دنیا
رومی آج بھی امریکہ میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعر کیوں ہیں؟
قرون وسطیٰ کے فارسی صوفی شاعر جلال الدین محمد رومی کی سرمستی میں ڈوبی شاعری کی لاکھوں کاپیاں گذشتہ برسوں کے دوران امریکہ اور دنیا بھر میں فروخت ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں۔ 813 سال قبل وہ سنہ 1207 میں پیدا ہوئے تھے اور آج بھی دنیا بھر میں ان کے پرستاروں کی کوئی کمی نہیں۔
رومی کی سوانح ‘سیکریٹس آف رومی’ نامی کتاب کے مصنف بریڈ گوچ کہا کہنا ہے کہ ’ان کی شخصیت صدیوں سے اسی قدر بلند و بالا اور جاذبِ نظر ہے۔‘
گوچ فرینک اوہارا اور فلینری او کونّر پر اپنی تنقیدی تصنیف کے لیے بھی مشہور ہیں۔ گوچ کہتے ہیں کہ ‘رومی کی زندگی کا نقشہ 2500 میل پر محیط ہے۔’ رومی نے اپنی جائے پیدائش بلخ سے سفر شروع کیا۔ یہ جگہ اب افغانستان میں ہے۔ وہاں سے وہ ازبکستان کے شہر ثمرقند سے ہوتے ہوئے ایران اور شام گئے جہاں دمشق اور حلب میں انھوں نے اپنی جوانی کے عالم میں تعلیم حاصل کی۔ان کا آخری پڑاؤ ترکی میں قونیہ تھا جہاں رومی نے اپنی زندگی کے آخری 50 سال گزارے۔ آج رومی کے مقبرے پر ہر سال 17 دسمبر کو ان کی وفات کی برسی کے موقع پر درویشوں کی تقریب کے لیے عقیدت مند اور سربراہان مملکت جمع ہوتے ہیں۔
رومی کی زندگی میں سنہ 1244 میں ایک ایسا لمحہ آیا جس نے ان کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ان کی ملاقات ایک آزاد منش صوفی شمس تبریز سے ہوئی۔
گوچ کہتے ہیں: ‘اس وقت 37 سالہ رومی اپنے باپ دادا کے نقش قدم پر روایتی مسلمان مبلغ اور عالم تھے۔ لیکن ان دونوں میں برقی دوستی تین سال تک قائم رہی جب وہ عاشق اور محبوب [یا] شاگرد اور شیخ رہے، جو کبھی واضح نہیں ہوسکا۔’ رومی صوفی ہو گئے۔ تین سال بعد شمس غائب ہوگئے شاید ‘رومی کے کسی حاسد بیٹے نے ممکنہ طور پر انھیں قتل کر دیا، اور ممکنہ طور پر رومی کو ہجر کا ایک اہم سبق سکھا دیا۔’
رومی نے شعر سے اس ہجر کا مقابلہ کیا۔ ‘ان کی تمام تر تصانیف 37 سے 67 سال کی عمر تک کی ہیں۔ اس میں شمس، پیغمبر اسلام محمد اور اللہ کے لیے انھوں نے تقریباً 3000 [محبت کے گیت] لکھے۔ انھوں نے دو ہزار رباعیات اور قطعات لکھے۔ انھوں نے چھ جلدوں میں روحانی رزمیہ مثنوی لکھی۔’ن برسوں کے دوران رومی نے شاعری، موسیقی اور رقص کو مذہبی عمل میں شامل کر دیا۔ گوچ کہتے ہیں کہ ‘رومی جب مراقبے میں جاتے یا شعر کہتے تو ایک انداز میں رقص کرتے اور گھوم کر اسے لکھواتے۔’ اسے بعد میں ان کی وفات کے بعد پروقار استغراق والے رقص کے طور پر بنایا گیا۔’ اور جیسا کہ خود رومی نے اپنی 2351 ویں غزل میں لکھا ہے۔ ‘میں دعائیں کرتا تھا، اب میں شعر، نظم اور گيت پڑھتا ہوں۔’
ان کی وفات کے سینکڑوں سال بعد بھی اب تک رومی کے کلام کو پڑھا جاتا ہے، اس کا ورد کیا جاتا ہے، اسے موسیقی کے ساتھ گایا جاتا ہے، اور ناولوں، نظموں، موسیقی اور فلموں کے لیے اس سے تحریک حاصل کی جاتی ہے، اس کے تعلق سے یوٹیوب ویڈیوز اور ٹویٹس کے طور پر ان کے قول سامنے آتے ہیں۔ گوچ بھی رومی سیکریٹس کے تحت ٹویٹ کرتے ہیں۔ رومی کا کلام آخر اتنے عرصے تک کیونکر زندہ ہے؟گوچ کہتے ہیں: ‘وہ خوشی اور محبت کے شاعر ہیں۔ ان کا کلام شمس کی جدائی اور محبت اور خالق اور موت کی یاد کے نتیجے میں سامنے آتا ہے۔ رومی کا پیغام تمام طرح کی سرحدوں کو عبور کرتا ہے اور بات چیت کرتا ہے۔ میں نے ایک بار بمپر سٹیکر دیکھا جس پر رومی کی ایک سطر لکھی تھی: ‘غلط اور صحیح کے درمیان ایک میدان ہے۔ میں وہاں آپ سے ملوں گا۔’
ناروپا یونیورسٹی میں شعریات کی پروفیسر اور شاعرہ اینی والڈ مین کہتی ہیں کہ ‘رومی ہمارے زمانے کے بہت ہی پراسرار اور اشتعال انگیز شاعر اور شخصیت ہیں، کیونکہ جب ہم صوفی روایت کو سمجھنے [اور] وجد و سرمستی اور عقیدت کی نوعیت اور شاعری کی طاقت کو سمجھنے کے لیے نکلتے ہیں تو وہ ہمیں جکڑ لیتے ہیں۔’ وہ مزید کہتی ہیں کہ ‘ان کے یہاں مکمل یا خام شکل میں ہم جنس پرستانہ روایت بھی ہے۔ وہ سفو سے لے کر والٹ وہٹ مین تک سرمست صاحب نظر میں سے ایک ہیں۔’
پوئٹس ہاؤس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور امریکہ میں رومی پر نیشنل لائبریری سیریز کی مشترک سپانسر لی برائیسیٹی کہتی ہیں کہ ‘وقت، جگہ اور ثقافت کی قیود سے باہر رومی کی نظمیں اپنی جاودانی کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ اور وہ ہمیں ہماری اپنی محبت کو تلاش کرنے اور روزمرہ کی زندگی کی خوشی کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔’ وہ رومی کے کلام کا موازنہ اس کی ‘گونج اور خوبصورتی’ کے لحاظ سے شیکسپیئر سے کرتی ہیں۔رومی کے کلام کو ترجمہ کرکے امریکہ میں روشناس کروا کر نشاۃِ ثانیہ پیدا کرنے والے اور امریکہ میں رومی کو ’بیسٹ سیلنگ‘ کا درجہ دلوانے والے کولمین بارکس بتاتے ہیں کہ رومی کو دوام اس لیے نصیب ہے کیونکہ ‘ان کے تخیل کی حیرت انگیز تازگی ہے اور اس سے پیدا ہوتی ہوئی شدید آرزو ہے، ان کے حس مزاح اور ان کے کھیل میں بھی عقل و دانش مندی کی باتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔’
سنہ 1976 میں شاعر رابرٹ بلائی نے بارکس کولمین کو کیمبرج کے اے جے آربری کے رومی کے ترجمے کی ایک نقل پیش کی اور کہا: ‘ان اشعار کو پنجروں سے رہا کرنے کی ضرورت ہے۔’ بارکس نے انھیں سخت تعلیمی زبان سے نکال کر امریکی طرز کی آزاد نظم کے قالب میں ڈھال دیا۔ تب سے بارکس نے تراجم کی 33 سالوں میں 22 جلدیں تیار کر ڈالیں جن میں ‘دی ایسنشیئل رومی، اے ایئر ود رومی ، رومی: دی بگ ریڈ بک اور رومی کے والد کی روحانی ڈائری، دی ڈراونڈ بک، شامل ہیں اور یہ تمام کتابیں ہارپر ون نے شائع کی ہیں۔ اس کی 20 لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئی ہیں اور 23 زبانوں میں ان کا ترجمہ کیا گیا ہے۔بارکس کا کہنا ہے کہ ‘مجھے لگتا ہے ابھی ایک مضبوط عالمی تحریک چل رہی ہے، ایک ایسا جذبہ بیدار ہے جو فرقہ وارانہ تشدد اور مذہب کی قائم کردہ حدود کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تمام مذاہب کے لوگ 1273 میں رومی کے جنازے میں آئے تھے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمارے عقیدے کو پختہ کرتے ہیں۔ ان کی اپیل میں یہ ایک طاقتور عنصر ہے۔’
رٹگرز یونیورسٹی میں قرون وسطیٰ کے تصوف کے سکالر اور رومی کے ایوارڈ یافتہ مترجم جاوید مجددی کہتے ہیں: ‘رومی فارسی شاعروں میں ایک تجرباتی جدت پسند تھے اور وہ ایک صوفی پیر تھے۔ صوفیانہ خیالات کو جرات مند شاعرانہ لباس میں پیش کرنا آج ان کی مقبولیت کی کلید ہے۔’
مجددی کہتے ہیں کہ رومی کی چار اہم ایجادات میں سے پہلا یہ ہے کہ وہ قاری کو براہ راست مخاطب کرتے ہیں جو کہ اس وقت نادر چیز تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ عصری قارئین اس براہ راست خطاب سے اچھی طرح خود کو ہم آہنگ پاتے ہیں۔’
دوسری چیز ان کی سکھانے کی کوشش ہے: ‘ترغیبی ادب کے قارئین رومی کی شاعری کی طرف راغب ہیں۔’ تیسرے ‘ان کا روزمرہ کی منظر کشی کا استعمال۔’ اور چوتھے ‘ان کی غزلیات میں محبوب سے وصل کی پرزور امید ہے۔ یہاں روایت محبوب کے ظلم کو بیان کرنے اور اس کے ناقابل حصول ہونے کی رہی ہے لیکن رومی محبوب سے وصل کا جشن مناتے ہیں۔
جیسے جیسے نئے تراجم سامنے آ رہے ہیں ان کے کلام کی گونج بڑھتی جارہی ہے۔ رومی کا اثر و رسوخ برقرار رہے گا۔ یہ اشعار اور دلپذیر الفاظ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ شاعری روز مرہ کی زندگی کا ایک پائیدار حصہ کیسے ہوسکتی ہے۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
دنیا
ایران کا امریکی پابندیوں کے انسانی اثرات کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے مطالبہ، اقدامات کو ’’اقتصادی دہشت گردی‘‘ قرار
تہران، ایران نے اقوام متحدہ سے امریکی پابندیوں کے انسانی اور انسانی حقوق پر مرتب ہونے والے اثرات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایسی ’’یک طرفہ اقتصادی پابندیاں‘‘ استعمال کر رہا ہے جو عام شہریوں کو نقصان پہنچاتی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس، سلامتی کونسل کے صدر اور رکن ممالک کو ارسال کیے گئے خط میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ سے حالیہ امریکی اقدامات کے اثرات کا جائزہ لینے اور اس بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی اپیل کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں عراقچی نے واشنگٹن کی پابندیوں کی مہم کو ’’ریاستی اور اقتصادی دہشت گردی کا عمل‘‘ قرار دیا اور امریکہ پر تہران کے خلاف غیر قانونی، یک طرفہ اور جبری اقدامات کرنے کا الزام عائد کیا۔
عراقچی نے کہا، ’’پابندیاں جان بوجھ کر عام شہریوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، کیونکہ ان کے نتیجے میں خوراک، ادویات، طبی آلات، توانائی اور دیگر ضروری اشیا تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔‘‘ ان کے مطابق اس سے زندگی، صحت، خوراک اور مناسب معیارِ زندگی سمیت بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پابندیوں کے نتیجے میں خوراک، ادویات، صحت کی سہولیات، توانائی، نقل و حمل، انسانی امداد اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے۔
عراقچی نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ یک طرفہ جبری اقدامات اور ثانوی پابندیوں کی مذمت کریں۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ان پابندیوں کو تسلیم یا نافذ نہ کریں جن کا مقصد ممالک کو ایران کے ساتھ قانونی اقتصادی اور تجارتی تعلقات تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ تیسرے ممالک اور کمپنیوں پر تہران کے ساتھ اقتصادی تعلقات محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا بند کرے اور پابندیوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضہ ادا کرے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
