تازہ ترین
سرینگر میں آج اور کل اشیائے ضروریہ کی دکانیں ہی کھلی رہیں گی
انتظامیہ تذبذب کا شکار،لاک ڈاؤن میں سختی ہوگی یا نرمی
سرینگر کو چھوڑ کر وادی کے9اضلاع میں سخت ترین بندشوں اور پابندیوں میں عارضی نرمی
خبراردو:-
سرینگر:کشمیر میں کورونا وائرس (کووڈ۔19) کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے از سر نو نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن کے 16دن مکمل ہوگئے جبکہ سخت ترین پابندیوں اور بندشوں کے6روز بھی مکمل ہوگئے ہیں،لیکن انتظامیہ تذبذب کا شکار ہوگئی ہے کہ کاروبار کھولیں یا بند رکھیں نہ تو انتظامیہ کی سمجھ میں کچھ آرہا ہے اور نہ ہی لوگ سمجھ پارہے ہیں کہ لاک ڈاؤن کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک گیر اَن لاک۔3کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور کشمیر اب بھی لاک ڈاؤن کا سلسلہ برقرار ہے۔اگرچہ وادی میں از سر نو دوبارہ نافذ کئے گئے سخت ترین لاک ڈاؤن میں وادی کے9اضلاع میں نرمی لائی گئی ہے،تاہم دارالحکومت سرینگر میں مسلسل چھٹے روز اور مجموعی طور پر16ویں روز بھی جاری رہا۔سرینگر کے کئی علاقوں میں علی الصبح پولیس کی جپسیوں کے ذریعے پابندیاں برقرار رہنے کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین کی گئی۔دارالحکومت سرینگر میں عید الاضحی کے تین روز قبل بھی پابندیاں اور بندشیں عائد رہیں۔
دارالحکومت سرینگر کے تجارتی مرکز لالچوک کے درجنوں اہم ترین بازاروں جن میں گھنٹہ گھر،کوکر بازار،بڈشاہ چوک،گونی کھن،مہاراجہ بازار،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ،جہانگیر چوک وغیرہ شامل ہے،کو پولیس نے چاروں اطراف سے سیل کرکے لوگوں کی نقل وحرکت کو مسدود کرکے رکھ دیا جبکہ بازاروں میں دکانداروں کو دکانیں کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اس دوران سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر اپنا ذریعہ معاش تلاش کرنے والے چھاپڑی فروشوں کو بھی منگلوار کے روز اپنا کارو بار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔کئی علاقوں میں پولیس نے چھاپڑی فروشوں کو بھی سڑکوں اور فٹ پاتھوں سے ہٹایا جبکہ بازاروں کی ناکہ بندی،تار بندی بھی کی گئی تھی۔شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا البتہ نجی گاڑیوں کی آوا جاہی معمول کے مطابق رہی۔
ادھر شہر خاص کے مرکزی بازار جن میں جامع مسجد مار کیٹ،قدیم تجارتی بازار مہاراج بازار سمیت سبھی چھوٹے بڑے بازار بند رہے اور یہاں پولیس و فورسز کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی تھی۔شہرخاص میں پولیس نے صبح سویرے کرفیو جیسی پابندیوں اور بندشوں کا اعلان کیا گیا۔
اس دوران شہر میں جن علاقہ جات کو لوہے کی سلاخوں سے سیل کیا گیا،وہاں ناکہ بندی برقرار ہے،تاہم ان علاقوں سے لوگ آزاد نقل وحرکت بہ آسانی کررہے ہیں،جسکی وجہ سے انتظامیہ کو لاک ڈاؤن ناکام ثابت ہورہا ہے۔انتظامیہ کہیں کاروبار شروع کرنے کی اجازت دے رہی تو کہیں بند کرنے کے آرڈر جاری کررہی ہے۔محمد اشرف نامہ شہری نے بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ تذبذب کا شکار ہے،اُسے معلوم ہی نہیں کورونا سے پیدا شدہ صورتحال سے کیسے نمٹنا ہے،بس وہ اندھیر میں تیر چلا رہی ہے۔
اس بیچ سرینگر میں عید الاضحی کے سلسلے میں ’آج اور کل‘ یعنی (29اور30جولائی) کو اشیائے ضروریہ بیچنے والی دکانیں ہی کھلی رہیں گی۔مذکورہ دکانوں کو کورونا پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ہر احتیاطی تدبیر کرنی ہوگی۔ضلع انتظامیہ کے مطابق کورونا پھیلاؤ کو روکنے کیلئے جاری لاک ڈاؤن میں 2 روزہ نرمی کا فیصلہ منگل کو عید الاضحی کے پیش نظر لیا گیا ہے۔ضروری اشیاء بیچنے والی دکانوں کو صبح9بجے سے شام5بجے تک کھلا رہنے کی اجازت ہوگی جبکہ غیر ضروری چیزوں کا کاروبار کرنے والے سبھی تجارتی مراکز اور دکان اگلے احکامات تک بند رہیں گے۔انتظامیہ کے مطابق کورونا کے پیش نظر لوگوں کو ماسک وغیرہ کا استعمال سختی سے کرنا چاہئے۔
اس سلسلے میں انتظامیہ نے کئی ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو احتیاطی تدابیر پر عمل کو یقینی بنائیں گی اور اس سلسلے میں دکانداروں اور خریداروں پر قریبی نظر رکھی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ادھر وادی کشمیر کے دیگر9اضلاع میں عائد پابندیوں اور بندشوں میں نرمی دی گئی۔اطلاعات کے مطابق کپوارہ،بارہمولہ،بانڈی پورہ،پلوامہ،کولگام،اننت ناگ،بڈگام،گاندر بل اور شوپیان میں کہیں دوپہر تک تو کہیں دن بھر بازار بند رہے۔
پلوامہ کے ایک شہری بلال احمد نے بتایا ’حکومت لاک ڈاؤن کھولنے کے حوالے سے مذاق کررہی ہے،صبح کے وقت دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی اور بعد دوپہر اچانک سبھی بازاروں کو بند کرایا گیا،سمجھ میں نہیں آتا انتظامیہ کیا منصوبہ رکھتی ہے‘۔دریں اثناء پونچھ میں بھی دوبارہ لاک داؤن نافذ کیا گیا۔
معلوم ہوا ہے کہ قصبہ پونچھ کے متعدد علاقوں جن میں نکھا والی سے حاجی مارکیٹ میں سخت ترین بندشیں عائد کی گئیں۔معلوم ہوا ہے کہ پونچھ میں نئے کووڈ۔19کیسز سامنے آنے کے بعد بعض علا قوں میں منگلوار کی صبح دوبارہ بندشیں عائد کی گئیں۔ایک میڈ یا رپورٹ کے مطابق کسی بھی شخص پابندی زدہ علاقوں میں گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی اور لوگوں کی نقل حرکت گھروں تک محدود رکھی گئی۔یہاں بھی دکانیں نہ کھولنے اور گاڑیاں نہ چلانے کا اعلان کیا گیا۔
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
