تازہ ترین
دفعہ370کی تنسیخ کے بعد پہلی مرتبہ این سی صدرنے کی میٹنگ منعقد
ساگر،وانی،شفیع اور راتھر پہنچے ڈاکٹر فاروق کی رہائش گاہ پر،میٹنگ کا سلسلہ جاری،آج ہوگا مرحلہ دوم،مزید لیڈرا ن کی شرکت متوقع
خبراردو:-
سرینگر:دفعہ370اور35(اے) کی تنسیخ کے بعد پہلی مرتبہ جمعرات کو نیشنل کانفرنس کے صدر کی صدارت میں ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا،جس میں پارٹی کے4سینئر لیڈران نے شرکت کی۔اجلاس میں کئی امور زیر بحث آئے جبکہ میٹنگ کا سلسلہ ہنوز جاری اور آج یعنی جمعہ کو میٹنگ کا دوسرا راؤنڈ ہوگا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق عدالت عالیہ میں حکومت کی جانب سے نیشنل کانفر نس کے لیڈران کی نظر بندی سے متعلق اپنائے گئے موقف کو جاننے کیلئے جمعرات کو ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنی رہائش گاہ پر 4سینئر پارٹی لیڈران کا ایک غیر معمولی اجلاس طلب کیا تھا اور اس میں شرکت کرنے کیلئے پارٹی کے چار سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر پارٹی جنرل سیکریٹری،علی محمد ساگر،محمد شفیع اوڑی اورصوبائی صدر ناصر اسلم وانی کو مد عو کیا گیا تھا۔
چنانچہ خانہ نظر بندی ختم ہونے کیساتھ ہی نیشنل کا نفرنس کے یہ چاروں لیڈران ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ واقع گپکار روڑ سرینگر پہنچ گئے،جہاں انہوں نے پارٹی صدر کی صدارت میں منعقدہ غیر معمولی اجلاس میں شرکت کی۔ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ جمعرات کو سہ پہر5بجے منعقد ہوئی،جس میں مرکزی حکومت کے جموں وکشمیر کی تقسیم وتنظیم نو سے متعلق لئے گئے فیصلہ جات، نئی حلقہ بندی کے معاملے،پارٹی امور اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ چاروں لیڈران اُنکی رہائش گاہ پہنچے،جس دوران کئی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آج یعنی جمعہ کو مزید پانچ لیڈران کو جاری اجلاس میں شرکت کی غرض سے مدعو کیا گیا۔ان کا کہناتھا کہ یہ اجلاس آئندہ چند روز تک جاری رہے گا۔
اس سے قبل پارٹی ترجمان نے ایک بیان بھی جاری کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل کانفرنس نے حکومت کے اُس موقف کا نوٹس لیا ہے جو پارٹی صدر اور نائب صدر کی طرف سے پارٹی کے مختلف رہنماؤں کی غیر قانونی خانہ نظربندی ختم کرنے کو یقینی بنانے کے لئے حبس بیجا کے تحت دائر عرضی کے معاملات میں حکومت نے ہائی کورٹ کے سامنے اختیار کیا ہے۔
عدالت عالیہ میں حکومت کی طرف سے دائر جواب کا مطالعہ کرنے کے بعد پارٹی نے اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کا کوئی بھی لیڈر نظربند نہیں ہے اور تمام لیڈران ضروری سیکورٹی انتظامات کے تحت کہیں بھی آنے جانے کیلئے آزاد ہیں۔
عدالت عالیہ میں اختیار کئے گئے حکومتی مؤقف پر مکمل طورپر انحصار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کے سینئر لیڈران بشمول علی محمدساگر، عبدالرحیم راتھر، محمد شفیع اوڑی اور ناصر اسلم وانی کو 20اگست2020شام کے 5بجے اپنی رہائش گاہ پر ایک میٹنگ کیلئے مدعو کیا ہے اور توقع کی ہے کہ حکومت اس بار کوئی رکاوٹ کیلئے ہیلے بہانے یا بے تکی باتیں نہیں کرے گی۔
پارٹی موجودہ وبائی صورتحال کو ذہن میں رکھے ہوئے ہے اور احتیابی تدابیر کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے فی میٹنگ 4ممبران کے درمیان کی جائے گی اور تمام متعلقین کی طرف سے ہر قسم کے رہنما خطوط پر سختی سے عملدرآمد ہوگا۔ پارٹی کو امید ہے کہ حراست میں رکھے گئے ممبروں کی آزادی اب مطلق ہے اور اجلاس مقررہ دن پر کامیابی کے ساتھ منعقد ہوگا۔یاد رہے کہ گذشتہ برس5اگست جموں وکشمیر کی تقسیم وتنظیم نو کے فیصلہ جات سے قبل سینکڑوں سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لیکر نظر بند رکھا گیا،جن میں سے اب بیشتر خانہ نظر بند ہیں۔
دنیا
روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور اگر یورپ میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں کے لوگ روس سے لڑنا نہیں چاہتے۔
مسٹر پوتن نے روسی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلسل ‘روسی خطرے’ اور روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کی تیاریوں کی بات کررہے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ روس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ بات سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے اور اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بھی شکست دینا غیر حقیقی ہے۔”
روسی صدر کے مطابق، یورپی سیاست دانوں کی جانب سے روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں سے متعلق دیے جانے والے بیانات کسی طرح کی سیاسی ذہنی اختلال کی علامت ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے پوری تاریخ میں روس کو حکمت عملی کے اعتبار سے شکست دینے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، وہ جدید دنیا کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔”
یو این آئی/اسپوتنک
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
