تازہ ترین
کوکا کولا اور پیپسی سے ٹکر لینے والے دو بچپن کے دوستوں کی کہانی
خبراردو:-
جب دو طالب علم مرکو ویگرٹ اور لورنز ہیمپل نے اپنی کولا کمپنی بنانے کا سوچا تو انھیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ دراصل کولا بنائی کس طرح جاتی ہے۔
اس کے باوجود جوانی کے اعتماد نے انھیں ہمت نہیں ہارنے دی اور انھوں نے کچھ تحقیق کرنے کی ٹھانی۔ مرکو اس وقت 28 برس کے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ہم دونوں دوستوں نے کولا بنانے کا طریقہ کار اور اس کے اجزا گوگل کرنا شروع کر دیے۔
لیکن بدقسمتی سے انٹرنیٹ سے انھیں زیادہ مدد نہیں ملی۔ ہیمبرگ سے تعلق رکھنے والے یہ بچپن کے دونوں دوست، متبادل پلان کے بارے میں سوچنے لگے۔
انھوں نے ملک بھر میں مشروب بنانے والی فیکٹریوں سے فون پر رابطہ کرنا شروع کر دیا تاکہ یہ جان سکیں کہ ان کی کولا بنانے میں اور اس کو بوتل میں ڈالنے میں کون ان کی مدد کرے گا۔لیکن مشروب بنانے والی تمام کمپنیاں بئیر اور جرمنی کے پسندیدہ مشروب بنانے میں مصروف تھیں۔ مرکو کہتے ہیں کہ انھوں نے سینکڑوں کمپنیوں سے رابطہ کیا۔
بہت سے مالکان حیران ہوئے کہ یہ دو نوجوان ان سے کولا بنانے کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں۔ لیکن آخر کار انھیں ایک ایسا شخص مل گیا جس نے ایسا کرنے کی حامی بھری۔
‘ہمیں مغربی جرمنی میں بالآخر ایک فیکٹری مل گئی۔ اس نے کہا کہ آپ آکر مجھ سے ملیں اور ہم مل کر کچھ کر لیں گے۔‘کچھ ماہ بعد مرکو اور لورنز کے پاس فرٹز کولا کے 170 کریٹ تیار تھے جس میں چار ہزار اسی بوتلیں تھیں۔ انھوں نے سپر مارکیٹوں اور دکانوں کے بجائے اسے براہ راہست شراب خانوں میں بیچنا شروع کر دیا۔
آج جرمنی میں فرٹز کولا کے بارے میں سب کو پتہ ہے۔ گزشتہ برس کوکا کولا کے بعد جرمنی میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کولا کی بوتل فرٹز کولا کی تھی۔ نیلسن گروپ کی تحقیق کے مطابق شیشے کی بوتل میں فروخت ہونے والے مشروبات میں فرٹز کولا نے اکہتر ملین بوتلیں فروخت کیں جبکہ کوکا کولا کی چوہتر ملین بوتلیں بکیں۔ پیپسی کی صرف تین لاکھ سینتیس ہزار بوتلیں ہی فروخت ہوئیں۔
2003 میں مرکو اور لورنز نے اپنے چہروں کو کمپنی کے لوگو میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایسا انھوں نے اس لیے نہیں کیا کہ وہ خود پرست ہیں بلکہ اس لیے کیونکہ یہ سب سے سستا آپشن تھا۔
ان کے پاس اس کاربار کو چلانے کے لیے صرف سات ہزار ڈالر کی رقم موجود تھی اور اگر یہ لوگ کمپنی کے لیے نیا لوگو بنواتے تو ان کی اس پورے عمل میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی۔مرکو جو اب چوالیس برس کے ہیں کہتے ہیں کہ ‘ہم نے 100 ڈالر میں اپنے چہرے استعمال کر کے کمپنی کا لوگو بنوا لیا۔ یہ ہمارے پڑوسی نے بنایا اور اس کو رجسٹر کروانے کے لیے ہم نے 70 یورو مزید دیے۔‘
کیونکہ رنگ برنگا لوگو بنوانا مہنگا پڑ رہا تھا اس لیے انھوں نے بلیک اینڈ وائٹ لوگو کا انتخاب کیا۔
مرکو کا کہنا ہے کہ کمپنی کہ نام کے انتخاب کے لیے انھوں نے چالیس نام لکھے اور اس پر غور کیا اور شاپنگ سینٹر کے باہر جا کر لوگوں سے پوچھا۔ ایک روایتی جرمن نام، لوگوں میں سب سے زیادہ مقبول ثابت ہوا۔رکو کو اپنے مشروب کا ذائقہ کوکا کولا اور پیپسی کی طرح نہیں بلکہ تھوڑا مختلف چاہیے تھا۔ انھوں نے اس میں چینی کم کی اور نیموں کا رس ڈالا۔ اس کے ساتھ ہی اس میں کیفین کی مقدار میں بہت زیادہ اضافہ کیا۔
’آپ جب ہماری کولا پیئں گے تو آپ کو یہ کم میٹھی لگے گی، لیکن کیفین کی وجہ سے یہ آپ کو چوکنا کر دے گی۔ اسی لیے ہم نے اس میں مارکیٹ میں موجود دوسرے مشروبات کی نسبت تین گناہ زیادہ کیفین ڈالی ہے۔‘
امریکی نیوز ویب سائٹ اوزی کے مطابق فرٹز کولا کے 100 ملی لیٹر کے کین میں 25 ملی گرام کیفین ہے، کوکا کولا میں یہی مقدار 10 ایم جی جبکہ ریڈ بل میں 32 ملی گرام ہے۔ مرکو کہتے ہیں کہ بہت سے بار یا شراب خانے ان کے مشروب میں دلچسپی ہی نہیں دکھا رہے تھے کیونکہ لوگ یہ سوچ ہی نہیں سکتے کہ کیسے وہ اپنا مشروب چھوڑ کر کوئی دوسرا پیئں گے۔
شراب خانوں کو اپنا مال بیچنے کے لیے انھوں نے ان کے مالکان کو یہ یقین دہانی کروائی کہ اگر یہ فروخت نہیں ہوا تو وہ اسے واپس لے لیں گے۔
‘ہم نے 24/7 کام کیا اور ہمیں بہت مزہ بھی آیا۔ ہم اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ لوگوں کو ہمارا برانڈ پسند آیا۔ لوگ اس کے بارے میں متجسس تھے۔ وہ دو طالب علموں کو ایک عجیب سے کولا کے ساتھ دیکھتے اور کہتے، چلو اس کو پی کر دیکھتے ہیں، اور انھیں پسند آتا۔‘مرکو اور ان کے دوست کو کاروبار کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں تین سال لگ گئے۔ تب تک نا تو ان کے پاس کوئی دفتر تھا اور نا ہی کوئی ملازم۔ لیکن پھر کولا تیزی سے بکنے لگا۔ ان کی کمپنی کا اپنے مشروب کی تشہیر کرنے کا طریقہ انوکھا ہے اور اس سے کئی لوگ ناراض بھی ہوتے ہیں۔
2017 میں انھوں نے ایک بل بورڈ پر صدر ٹرمپ، ترکی کے صدر طیب اردوغان اور روسی صدر پیوتن کی تصاویر لگائیں اور اس کے نیچے جرمن زبان میں لکھا: ’بھائی جاگ جاؤ۔‘ن کا کولا یورپ بھر میں اب شراب خانوں اور دکانوں میں ملتا ہے۔ جرمنی کے بعد ان کی مرکزی مارکیٹیں ہالینڈ، پولینڈ، یلجیئم اور آسٹریا ہیں۔
مشروبات کی صنعت کی تجزیہ کار لنڈا لخمس مارکیٹ ریسرچ کمپنی یورو مانیٹر کے لیے کام کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ فرٹز کولا اس لیے مقبول ہے کیونکہ لوگ اسے مستند سمجھتے ہیں۔
’لوگ اسے اس لیے مستند سمجھتے ہیں کیونکہ اس کے پیچھے دو ایسے طالبِ علموں کا ہاتھ ہے جو کہ مارکیٹ میں موجود کولا سے بہتر ذائقہ اور زیادہ کیفین والا پراڈکٹ تیار کرنا چاہتے تھے۔‘
فوربز میگزین کے مطابق سنہ 2018 میں کمپنی نے ساڑھے سات ملین یورو کی کولا فروخت کی۔ 2016 کے بعد سے مرکو اس کمپنی کو اکیلے چلا رہے ہیں، ان کے پارٹنر نے اس سال کمپنی چھوڑنے کا فیصلے کیا تھا۔ مرکو اب اس کمپنی کے دو تہائی حصے کے مالک ہیں اور باقی ایک تہائی دوسرے سرمایہ کاروں کے پاس ہے۔
اپنے سترہ برس کے سفر کے بارے میں مرکو کہتے ہیں کہ تب ان پر کسی نے یقین نہیں کیا۔ ‘لوگوں نے کہا کہ تم لوگ بیوقوف ہو۔ تم لوگ اس زمین پر سب سے بڑے کولا برانڈز کے ساتھ ٹکر لے رہے ہو۔ لیکن ہمارے لیے یہ اور بھی بڑا چیلنج بن گیا اور اسے کرنے میں اتنا ہی مزہ آیا۔‘
’آج میرے پاس 280 لوگ کام کرتے ہیں۔ میرے پاس کمپنی میں ہی بڑا اڈوینچر ہے، اس لیے مجھے کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں ہے، جو میں کرتا ہوں وہ مجھے پسند ہے۔‘
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
