پاکستان
مہدی حسن جن کا تھا، وہ لے گئے
پاکستان نے اپنے مہدی حسن کو بھلا دیا ہے لیکن بھارت کے موسیقی نوازوں نے اسے اپنا لیا ہے۔ شہنشاہ کے فن کی لو بھارت کے طول و عرض میں ستارے روشن کر رہی ہے اور پاکستان گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوب رہا ہے۔
خبراردو:-
گزشتہ ماہ شہنشاہ غزل، مہدی حسن کا جنم دن خاموشی سے گزر گیا۔ انفرادی سطح پر بھی اور قومی سطح پر بھی۔ انفرادی تخصیص تو بجا ہے کہ اس میں میلان طبع کا عمل دخل ہے۔ کوئی موسیقی سے لگاؤ نہیں رکھتا، کوئی غزل یا گیت کو در خور اعتنا نہیں سمجھتا، کوئی کن رس ہی نہیں، یا کوئی سرے سے موسیقی کو حرام سمجھتا ہے۔ لیکن قومی سطح پر حاصل ہونے والی توقیر ایک ہمہ گیر، طویل اور کثیرجہتی سماجی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کچھ بت وقت تراشتا ہے جو بارود اور ہتھوڑوں سے نہیں ٹوٹتے۔
کچھ تمغے روحوں اور دلوں کی کھٹالی میں ڈھلتے ہیں۔ کچھ نام زمانہ اپنے ماتھے پر لکھتا ہے، قومیں اپنی نسلوں کو ورثہ میں ان کا احترام دیتی ہیں، ان پر فخر کرنا سکھاتی ہیں، ان کے میوزیم بناتی ہیں، کتابیں، تحقیقی مقالے، ڈاکومنٹری فلمیں، اداریے، خصوصی ضمیمے، مضامین، مباحثے، مذاکرے، ان کے ورثہ اور فن کو آگے بڑھانے والوں کی حوصلہ افزائی اور معاونت۔
کیا ہم نے کسی اور شعبہ میں مہدی حسن جتنا بڑا آدمی پیدا کیا ہے؟ شاعری کو لیجئے۔ یہ گویا ایک پہاڑی سلسلہ ہے، جہاں فیض، راشد، میرا جی، منیر نیازی، ناصر کاظمی، مجید امجد، قاسمی نامی کئی چوٹیاں تھوڑے بہت فرق سے برابر کھڑی ہیں۔ کم وبیش یہی تناسب کلاسیکی گائیکوں، ستار نوازوں، طبلہ نوازوں، فلمی موسیقاروں، مصوروں، خطاطوں، افسانہ نویسوں، ناول نگاروں، اداکاروں وغیرہ پر صادق آتا ہے۔ لیکن چند نام ایسے ہیں، جو اپنے شعبوں کے درخشاں ستاروں کے ماہتاب ہیں۔ جن کے بعد کی چوٹی ان سے کہیں نیچے ہے۔
شاعری میں اختر حسین جعفری، افسانہ میں سعادت حسن منٹو اور غزل گائیگی میں مہدی حسن۔ ملکہ ترنم نور جہاں کے سامنے لتاجی کھڑی ہیں، استاد سلامت کے سامنے استاد فتح علی، استاد شوکت کے سامنے استاد اللہ رکھا، استاد شریف خان کے سامنے روی شنکر، لیکن مہدی حسن کے سامنے کون ہے؟ کوئی بھی نہیں، دور دور تک کوئی نہیں، کندن لعل سہگل بھی نہیں۔
پاکستان دو عظیم تہذیبوں کا وارث تھا۔ بنگال کی تہذیب اور وادی سندھ کی تہذیب۔ بنگالیوں کے عجز، علم دوستی، رواداری، اصول پسندی اور جمہوریت نوازی نے ہمیں خوف زدہ کر دیا اور وادی سندھ کی ہمہ گیر آشتی اور تحیرعشق سے پھوٹتے تخلیقی وفور نے ہمیں وسوسوں سے بھر دیا۔ خود راستی میں ڈوبے، اندھے نخوتیوں کی نظر میں قائد اعظم کی سمجھ بوچھ مشکوک تھی اور فاطمہ جناح کی حب الوطنی۔ جمہوریت، مذہبی آہنکی اور ثقافتی تنوع جیسی خرافات ان کے لیے قابل قبول نہ تھی۔ سو، آزادی کے ابتدائی برسوں میں ہی سوال اٹھ گیا کہ ہماری اپنی ثقافت کیا ہے، جو ہندو مت، بدھ مت اور نصرانیت کے نجس عناصر سے پاک ہو؟ پاک لوگوں کے پاک ملک کی پاک تہذیب۔
مگر تہذیب اور قوموں کا اجتماعی تخلیقی ذہن مفلسی اور انتشار تو جھیل سکتا ہے لیکن نظریے کی جکڑ بندی برداشت نہیں کر پاتا۔ یہ کونپل کڑکتی چلچلاتی دھوپ تو سہہ لیتی ہے لیکن بھاری بوٹ تلے کچلی جاتی ہے۔ نظریہ دماغوں پر پہرے بٹھاتا ہے، خوابوں کو حق و باطل کے پیمانوں پر جانچتا ہے اور فنکار سے سوال اور انکار کی بجائے تابعداری اور خدمت کا تقاضا کرتا ہے۔ نظریہ باغی دیوتا نہیں بلکہ ذمہ دار بالشتیے مانگتا ہے۔
راگوں کی قدیم بندشوں کی صفائی ستھرائی کا فیصلہ کیا گیا، سعادت حسن منٹو فحش نگار قرار پایا، انتظار حسین ماضی پرست، فیض غدار، جالب باغی اور فراز ملحد، سنگ تراشی کفر اور رقص فحاشی، آخر کار ہمارے بیشتر لیجنڈ مفلسی اور کسمپرسی میں، ناقدری کا رونا روتے مر گئے۔ بابا چشتی، ماسٹر عنایت، بخشی وزیر، ماسٹر عبدللہ، ماسٹر منظور، عظیم طبلہ نواز، استاد بھلی خان کے گلے میں بڑھا ہوا غدود تھا، اسے چھوٹی سی ایک سرجری درکار تھی، اسی بیماری میں مرگیا، حامد علی بیلہ آخری عمر تک گھروں میں سفیدیاں کرتا رہا، پٹھانے خان، ریشماں، طفیل نیازی، پرویز مہدی، بیشتر کلاسیکی گائیک اور سازندے صدیوں کی میراث دل میں لیے، اپنے بچوں کو کوئی ‘عزت دار‘ کام کرنے کی تلقین کرتے دفن ہو گئے۔
لوک فنکاروں کا تو ذکر ہی چھوڑیے۔ پشاور، کراچی اور لاہور کی فلم انڈسٹری برباد ہو گئی، ٹی وی ڈرامہ منافقت کی رسی پر جھول گیا، تھیٹر جگت بازی کی نظر ہو گیا، افسانہ، ناول، شاعری، آج پاکستان کا تخلیقی و تہذیبی منظر نامہ اوسط درجے کی خود پرستی کے نامختتم دہراو کا مضحکہ ہے یا کسی نامعلوم عہد زریں کے نوحہ کی خود لذتی۔
مجھے کولن ڈیوڈ کی نماتش پر ہونے والا حملہ یاد ہے۔ پنجاب یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی و ثقافتی اداروں میں موسیقی کے پروگراموں پر ہونے والے حملے ابھی رکے نہیں، میلے ٹھیلے ختم ہوگئے۔ ایک وقت میں میاں میر، شاہ جمال، بری امام کی دھمالیں اور ڈھول کی تھاپ روک دی گئی تھی۔ داتا صاحب، لعل شہباز قلندر، رحمان بابا پر بم دھماکے ہو گئے، بسنت کا تہوار منظم سازش کے تحت قتل کر دیا گیا، لاہور میں ہارس اینڈ کیٹل شو، جشن بہاراں کہاں گئے؟
آج کسی غزل گائیک سے پوچھیے! غلام عباس یا حسین بخش گلو جیسے نابغوں سے پوچھ لیں، وہ آپ کو بتائیں گے کہ اب لوگ نہیں سنتے، نجی محفلوں کے زمانے گئے، چلے گئے۔ ہمیں نظریاتی گہرائی کے دفاع کے لیے تزویراتی گہرائی درکار تھی، سو تہذہبی گہرائی کے لیے گنجائش نہیں نکلی۔
مہدی حسن کو ہندوستان نے لازوال خراج تحسین پیش کیا ہے۔ حکومتی اور ریاستی سطح پر نہیں، انفرادی اور تہذیبی سطح پر۔ میں گزشتہ ایک ماہ سے اس خراج تحسین پر مبنی ویڈیوز اور فیس بلک لائیو پروگرام دیکھ رہا ہوں۔ انتہائی سریلے ہری ہرن سے لیکر پنکج ادھاس اور انوپ جلوٹا تک، سبھی نے شایان شان بات کی اور نذر نیاز کے طور پر ان کی غزلیں گائیں۔
اپنی طرز کے مہان غزل گائیک، انوپ جلوٹا نے کہا کہ جس طرح اکبر بادشاہ کے نو رتن تھے لیکن بادشاہ ایک ہی تھا، اسی طرح مجھ جیسے غزل گانے والے بہت سے ہیں لیکن شہنشاہ ایک ہی ہے۔
اور لاتعداد سریلی لڑکیاں اور لڑکے پرتبھا سنگھ بیگھل، منجری، سبھاسنا دتہ، پونم چوہان، ریتو شرما، ریچا شرما، ارن اشیش، مکیش تیواری، ہردھیندر شری دھر، چرن راج بھاٹیہ، جسوندر سنگھ، ہرشرن دیپ سنگھ، ڈاکٹر انیل مہتہ۔ دلی کا ایک بہت سریلا لڑکا یورپ کے مختلف شہروں میں کنسرٹ کرتا ہے، اس نے اپنا نام ہی مہدی حسن رکھ لیا ہے۔ اور نجانے کتنے مہدی حسن کے عشق میں ڈوبے ہوئے، اس کے امانت دار، اس کی روحانی اولادیں، اس کا ذکر کر کے آب دیدہ ہو جانے والے، کانوں کو ہاتھ لگا کر اس کا الاپ اٹھانے والے، درجنوں نہیں، سینکڑوں ہیں ہندوستان بھر میں۔
مہدی حسن جن کا تھا وہ لے گئے، اس سورج سے چراغ ہندوستان میں جلے ہیں۔(قومی آواز)
پاکستان
پاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے
اسلام آباد، پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ۔ایران جنگ بندی کے لئے 60 روزہ مذاکرات کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
پاکستان کے حکومتی ذرائع کی اج بروز بدھ انادولو ایجنسی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کی غرض سے 60 روزہ نئے مذاکراتی دور کے آغاز کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کے تحت تجویز کردہ نئے شیڈول کا مقصد، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے معاملے پر تعطل کے شکار، براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ اطلاع کے مطابق پاکستان کی تجویز کا مقصد فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔
پاکستان کی نئی تجویز کے حوالے سے واشنگٹن، تہران یا اسلام آباد کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد کی یہ نئی کوشش ابتدائی 60 روزہ مدت گزشتہ ہفتے ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ فریقین نے اس مدت میں توسیع کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔ یہ مدت 17 جون کو شروع ہوئی اور 16 اگست کو ختم ہوگئی تھی۔
پاکستانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اس بات پر ایک غیر اعلانیہ مفاہمت موجود ہے کہ دونوں ممالک نیا تنازعہ شروع نہیں کریں گے۔
بتایا گیا ہے کہ تازہ پیش رفت پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران کے بعد سامنے آئی ہے۔ منیر کی ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں طویل عرصے سے تعطل کے شکار امریکہ-ایران براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز پر غور کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، کم از کم 15 نومولود بچے جاں بحق
اسلام آباد، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک سرکاری اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے کم از کم 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ بدھ کی صبح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کی تیسری منزل پر لگی۔
مقامی نشریاتی ادارے جیو ٹی وی نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 15 بتائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے کچھ دیر پہلے لگی اور اب اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔ جیو ٹی وی نے بتایا کہ صرف ایک نومولود بچے کو زندہ بچایا جا سکا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے ’’گہری تعزیت‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ’’فوری تحقیقات‘‘ کی ہدایت کی۔
انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف ’’سخت ترین کارروائی‘‘ کی جائے گی۔
جیو ٹی وی نے امدادی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ خراب ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات عام ہیں، جہاں حفاظتی ضوابط اور تعمیراتی قوانین پر اکثر عمل نہیں کیا جاتا یا ان کا نفاذ مؤثر نہیں ہوتا۔ جنوری میں جنوبی بندرگاہی شہر کراچی کے ایک گنجان تجارتی مرکز میں شدید آتشزدگی سے کم از کم 65 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
بدھ کا واقعہ پاکستان کی تاریخ میں اسپتالوں میں پیش آنے والے ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعات میں سے ایک ہے۔ حکومت سرکاری اسپتالوں کے ذریعے رعایتی طبی سہولیات فراہم کرتی ہے، تاہم سرکاری شعبہ صحت شدید مالی قلت، ناقص انتظام اور گنجائش سے زیادہ مریضوں کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
کیا پاکستان کے عاصم منیر ایرانی فوجی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں
اسلام آباد، پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کے روز تہران میں طاقت کے اہم مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر، پارلیمنٹ، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی، جو امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار ہیں۔تاہم امن مذاکرات میں تعطل کے درمیان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ثالث کے طور پر منیر کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ آیا وہ ایک بااثر فوجی رہنما کی حیثیت سے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
منیر کے دورہ ایران سے چند روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ڈاکٹروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ ختم کی جائے، جبکہ ایران کو برتری حاصل ہے۔ ان کا یہ پیغام واشنگٹن کے ساتھ ساتھ تہران کے اپنے سکیورٹی اداروں کے لیے بھی تھا۔انہوں نے کہا، ’’بہتر ہے کہ ہم اب جنگ ختم کر دیں کیونکہ اس وقت ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے۔‘‘
چند گھنٹے بعد، 21 اگست کو ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کسی بھی امریکی غلط اندازے کی صورت میں ’’انقلابی، تباہ کن، پشیمان کردینے والے اور ہلاکت خیز‘‘ ردعمل کا وعدہ کیا۔
یہ ایرانی صدر اور اب ملک کی فوجی قیادت سنبھالنے والے افراد کے درمیان موجود خلیج کی واضح مثال تھی، اور تجزیہ کاروں کے مطابق منیر کو اسی صورتحال سے بھی نمٹنا ہوگا۔
اسی لیے پیر کے روز منیر کی سب سے اہم ملاقات جنرل محسن رضائی سے قرار دی جا رہی ہے، جو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری ہیں۔ رضائی بنیادی طور پر فوج اور خامنہ ای کے درمیان رابطے کا پل ہیں۔
منیر کا تہران کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے اور دنیا بھر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکی آمیز ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ پابندیوں کے اعلان کی توقع کی جا رہی تھی، جن کے تحت تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو بھی سزا دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔
بعد میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے نام سے وسیع پابندیوں کی مہم کا اعلان کیا، جس میں ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، ہوا بازی، ٹیکنالوجی اور جہاز رانی کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تاہم دیگر ممالک کو ایران سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کی وارننگ دینے کے باوجود بیسنٹ نے ان ممالک کے خلاف فوری طور پر کسی سزا کا اعلان نہیں کیا اور اعتراف کیا کہ ایسا قدم ’’عالمی مالیاتی نظام کو تباہ کر سکتا ہے۔‘‘
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملوں کا امکان برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا، ’’اگر ہمیں فوجی حملوں کی ضرورت پڑی تو ہم کریں گے۔ اگر ایران اتنا بے وقوف ہوا کہ اپنی حد سے تجاوز کیا یا امریکی فوج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو ہم وہ کریں گے جو ضروری ہوگا۔‘‘
یہ واضح نہیں کہ منیر کا دورہ ایران کے خلاف وسیع تر امریکی کارروائی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا یا نہیں۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق دورے کا وقت اہم تھا۔ منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے چند روز بعد تہران کا سفر کیا۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسلام آباد سے کہا تھا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔
پاکستان کی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایک روزہ دورے کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ’’جامع مذاکرات‘‘ ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایرانی حکام نے ’’پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں‘‘ کو سراہا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی، جو منیر کے ہمراہ تہران گئے تھے، نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے مذاکرات کو ’’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’اہم پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔
یہ رواں سال منیر کا تہران کا چوتھا دورہ تھا، تاہم اس ماہ کے اوائل میں ایران کی فوجی قیادت میں تبدیلیوں کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔
10 اگست کو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عبداللہی کو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا جبکہ رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں منتقل کیا گیا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر احمد وحیدی مارچ سے اپنے عہدے پر موجود ہیں، جب ان کے پیشرو جنگ کے ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہی فوجی رہنما ایران کی جنگ سے متعلق حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں، جس سے کسی فوجی ہم منصب کے لیے روایتی سفارت کاروں کے مقابلے میں تہران کو مذاکرات پر آمادہ کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
پاکستانی بحریہ کے سابق وائس ایڈمرل اور دفاعی تجزیہ کار احمد سعید نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا، ’’اس بحران کے دوران جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں آئی آر جی سی اور وسیع تر سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔‘‘
وزیر داخلہ محسن نقوی اپریل سے اب تک آٹھ مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن ان دوروں سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔تاہم منیر سیاست دان نہیں بلکہ ایک جنرل ہیں اور بظاہر انہیں ایرانی قیادت اور اہم طور پر امریکی صدر ٹرمپ، دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ٹرمپ پاکستانی آرمی چیف کو اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دے چکے ہیں۔
احمد سعید نے کہا، ’’چند روز قبل منیر کو کی جانے والی فون کال خود ٹرمپ نے شروع کی تھی اور پاکستانی قیادت سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔‘‘
ایرانی حکام نے منیر کو جو کچھ بتایا، ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق، وہ ان بیانات سے زیادہ مختلف نہیں تھا جو وہ گزشتہ پورے ہفتے سے اپنے ملک کے میڈیا کو دے رہے تھے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنرل محسن رضائی نے منیر سے کہا، ’’ہم امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے اور اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے اس سے بھی زیادہ واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے کام کر رہے ہیں اور امریکہ کو مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔‘‘
دوسری جانب پزشکیان نے منیر سے کہا کہ وہ واشنگٹن کو ’’اپنا لہجہ اور طریقہ کار درست کرنے‘‘ کا پیغام دیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ ’’طاقت اور دھونس پر انحصار کرنا عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔‘‘
عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی بھی منگل کو تہران پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ خصوصی طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے ایک الگ دور میں شرکت کریں گے۔ یہ سفارتی کوشش کئی ماہ سے پاکستان کی ثالثی کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔
عمان کا کردار نیا نہیں ہے۔ البوسعیدی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے قوانین کے حوالے سے ایران کے ساتھ مسلسل مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
لاہور میں مقیم دفاعی تجزیہ کار اعجاز حیدر کے مطابق عمان اور پاکستان کے سفارتی راستے ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔انہوں نے الجزیرہ سے کہا کہ ’’عمان اور اسلام آباد کے راستے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 5 میں آبنائے کے حوالے سے عمان اور ایران کے درمیان دوطرفہ مفاہمت پر زور دیا گیا ہے۔‘‘
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں سے گزرتی ہے۔
حیدر نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے کے مشترکہ انتظام سے متعلق معاہدہ امریکہ کے مفاد میں نہیں، اسی لیے ٹرمپ نے عمان پر بمباری کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب سابق پاکستانی بحری عہدیدار احمد سعید کے مطابق ثالث کے طور پر اسلام آباد کا فائدہ یہ ہے کہ اسے ’’وحیدی، عبداللہی اور رضائی تک براہ راست رسائی حاصل ہے، جو ایران کے فیصلہ سازی کے اصل معمار ہیں۔‘‘
مذاکرات کے قریب ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ البوسعیدی تہران میں ’’بنیادی طور پر یہ سننے کے لیے ہوں گے کہ ایران نے کیا فیصلہ کیا ہے اور اپنے پاکستانی ثالث کے ساتھ کیا بات چیت کی ہے۔‘‘
کنگز کالج لندن میں دفاعی مطالعات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ کے مطابق ایرانی فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان سامنے آنے والے اختلافات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کی موجودہ صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق پزشکیان اور قالیباف ’’بنیادی طور پر یہ خبردار کر رہے ہیں کہ ایران اس صورتحال میں غیر معینہ مدت تک نہیں رہ سکتا‘‘، جبکہ ’’آئی آر جی سی کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کے برعکس وقت واشنگٹن کے خلاف جا رہا ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ’’محسن رضائی، احمد وحیدی اور آئی آر جی سی اس بات کے تعین میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی مفاہمت پر عمل درآمد ہو سکتا ہے یا نہیں۔‘‘
ان کے مطابق، ’’ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کسی معاہدے پر مذاکرات کر سکتے ہیں اور قطر ثالثی کر سکتا ہے، لیکن اگر سکیورٹی ادارہ اس کے عملی نتائج کو قبول نہیں کرتا تو ان سب کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘
فی الحال منیر کو ان ثالثوں میں سب سے زیادہ موزوں امیدوار سمجھا جا رہا ہے جو ایرانی جرنیلوں کو جنگی کمرے سے مذاکرات کی میز تک لانے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
