تازہ ترین
مابعد21ہفتے:وادی کی عبادت گاہیں دوبارہ آباد
جامع مسجد سرینگر،آثار شریف حضرتبل،خانقاہِ معلی سمیت سبھی مساجد میں جمعہ اجتماعات منعقد
طبی مشوروں پر عمل در آمد، با جماعت نماز ِ جمعہ سماجی دوری کیساتھ ادا،عاجزی وانکساری اور گڑ گڑاکر خصوصی دعائیں مانگی گئیں
خبراردو:-
سرینگر:وادی کشمیر میں گزشتہ ہفتے حکومتی احکامات کے تحت عبادت گاہیں کھولنے کے ساتھ ہی 21ہفتوں کے بعد جامع مسجد،آثار شریف حضرتبل،خانقاہ ِ معلی سمیت سبھی چھوٹی بڑی مساجد میں جمعہ اجتماعات منعقد ہوئے،جس دوران منبر ومحراب اللہ اکبر کی صداؤں کیساتھ گونج اٹھے۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیرمیں کورونا وائرس کی وجہ سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے خاتمے کے بعد تمام مساجد میں نماز جمعہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ادا کی گئی۔وادی بھر میں احتیاطی تدابیر کے باعث گزشتہ تین ماہ قبل کورونا پابندیاں اور بندشیں عائد کی گئی تھیں،جسکے نتیجے میں مسلسل 21ہفتوں تک تاریخی جامع مسجد سرینگر،آثار شریف حضرتبل،خانقاہ ِ معلی سمیت سبھی بڑی مساجد وعبادت گاہوں میں جمعہ اجتماعات منعقد نہ ہوسکے۔
اس دوران عید الفطر اور عید الاضحی کے اجتماعات بھی پابندیوں اور بندشوں کے باعث منعقد نہ ہوسکے۔16اگست کو وادی کشمیر میں عبادت گاہیں کھولنے کی اجازت دی گئی۔تاہم اس دوران احتیاطی تدابیر اپنانے کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی اور اس ضمن میں گائیڈ لائنز،ایس او پیز یا رہنما خطوط بھی عبادت کرنے کیلئے جاری کئے گئے۔ اب جبکہ کورونا پابندیاں ختم ہوگئیں اور عبادت گاہیں کھولنے کی بھی اجازت دی گئی تو مسلم وقف بورڈ کیساتھ ساتھ عبادت گاہوں کے منتظمین نے بھی ایک لائحہ عمل کے تحت عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کی اجازت دی گئی۔
مرکزی جامع مسجد سرینگر میں،آچار شریف،خانقاہِ معلی سمیت سبھی چھوٹی بڑی مساجد میں 21ہفتوں کے بعد نماز جمعہ کے اجتماعات منعقد ہوئے۔شہر خاص کے نوہٹہ علاقے میں 600سال قدیم تاریخی جامع مسجد سرینگر میں دوپہر ایک بجکر30منٹ پر نماز ِ جمعہ ادا کی گئی۔اس دوران یہاں طبی مشوروں کا خاص خیال رکھا گیا جبکہ با جماعت نماز جمعہ ادا کرنے کے دوران سماجی دوری بھی اپنائی گئی یعنی نماز جمعہ کے حوالے سے طبی مشوروں کے مطابق صف بندی کی گئی تھی۔
ادھر ایک بیان کے مطابق عوام نے اپنے ہر دلعزیز دینی پیشوا میرواعظ محمد عمر فاروق کی کمی کو شدت سے محسوس کیا جو گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے اپنے ہی گھر میں نظر بند رکھے گئے ہیں۔واضح رہے کہ میرواعظ اپنے اسلاف اور بزرگوں کی صدیوں پر محیط تاریخ اورروشن روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے جمعتہ المبارک کو مرکزی جامع مسجد کے منبر و محراب سے قال اللہ وقال الرسول ﷺکی روشنی میں اپنے مواعظ حسنہ اور خطبات سے عوام کی دینی و سماجی رہنمائی کرتے آئے ہیں لیکن آج نظر بندی کے سبب موصوف جامع مسجد نہیں آسکے۔
عوام نے بارگاہ خداونی میں سجدہ ریز ہوکر موجودہ قہر انگیز عالمی وبا کووڈ۔19کے علاوہ مقامی طور پر خشک سالی اور کشمیری عوام کو درپیش گوناگوں مسائل و مشکلات سے نجات کیلئے انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ خصوصی دعائیں مانگی۔خیال رہے کہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اہتمام کے دوران پورے نظم و ضبط کے ساتھ تمام تر طبی ہدایات، ماسک، سماجی فاصلے اور دیگر احتیاطی اقدامات پر پوری سختی کے ساتھ عمل کیا گیا جبکہ دارالخیر میرواعظ منزل نے جامع مسجد میں بغیر ماسک کے نماز کیلئے آنے والوں کیلئے مفت ماسک اور سینٹائزیشن کا انتظام کررکھا ہے۔
اسی طرح آثار شریف حضرت بل،خانقاہ فیض پنا ہ چرار شریف اور خانقاہ ِ معلی،بزر گ گان دین کی زیارت گاہوں کی مساجد پر بھی جمعہ اجتماعات منعقد ہوئے۔نماز باجماعت کی پابندی اٹھانے کے بعد وادی کی تمام مساجد میں جمعہ المبارک کے اجتماعات منعقدہوئے۔ مسلم وقف بورڈ کی جانب سے مساجد کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ خطبہ جمعہ اور نماز کا دورانیہ مختصر رکھا جائے جبکہ مساجد آنے والوں کے لیے بھی مقررہ قواعد وضع کیے گئے ہیں جن پر عمل کرنا ہر ایک پر لازمی ہے۔مساجد میں سماجی فاصلے کے اصول کے تحت صفوں کے درمیان ایک صف خالی چھوڑی جاتی ہے جبکہ ایک نمازی کا دوسرے سے ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھا گیا ہے۔
مساجد کی انتظامیہ نے فاصلے کے لیے باقاعدہ نشانات لگائے ہیں جبکہ ہر نمازی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی جائے نماز ہمراہ لائے جس پر نماز ادا کی جائے۔تمام مساجد میں وضو خانے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ قرآن کریم کے نسخے کو چھونے کی اجازت نہیں ہے۔ مساجد کی انتظامیہ کو مزید کہا گیا ہے کہ نماز کے اوقات کے دوران کھڑکیاں اور دروازے کھلے رکھے جائیں۔ان تمام ہدایات کے تحت ہی وادی کشمیر میں جمعہ اجتماعات منعقد ہوئے۔اس دوران رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔21ہفتوں کے بعد عبادت گاہوں کی طرف رخ کرنے والے نمازیوں اور زائرین نے عالمگیر وبا کورونا وائرس سے نجات کیلئے عاجزی اور انکساری کیساتھ بار گاہی الہیٰ میں ہاتھ اُٹھائے اور گڑگڑا کرخصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
