تازہ ترین
جموں وکشمیر کے نئے قانونِ اقامت میں نئی اصلاحات
’5 دنوں میں ڈومیسائل اسناد اجرا کی جائیں‘
جموں وکشمیر حکومت کی تازہ ہدایت،جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے جار ی کیا حکمنامہ
خبراردو:-
سرینگر:ڈومیسائل اسناد کی اجرائی میں مزید تیزی لاتے ہوئے جموں وکشمیر حکومت نے منگلوار کو تازہ ہدایت جاری کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ سے کہا ہے کہ وہ جموں وکشمیر کے مستقل رہائشی اسناد (پی آر سی) رکھنے والوں اور مہاجرین کو5ورکنگ ایام میں ہی ڈومیسائل اسناد جاری کرے۔
اس سلسلے میں جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے باضابط طور پر ایک حکمنامہ بھی جاری کیا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری ایک حکمنامے زیر نمبر GAD/Mtg/RB-IV/9/2019بتاریخ 25اگست2020میں کہا گیا ہے’ضابطہ 5کی شق ایک (اے) اور 4 (اے) کے تحت ڈومیسائل سند کے اہل فرد کو صرف مستقل رہائشی سند کی بنیاد پر ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اجرا کی جائے گی اور اس کی متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی مزید تصدیق یا تفتیش نہیں ہوگی‘۔
حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے کیسز میں متعلقہ حکام درخواست موصول ہونے کے بعد 5 ورکنگ ایام(کام کرنے کے 5دن) میں ڈومیسائل اسناد جاری کریں گے۔نئے قانونِ اقامت کے تحت غیر مقامی افراد کو بھی کشمیر کی شہریت کی سند دی جا رہی ہے۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اس قانون کے تحت اب تک چار لاکھ کے قریب شہریت کی سندیں جاری کی جا چکی ہیں۔ مبینہ طور پر ان میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو ریاست کے مستقل باشندے نہیں ہیں۔رپورٹس کے مطابق دہائیوں قبل سابقہ مغربی پاکستان سے ہجرت کر کے جموں کے مختلف سرحدی علاقوں میں سکونت اختیار کرنے والے ہزاروں ہندو پناہ گزینوں (مہاجرین) کو بھی مستقل رہائشی ہونے کی اسناد جاری کی جا رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق سول سروسز آئی اے ایس میں شامل بعض افسران، ان کے اہلِ خانہ، بالمیکی سماج خاکروبوں اور گورکھا برادری کے اراکین کو بھی ڈومسائل سرٹیفیکیٹ جاری کیے گئے ہیں۔مرکزی حکومت نے گزشتہ سال5 اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے ریاست کو براہِ راست مرکز کے کنٹرول والے دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ اس کے بعد جموں اور وادی کشمیر جو اب یونین ٹریٹری آف جموں اینڈ کشمیر کہلاتے ہیں، کے لیے نیا قانونِ اقامت تشکیل دیا گیا ہے۔نئے قانونِ اقامت نے1927 سے لاگو ’اسٹیٹ سبجیکٹ لا‘کی جگہ لے لی، اسٹیٹ سبجکٹ لا ء کے تحت جموں و کشمیر کے پشتنی یا مستقل باشندے ہی غیر منقولہ جائیدار خرید سکتے تھے۔ جب کہ سرکاری ملازمتیں بھی مستقل باشندوں کیلئے مخصوص تھیں۔
اس قانون کے تحت جموں وکشمیرکے مستقل باشندوں کو ایک خصوصی دستاویز جاری کی جاتی تھی جو’اسٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفیکیٹ‘ کہلاتی تھی۔حکام نے کچھ عرصہ قبل ’اسٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفیکیٹ‘ جاری کرنا بند کر دیے تھے۔جموں وکشمیر کو آئین ہند کی دفعہ370 کے تحت خصوصی حیثیت حاصل تھی جسے 1950 میں ایک صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں شامل کیا گیا تھا۔
دفعہ 370 کی منسوخی کے ساتھ ہی اس کی ایک ذیلی شق دفعہ35(اے) بھی ختم ہو گئی تھی۔ دفعہ 35(اے) کے تحت جموں وکشمیر میں زمینیں اور دوسری غیر منقولہ جائیداد خریدنے، سرکاری نوکریاں اور وظائف حاصل کرنے، ریاستی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق صرف اس کے مستقل باشندوں کو حاصل تھا۔دفعہ 370 اور دفعہ35(اے) کی منسوخی کے بعد نہ صرف ریاست کا اپنا آئین، جھنڈا اور ترانہ ختم ہو گئے ہیں بلکہ اب بھارت کے آئین کے ساتھ ساتھ پارلیمان سے پاس کیے جانے والے قوانین کا جموں وکشمیر پر مکمل اور براہِ راست اطلاق ہو رہا ہے۔نئے قانونِ اقامت کے تحت جموں وکشمیر میں 7سے 15 سال تک رہنے والا کوئی بھی شخص ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ یعنی مستقل اقامت کی سند حاصل کرنے کا حق دار ہے۔
یہ سند متعلقہ شخص کو جموں و کشمیر میں غیر منقولہ جائیداد کا مالک بننے، سرکاری نوکری اور دوسری مراعات حاصل کرنے کا اہل بناتی ہے۔رواں برس اپریل میں مرکزی حکومت کے جاری اعلامیے کے مطابق کوئی بھی شخص جو جموں و کشمیر میں 15 سال تک رہا ہو یا جس نے یہاں سات برس تک تعلیم حاصل کی ہو اور10ویں اور12ویں جماعت کے امتحانات میں یہاں قائم کسی ادارے سے حصہ لیا ہو۔ وہ ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ کا حق دار اور جموں و کشمیر میں سرکاری نوکری کے لیے درخواست دینے کا اہل ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق مرکزی حکومت کے وہ عہدیدار، افسران، بینک ملازمین، قومی سطح کی جامعات کے وہ عہدیدار وغیرہ جنہوں نے جموں وکشمیر میں 10 برس تک ملازمت کی ہوجموں و کشمیر کا ڈومیسائل حاصل کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں مذکورہ افراد کے بچے بھی اقامتی سند حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔حال میں اخبارات میں شائع میں ایک رپورٹ کے مطابق ضلع جموں میں 14ہزار833 غیر مقامی افراد میں ڈومیسائل اسناد اجر ا کی گئیں ہیں جبکہ مجموعی طور پر ابتک 1لاکھ55ہزار358 شہریوں کے حق میں ڈومیسائل ڈومسائل اسناد اجراکی گئیں ہیں۔
صوبائی کمشنر جموں وجے کمار شرما نے کہا ہے کہ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ شہریوں کو ڈومیسائل اسناد بغیر کسی تاخیر اور بغیر کسی رْکاوٹ کے فراہم کی جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ مال کے افسران اپنے وارڈوں میں جاکر پی آر سی ہولڈروں کو موقعے پر ہی ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اجرا کرتے ہیں جبکہ غیر مقامی شہریوں کو پہلے مطلوبہ دستاویزات داخل کرنی پڑتی ہیں اور جانچ پڑتال کے بعد ہی ان کے حق میں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اجرا ہوتی ہیں۔
شرماء نے کہا ہے کہ غیر مقامی شہریوں کی یہاں پر گزارے گئے وقت کی مکمل جانچ ہوتی ہے اور اس سلسلے میں مطلوبہ اسناد کی جانچ پڑتال ہوتی ہے اور متعلقہ افسران موقعے پر جاکر مشاہدہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موقعے پر اسناد کی اجرائی صرف پی آر سی ہولڈروں کیلئے ہی ہے۔ دریں اثناء تیز رفتار انٹر نیٹ کی عدم دستیابی کے سبب افسران کو ڈومیسائل اسناد کی اجرائی میں مشکلات درپیش ہیں۔کئی افسران نے بتایا کہ 2۔جی انٹر نیٹ کے سبب اُنہیں (او پی ٹی)
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
