جموں و کشمیر
دفعہ370کی منسوخی کا ایک سال:حصہ اول
https://www.facebook.com/Khabarurdu/videos/1481979201994613/?t=3
5اگست 2019کو جموں کشمیر کی تاریخ اور نقشہ دونوں بدل گئے.مرکزی سرکار کا وہ فیصلہ جس کے لئے بی.جے.پی، دہائیوں سے انتظار کررہی تھی. آخر کار بروئے کار لایا گیا.دفعہ 370 کو آئینِ ہند سے نکال باہر کردیا گیا . اور بھارت کا آئین جموں کشمیر میں پوری طرح سے لاگو کیا گیا. تاہم یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا.جموں کشمیر پچھلے تین دہائیوں سے ملی ٹنسی سے جوجھ رہا تھا. علحیدگی پسند سیاست اور بھارت مخالف سرگرمیاں جموں کشمیر کی سیاست کا حصہ رہی تھی. دفعہ 370ہٹانے کے لئے مرکزی سرکار نے کس طرح کے اقدامات اُٹھائے ہم واقعات کو ترتیب وار سمجھانے کی کوشش کریں گے.
26جولائی : کشمیر میں افواہوں کا بازار گرم ہونے لگا.ہر طرف لوگ پریشان نظر آنے لگے. پیٹرول پمپوں پر لوگوں کا جم غفیر جمع ہوگیا.لوگ ضروری اشیا کو ذخیرہ کرنے لگے.یہ پریشانی آگے چل کر سیاست دانوں کو بھی ستانے لگی.
27جولائی :لوگوں کو پریشانی اور تذبذب کی لہر ستاتی رہی تاہم ماحول میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی.وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ ہاوس سے پاکستان کو للکارا. 28جولائی :وزیر داخلہ کے فرمان کے مطابق دس ہزار مزید سکیورٹی اہلکار جموں کشمیر وارد کئے گئے. اُن کے انتظام کے لئے وادی کے اسکولوں اور کالجوں کو خالی کردیا گیا. لوگوں میں بےچینی اور غیر یقینی بڑتی جارہی تھی.تاہم لوگوں کا من رکھنے کے لئے ADGلا اینڈ آرڈر منیر خان نے اسے ایک معمول کی کاروائی قرار دیا.
29جولائی :اب لوگوں کی قیاس آرائیاں دفعہ 370پر پہونچ گئی.نیشنل کانفرنس کے سرپرست فاروق عبدللہ کو بھی خدشہ لاحق ہوگیا.ایک بیان کے مطابق فاروق عبدللہ نے کہا کہ آبادی کے تناسب کو بدلنے کی اجازت نہیں دیں گے.تاہم شعلہ بیان محبوبہ مفتی کیوں چپ بیٹھتی ایک دھمکی آمیز پیغام میں انہوں نے مرکز سے مخاطب ہوکر کہا” دفعہ370سے چھیڑچھاڑ ایک دھماکے کی مانند ہوگا ناصرف ہاتھ جلے گا بلکہ پورا جسم خاکستر ہوگا” ایم .ایل. اے لنگیٹ انجینئر رشید جو ابھی بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے نے مرکز کوانتباہ کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 370کے ہٹانے سے کشمیر کی مین اسٹریم سیاست خطرے میں پڑسکتی ہے.
30جولائی :مرکز کی طرف سے کوئی بھی یقین دہانی سامنے نہیں آرہی تھی تشویش اور غیر یقینی عام لوگوں سے لیکر سیاستدانوں میں گھر کر گئی. پی. ڈی. پی. صدر محبوبہ مفتی نےفاروق عبدللہ سے آل پارٹی مٹینگ بلانے کے لئے کہا. تاہم فاروق عبدللہ دلی روانہ ہوگئے.جہاں وہ اپوزیشن ممبران سے ملاقی ہوئے. جموں کشمیر کی انتظامیہ نے بیان جاری کیا.بیان میں ہورہے واقعات کو “معمول کے مطابق” کاروائی بتایا گیا.اور اضافی فورسز اہلکاروں کی تعیناتی کو امر ناتھ یاترا سے منسوب کیا. وہی دوسری طرف جموں کشمیر پولیس وادی کی مسجدوں کی انتظامیہ کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی تھی. شوشہ بازی اور غیر یقینی صورت حال ہر محلے ،کوچے سے گزر کر لوگوں کے ذہنوں پر سوار ہورہی تھی.
1اگست : دفعہ 370 جانے کا یقین بھی بڑھتا گیا اس بیچ دو اہم بیانات سامنے آئے.بی. جے. پی. کے نیشنل جنرل سکریٹری رام مادھو نے ایک بیان دیکر لوگوں کو یقین دلایا کہ دفعہ370اور35اے کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی. اگر کچھ ہوگا بھی تو وہ جموں کشمیر کے عوام کے فائدے میں ہوگا.گورنر ستیہ پال ملک کے بیان کے مطابق دفعہ 370محفوظ ہے. پیپلز کانفرنس کے چیئر مین سجاد لون دفعہ370کے دفاع کے لئے کسی بھی پارٹی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے کے لئے تیار ہیں.
2اگست :نیشنل کانفرنس کا ایک وفد فاروق عبدللہ کی قیادت میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقی ہوا.وفد کے دو اہم ممبر سابقہ وزیر اعلی عمر عبدللہ اور ممبر پارلیمنٹ حسنین مسعودی تھے. ملاقات کے بعد عمر عبدللہ نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے وزیراعظم سے التجا کی کہ جموں کشمیر میں انتخابات جلد از جلد کرائیں جائیں. اور وہاں پر افواہوں کا جو بازار گرم ہے اُس پر ایک مثبت بیان دیا جائے.تاہم کشمیر میں اس ملاقات پر اعتراض جتایا گیا. اور نیشنل کانفرنس پر سوالیہ نشان لگایا گیا.
3اگست :بے یقینی اور بے چینی کے ماحول میں آخر کار ”شوڈاون” کی شروعات ہوگئی.انتظامیہ نے اچانک امر ناتھ یاترا اور سیاحوں کو جلدی سے وادی چھوڑنے کی ہدایت کی.پہلگام،گلمرگ اور ڈل جھیل سے محضوظ ہورہے سیاح حیران و پریشان جلدی جلدی ہوٹلوں کی طرف روانہ ہوگئے. اور لمحوں میں یہ مقامات ویران ہوگئے.لوگ مسلسل کھانے پینےکی چیزیں اسٹاک کرنے میں مصروف رہے.دوسری طرف محبوبہ مفتی کی قیادت میں ایک سیاسی وفد جس میں پیپلز کانفرنس کے سجاد لون، عمران انصاری، اور شاہ فیصل شامل تھے.نے گورنر سے ملاقات کی.اور دفعہ 370کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے نتائج سے آگاہ کیا.دوسری طرف حفاظتی دستوں کی 80اضافی کمپنئیاں وادی کشمیر میں تعئینات کی گئیں.جموں میں ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات پر ہائی الرٹ جاری کردیا گیا.پیر پنچال اور چناب ویلی میں بھی سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی.پہلی بار علحیدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق کا بیان جاری ہوتا ہے.میر واعظ نے کہا 35اے اور دفعہ370 مرکز اور ریاست کے درمیان ایک آئینی رشتہ ہے.
4اگست : مرکز کی طرف سے افواہوں کو بند کرنے کے لئے کوئی مثبت بیان نہیں آیا. مقامی سیاسی جماعتیں تشویش میں تھیں. پوری وادی میں سناٹا چھایا تھا. اور لوگ تھک ہار کر گھروں میں محسور ہوگئے تھے. لال چوک جوکہ وادی کا تجارتی مرکز ہے. وہ پورا کا پورا سنسان نظر آرہا تھا. چار اگست اتوار کو مرکز میں بی. جے . پی. نے اپنے سارے ممبران پارلیمنٹ کو ایک فرمان کے ذریعے اگلے دن یعنی سوموار کو پارلیمنٹ میں حاضر رہنے کی ہدایت کی مزید افواہیں گردش کرنے لگی.کہ مقامی پولیس سے ہتھیار چھین لئے گئے. سرینگر میں آل پارٹی مٹینگ بلائی گئی جس میں ”گپکار ڈیکلریشن” پاس کی گئی.
اندھیرا چھانے لگا پریشانی کے ماحول میں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی تھی. اس کے ساتھ رات کے گیارہ بج گئے . فون اور انٹر نیٹ کی سہولیات بند کردی گئی.
جب صبح کشمیری نیند سے بیدار ہوگئے تو عالم بدل چکا تھا فضائیں خاموش تھیں. ہر راستہ بند ہوچکا تھا، پورے جموں کشمیر کے لوگ اپنے ہی گھروں میں قید تھے.
5اگست کو جموں کشمیر کی تاریخ اور جغرافیہ کیسے بدل گئے اور آنے والے ایک سال میں کس طرح کے حالات رہے وہ آپ ہماری اس سیریز کے دوسرے حصے میں دیکھ ، سُن اور پڑھ سکتے ہیں.م
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
