تازہ ترین
ڈاکٹر فاروق نے آج طلب کیا 4رہنماؤں کا غیر معمولی اجلاس
اُن سینئر پارٹی رہنماؤں کو شرکت کیلئے مدعو کیا گیا جو حکومت کے مطابق آزاد ہیں
خبراردو:-
سرینگر:نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ پارٹی نے جموں وکشمیر کی حکومت کی جانب سے عدالت عالیہ میں اپنائے گئے موقف کا جائزہ لیتے ہوئے آج یعنی جمعرات کوشام 5بجے پارٹی کے 4سینئر عہدیداران کا ایک غیر معمو لی اجلاس طلب کیا ہے۔
اس متوقع اجلاس میں اُن سینئر پارٹی رہنماؤں کو شرکت کیلئے مدعو کیا گیا،جو حکومت کے مطابق خانہ نظر بند نہیں ہیں اور نقل وحمل کے حوالے سے آزاد ہیں۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ نے پارٹی کے مختلف رہنماؤں کی خانہ نظر بندی کو عدالت عالیہ میں حبس بیجا کے تحت چیلنج کیا ہے،تاکہ اُنکی آزاد نقل وحرکت کو یقینی بنایا جاسکے۔
نیشنل کانفرنس کے مطابق اس سلسلے میں ایک سماعت کے دوران حکومت نے عدالت عالیہ کو تحریری طور بتایا ہے کہ جن لیڈران کی خانہ نظر بندی کے حوالے سے یہاں عرضیاں دائر کی گئی ہیں،وہ لیڈرخانہ نظر بند نہیں ہیں اور وہ ضروری سیکیورٹی انتظامات کے تحت آزاد ونقل حمل کے حوالے سے آزاد ہیں۔اس سلسلے میں بدھ کو نیشنل کانفرنس نے اس کا نوٹس لیا اور حکومت موقف کو جاننے کیلئے آج یعنی جمعرات بتاریخ20اگست کو ایک غیر معمولی اجلاس طلب کیا ہے۔
پارٹی کے ایک عہدیداران نے بتایا کہ اب جبکہ حکومت نے عدالت عالیہ میں واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس کا کوئی بھی رہنما نظر بند نہیں ہے،کے حوالے سے ایک اجلاس طلب کیا گیا اور پارٹی کے صدر ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے اُن پارٹی کے سینئر رہنما ؤں جن میں علی محمد ساگر،عبدالرحیم راتھر،محمد شفیع اوڑی اور محمد اسلم وانی شامل ہیں،کو 20اگست کی شام5بجے متوقع اجلاس میں شرکت کرنے کی باضابط طور پر دعوت دی ہے۔پارٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ کورونا بحران کو ملحوظ نظر رکھ کر یہ متوقع اجلاس صرف پارٹی کے4رہنماؤں پر مشتمل ہوگا۔
پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متوقع اجلاس کے دوران کووڈ۔19کے تمام ایس اوپیز کا خاص خیال رکھا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ پارٹی پرامید ہے کہ اب یہ اجلاس کامیابی سے منعقد ہو گا اور اس میں وہ رہنما ضرور شرکت کریں گے،جو حکومت کے مطابق نظر بند نہیں بلکہ آزاد ہیں۔ترجمان نے ایک بیان بھی جاری کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل کانفرنس نے حکومت کے اُس موقف کا نوٹس لیا ہے جو پارٹی صدر اور نائب صدر کی طرف سے پارٹی کے مختلف رہنماؤں کی غیر قانونی خانہ نظربندی ختم کرنے کو یقینی بنانے کے لئے حبس بیجا کے تحت دائر عرضی کے معاملات میں حکومت نے ہائی کورٹ کے سامنے اختیار کیا ہے۔
عدالت عالیہ میں حکومت کی طرف سے دائر جواب کا مطالعہ کرنے کے بعد پارٹی نے اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کا کوئی بھی لیڈر نظربند نہیں ہے اور تمام لیڈران ضروری سیکورٹی انتظامات کے تحت کہیں بھی آنے جانے کیلئے آزاد ہیں۔
عدالت عالیہ میں اختیار کئے گئے حکومتی مؤقف پر مکمل طورپر انحصار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کے سینئر لیڈران بشمول علی محمدساگر، عبدالرحیم راتھر، محمد شفیع اوڑی اور ناصر اسلم وانی کو 20اگست2020شام کے 5بجے اپنی رہائش گاہ پر ایک میٹنگ کیلئے مدعو کیا ہے اور توقع کی ہے کہ حکومت اس بار کوئی رکاوٹ کیلئے ہیلے بہانے یا بے تکی باتیں نہیں کرے گی۔
پارٹی موجودہ وبائی صورتحال کو ذہن میں رکھے ہوئے ہے اور احتیابی تدابیر کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے فی میٹنگ 4ممبران کے درمیان کی جائے گی اور تمام متعلقین کی طرف سے ہر قسم کے رہنما خطوط پر سختی سے عملدرآمد ہوگا۔ پارٹی کو امید ہے کہ حراست میں رکھے گئے ممبروں کی آزادی اب مطلق ہے اور اجلاس مقررہ دن پر کامیابی کے ساتھ منعقد ہوگا۔یاد رہے کہ گذشتہ برس5اگست جموں وکشمیر کی تقسیم وتنظیم نو کے فیصلہ جات سے قبل سینکڑوں سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لیکر نظر بند رکھا گیا،جن میں سے اب بیشتر خانہ نظر بند ہیں۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
