تازہ ترین
آہ!!! روشن چراغوں کے بجھنے کا سلسلہ جاری ہے! (مقامِ افسوس )
تحریر: جاوید اختر بھارتی
کل نفسٍ ذائقۃالموت ہر ذی روح کو موت کا سامنا کرنا ہے، ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے، جو اس دنیا میں آیا اسے ایک دن جاناہی جانا ہے کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے جس کا جب وقت پورا ہوگیا تو اب موت سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص بہت جلدی چلا گیا جیسے لگتا ہے کہ انہیں جانے والے شخص کی زندگی کے ایام کا پتہ تھا کہ کہہ رہا ہے کہ بڑی جلدی چلا گیا،، اسی طرح بعض لوگ کہدیتے ہیں کہ فلاں شخص وقت سے پہلے ہی چلا گیا حالانکہ اس طرح کے جملے کا استعمال قطعی طور پر نہیں کرنا چاہیے،، کوئی بھی شخص وقت سے پہلے نہیں جاتا جتنی سانسیں، جتنا کھانا پینا، جتنا جس سے ملنا جلنا، جتنی گفت و شنید کرنا، جتنا سونا جاگنا، جتنا چلناپھرنا اس کے مقدر میں لکھا ہوتا ہے اور جن جن مراحل سے گزرنا بھی لکھا ہوتا ہے ان ساری منزلوں سے موت کی آخری ہچکی سے قبل گذر لیتا ہے-
ہاں اب وقت پورا ہوگیا پیر سے جان کا نکلنا شروع ہوگیا تو اب زندگی میں اضافے کی کوئی گنجائش نہیں ہے بڑے سے بڑا ڈاکٹر، سرجن، طبیب چاہے دنیا کے کسی بھی ملک کا ہو وہ موت سے نہ کسی کو بچا سکتا ہے اور نہ ہی خود بچ سکتا ہے یہاں تک کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ماں حضرت مریم کی روح قبض کرنے کے لیے ملک الموت یعنی حضرت عزرائیل علیہ السلام جب آئے تو حضرت عیسٰی علیہ السلام جنگل میں پھل لینے کے لئے گئے ہوئے تھے اس لیے کہ انکی والدہ حضرت مریم روزے سے تھیں حضرت مریم نے کہا کہ اے عزرائیل تھوڑا ٹھہر جاؤ میرا بیٹا جنگل میں میرے افطار کے لئے پھل لینے گیا ہوا ہے وہ جب واپس آجائے تو روح قبض کرنا تو عزرائیل نے کہا کہ اے مریم تیرا بیٹا جنگل سے آئے کہ نہ آئے مجھے اس سے مطلب نہیں مجھے تو بس وقت کا انتظار ہے جتنا وقت باقی ہے اتنے میں تم مجھ سے بات کررہی ہو اور میں تم سے بات کررہا ہوں جیسے ہی وقت پورا ہوگا یعنی وقت مقررہ پر میں روح قبض کرلونگا میں تمہارے بیٹے کی واپسی کا انتظار نہیں کروں گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام جنگل سے اپنی والدہ مریم کے روزہ افطار کیلئے پھل لیکر آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ماں کی روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی ہے حضرت مریم کا انتقال ہو چکا ہے –
حضرت مریم نیک اور صالح مقدس ترین عورت تھیں، ایک نبی کی ماں تھیں انکو ملک الموت سے کچھ بات کرنے کا موقع بھی مل گیا اور یہ اعزاز بالخصوص انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ رب العالمین کی عطا سے حاصل تھا کہ انکے اور ملک الموت کے مابین گفتگو بھی ہوجاتی تھی ہمیں تو وہ بھی اختیار نہیں پھر بھی نہ جانے کیوں موت سے غافل ہیں کم از کم 2020 کے حالات پر غور کرتے ہوئے ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے، موت کو یاد کرنے کی ضرورت ہے، موت سے پہلے موت کی تیاری کرنے کی ضرورت ہے، کسی کی تجہیز و تکفین میں حصہ لیتے ہوئے یہ تصور کرنے کی ضرورت ہے کہ اسے تو نہلا دیا گیا، کفنا دیا گیا، دفنا دیا گیا کیا معلوم ہمیں نہلانے، کفن پہنانے اور دفنانے والا کوئی ہوگا بھی کہ نہیں،، نہ جانے کہاں کب اور کس حال میں موت ہوگی یہ صرف اور صرف اللہ ہی کو معلوم ہے-
پوری دنیا میں کرونا وائرس جیسی خطرناک بیماری پھیلی ہوئی ہے مساجد کے دروازے بھی عام طور پر بند ہیں، بیچ بیچ میں حرم شریف کے دروازے بھی بند ہوجارہے ہیں یہ ایک مسلمان کے لئے بد قسمتی کی بات نہیں تو اور کیا ہے،، اس بیماری کو کبھی مذہبی رنگ دیا جاتا ہے تو کبھی علاقائیت کا رنگ دیا جاتا ہے کبھی کبھی سیاسی رنگ بھی دیا جاتا ہے،، رمضان المبارک جیسا بابرکت مہینہ گذر گیا، عید الفطر یوم الجزا جیسا خوشی کا تہوار بھی گذر گیا اور اب سنت ابراہیمی کی ادائیگی عید الاضحٰی کا تہوار بھی گذرگیا اسی طرح آج ایک انسان بند مٹھی لئے پیدا ہوا کل کھلا ہاتھ لئے دنیا سے گذر جائے گا،، آج کے حالات کہہ رہے ہیں کہ موبائلوں میں گیم کھیلنے کا وقت نہیں ہے، ایک دوسرے کے ساتھ حقتلفی کرنے کا وقت نہیں ہے، لعن و طعن کرنے کا وقت نہیں ہے، غرباء اور فقراء و مساکین کا مذاق اڑانے کا وقت نہیں ہے، غیروں کے طور طریقے دیکھ کر خوش ہونے اور غیروں کا طریقہ اپنانے کا وقت نہیں ہے بلکہ ہر سال حرم میں پوری دنیا کے مسلمانوں کی خوشحالی، کامیابی و ترقی اور جان و مال کے تحفظ کی دعا ہوتی ہے پھر بھی پوری دنیا میں مسلمان ذلیل و خوار کیوں ہورہا ہے؟ یہ سوچنے کا وقت ہے،، ہر سال فلسطین کے حق میں دعا ہوتی ہے پھر بھی موجودہ وقت میں گوگل سے فلسطین کا نام غائب کیوں کردیا گیا؟ یہ سوچنے کا وقت ہے،، جس ملک میں ہم ہزار سال کے قریب حکمراں رہے اس ملک میں ہماری شناخت مٹتی جارہی ہے سیاسی طور پر ہماری کیوں کوئی پہچان نہیں ہے؟ یہ سوچنے کا وقت ہے،، مذہبی معاملات میں کل تک ہمیں صرف اسلام کی گائیڈ لائن نظر آتی تھی اور اسی کے مطابق ہم اپنے مذہبی رسومات کی ادائیگی کرتے تھے اور آج ہم مختلف تہواروں کے موقع پرحکومت سے گائیڈ لائن جاری کرنے کا مطالبہ کیوں کررہے ہیں؟ یہ سوچنے کا وقت ہے-
اور مزید یہ سوچنے کا وقت ہے کہ کہیں ہمارا رب ہم سے ناراض تو نہیں ہے اس لئے کہ جہاں 2020 میں پوری دنیا مختلف مراحل سے گزر رہی ہے وہیں دنیا سے روشن چراغ بجھتے جارے ہیں، آسمانِ خطابت کے بدر منیر گذرتے جارے ہیں، فصاحت و بلاغت کے ماہ مستنیر داعی اجل کو لبیک کہتے جارہے ہیں، بڑے بڑے محدثین، مفکرین، مبصرین، مقررین سفرِ آخرت پر روانہ ہوتے جا رہے ہیں، خانقاہوں اور درسگاہوں سے بھی معتبر قسم کے پیر و بزرگ اللہ کو پیارے ہوتے جا رہے ہیں-
خود ہمارے ہندوستان کی بڑی بڑی درسگاہوں کی مسند پر جلوہ افروز ہونے والے بڑے بڑے علماء کرام و مفتیانِ عظام کے اس دار فانی سے کوچ کرنے کا سلسلہ جاری ہے تین مہینے کے اندر اندر بہت ہی عظیم عظیم ہستیاں اس دنیا سے گذر گئیں اور یہ سلسلہ رک نہیں رہا ہے ایک عالم دین کا انتقال ہوتا ہے ابھی اس کی نسبت سے تعزیتی پروگرام کا انعقاد ہوتا ہے، تعزیتی بیانات و پیغامات کا سلسلہ رکتا بھی نہیں ہے کہ پھر کسی بڑے بزرگ اور زبردست عالم دین کی رحلت کی خبر اجاتی ہے ان علماء کرام کے انتقال سے آبادیوں کی رونقیں ختم ہو رہی ہیں درس و تدریس کے میدان میں خلا پیدا ہورہا ہے، ملت اسلامیہ کا نا قابل تلافی نقصان ہورہا ہے اور ملت اسلامیہ کا عظیم خسارہ ہورہاہے جو مستقبل قریب میں پر ہونا ناممکن سا محسوس ہورہا ہے یعنی 2020 عام الحزن غم کا سال ثابت ہورہا ہے –
کچھ ایسے عالم دین اس دار فانی سے کوچ کرتے جا رہے ہیں کہ یہ کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کہ اب عالم اسلام کی بہتر رہنمائی کیسے ہوگی، اصلاح معاشرہ کی تحریک کیسے چلے گی اس لئے کہ وہ عالم جو ریڈیمیڈ طریقہ اپنائے ہوئے ہیں جو تقریر و تحریر کو صرف ایک فن سمجھ کر مبالغہ آرائی کی پیچ پر دھواں دھار بیٹنگ کرتے ہوئے صرف دولت کمانا مقصد سمجھتے ہیں، جو اختلافات کی رسیوں کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کی مہم چلاتے ہیں، کھچڑی میں انگلیاں ڈال کر جنت کی شہد اور دودھ کی نہروں کا ذکر کرتے ہیں، لیکن کھچڑی کا سارا گھی اپنے حصے میں کرنا ان کا اصل مقصد ہوتا ہے ایسے لوگوں سے تو دین کا بھلا ہونے والا نہیں ہے –
ہاں افسوس اس بات کا ہے کہ جن علماء کرام کے مواعظِ حسنہ سے لوگوں کے قلوب منور ہوتے ہیں ، جن سے درسگاہوں کا اور درس و تدریس کا معیار بلند ہوتا ہے، جن کا احترام لوگ کبھی کبھی مسلکی اختلافات سے اوپر اٹھ کر کرتے ہیں ایسے باوقار اور قابل احترام علماء کرام کی مسلسل اموات کی خبر سننا یہ سوچنے کیلئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے کہ اب دنیا اچھے لوگوں سے خالی ہورہی ہے آنے والا وقت مزید خراب ہوسکتا ہے سماج معاشرہ، سوسائٹی میں نیک نیتی کے ساتھ اسلام کی صحیح تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے، اسلام کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ جگمگاتے ہوئے روشن ستارے یوں ہی دنیا سے جاتے رہے اور ہم اس سے سبق حاصل نہ کرسکے تو کل ہمیں سبق دینے والا کوئی نہیں ہوگا آج ضرورت ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ یوں تو سب کو موت کا مزا چکھنا ہی چکھنا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد بھی ان کے معتقدین بڑھتے جاتے ہیں ہم زندہ ہیں پھر بھی ہمارے ساتھ کوئی دو قدم چلنے کو تیار نہیں اور وہ قبر میں ہیں پھر بھی عقیدت کا احترام و محبت کا مرکز بنے ہوئے ہیں اسی کو کہا جاتا ہے کہ فنا ہونا اور بات ہے فنا فی اللہ ہونا اور بات ہے –
مصنف:جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوھنہ ضلع مئو یو پی
برائے رابطہ 8299579972 ، javedbharti508@gmail.com
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
