسی لیے سی پیک اتھارٹی بنائی گئی اور گوادر میں کام کرنے والی چین کی کمپنیوں کو 23 سال کی ٹیکس چھوٹ کا اعلان کرتے ہوئے سی پیک پر کام تیز کرنے کے اشارے دیے گئے۔
سی پیک اتھارٹی کے قیام اور بعد ازاں اسے خودمختاری دینے کے لیے اس قدر تیزی سے کام کیا گیا کہ پارلیمنٹ سے منظوری کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ابھی تک سی پیک پر کام دوبارہ اس تیزی سے ہوتا نظر نہیں آ رہا جس تیزی سے پچھلی حکومت میں ہو رہا تھا۔ سی پیک پر یہ سُست روی پاکستان کو اقتصادی اور سفارتی حوالوں سے مہنگی بھی پڑسکتی ہے اور ایران خطے میں چین کے پارٹنر کی حیثیت سے پاکستان کی جگہ لے سکتا ہے۔
ایران چین اقتصادی راہداری کے باوجود پاکستان کی اہمیت کم نہیں ہوتی کیونکہ چین کی لائف لائن آبنائے ملاکا ہے۔ اگر بھارت اور امریکا مل کر کسی موقع پر آبنائے ملاکا کو چین کے لیے بند کردیں تو اسے سی پیک اور گوادر کی ضرورت پڑے گی۔ آبنائے ملاکا کے بالکل قریب بھارت کے جزائر انڈیمان نکوبار میں فوجی اڈے موجود ہیں اور لداخ میں حالیہ تصادم کے بعد بھارت نے جزائر انڈیمان نکوبار میں اضافی فورسز تعینات کرنے کے ساتھ وہاں عسکری انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے اور توسیع کا عمل تیز کردیا ہے۔ آبنائے ملاکا میں کوئی ہنگامی صورتحال درپیش ہونے پر چین گوادر بندرگاہ اور سی پیک کو استعمال میں لاکر اپنی سپلائی لائن کھلی رکھ سکتا ہے۔
بھارتی میڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری خلیجی ملکوں میں چین کے تعلقات پر اثر انداز ہوگی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ چین کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پہلے ہی ایسے معاہدے موجود ہیں اور اسٹریٹجک تعاون کے پیرامیٹرز طے کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹیوں کے مذاکرات ہوتے رہتے ہیں۔ چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراک داری کے پیرامیٹرز طے کرنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے شریک چیئرمین سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔
ایران اور چین اسٹریٹجک معاہدے کی ہیڈلائنز جب دنیا بھر کے میڈیا میں شائع ہو رہی تھیں اسی دوران چین اور عرب ریاستوں کے تعاون کے لیے بنائے گئے فورم کا اجلاس جاری تھا۔ اس فورم کا اجلاس ہر 2 سال بعد ہوتا ہے جس میں اگلے 2 سال کے لیے تعاون کے منصوبوں پر بات ہوتی ہے۔
ایران کے ساتھ اسٹریٹجک معاہدے کے باوجود چین ایران اور عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔ چین عشروں سے جاری عرب ملکوں کے ساتھ شراکت داری کو ایران کے لیے قربان نہیں کرے گا اور تہران بھی اس بات کو سمجھتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ تاثر ہے کہ ایران کے ساتھ تعاون شاید عرب دوستوں کو ناراض کردے گا، لیکن ایسا ہوتا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے پیرامیٹرز طے کرنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے شریک چیئرمین سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں—اے پی
چین کی طرف سے خطے میں اہم اسٹریٹجک معاہدے بھارت کی طرف سے چلی گئی چالوں کا توڑ ہیں۔ بھارت نے بھی چین کے گھیراؤ کی ایک پالیسی وضع کر رکھی ہے اور اس پر عمل پیرا ہے۔
چین نے اگر ہمبنٹوٹا، چٹاگانگ، کولمبو اور جبوتی میں قدم جمائے ہوئے ہیں اور پاکستان اس کا اتحادی ہے تو بھارت بھی بحر ہند میں اہم اسٹریٹجک بندرگاہوں پر فوجی سہولتیں حاصل کرچکا ہے۔
بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے 2018ء میں سنگاپور کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس سے بھارتی بحریہ کو چانگی نیول بیس تک براہِ راست رسائی ملی اور بھارتی بحریہ اس بحری اڈے سے ری فیول اور دوبارہ مسلح ہونے کی سہولیات پاچکی ہے۔ 2018ء میں ہی بھارت نے انڈونیشیا کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے تحت بھارت کو آبنائے ملاکا کے داخلی راستے پر واقع سبانگ پورٹ تک رسائی ملی۔ یاد رہے کہ آبنائے ملاکا چین کے درآمدی تیل کا سب سے بڑا راستہ ہے۔
2018ء میں ہی بھارت نے عمان کے ساتھ معاہدہ کرکے الدقم پورٹ تک رسائی حاصل کی۔ الدقم پورٹ چین کے جبوتی میں بحری اڈے اور گوادر پورٹ کے وسطی حصے میں ہے۔ منگولیا، جاپان اور ویتنام کے ساتھ بھی بھارت کے بحری تعاون کے معاہدے موجود ہیں۔
لیکن ان سب کوششوں کے بعد یہ بات یقینی ہے کہ بھارت چین کا اکیلے گھیراؤ کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے وہ 4 فریقی سیکیورٹی ڈائیلاگ کا بھی حصہ ہے، جس میں بھارت کے علاوہ امریکا، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔
بھارت ایک عرصے سے اس کوشش میں ہے کہ اس 4 فریقی غیر سمی فورم کو باقاعدہ فورم کی شکل دے دی جائے۔ اس 4 فریقی فورم کے رکن آسٹریلیا نے چین کے ساتھ کورونا وائرس کے مسئلے پر تعلقات بگاڑ لیے ہیں اور اس ماہ کے آغاز میں آسٹریلوی وزیرِاعظم نے ملک کے دفاعی بجٹ میں 10 سال کے دوران 40 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے اسے 270 ارب ڈالر تک لے جانے کا فیصلہ سنایا۔ اس اضافے کی وجہ بیان کرتے ہوئے آسٹریلیا نے انڈو پیسفک میں درپیش خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے چین بھارت سرحدی تصادم کا بھی حوالہ دیا۔
آسٹریلوی وزیرِاعظم نے دُور مار میزائل حاصل کرنے کا بھی اعلان کیا تاکہ مستقبل کے تنازعات کا مقابلہ کیا جاسکے۔ آسٹریلوی وزیرِاعظم نے کہا کہ امریکا چین کشیدگی بھی تیزی سے بڑھی ہے۔ کورونا وائرس کی وبا نے اس صورتحال کو مزید بگاڑا ہے اور عالمی سیکیورٹی آرڈر کو انتہائی غیر مستحکم مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔
خطے میں فوجی ماڈرنائزیشن بھی غیر معمولی شرح سے بڑھی ہے۔ دیوارِ برلن کے گرنے اور عالمی معاشی بحران کی وجہ سے آسٹریلیا کو جو سیکیورٹی ماحول میسر تھا وہ اب ختم ہوچکا ہے۔ آسٹریلوی فوجی بجٹ میں امریکی بحریہ سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائلوں کی خریداری شامل ہے، اس کے علاوہ آسٹریلیا ہائپر سونک ویپن سسٹم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جو ہزاروں کلومیٹر تک مار کی صلاحیت کا حامل ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ سائبر وار فیئر کے لیے 15 ارب ڈالر رکھے گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر کے انتخابات سے پہلے چین پر دباؤ بڑھا رہے ہیں اور آئے روز چین کے خلاف پابندیوں کے اعلانات ہو رہے ہیں۔ ہانگ کانگ کے حوالے سے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، تائیوان کو اسلحہ بیچا جا رہا ہے، جنوبی بحیرہ چین میں چین کی فوجی مشقوں کے دوران امریکی بحریہ کا اسٹرائیک گروپ خطے میں بھیجا گیا اور مائیک پومپیو نے پہلی بار جنوبی بحیرہ چین میں چین کی عملداری کو نہ ماننے کا پالیسی بیان بھی دیا۔ ان حالات میں دنیا ایک بار پھر 2 کیمپوں میں تقسیم ہو رہی ہے اور اس بدلتی صورتحال میں نئے اتحاد بن بھی رہے ہیں اور پرانے بکھر بھی رہے ہیں۔
(ڈان نیوز)
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
