جموں و کشمیر
دفعہ370کی منسوخی کا ایک سال:حصہ اول
https://www.facebook.com/Khabarurdu/videos/1481979201994613/?t=3
5اگست 2019کو جموں کشمیر کی تاریخ اور نقشہ دونوں بدل گئے.مرکزی سرکار کا وہ فیصلہ جس کے لئے بی.جے.پی، دہائیوں سے انتظار کررہی تھی. آخر کار بروئے کار لایا گیا.دفعہ 370 کو آئینِ ہند سے نکال باہر کردیا گیا . اور بھارت کا آئین جموں کشمیر میں پوری طرح سے لاگو کیا گیا. تاہم یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا.جموں کشمیر پچھلے تین دہائیوں سے ملی ٹنسی سے جوجھ رہا تھا. علحیدگی پسند سیاست اور بھارت مخالف سرگرمیاں جموں کشمیر کی سیاست کا حصہ رہی تھی. دفعہ 370ہٹانے کے لئے مرکزی سرکار نے کس طرح کے اقدامات اُٹھائے ہم واقعات کو ترتیب وار سمجھانے کی کوشش کریں گے.
26جولائی : کشمیر میں افواہوں کا بازار گرم ہونے لگا.ہر طرف لوگ پریشان نظر آنے لگے. پیٹرول پمپوں پر لوگوں کا جم غفیر جمع ہوگیا.لوگ ضروری اشیا کو ذخیرہ کرنے لگے.یہ پریشانی آگے چل کر سیاست دانوں کو بھی ستانے لگی.
27جولائی :لوگوں کو پریشانی اور تذبذب کی لہر ستاتی رہی تاہم ماحول میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی.وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ ہاوس سے پاکستان کو للکارا. 28جولائی :وزیر داخلہ کے فرمان کے مطابق دس ہزار مزید سکیورٹی اہلکار جموں کشمیر وارد کئے گئے. اُن کے انتظام کے لئے وادی کے اسکولوں اور کالجوں کو خالی کردیا گیا. لوگوں میں بےچینی اور غیر یقینی بڑتی جارہی تھی.تاہم لوگوں کا من رکھنے کے لئے ADGلا اینڈ آرڈر منیر خان نے اسے ایک معمول کی کاروائی قرار دیا.
29جولائی :اب لوگوں کی قیاس آرائیاں دفعہ 370پر پہونچ گئی.نیشنل کانفرنس کے سرپرست فاروق عبدللہ کو بھی خدشہ لاحق ہوگیا.ایک بیان کے مطابق فاروق عبدللہ نے کہا کہ آبادی کے تناسب کو بدلنے کی اجازت نہیں دیں گے.تاہم شعلہ بیان محبوبہ مفتی کیوں چپ بیٹھتی ایک دھمکی آمیز پیغام میں انہوں نے مرکز سے مخاطب ہوکر کہا” دفعہ370سے چھیڑچھاڑ ایک دھماکے کی مانند ہوگا ناصرف ہاتھ جلے گا بلکہ پورا جسم خاکستر ہوگا” ایم .ایل. اے لنگیٹ انجینئر رشید جو ابھی بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے نے مرکز کوانتباہ کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 370کے ہٹانے سے کشمیر کی مین اسٹریم سیاست خطرے میں پڑسکتی ہے.
30جولائی :مرکز کی طرف سے کوئی بھی یقین دہانی سامنے نہیں آرہی تھی تشویش اور غیر یقینی عام لوگوں سے لیکر سیاستدانوں میں گھر کر گئی. پی. ڈی. پی. صدر محبوبہ مفتی نےفاروق عبدللہ سے آل پارٹی مٹینگ بلانے کے لئے کہا. تاہم فاروق عبدللہ دلی روانہ ہوگئے.جہاں وہ اپوزیشن ممبران سے ملاقی ہوئے. جموں کشمیر کی انتظامیہ نے بیان جاری کیا.بیان میں ہورہے واقعات کو “معمول کے مطابق” کاروائی بتایا گیا.اور اضافی فورسز اہلکاروں کی تعیناتی کو امر ناتھ یاترا سے منسوب کیا. وہی دوسری طرف جموں کشمیر پولیس وادی کی مسجدوں کی انتظامیہ کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی تھی. شوشہ بازی اور غیر یقینی صورت حال ہر محلے ،کوچے سے گزر کر لوگوں کے ذہنوں پر سوار ہورہی تھی.
1اگست : دفعہ 370 جانے کا یقین بھی بڑھتا گیا اس بیچ دو اہم بیانات سامنے آئے.بی. جے. پی. کے نیشنل جنرل سکریٹری رام مادھو نے ایک بیان دیکر لوگوں کو یقین دلایا کہ دفعہ370اور35اے کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی. اگر کچھ ہوگا بھی تو وہ جموں کشمیر کے عوام کے فائدے میں ہوگا.گورنر ستیہ پال ملک کے بیان کے مطابق دفعہ 370محفوظ ہے. پیپلز کانفرنس کے چیئر مین سجاد لون دفعہ370کے دفاع کے لئے کسی بھی پارٹی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے کے لئے تیار ہیں.
2اگست :نیشنل کانفرنس کا ایک وفد فاروق عبدللہ کی قیادت میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقی ہوا.وفد کے دو اہم ممبر سابقہ وزیر اعلی عمر عبدللہ اور ممبر پارلیمنٹ حسنین مسعودی تھے. ملاقات کے بعد عمر عبدللہ نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے وزیراعظم سے التجا کی کہ جموں کشمیر میں انتخابات جلد از جلد کرائیں جائیں. اور وہاں پر افواہوں کا جو بازار گرم ہے اُس پر ایک مثبت بیان دیا جائے.تاہم کشمیر میں اس ملاقات پر اعتراض جتایا گیا. اور نیشنل کانفرنس پر سوالیہ نشان لگایا گیا.
3اگست :بے یقینی اور بے چینی کے ماحول میں آخر کار ”شوڈاون” کی شروعات ہوگئی.انتظامیہ نے اچانک امر ناتھ یاترا اور سیاحوں کو جلدی سے وادی چھوڑنے کی ہدایت کی.پہلگام،گلمرگ اور ڈل جھیل سے محضوظ ہورہے سیاح حیران و پریشان جلدی جلدی ہوٹلوں کی طرف روانہ ہوگئے. اور لمحوں میں یہ مقامات ویران ہوگئے.لوگ مسلسل کھانے پینےکی چیزیں اسٹاک کرنے میں مصروف رہے.دوسری طرف محبوبہ مفتی کی قیادت میں ایک سیاسی وفد جس میں پیپلز کانفرنس کے سجاد لون، عمران انصاری، اور شاہ فیصل شامل تھے.نے گورنر سے ملاقات کی.اور دفعہ 370کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے نتائج سے آگاہ کیا.دوسری طرف حفاظتی دستوں کی 80اضافی کمپنئیاں وادی کشمیر میں تعئینات کی گئیں.جموں میں ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات پر ہائی الرٹ جاری کردیا گیا.پیر پنچال اور چناب ویلی میں بھی سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی.پہلی بار علحیدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق کا بیان جاری ہوتا ہے.میر واعظ نے کہا 35اے اور دفعہ370 مرکز اور ریاست کے درمیان ایک آئینی رشتہ ہے.
4اگست : مرکز کی طرف سے افواہوں کو بند کرنے کے لئے کوئی مثبت بیان نہیں آیا. مقامی سیاسی جماعتیں تشویش میں تھیں. پوری وادی میں سناٹا چھایا تھا. اور لوگ تھک ہار کر گھروں میں محسور ہوگئے تھے. لال چوک جوکہ وادی کا تجارتی مرکز ہے. وہ پورا کا پورا سنسان نظر آرہا تھا. چار اگست اتوار کو مرکز میں بی. جے . پی. نے اپنے سارے ممبران پارلیمنٹ کو ایک فرمان کے ذریعے اگلے دن یعنی سوموار کو پارلیمنٹ میں حاضر رہنے کی ہدایت کی مزید افواہیں گردش کرنے لگی.کہ مقامی پولیس سے ہتھیار چھین لئے گئے. سرینگر میں آل پارٹی مٹینگ بلائی گئی جس میں ”گپکار ڈیکلریشن” پاس کی گئی.
اندھیرا چھانے لگا پریشانی کے ماحول میں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی تھی. اس کے ساتھ رات کے گیارہ بج گئے . فون اور انٹر نیٹ کی سہولیات بند کردی گئی.
جب صبح کشمیری نیند سے بیدار ہوگئے تو عالم بدل چکا تھا فضائیں خاموش تھیں. ہر راستہ بند ہوچکا تھا، پورے جموں کشمیر کے لوگ اپنے ہی گھروں میں قید تھے.
5اگست کو جموں کشمیر کی تاریخ اور جغرافیہ کیسے بدل گئے اور آنے والے ایک سال میں کس طرح کے حالات رہے وہ آپ ہماری اس سیریز کے دوسرے حصے میں دیکھ ، سُن اور پڑھ سکتے ہیں.م
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے اس کی گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاع پر 15 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان اور جنوبی کشمیر و سری نگر میں اس کی تصاویر والے پوسٹر چسپاں کیے جانے کے بعد 22 سالہ محمد لطیف بٹ وادی کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل ہوگیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، بٹ اس وقت کشمیر میں سرگرم واحد زندہ مقامی عسکریت پسند ہے، جبکہ سکیورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ 20 سے 30 پاکستانی شہری اور آپریٹو اب بھی وادی کے گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں۔
پوسٹر میں کہا گیا ہے، ’’مذکورہ شخص کے ٹھکانے کے بارے میں قابل اعتماد اطلاع رکھنے والے کسی بھی شخص سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر سکیورٹی فورسز سے رابطہ کرے۔‘‘
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کھریوان چدر گاؤں کا رہنے والا بٹ مبینہ طور پر 2025 میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ اس سال 2 جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا، جب اسے شوپیاں میں ایک نگرانی والے کیمرے میں لشکر کے ایک اور آپریٹو ذاکر احمد گنائی کے ساتھ دیکھا گیا۔
اس کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی شروع کی، جس میں گنائی مارا گیا، جبکہ بٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس نے بٹ پر گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں دو الگ الگ حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسپیشل آپریشنز گروپ کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کو 22 جولائی کو اننت ناگ کے ایک مصروف بازار میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
نو دن بعد کولگام کے کِلم گاؤں میں ایک اینٹ بھٹے پر دو غیر مقامی مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ گزشتہ سال جولائی میں پہلگام حملے کے بعد وادی میں یہ پہلے عسکری حملے تھے جن کی اطلاع ملی۔
پولیس ہیڈ کانسٹیبل کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں 3500 سے زائد مشتبہ بالائے زمین کارکنوں (اوور گراؤنڈ ورکرز) کو حراست میں لیا گیا۔
بٹ نے اشموجی کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد اس نے بیچلر ڈگری کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج، کولگام میں داخلہ لیا۔
تاہم، اس نے اپنی تعلیم مکمل نہیں کی۔ 2025 کے اوائل میں انڈرگراؤنڈ جانے سے قبل اس نے مختصر عرصے تک شیشے لگانے والے کاریگر (گلیزیئر) کے طور پر کام کیا تھا۔
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ گنائی نے بٹ کو عسکریت پسندی میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نومبر 2025 میں خود کو کشمیر ریوولیوشنری آرمی (کے آر اے) کہنے والی ایک تنظیم نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ بٹ اس کی صفوں میں شامل ہوگیا ہے۔
تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ کے آر اے دراصل لشکر طیبہ کا استعمال کیا جانے والا ایک فرضی نام یا پراکسی تنظیم ہے، بالکل اسی طرح جیسے دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو استعمال کیا جاتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
