تازہ ترین
چاہ بہار ریلوے منصوبے سے بھارت کا انخلا: پاکستان کے لیے امکانات اور خدشات!
آصف شاہد:
’چین نے بھارت کو چاہ بہار زاہدان ریل منصوبے سے نکال باہر کیا ہے‘۔
چین بھارت سرحدی تصادم کے بعد تہران بیجنگ اسٹریٹجک معاہدے کی روشنی میں اس خبر کو نمایاں اہمیت ملی ہے۔ اس خبر سے فوری طور پر ایک تاثر لیا گیا کہ بھارت چاہ بہار بندرگاہ منصوبے سے باہر ہوگیا ہے۔
اب تک کی صورتحال میں یہ تاثر درست نہیں کیونکہ دی ہندو میں ریل منصوبے سے باہر کیے جانے کی خبر شائع ہونے کے دوسرے دن ایران کی خبر ایجنسی مہر نے خبر دی کہ ایران کے راستے افغانستان کی تیسری ٹرانزٹ کنسائنمنٹ چاہ بہار بندرگاہ سے بھارت کی مندرہ اور جواہر لال نہرو پورٹس کے لیے روانہ کردی گئی ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کی خبر سے یہ واضح ہوگیا کہ اب تک چاہ بہار بندرگاہ سے بھارت مکمل باہر نہیں ہوا۔ بھارت نے 2014ء میں چاہ بہار پر کام شروع کیا اور بندرگاہ کی تعمیر کے لیے 8 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی۔ دسمبر 2018ء میں بھارت نے چاہ بہار بندرگاہ کا انتظام سنبھالا۔ انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کو 18 ماہ کی لیز ملی تھی جو بعد میں 10 سال کردی گئی۔ ریل منصوبے سے باہر کیے جانے کے بعد اب تک بندرگاہ کے کنٹرول میں تبدیلی یا اس لیز سے متعلق کوئی نئی خبر نہیں آئی۔
چاہ بہار بندرگاہ بھارت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، پاکستان کے ساتھ تعلقات کی خرابی کی وجہ سے بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت بھارت کے لیے اہم ہے اور چاہ بہار بندرگاہ کے کنٹرول کے ساتھ بھارت کو افغانستان تک براہ راست رسائی مل رہی ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ کو افغانستان سے منسلک کرنے کے لیے کئی روڈ اور ریل منصوبے ہیں جن میں زرنج دیلارم روڈ جسے روٹ 606 کا نام بھی دیا گیا ہے وہ بھارت نے بنوائی۔ یہ سڑک قندھار ہرات شاہراہ سے جا ملتی ہے اور وسطی ایشیا تک رسائی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
گلف آف عمان میں ہونے کی وجہ سے چاہ بہار کی اسٹریٹجک اہمیت بھی ہے۔ یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز کے دہانے پر ہے اور گوادر سے صرف 100 میل کی دُوری پر ہے۔ آبنائے ہرمز تیل کی سب سے بڑی گزرگاہ ہے، لیکن ایران سعودی عرب کشیدگی کے دوران بھارت نے چاہ بہار کے کنٹرول کی بنیاد پر آبنائے ہرمز میں بحری گشت بڑھا دیا تھا۔
چاہ بہار زاہدان ریل منصوبے سے بھارت کو نکال باہر کیے جانے کا محرک تہران بیجنگ اسٹریٹجک معاہدہ بتایا جاتا ہے۔ اس اقتصادی اور سیکیورٹی معاہدے کا حجم 400 ارب ڈالر بتایا جا رہا ہے لیکن اس کی تفصیل نیویارک ٹائمز سے لی گئی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس معاہدے کا مسودہ موجود ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ میں ابھی تک یہ معاہدہ پیش نہیں کیا گیا اور چین نے تو اس معاہدے پر لب بھینچ رکھے ہیں۔
اس معاہدے کے تحت چین ایران میں انفرااسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گا اور 25 سال تک ایران کا تیل خریدے گا۔ ایران میں چین کی دلچسپی کی کئی وجوہات ہیں لیکن ایک وجہ پاکستان میں سی پیک منصوبے میں سست روی بھی ہے۔
2018ء میں پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سی پیک کو کئی دھچکے لگے۔ حکومتی عہدیداروں نے پچھلی حکومت کی مخالفت میں سوچے سمجھے بغیر بیانات داغے اور سی پیک منصوبوں پر دوبارہ مذاکرات کے اعلانات کیے۔ چین بھی اس صورتحال سے پریشان ہوا اور سی پیک سے متعلق منصوبوں پر کام تعطل کا شکار ہوگیا۔
چین نے خطے میں اپنی موجودگی اور اثر برقرار رکھنے کے لیے نئے راستوں کی تلاش شروع کی اور پچھلے سال اگست کے آخر میں ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف کے دورہ بیجنگ کے موقعے پر چین نے ایران کو 400 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش کی۔ اب جو معاہدہ بتایا جا رہا ہے یہ جواد ظریف کے اسی دورے کا ثمر تھا۔
چین نے ایران کے تیل اور گیس کے شعبوں میں 280 ارب ڈالر اور ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر میں 120 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش کی تھی۔ چین نے امریکا کی نئی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل کی درآمد جاری رکھنے کا بھی وعدہ کیا جبکہ بھارت ایرانی تیل کی خریداری سے ہٹ رہا تھا۔ اہم بات یہ کہ ایران میں چین کے منصوبوں میں چین کی کمپنیوں کا پہلا حق تسلیم کیا گیا ہے، اب اگر چین کی کمپنیاں کسی منصوبے سے خود پیچھے ہٹ جائیں تو اس کے بعد منصوبے کی کھلی بولی ہوسکتی ہے۔ مبیّنہ طور پر چین نے منصوبوں کی سیکیورٹی کے لیے 5 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کی بات بھی منوا لی ہے۔
چین کو سی پیک اور گوادر بندرگاہ سے جو فوائد مل سکتے تھے ایران کی اسٹریٹجک لوکیشن اسے تمام تر فوائد مہیا کرتی ہے بلکہ اضافی فائدہ آبنائے ہرمز تک رسائی ہے۔ افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی پاکستان کی طرح ایران سے بھی ممکن ہے۔
چین کا ایران کے ساتھ براہِ راست زمینی راستہ نہیں ہے لیکن ایران کا محل وقوع اسے زیادہ پُرکشش بناتا ہے کیونکہ اس کی وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی ہے اور اگر افغانستان میں امن نہیں ہوتا تب بھی وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی ممکن رہے گی۔
چین کی سرمایہ کاری سے ایران کی معیشت کو سہارا ملے گا، جبکہ ایران کی بندر عباس اور چاہ بہار کے ریل اور روڈ رابطے بڑھیں گے۔ ازبکستان اور قازقستان کے ذریعے ریل رابطے چین اور افغانستان کو ملاتے ہیں اور ستمبر میں 41 کارگو کنٹینرز افغانستان سے چین بھجوائے گئے۔ چین ایران کے ساتھ مال برداری کے لیے ان ریل رابطوں کو بھی استعمال میں لاسکتا ہے۔
تحریکِ انصاف کی حکومت نے سی پیک منصوبے کو تقریباً لپیٹ دیا تھا لیکن پچھلے سال 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی کے بعد پاکستان کو ایک بار پھر چین کی طرف دیکھنا پڑا۔
چین کو فوری قائل کرنا آسان نہیں اسی لیے سی پیک اتھارٹی بنائی گئی اور گوادر میں کام کرنے والی چین کی کمپنیوں کو 23 سال کی ٹیکس چھوٹ کا اعلان کرتے ہوئے سی پیک پر کام تیز کرنے کے اشارے دیے گئے۔
سی پیک اتھارٹی کے قیام اور بعد ازاں اسے خودمختاری دینے کے لیے اس قدر تیزی سے کام کیا گیا کہ پارلیمنٹ سے منظوری کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ابھی تک سی پیک پر کام دوبارہ اس تیزی سے ہوتا نظر نہیں آ رہا جس تیزی سے پچھلی حکومت میں ہو رہا تھا۔ سی پیک پر یہ سُست روی پاکستان کو اقتصادی اور سفارتی حوالوں سے مہنگی بھی پڑسکتی ہے اور ایران خطے میں چین کے پارٹنر کی حیثیت سے پاکستان کی جگہ لے سکتا ہے۔
ایران چین اقتصادی راہداری کے باوجود پاکستان کی اہمیت کم نہیں ہوتی کیونکہ چین کی لائف لائن آبنائے ملاکا ہے۔ اگر بھارت اور امریکا مل کر کسی موقع پر آبنائے ملاکا کو چین کے لیے بند کردیں تو اسے سی پیک اور گوادر کی ضرورت پڑے گی۔ آبنائے ملاکا کے بالکل قریب بھارت کے جزائر انڈیمان نکوبار میں فوجی اڈے موجود ہیں اور لداخ میں حالیہ تصادم کے بعد بھارت نے جزائر انڈیمان نکوبار میں اضافی فورسز تعینات کرنے کے ساتھ وہاں عسکری انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے اور توسیع کا عمل تیز کردیا ہے۔ آبنائے ملاکا میں کوئی ہنگامی صورتحال درپیش ہونے پر چین گوادر بندرگاہ اور سی پیک کو استعمال میں لاکر اپنی سپلائی لائن کھلی رکھ سکتا ہے۔
بھارتی میڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری خلیجی ملکوں میں چین کے تعلقات پر اثر انداز ہوگی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ چین کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پہلے ہی ایسے معاہدے موجود ہیں اور اسٹریٹجک تعاون کے پیرامیٹرز طے کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹیوں کے مذاکرات ہوتے رہتے ہیں۔ چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراک داری کے پیرامیٹرز طے کرنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے شریک چیئرمین سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔
ایران اور چین اسٹریٹجک معاہدے کی ہیڈلائنز جب دنیا بھر کے میڈیا میں شائع ہو رہی تھیں اسی دوران چین اور عرب ریاستوں کے تعاون کے لیے بنائے گئے فورم کا اجلاس جاری تھا۔ اس فورم کا اجلاس ہر 2 سال بعد ہوتا ہے جس میں اگلے 2 سال کے لیے تعاون کے منصوبوں پر بات ہوتی ہے۔
ایران کے ساتھ اسٹریٹجک معاہدے کے باوجود چین ایران اور عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔ چین عشروں سے جاری عرب ملکوں کے ساتھ شراکت داری کو ایران کے لیے قربان نہیں کرے گا اور تہران بھی اس بات کو سمجھتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ تاثر ہے کہ ایران کے ساتھ تعاون شاید عرب دوستوں کو ناراض کردے گا، لیکن ایسا ہوتا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے پیرامیٹرز طے کرنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے شریک چیئرمین سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں—اے پی
چین کی طرف سے خطے میں اہم اسٹریٹجک معاہدے بھارت کی طرف سے چلی گئی چالوں کا توڑ ہیں۔ بھارت نے بھی چین کے گھیراؤ کی ایک پالیسی وضع کر رکھی ہے اور اس پر عمل پیرا ہے۔
چین نے اگر ہمبنٹوٹا، چٹاگانگ، کولمبو اور جبوتی میں قدم جمائے ہوئے ہیں اور پاکستان اس کا اتحادی ہے تو بھارت بھی بحر ہند میں اہم اسٹریٹجک بندرگاہوں پر فوجی سہولتیں حاصل کرچکا ہے۔
بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے 2018ء میں سنگاپور کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس سے بھارتی بحریہ کو چانگی نیول بیس تک براہِ راست رسائی ملی اور بھارتی بحریہ اس بحری اڈے سے ری فیول اور دوبارہ مسلح ہونے کی سہولیات پاچکی ہے۔ 2018ء میں ہی بھارت نے انڈونیشیا کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے تحت بھارت کو آبنائے ملاکا کے داخلی راستے پر واقع سبانگ پورٹ تک رسائی ملی۔ یاد رہے کہ آبنائے ملاکا چین کے درآمدی تیل کا سب سے بڑا راستہ ہے۔
2018ء میں ہی بھارت نے عمان کے ساتھ معاہدہ کرکے الدقم پورٹ تک رسائی حاصل کی۔ الدقم پورٹ چین کے جبوتی میں بحری اڈے اور گوادر پورٹ کے وسطی حصے میں ہے۔ منگولیا، جاپان اور ویتنام کے ساتھ بھی بھارت کے بحری تعاون کے معاہدے موجود ہیں۔
لیکن ان سب کوششوں کے بعد یہ بات یقینی ہے کہ بھارت چین کا اکیلے گھیراؤ کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے وہ 4 فریقی سیکیورٹی ڈائیلاگ کا بھی حصہ ہے، جس میں بھارت کے علاوہ امریکا، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔
بھارت ایک عرصے سے اس کوشش میں ہے کہ اس 4 فریقی غیر سمی فورم کو باقاعدہ فورم کی شکل دے دی جائے۔ اس 4 فریقی فورم کے رکن آسٹریلیا نے چین کے ساتھ کورونا وائرس کے مسئلے پر تعلقات بگاڑ لیے ہیں اور اس ماہ کے آغاز میں آسٹریلوی وزیرِاعظم نے ملک کے دفاعی بجٹ میں 10 سال کے دوران 40 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے اسے 270 ارب ڈالر تک لے جانے کا فیصلہ سنایا۔ اس اضافے کی وجہ بیان کرتے ہوئے آسٹریلیا نے انڈو پیسفک میں درپیش خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے چین بھارت سرحدی تصادم کا بھی حوالہ دیا۔
آسٹریلوی وزیرِاعظم نے دُور مار میزائل حاصل کرنے کا بھی اعلان کیا تاکہ مستقبل کے تنازعات کا مقابلہ کیا جاسکے۔ آسٹریلوی وزیرِاعظم نے کہا کہ امریکا چین کشیدگی بھی تیزی سے بڑھی ہے۔ کورونا وائرس کی وبا نے اس صورتحال کو مزید بگاڑا ہے اور عالمی سیکیورٹی آرڈر کو انتہائی غیر مستحکم مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔
خطے میں فوجی ماڈرنائزیشن بھی غیر معمولی شرح سے بڑھی ہے۔ دیوارِ برلن کے گرنے اور عالمی معاشی بحران کی وجہ سے آسٹریلیا کو جو سیکیورٹی ماحول میسر تھا وہ اب ختم ہوچکا ہے۔ آسٹریلوی فوجی بجٹ میں امریکی بحریہ سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائلوں کی خریداری شامل ہے، اس کے علاوہ آسٹریلیا ہائپر سونک ویپن سسٹم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جو ہزاروں کلومیٹر تک مار کی صلاحیت کا حامل ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ سائبر وار فیئر کے لیے 15 ارب ڈالر رکھے گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر کے انتخابات سے پہلے چین پر دباؤ بڑھا رہے ہیں اور آئے روز چین کے خلاف پابندیوں کے اعلانات ہو رہے ہیں۔ ہانگ کانگ کے حوالے سے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، تائیوان کو اسلحہ بیچا جا رہا ہے، جنوبی بحیرہ چین میں چین کی فوجی مشقوں کے دوران امریکی بحریہ کا اسٹرائیک گروپ خطے میں بھیجا گیا اور مائیک پومپیو نے پہلی بار جنوبی بحیرہ چین میں چین کی عملداری کو نہ ماننے کا پالیسی بیان بھی دیا۔ ان حالات میں دنیا ایک بار پھر 2 کیمپوں میں تقسیم ہو رہی ہے اور اس بدلتی صورتحال میں نئے اتحاد بن بھی رہے ہیں اور پرانے بکھر بھی رہے ہیں۔
(ڈان نیوز)
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
