تازہ ترین
امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ہجرت سے شہادت تک
خبراردو:-
مصنف:الطاف جمیل ندوی
محرم الحرام جو کہ اسلامی ھجری تاریخ کا پہلا مہینہ کہلاتا ہے گرچہ تاریخ اسلامی کے مختلف سے سانحات سے پر ہے پر جس سانحہ کو امت اب تک یاد رکھئے ہوئے ہے جسے کربناک حادثہ کہہ سکتے ہیں وہ ہے سانحہ کربلا کربلا سانحہ میں امت مسلمہ اب افراط تفریق کی شکار ہوگئی ہے کیوں کہ محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی کچھ لوگ اس عظیم حادثہ سے اس قدر غلو کا شکار ہوجاتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات ایک عجیب تصور محسوس ہوتا ہے
دوسرا طبقہ اس زمانے کے اموی حاکم شام یزید کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کی سعی لا حاصل کرنے کے لئے مختلف توجیہات کرلینے کو ہی عین اسلام کہتا ہے تیسرا طبقہ اعتدال کی راہ کو اختیار کرکے بچنے کی سعی کرنے میں مگن ہے میرے لئے تینوں حضرات برابر کے خطا کار ہیں اول غلو کرنا اور فضول رسم و رواج کو پروان چڑھانا اسلام کی بنیادی تعلیم سے متصادم ہے اس لئے ایسی رسوم و رواج سے بچنا لازم ہے
یزید کو ہر صورت نیک پاک باز جیسا ثابت کرنا بھی کوئی عین اسلامی تقاضا نہیں ہے کیونکہ اس سلسلے میں کسی بھی دور میں علماء امت کے درمیان اتفاق ہوا ہی نہیں اس لئے سعی لاحاصل کرنا ہی عبث ہے تیسرے طبقہ کی خاموشی کا درس دینا بہتر اقدام تب ہوسکتا ہے جب وہ ساتھ ساتھ اس سلسلے میں آگاہی کا فریضہ بھی انجام دے کہ امام حسین رضی اللہ تعالی کا مقصد کیا تھا جس سبب سے وہ شھادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہوئے بہتر ہے کہ مقصد کو فوت نہ ہونے دیا جائے اور اس مقصد کی نگہبانی کی جائے جس کے پانے کے لئے امام حسین رضی اللہ تعالی کربلا کے میدان میں پانی کو ترسائے گئے اور ظلم و ستم کی وہ داستان رقم ہوتی گئی جسے پڑھ کر یا سن کر اب بھی اہل دل تڑپ جاتے ہیں اور رہتی دنیا تک ایسا ہی ہوتا رہے گا یہ سن کر یا جان کر اہل ایمان ہی نہیں بلکہ مغربی مصنفین کے بھی دل دہل اٹھے کہ مسلمانوں نے ایک ایسا زمانہ پرشعوب بھی پایا ہے جب انہوں نے از خود نعرہ تکبیر کے ساتھ خانوادہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو شھید کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کیا اور ان پر پانی بند کرنے کے ساتھ ساتھ ظلم و جبر کی وہ تاریک ترین تاریخ رقم کی جو تا قیامت ان کے ماتھے پر شرمندگی کا داغ بنا رہے گا اور اس حقیقت سے فرار ممکن ہی نہیں کہ وہ سب قاتل خود کو اہل ایمان میں ہی شمار کیا کرتے تھے
مقصد عظیم
امام حسین رضی اللہ تعالی نے مدینہ میں بیعت یزید سے انکار کیا یہ تنہا امام حسین رضی اللہ تعالی نہ تھے بلکہ ان سے وابستہ کئی اور اصحاب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے جن میں سب سے مشہور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی ہوئے اب ایک سلسلہ شروع ہوگیا اہل کوفہ نے سن کر امام حسین رضی اللہ تعالی کو آمادہ سفر عراق کے لئے مخلتف خطوط لکھے امام حسین رضی اللہ تعالی جس مرتبہ کے عظیم انسان تھے اسی قدر محبت و مروت میں بھی اپنی مثال نہیں رکھتے تھے اسی لئے اہل مدینہ سے لیکر اہل مکہ کی محترم شخصیات کے سمجھانے اور التجاؤں کے باوجود انہوں نے اپنا عزم سفر منسوخ نہیں کیا بلکہ عازم سفر ہوکر رہے یہ سفر کیوں کیا غور کرنے کی اشد ضرورت ہے امام حسین رضی اللہ تعالی اس نظریہ کے دفاع کے لئے میدان عمل میں نکلے تھے جو نظریہ انہوں نے آج تک سمجھا تھا تصور خلافت کا وہ مزاج جسے ان کے نانا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے پروان چڑھایا تھا یزید کوئی فاسق یا کافر نہیں تھا بلکہ وہ منہاج خلافت کو سبوتاژ کرنے والا اور ملوکیت کو پروان چڑھانے والا اول صاحب تھا خلافت وہ تھی جہاں امت کے لئے نرم گوشہ پایا جاتا تھا ملوکیت وہ جہاں امت مسلمہ کو ذبح کرنا کوئی بڑی بات نہ تھی
بقول محی الدین غازی جو کہ ماہ نامہ زندگی نو کے مدیر اعلی ہونے کے ساتھ ساتھ جانے مانے صاحب علم ہیں اور مختلف کتابوں کے مصنف
امام حسین نے یزید کے اقتدار کو تسلیم نہیں کیا، اس کے خلاف اٹھے اور اس کے حکم پر شہید کئے گئے، یہ ناقابل انکار حقیقت ہے، تاہم حسین یزید کے خلاف اس لئے نہیں اٹھے تھے کہ وہ اسے کافر سمجھتے تھے، اور نہ اس لئے اٹھے تھے کہ وہ اسے فاسق سمجھتے تھے۔ وہ اس لئے اٹھے تھے کہ وہ یزید کو غاصب اور ظالم سمجھتے تھے۔۔۔
یزید نے حسین کا حق غصب کیا تھا نہ حسین کے خاندان کا حق غصب کیا تھا، اس نے امت کا حق غصب کیا تھا۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار ایک امت کو اپنے اس حق تک رسائی ملی تھی کہ وہ اپنا حاکم خود منتخب کرے۔ اس وقت کی پوری انسانی دنیا میں یہ ایک دھندلے خواب سے زیادہ نہیں تھا۔ یزید نے امت سے یہ حق چھین کر اسے ایک بہت بڑے امیتاز سے محروم کردیا۔ شورائی نظام کے ذریعہ بہترین اور صالح ترین فرد کا انتخاب، اور پھر خدا ترسی کے ساتھ ملک کا انتظام وانصرام چلانا اس امت کا عظیم امتیاز تھا جس سے وہ راتوں رات یکسر محروم کردی گئی اور نہ جانے کتنے ہزار سال کے لئے محروم کردی گئی
جس کا خمیازہ پھر امت مسلمہ کو برابر چکانا پڑا ایک ہی جگہ امت مسلمہ کبھی جمع نہ ہوسکی کوئی بھی حکومت پھر ٹھر نہ سکی اور امت مسلمہ خون میں نہاتی گئی کس قدر دلخراش مناظر تھے وہ جو اس سانحہ کے بعد پیدا ہوئے کہ جو امت آپسی محبت عقیدت احترام بھائی چارے کے لئے اپنی نظیر نہ رکھتی تھی وہ اب نعرہ تکبیر لگاتے ہوئے اپنے ہی کلمہ گو مسلمانوں کے شہر و دیہات میں تباہی و بربادی کے لئے دوڑ لگا رہی تھی پر اس خون ریزی کا تتمہ وہی ملوکیت تھی جس کی بنیاد یزید نے رکھی تھی
یہ کیسا سانحہ ہے کہ کبھی جس مسلم دنیا میں انسانی تاریخ کا سب سے مثالی سیاسی نظام قائم ہوا تھا، آج اس مسلم دنیا کی سیاسی اصلاح بالکل ناقابل علاج بنتئی جارہی تھی، کل جو ہر طرح سے بہترین امت تھی آج سیاسی پسماندگی اور سیاسی بگاڑ اس کا حتمی مقدر بنتی جارہی تھی، یہ تبدیلی کب آئی یہ شرمناک تبدیلی اس وقت آئی جب یزید نے اپنی عسکری طاقت کے بل پر اسلامی امت کو اس کے عظیم امتیاز یعنی نظام خلافت وشورائیت سے محروم کردیا، اور اسے نظام ظلم وجبر کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھ دیا۔ وہ دن اور آج کا دن، امت کی سیاسی پسماندگی کو کوئی دور نہیں کرسکا امت کتنی بلندی سے کتنی پستی پر گرادی گئی اس کا اندازہ لگانا کسی تاریخ اسلامی سے واقف طالب علم کے لئے کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ امت مسلمہ پر کیا کیا قیامتیں نہ توڑی گئیں کہ تاریخ کے خونی ابواب پھر بنتے گئے ورنہ دنیا جانتی ہے کہ خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی کی شہادت جب ہوئی اول بلوائیوں نے جب حملہ کیا تو خلیفہ راشد نے کسی خون ریزی کا حکم دینے کے بجائے شہادت کو قبول کیا اور امت اس وقت ایک بہت بڑی تفریق سے بچ گئی امت کو ایسے ہولناک نظام ظلم سے بچانے کے لئے ( جو شہادت کے بعد آیا) اگر حسین کھڑے نہ ہوتے تو کون کھڑا ہوتا، اور حسین شہادت نہ دیتے تو کون دیتا۔ حسین نے قیامت تک کے لئے اس طرح کی جاہلی ملوکیت اور اس طرح کے ظالم حاکموں کو بے نقاب کردیا۔ بلاشبہ بہت عظیم کارنامہ انجام دیا حسین نے۔ بالکل اپنی شخصیت کے شایان شان کارنامہ انجام دیا اور رہتی دنیا کے لئے ایک مثال قائم کردی کہ جب فاجرانہ نظام یا ظالمانہ نظام استوار کیا جارہا ہو تو پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ انجام کیا ہوگا بلکہ نظام عدل و انصاف کے لئے ہر کوشش کی جاتی ہے
امام حسین رضی اللہ تعالی کا ایک مشہور قول ہے کہ کتنی آسان ہے موت جب وہ عزت کے حصول اور حق کے احیاء کے راستے میں ہو؛ بے شک عزت کے راستے میں موت دائمی حیات ہے اور ذلت کے ساتھ زندگی ایسی دائمی موت ہے جس کے بعد کوئی زندگی نہيں
اس لئے کیونکہ واقعہ کربلا کمزوروں کو حوصلہ مظلوموں کو جرات پیکار،بے وسیلوں کو خدائے لم لیزل پر توکل اور غم زدوں کو زندہ رہنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔افسوس ہم نے کربلا کے سانحہ فاجعہ کو صرف اور صرف نالہ و شیون تک محدود کردیا ہے۔ہم حق وباطل کے اس عظیم واقعے کی یاد تو بڑی شدومد سے مناتے ہیں لیکن اس میں پنہاں انسانیت کی فلاح اور رہنمائی سے ان زریں اصولوں اور ضابطوں سے کوئی علاقہ نہیں رکھتے جن کی سربلندی کی خاطر احسین رضی اللہ تعالی اور دیگر شہدائے کربلا نے اپنی قیمتی جانیں قربان کی تھیں۔اگر ہم اسلام کے سچے پیروکار ہونے اور امام حسین رضی اللہ تعالی سے عقیدت رکھنے کے دعویدار ہیں تو ہمیں اپنی موجودہ روش کوبدلنا ہوگا۔ہمیں نفرت،عداوت،بعض، ریاکاری، مکر و فریب، تکبر، حسد،لالچ اور بے راہ روی کے زہریلے کانٹوں سے اپنے دامن کو بچانا ہوگا اور سب سے بڑھ کرلسانی، گروہی اور فرقہ واریت کی دیواروں کو گرانا ہوگا۔شہدائے کربلا کی یاد منانے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم گروہوں اور مختلف طبقات اور فرقوں میں تقسیم ہونے کے بجائے ملت واحدہ کے طور پر خود کو پیش کریں اور اپنے معاشرے سے ظلم اور نا انصافی کا خاتمہ کرنے کے لئے کوشش کریں اسی میں ہماری بقا ہے اور یہی کربلا کا پیغام ہدایت ہے اور یہی پیغام سعادت ہے کہ نظام عدل کے لئے کوشاں رہا جائے نہ کہ مخصوص ایام میں ان کی یاد میں آہین بھر کر تمام عمر اس نظام عدل کو پامال و سبوتاژ کرنے والوں کے ساتھ کھڑا رہا جائے یا ازخود اس نظام عدل کا گلہ گھونٹ دیا جائے جس کی بقاء کے لئے امام حسین رضی اللہ تعالی نے مرتبہ شہادت کو قبول کیا اور لذت دنیاوی سے منہ پھیر لیا امام حسین رضی اللہ تعالی عظمت و جرآت کا اک باب ہیں جو رہتی دنیا تک اپنی حمیت و غیرت کے لئے یاد رکھا
جس کے حصول کے لئے امام حسینؓ کی قربانی بہت بڑی تھی جو کہ بہت بڑے مقصد کے لیے تھی انہوں نے صرف جان کا نذرانہ پیش نہیں کیا بلکہ اپنا خاندان ذبح کرادیا۔ لیکن انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ اس لیے کہ وہ یزید کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے تھے جس پر اس سے پہلے حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ فائز رہ چکے تھے۔ حضرت حسینؓ خلافت کے اس معیار کو قائم رکھنا چاہتے تھے اور اسی کے لیے میدان میں آئے تھے گویا حضرت ابوبکر صدیق عمر فاروق عثمان و علی رضوان اللہ تعالی نے محنت، ایثار، قربانی اور جرأت و حوصلہ کے ساتھ حکومت میں دیانت و اہلیت کا جو معیار قائم کیا تھا حضرت حسینؓ کو اس میں کمی گوارا نہ تھی اور وہ اس طرز حکومت اور مزاجِ حکمرانی کو باقی رکھنے کے لیے اڑ گئے تھے حتٰی کہ انہیں اپنے خاندان سمیت جام شہادت نوش کرنا پڑا اور دنیا ظلم و جبر کے سامنے سربسجود ہونے کے بجائے رضائے الہی کو ترجیح دے کر دارین کی سعادت پا گئے جو کہ سب سے عظیم سعادت ہے اور ہمارے لئے صرف دو ہی راستے ہیں یا امام حسین رضی اللہ تعالی کا انتخاب کیا ہوا جہاں سعادت ہے رضائے الہی پے یا قاتلین امام کی صف میں کھڑے رہ کر دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی کو اپنے حصہ میں شامل کریں یہ ہمارے لئے اہم ہے کہ ہم کس کا انتخاب کرتے ہیں
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
