تازہ ترین
یو پی ایس سی امتحانات کے نتائج ظاہر، جموں وکشمیر کے16نوجوان کامیاب
4 کا تعلق کشمیر سے،2کا تعلق خطہ لداخ سے
کامیاب کشمیری طلبہ:نادیہ بیگ ساکنہ کپوارہ، آفتاب ساکنہ ترہگام کپوارہ، سبزار احمد گنائی ساکنہ کوکرناگ،ماجد اقبال خان ساکنہ شانگس اننت ناگ
خبراردو:-
سرینگر: یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) امتحانات کے نتائج ظاہرکئے گئے۔ملکی سطح کے اس مسابقتی امتحانات میں جموں وکشمیر کے 16نوجوانوں نے کامیابی کا تاج اپنے نام کرایا ہے جن میں سے2نوجوانوں کا تعلق لداخ سے ہے۔کامیاب طلبہ میں 4 کاتعلق کشمیر سے ہے جن میں کپوارہ کی23سالہ طالبہ بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ 2009کے یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کے امتحان میں ڈاکٹر شاہ فیصل نے امتیازی پوزیشن حاصل کی تھی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق کشمیری نوجوان پھر ایک بار سرخیوں میں چھا گئے ہیں۔ اس مرتبہ کشمیری نوجوانوں نے پین اور کاغذ کے ذریعہ اپنی قابلیت کا زبردست مظاہرہ کیا ہے۔ یونین پبلک سرویس کمیشن (یو پی ایس سی) امتحانات کامیاب کرنے والے 16 نوجوان جموں و کشمیر کے طلبہ ہیں۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) نے منگل کے روز سول سروسز امتحان2019 کے حتمی نتائج کا اعلان کیا گیا، جس میں پردیپ سنگھ نے پہلی، جتن کشور نے دوسری اور پرتبھا ورما نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔اس بارمجموعی طور پر829 امیدواروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔
ان امیدواروں میں جنرل زمرہ کے 304، معاشی طور پر کمزور طبقات سے78، دیگر پسماندہ طبقات کے 251و 129 درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے 67 امیدوار شامل ہیں۔یو پی ایس سی نے ستمبر2019 میں سول سروس کے لئے تحریری امتحان لیا۔
رواں سال فروری اور اگست کے درمیان کئے گئے انٹرویو کے بعد یہ نتائج جاری کئے۔ امتحان کی بنیاد پرکمیشن نے انڈین ایڈمنسٹریٹیوسروس (آئی اے ایس)، انڈین فارن سروس (آئی ایف ایس)، انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) اور سنٹرل سروسز گروپ اے اور گروپ بی کے امیدواروں کی تقرری کی سفارش کی ہے۔انڈین ایڈ منسٹریٹیو سروس (آئی اے ایس) کے امتحانات میں جموں وکشمیر کے جن16 نوجوانوں نے یو پی ایس سی امتحانات میں کامیابی حاصل کی،اُن میں سے4تعلق کشمیر سے ہے جبکہ2کا تعلق خطہ لداخ سے ہے۔
کامیاب طلبہ میں جموں کے ابھیشیک آگستسیا(رینک۔38)، سنی گتا (رینک148)، دیو اہوتی(رینک177) ساکنان جموں، پارتھ گپتا (رینک 240)،اسرار احمد کچلو (رینک 248)، آصف یوسف تانترے (328)،نامگیال انگمو (رینک323)،نادیہ بیگ (رینک 350) ساکنہ کپوارہ، آفتاب رسول (رینک412)ساکنہ ترہگام کپوارہ، سبزار احمد گنائی (رینک628) ساکنہ کنڈی گاؤں گی بوم کوکرناگ،ماجد اقبال خان (رینک 638) ساکنہ شانگس اننت ناگ، ستن زین ونگال(رینک 716)،ریس حسین (رینک747)، محمد نواس شریف الدین (رینک 778) اور سید جنید عادل (رینک822) شامل ہیں۔کپوارہ کی23سالہ طالبہ نے کے این ایس کیساتھ بات کرتے ہوئے اپنی کامیابی کا سہرا والدین اور بھائی کے سر باندھا۔نادیہ بیگ والدین سرکاری اساتذہ ہیں جبکہ انہوں نے اکنا مکس (اونرس) میں جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی سے گریجویشن کی۔
نادیہ نے یو پی ایس سی امتحانات میں دوسری مرتبہ کوشش کرکے کامیابی حاصل کی۔پنزوا کپوارہ سے تعلق رکھنے والی نادیہ بیگ نے کہا ’میرے پاس اس وقت اپنے جذبات کا اظہار کرنے کیلئے الفاظ نہیں ہیں‘۔ان کا کہناتھا کہ 12ویں جماعت پاس کرنے کیساتھ ہی انہوں نے یو پی ایس سی امتحانات میں کامیابی کا عزم کر رکھا تھا۔
انہوں نے 12ویں جماعت تک کپوارہ کے سرکاری اسکول سے تعلیم حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کیلئے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخل لیا اور سال2017میں گر یجویشن مکمل کی۔نادیہ کی دو بہنیں سکمز سے ایم بی بی ایس کررہی ہیں جبکہ اُنکے بھائی نے بی بی اے مکمل کر لیا ہے جبکہ وہ یو پی ایس سی امتحانات کی تیاری کررہے ہیں۔نادیہ پہلی مرتبہ سال2018میں یو پی ایس سی امتحانات میں حصہ لیا،لیکن کامیاب نہیں رہیں،البتہ ہمت اور حوصلہ نہیں توڑا۔
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
