اہم خبریں
جموں وکشمیر میں ’ اُمن اور ترقی‘ کا ایک نیا دور شروع ہوا،لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا
جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گور نر منوج سنہا نے سنیچر کے روزکہا ہے کہ جموں وکشمیر میں ’نار ملسی اور ترقی‘ کا ایک نیا دور شروع ہوا۔یوم آزادی کی مرکزی تقریب سے قریب آدھے گھنٹے تک خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام تک پہنچنے کیلئے بہت جلد بات چیت کا عمل بھی شروع کیا جائیگا۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم سونہ وار سرینگر میں منعقدہ74ویں یوم آزادی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گو رنر منوج سنہا نے کہا کہ جموں وکشمیر میں گزشتہ ایک سال کے دوران ’نار ملسی اور ترقی‘ کا ایک نیا سفر اور نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ایسی سرگرمی میں شامل ہوجائیں، جس سے قوم کو ترقی کرنے میں مدد ملے۔منوج سنہا نے زور دے کر کہا کہ حکومت جموں وکشمیر کے عوام کے لئے ترقی، فلاح و بہبود اور معاشرتی تبدیلی پانے کا ایک بہتر متبادل فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ان کا کہناتھا
’سال2019میں آئینی تبدیلی نافذ کرنے کے بعد، مرکزی حکومت نے خطے کا چہرہ بدلنے کے لئے ایک یا دو نہیں، بلکہ 50تاریخی فیصلے کیے۔لیفٹیننٹ گور نر نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے’نارملسی اور ترقی‘ کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔لیفٹیننٹ گور نر نے پچھلے سال اگست میں دفعہ370 اور آرٹیکل 35(اے) کو منسوخ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک نیا سفر شروع کیا گیا ہے۔7اگست کو اپنے عہدے کی ذمہ دارایاں سنبھالنے والے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گور نر منوج سنہا نے کہا کہ نوجوانوں اور طلباء کی زندگی کومثبت سرگرمیوں کے ذریعہ سے تبدیل کیا جائیگا جبکہ نوجوانوں کی طاقت ہر طرح کی تبدیلیوں کی آماجگاہ رہی ہے۔لیفٹیننٹ گور نر نے نوجوانوں کو مستقبل کا لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی طاقت کو قوم کی ترقی کیلئے استعمال کیا جائیگا۔انہوں نے نوجوانوں سے براہ راست مخاطب ہو کر کہا ’یہ ملک آپ کا ہے اور آپ ہی اس ملک کے مستقبل کے رہنما ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے نوجوانوں کیلئے نئے مواقعے پیدا کئے جائیں گے۔آدھے گھنٹے کی تقریر کے دوران جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گور نر منوج سنہا نے کہا ’حکومت کے پاس 5 اہم رہنما اصول ہیں۔ ایک منصفانہ اور شفاف نظام حکمرانی کو قائم کرنا، نچلی سطح کی ترقی کی منازل طے کرنا، سرکاری فلاحی منصوبوں کی زیادہ سے زیادہ حد تک رسائی، معاشی ترقی اور روزگار کے مواقعے پیدا کرنا ہے۔منوج سنہا نے کہا کہ آزادی کے بعد بد قسمتی سے کچگ ’غلط فیصلے‘ لئے گئے جس کی وجہ سے جموں و کشمیر کے عوام کے دلوں میں ناراضگی پھیل گئی اور انہیں باقی لوگوں سے دور کردیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں آہستہ آہستہ مساوات اور انصاف کو بحال کیا جارہا ہے۔منوج سنہا نے کہا کہ ان کی انتظامیہ جموں و کشمیر میں جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے پرعزم ہے جبکہ انتظامیہ اُنکے ساتھ کھڑی ہے،جو جمہوریت کو مضبوط کرنے کیلئے پر عزم ہیں۔ان کا کہناتھا کہ جن مقامی عوامی نمائندوں کو خطرہ لاحق ہے،کو25لاکھ روپے زندگی کا بیمہ فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیسنگ کو مزید موثر بنانے کے لئے ضروری اصلاحات کی جارہی ہیں۔ انہوں نے یہ ریمارکس،حالیہ دنوں سیاسی کارکنوں پر ہوئے حملوں کے پس منظر میں دیئے۔ ان کا کہناتھا’ہم جموں و کشمیر کے عوام کے لئے ایک بہتر متبادل کی فراہمی کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک متبادل جس میں ترقی، فلاح و بہبود اور معاشرتی تبدیل ہیاور اس مقصد کیلئے لوگوں تک پہنچنے کیلئے بات کا چیت کا سلسلہ بھی عنقریب شروع کیا جائیگا۔انہوں نے کہا ’ہم جموں و کشمیر سے متعلق بیانیہ بدل کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینا چاہتے ہیں جس کی بنیاد امن، ترقی اور سماجی مساوات پر ہو‘۔ان کا کہناتھا یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ثقافتی ہم آہنگی کی وراثت کو فرقہ واریت کی شیطانی کہانی نے کھڑا کردیا ہے لیکن، ہم اس بیانیہ کو ایک بار پھر تبدیل کرنا چاہتے ہیں‘۔منوج سنہا نے کہا کہ ہم ترقی، امن، خوشحالی اور معاشرتی ہم آہنگی کو جموں و کشمیر کے بیانیہ کا سب سے لازمی حصہ بنانا چاہتے ہیں۔
سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے نظریہ’انسانیت، جموریت اور کشمیریت‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گور نر منوج سنہا نے افسوس مقام یہ ہے کہ انسانیت نے کشمیر میں کئی دہائیوں تک دہشت گردی کی شکست قبول کی، جمہوریت مفاد پرست ہاتھوں متاثر ہوئی اور اس سے پیدا ہونے والی نفرت کو ختم کرنے کے لئے کشمیریت کا قتل عام کیا گیا۔لیفٹیننٹ گور نر نے کہا کہ جموں و کشمیر سے باہر شادی کرنے والی کشمیری خواتین کے حقوق اب محفوظ ہیں۔ان کا کہناتھا ’مغربی پاکستان سے آنے والے مہاجرین، بے گھر ہوئے مہاجرین، پہاڑی بولنے والے لوگ، دیگر پسماندہ طبقات اور صفائی کرمچاریوں کو بالآخر طویل عرصے کے بعد انصاف ملا ہے، اب وہ جمہوری، روزگار اور جائیداد کے حقوق کے مالک ہیں‘۔انہوں نے کہا’تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں اب غیر جانبدارانہ مخصوص پالیسی رکھی جارہی ہے‘۔ان کا کہناتھا کہ جموں وکشمیر میں آئین کی 73 ویں اور74 ویں ترامیم کا مکمل اطلاق سے مضبوط نچلی جمہوریت کی بنیاد رکھی ہے۔ان کا کہناتھا کہ پنچایتوں اور بلدیات کو فروغ دینے سے اہم اور جوابدہ نچلی سطح کی جمہوریت کی بنیاد رکھی ہے۔ انہوں نے کہا ’ترقی کو یقینی بنانے کے لئے 960 کونسلرز نیز27ہزار سے زائد سرپنچوں اور پنچوں کے ذریعہ زمینی سطح پر بے مثال توانائی کو متحرک کیا جارہا ہے۔انہوں نے جموں وکشمیر پولیس، مرکزی نیم فوجی دستوں اور فوج کے جوانوں کے رول کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے(فورسز) قوم کی سالمیت اور آزادی کو یقینی بنانے کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ملک کے شہری ایک محفوظ اور پر امن زندگی گزاریں۔منوج سنہا نے کہا کہ حکومت کا مقصد جموں وکشمیر میں انتہائی جدید اور عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے۔انہوں نے کہا،’ہمیں جموں و کشمیر کو عالمی سطح کی سیاحتی مقام میں تبدیل کرنا ہے، ہمیں یہاں پرامن ماحول قائم کرنا ہے، مجھے یہاں کے لوگوں کے مکمل تعاون اورحمایت کی توقع ہے تا کہ ہم ایک نیا جموں و کشمیر تشکیل دے سکیں‘۔منوج سنہا نے کہا کہ یہ سردار پٹیل کا خواب تھا کہ پورے ہندوستان کو صرف ایک سیاسی نقشہ کے طور پر موجود نہیں ہونا چاہئے بلکہ ساتھ ہی ساتھ آگے بڑھنا چاہئے اور ترقی اور خوشحالی کے نئے سنگ میل طے کرنا چاہئے۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
