تازہ ترین
جموں وکشمیر کی تقسیم وتنظیم نو کے بعد مین اسٹریم پارٹیوں کا پہلا مشترکہ بیان
کشمیر اور انڈین یونین کے درمیان رشتہ بدل چکا ہے،جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کیلئے متحد ہو کر لڑیں گے
خبراردو:-
سرینگر:جموں وکشمیر کی تقسیم وتنظیم نو کے بعد پہلی مرتبہ گپکار اعلامیہ کے دستخط کنندگان نے سنیچر کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ وہ جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کیلئے متحد د ہو کر لڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ گپکار اعلامیہ پر کار بند ہیں اور وہ یہ عہد پر دو ہرارہے ہیں کہ حصول انصاف تک وہ ڈٹے رہیں گے۔
اس دوران پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے بیان کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا ’یہ اقتدار کامعاملہ نہیں بلکہ اپنے حقوق کی جدوجہد ہے جس کیلئے مشترکہ طریقہ کار ناگزیر ہے‘۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر کی سیاسیات میں سنیچر کے روز اُس وقت بڑی پیش رفت دیکھنے کو ملی جب جموں وکشمیر کی تقسیم وتنظیم نو کے بعد پہلی مرتبہ مین اسٹریم پارٹیوں نے پہلا مشترکہ بیان جاری کیا۔
یہ بیان گپکار اعلامیہ کے دستخط کنندگان کی جانب سے جاری کیا گیا۔گپکار اعلامیہ پرجن مین اسٹریم لیڈران نے دستخط کئے ہیں،اُن میں نیشنل کانفرنس (این سی)کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ،پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)کی صدر محبوبہ مفتی،پر دیش کانگریس کمیٹی جموں وکشمیر (جے کے پی سی سی) کے صدر غلام احمد میر،سی پی آئی (ایم) کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی،جموں وکشمیر پیپلز کانفرنس (جے کے پی سی) چیئرمین سجاد غنی لون اور عوامی نیشنل کانفرنس (اے این سی) کے سینئر نائب صدر مظفر احمد شاہ شامل ہیں۔
گپکار اعلامیہ کے دستخط کنندگان نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں یہ عہد ایک بار پھر دہرایا ہے کہ وہ جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کے لئے یک جٹ ہو کر لڑیں گے۔انہوں نے کہا ’ہم لوگوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہماری تمام سیاسی سرگرمیوں کا محور جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی ہوگا۔گپکار علامیہ کے دستخط کنندگان نے اپنے بیان میں کہا کہ 4اگست2019کو جس مشترکہ معاہدے پر دستخط کئے گئے،وہ اُن پر وعدہ بند ہیں اور جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کیلئے متحدد طور پر لڑنے کے اپنے وعدے پر کار بند ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ آئین ہند کے تحت جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کی بحالی کیلئے وہ مؤثر طریقہ سے اجتماعی طور پر لڑیں گے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے’5اگست2019کے فیصلہ جات سے بدقسمتی سے جموں وکشمیر اور نئی دہلی کے درمیان رشتے کو ہی بدل کر رکھ دیا، ایک انتہائی مختصر اور غیر آئینی اقدام کے تحت، دفعہ370 اور35(اے) کو منسوخ کردیا گیا اور ریاست کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کیاگیا اور اس کے آئین کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی‘۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 5 اگست 2019 کو کئے جانے والے اقدامات سراسر غیر آئینی اورحقیقی اقدامات کو غیر اختیار بنانے اور جموں وکشمیر کے عوام کی بنیادی شناخت کو چیلنج تھا۔
مشترکہ بیان میں لکھا گیا ہے کہ ان تبدیلیوں کے ساتھ لوگوں کو خاموش کرنے اور انہیں مرکزی فیصلہ جات کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کے لئے جابرانہ اقدامات اٹھائے گئے۔مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’یہ جموں وکشمیر کے امن پسند لوگوں کیلئے امتحان اور درد کا وقت ہے، ہم سب جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کے لئے اجتماعی طور پر جدوجہد کرنے کے اپنے عہد کا اعادہ کرتے ہیں جیسا کہ آئین ہندکے تحت ضمانت دی گئی ہے اور وقتا فوقتا کئے گئے وعدوں کی بھی‘۔
بیان کے مطابق ’ہمارے درمیان اتفاق رائے موجود ہے کہ اجتماعی ادارہ اِن حقوق کے لئے لڑنے اور انتھک جدوجہد کرنے کا ایک موثر طریقہ ہے اورآئینی ضمانت کے تحت جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کی بحالی کیلئے بھی جو ہم سے زبردستی چھینی گئی جبکہ 4اگست2019کے درجے کی بحالی ہمارا مقصد ہے‘۔یاد رہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے 5 اگست2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی منسوخی سے ایک روز قبل بی جے پی کو چھوڑ کر باقی تمام جماعتوں کے رہنما ڈاکٹرفاروق عبداللہ کی گپکار رہائش گاہ پر جمع ہوئے تھے اور’گپکار اعلامیہ‘ جاری کیا تھا۔
4اگست2019کی شام کو مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کل جماعتی میٹنگ کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا جسے ”گپکار اعلامیہ“ کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال غیر یقینی ہے اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کے خلاف کوئی بھی اقدام حملہ تصور کیا جائے گا۔اعلامیہ میں لوگوں سے پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا تھاکہ لوگوں کو چاہئے وہ صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پر امن رہیں۔میٹنگ کے دوران ریاست کی مخصوص شناخت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، غیر آئینی حد بندی یا ریاست کی تقسیم کو جموں کشمیر اور لداخ کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ میٹنگ میں صدر جمہوریہ ہند، وزیراعظم اور ملک کے دیگر سیاسی لیڈران سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ بھارتی آئین میں ریاست کے لوگوں کو دی گئی ضمانتوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے اپنا رول نبھائیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر ہوئی کل جماعتی میٹنگ میں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، کانگریس، پیپپلز کانفرنس، عوامی نیشنل کانفرنس، عوامی اتحاد پارٹی، شاہ فیصل اور دیگر پارٹیوں نے شرکت کی۔
جو دیگر میٹنگ میں موجود تھے ان میں محبوبہ مفتی، مظفر حسین بیگ، عبدالرحمان ویری، عمر عبداللہ، سجاد غنی لون، عمران انصاری، محمد اکبر لون، شاہ فیصل، علی محمد ساگر، محمد یوسف تاریگامی وغیرہ شامل تھے۔دریں اثناء سجاد غنی لون نے بیان پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا ’آج کا دن اطمینان بخش ہے،مشترکہ طریقہ کار ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے،یہ اقتدار کا معاملہ نہیں ہے،یہ اپنے حقوق کی واپسی کی جدوجہد ہے،شکریہ ڈاکٹر فاروق صاحب،محبوبہ مفتی جی اور تاریگامی صاحب‘۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
