تازہ ترین
آہ!!! روشن چراغوں کے بجھنے کا سلسلہ جاری ہے! (مقامِ افسوس )
تحریر: جاوید اختر بھارتی
کل نفسٍ ذائقۃالموت ہر ذی روح کو موت کا سامنا کرنا ہے، ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے، جو اس دنیا میں آیا اسے ایک دن جاناہی جانا ہے کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے جس کا جب وقت پورا ہوگیا تو اب موت سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص بہت جلدی چلا گیا جیسے لگتا ہے کہ انہیں جانے والے شخص کی زندگی کے ایام کا پتہ تھا کہ کہہ رہا ہے کہ بڑی جلدی چلا گیا،، اسی طرح بعض لوگ کہدیتے ہیں کہ فلاں شخص وقت سے پہلے ہی چلا گیا حالانکہ اس طرح کے جملے کا استعمال قطعی طور پر نہیں کرنا چاہیے،، کوئی بھی شخص وقت سے پہلے نہیں جاتا جتنی سانسیں، جتنا کھانا پینا، جتنا جس سے ملنا جلنا، جتنی گفت و شنید کرنا، جتنا سونا جاگنا، جتنا چلناپھرنا اس کے مقدر میں لکھا ہوتا ہے اور جن جن مراحل سے گزرنا بھی لکھا ہوتا ہے ان ساری منزلوں سے موت کی آخری ہچکی سے قبل گذر لیتا ہے-
ہاں اب وقت پورا ہوگیا پیر سے جان کا نکلنا شروع ہوگیا تو اب زندگی میں اضافے کی کوئی گنجائش نہیں ہے بڑے سے بڑا ڈاکٹر، سرجن، طبیب چاہے دنیا کے کسی بھی ملک کا ہو وہ موت سے نہ کسی کو بچا سکتا ہے اور نہ ہی خود بچ سکتا ہے یہاں تک کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ماں حضرت مریم کی روح قبض کرنے کے لیے ملک الموت یعنی حضرت عزرائیل علیہ السلام جب آئے تو حضرت عیسٰی علیہ السلام جنگل میں پھل لینے کے لئے گئے ہوئے تھے اس لیے کہ انکی والدہ حضرت مریم روزے سے تھیں حضرت مریم نے کہا کہ اے عزرائیل تھوڑا ٹھہر جاؤ میرا بیٹا جنگل میں میرے افطار کے لئے پھل لینے گیا ہوا ہے وہ جب واپس آجائے تو روح قبض کرنا تو عزرائیل نے کہا کہ اے مریم تیرا بیٹا جنگل سے آئے کہ نہ آئے مجھے اس سے مطلب نہیں مجھے تو بس وقت کا انتظار ہے جتنا وقت باقی ہے اتنے میں تم مجھ سے بات کررہی ہو اور میں تم سے بات کررہا ہوں جیسے ہی وقت پورا ہوگا یعنی وقت مقررہ پر میں روح قبض کرلونگا میں تمہارے بیٹے کی واپسی کا انتظار نہیں کروں گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام جنگل سے اپنی والدہ مریم کے روزہ افطار کیلئے پھل لیکر آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ماں کی روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی ہے حضرت مریم کا انتقال ہو چکا ہے –
حضرت مریم نیک اور صالح مقدس ترین عورت تھیں، ایک نبی کی ماں تھیں انکو ملک الموت سے کچھ بات کرنے کا موقع بھی مل گیا اور یہ اعزاز بالخصوص انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ رب العالمین کی عطا سے حاصل تھا کہ انکے اور ملک الموت کے مابین گفتگو بھی ہوجاتی تھی ہمیں تو وہ بھی اختیار نہیں پھر بھی نہ جانے کیوں موت سے غافل ہیں کم از کم 2020 کے حالات پر غور کرتے ہوئے ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے، موت کو یاد کرنے کی ضرورت ہے، موت سے پہلے موت کی تیاری کرنے کی ضرورت ہے، کسی کی تجہیز و تکفین میں حصہ لیتے ہوئے یہ تصور کرنے کی ضرورت ہے کہ اسے تو نہلا دیا گیا، کفنا دیا گیا، دفنا دیا گیا کیا معلوم ہمیں نہلانے، کفن پہنانے اور دفنانے والا کوئی ہوگا بھی کہ نہیں،، نہ جانے کہاں کب اور کس حال میں موت ہوگی یہ صرف اور صرف اللہ ہی کو معلوم ہے-
پوری دنیا میں کرونا وائرس جیسی خطرناک بیماری پھیلی ہوئی ہے مساجد کے دروازے بھی عام طور پر بند ہیں، بیچ بیچ میں حرم شریف کے دروازے بھی بند ہوجارہے ہیں یہ ایک مسلمان کے لئے بد قسمتی کی بات نہیں تو اور کیا ہے،، اس بیماری کو کبھی مذہبی رنگ دیا جاتا ہے تو کبھی علاقائیت کا رنگ دیا جاتا ہے کبھی کبھی سیاسی رنگ بھی دیا جاتا ہے،، رمضان المبارک جیسا بابرکت مہینہ گذر گیا، عید الفطر یوم الجزا جیسا خوشی کا تہوار بھی گذر گیا اور اب سنت ابراہیمی کی ادائیگی عید الاضحٰی کا تہوار بھی گذرگیا اسی طرح آج ایک انسان بند مٹھی لئے پیدا ہوا کل کھلا ہاتھ لئے دنیا سے گذر جائے گا،، آج کے حالات کہہ رہے ہیں کہ موبائلوں میں گیم کھیلنے کا وقت نہیں ہے، ایک دوسرے کے ساتھ حقتلفی کرنے کا وقت نہیں ہے، لعن و طعن کرنے کا وقت نہیں ہے، غرباء اور فقراء و مساکین کا مذاق اڑانے کا وقت نہیں ہے، غیروں کے طور طریقے دیکھ کر خوش ہونے اور غیروں کا طریقہ اپنانے کا وقت نہیں ہے بلکہ ہر سال حرم میں پوری دنیا کے مسلمانوں کی خوشحالی، کامیابی و ترقی اور جان و مال کے تحفظ کی دعا ہوتی ہے پھر بھی پوری دنیا میں مسلمان ذلیل و خوار کیوں ہورہا ہے؟ یہ سوچنے کا وقت ہے،، ہر سال فلسطین کے حق میں دعا ہوتی ہے پھر بھی موجودہ وقت میں گوگل سے فلسطین کا نام غائب کیوں کردیا گیا؟ یہ سوچنے کا وقت ہے،، جس ملک میں ہم ہزار سال کے قریب حکمراں رہے اس ملک میں ہماری شناخت مٹتی جارہی ہے سیاسی طور پر ہماری کیوں کوئی پہچان نہیں ہے؟ یہ سوچنے کا وقت ہے،، مذہبی معاملات میں کل تک ہمیں صرف اسلام کی گائیڈ لائن نظر آتی تھی اور اسی کے مطابق ہم اپنے مذہبی رسومات کی ادائیگی کرتے تھے اور آج ہم مختلف تہواروں کے موقع پرحکومت سے گائیڈ لائن جاری کرنے کا مطالبہ کیوں کررہے ہیں؟ یہ سوچنے کا وقت ہے-
اور مزید یہ سوچنے کا وقت ہے کہ کہیں ہمارا رب ہم سے ناراض تو نہیں ہے اس لئے کہ جہاں 2020 میں پوری دنیا مختلف مراحل سے گزر رہی ہے وہیں دنیا سے روشن چراغ بجھتے جارے ہیں، آسمانِ خطابت کے بدر منیر گذرتے جارے ہیں، فصاحت و بلاغت کے ماہ مستنیر داعی اجل کو لبیک کہتے جارہے ہیں، بڑے بڑے محدثین، مفکرین، مبصرین، مقررین سفرِ آخرت پر روانہ ہوتے جا رہے ہیں، خانقاہوں اور درسگاہوں سے بھی معتبر قسم کے پیر و بزرگ اللہ کو پیارے ہوتے جا رہے ہیں-
خود ہمارے ہندوستان کی بڑی بڑی درسگاہوں کی مسند پر جلوہ افروز ہونے والے بڑے بڑے علماء کرام و مفتیانِ عظام کے اس دار فانی سے کوچ کرنے کا سلسلہ جاری ہے تین مہینے کے اندر اندر بہت ہی عظیم عظیم ہستیاں اس دنیا سے گذر گئیں اور یہ سلسلہ رک نہیں رہا ہے ایک عالم دین کا انتقال ہوتا ہے ابھی اس کی نسبت سے تعزیتی پروگرام کا انعقاد ہوتا ہے، تعزیتی بیانات و پیغامات کا سلسلہ رکتا بھی نہیں ہے کہ پھر کسی بڑے بزرگ اور زبردست عالم دین کی رحلت کی خبر اجاتی ہے ان علماء کرام کے انتقال سے آبادیوں کی رونقیں ختم ہو رہی ہیں درس و تدریس کے میدان میں خلا پیدا ہورہا ہے، ملت اسلامیہ کا نا قابل تلافی نقصان ہورہا ہے اور ملت اسلامیہ کا عظیم خسارہ ہورہاہے جو مستقبل قریب میں پر ہونا ناممکن سا محسوس ہورہا ہے یعنی 2020 عام الحزن غم کا سال ثابت ہورہا ہے –
کچھ ایسے عالم دین اس دار فانی سے کوچ کرتے جا رہے ہیں کہ یہ کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کہ اب عالم اسلام کی بہتر رہنمائی کیسے ہوگی، اصلاح معاشرہ کی تحریک کیسے چلے گی اس لئے کہ وہ عالم جو ریڈیمیڈ طریقہ اپنائے ہوئے ہیں جو تقریر و تحریر کو صرف ایک فن سمجھ کر مبالغہ آرائی کی پیچ پر دھواں دھار بیٹنگ کرتے ہوئے صرف دولت کمانا مقصد سمجھتے ہیں، جو اختلافات کی رسیوں کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کی مہم چلاتے ہیں، کھچڑی میں انگلیاں ڈال کر جنت کی شہد اور دودھ کی نہروں کا ذکر کرتے ہیں، لیکن کھچڑی کا سارا گھی اپنے حصے میں کرنا ان کا اصل مقصد ہوتا ہے ایسے لوگوں سے تو دین کا بھلا ہونے والا نہیں ہے –
ہاں افسوس اس بات کا ہے کہ جن علماء کرام کے مواعظِ حسنہ سے لوگوں کے قلوب منور ہوتے ہیں ، جن سے درسگاہوں کا اور درس و تدریس کا معیار بلند ہوتا ہے، جن کا احترام لوگ کبھی کبھی مسلکی اختلافات سے اوپر اٹھ کر کرتے ہیں ایسے باوقار اور قابل احترام علماء کرام کی مسلسل اموات کی خبر سننا یہ سوچنے کیلئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے کہ اب دنیا اچھے لوگوں سے خالی ہورہی ہے آنے والا وقت مزید خراب ہوسکتا ہے سماج معاشرہ، سوسائٹی میں نیک نیتی کے ساتھ اسلام کی صحیح تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے، اسلام کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ جگمگاتے ہوئے روشن ستارے یوں ہی دنیا سے جاتے رہے اور ہم اس سے سبق حاصل نہ کرسکے تو کل ہمیں سبق دینے والا کوئی نہیں ہوگا آج ضرورت ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ یوں تو سب کو موت کا مزا چکھنا ہی چکھنا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد بھی ان کے معتقدین بڑھتے جاتے ہیں ہم زندہ ہیں پھر بھی ہمارے ساتھ کوئی دو قدم چلنے کو تیار نہیں اور وہ قبر میں ہیں پھر بھی عقیدت کا احترام و محبت کا مرکز بنے ہوئے ہیں اسی کو کہا جاتا ہے کہ فنا ہونا اور بات ہے فنا فی اللہ ہونا اور بات ہے –
مصنف:جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوھنہ ضلع مئو یو پی
برائے رابطہ 8299579972 ، javedbharti508@gmail.com
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
