تازہ ترین
امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ہجرت سے شہادت تک
خبراردو:-
مصنف:الطاف جمیل ندوی
محرم الحرام جو کہ اسلامی ھجری تاریخ کا پہلا مہینہ کہلاتا ہے گرچہ تاریخ اسلامی کے مختلف سے سانحات سے پر ہے پر جس سانحہ کو امت اب تک یاد رکھئے ہوئے ہے جسے کربناک حادثہ کہہ سکتے ہیں وہ ہے سانحہ کربلا کربلا سانحہ میں امت مسلمہ اب افراط تفریق کی شکار ہوگئی ہے کیوں کہ محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی کچھ لوگ اس عظیم حادثہ سے اس قدر غلو کا شکار ہوجاتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات ایک عجیب تصور محسوس ہوتا ہے
دوسرا طبقہ اس زمانے کے اموی حاکم شام یزید کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کی سعی لا حاصل کرنے کے لئے مختلف توجیہات کرلینے کو ہی عین اسلام کہتا ہے تیسرا طبقہ اعتدال کی راہ کو اختیار کرکے بچنے کی سعی کرنے میں مگن ہے میرے لئے تینوں حضرات برابر کے خطا کار ہیں اول غلو کرنا اور فضول رسم و رواج کو پروان چڑھانا اسلام کی بنیادی تعلیم سے متصادم ہے اس لئے ایسی رسوم و رواج سے بچنا لازم ہے
یزید کو ہر صورت نیک پاک باز جیسا ثابت کرنا بھی کوئی عین اسلامی تقاضا نہیں ہے کیونکہ اس سلسلے میں کسی بھی دور میں علماء امت کے درمیان اتفاق ہوا ہی نہیں اس لئے سعی لاحاصل کرنا ہی عبث ہے تیسرے طبقہ کی خاموشی کا درس دینا بہتر اقدام تب ہوسکتا ہے جب وہ ساتھ ساتھ اس سلسلے میں آگاہی کا فریضہ بھی انجام دے کہ امام حسین رضی اللہ تعالی کا مقصد کیا تھا جس سبب سے وہ شھادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہوئے بہتر ہے کہ مقصد کو فوت نہ ہونے دیا جائے اور اس مقصد کی نگہبانی کی جائے جس کے پانے کے لئے امام حسین رضی اللہ تعالی کربلا کے میدان میں پانی کو ترسائے گئے اور ظلم و ستم کی وہ داستان رقم ہوتی گئی جسے پڑھ کر یا سن کر اب بھی اہل دل تڑپ جاتے ہیں اور رہتی دنیا تک ایسا ہی ہوتا رہے گا یہ سن کر یا جان کر اہل ایمان ہی نہیں بلکہ مغربی مصنفین کے بھی دل دہل اٹھے کہ مسلمانوں نے ایک ایسا زمانہ پرشعوب بھی پایا ہے جب انہوں نے از خود نعرہ تکبیر کے ساتھ خانوادہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو شھید کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کیا اور ان پر پانی بند کرنے کے ساتھ ساتھ ظلم و جبر کی وہ تاریک ترین تاریخ رقم کی جو تا قیامت ان کے ماتھے پر شرمندگی کا داغ بنا رہے گا اور اس حقیقت سے فرار ممکن ہی نہیں کہ وہ سب قاتل خود کو اہل ایمان میں ہی شمار کیا کرتے تھے
مقصد عظیم
امام حسین رضی اللہ تعالی نے مدینہ میں بیعت یزید سے انکار کیا یہ تنہا امام حسین رضی اللہ تعالی نہ تھے بلکہ ان سے وابستہ کئی اور اصحاب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے جن میں سب سے مشہور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی ہوئے اب ایک سلسلہ شروع ہوگیا اہل کوفہ نے سن کر امام حسین رضی اللہ تعالی کو آمادہ سفر عراق کے لئے مخلتف خطوط لکھے امام حسین رضی اللہ تعالی جس مرتبہ کے عظیم انسان تھے اسی قدر محبت و مروت میں بھی اپنی مثال نہیں رکھتے تھے اسی لئے اہل مدینہ سے لیکر اہل مکہ کی محترم شخصیات کے سمجھانے اور التجاؤں کے باوجود انہوں نے اپنا عزم سفر منسوخ نہیں کیا بلکہ عازم سفر ہوکر رہے یہ سفر کیوں کیا غور کرنے کی اشد ضرورت ہے امام حسین رضی اللہ تعالی اس نظریہ کے دفاع کے لئے میدان عمل میں نکلے تھے جو نظریہ انہوں نے آج تک سمجھا تھا تصور خلافت کا وہ مزاج جسے ان کے نانا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے پروان چڑھایا تھا یزید کوئی فاسق یا کافر نہیں تھا بلکہ وہ منہاج خلافت کو سبوتاژ کرنے والا اور ملوکیت کو پروان چڑھانے والا اول صاحب تھا خلافت وہ تھی جہاں امت کے لئے نرم گوشہ پایا جاتا تھا ملوکیت وہ جہاں امت مسلمہ کو ذبح کرنا کوئی بڑی بات نہ تھی
بقول محی الدین غازی جو کہ ماہ نامہ زندگی نو کے مدیر اعلی ہونے کے ساتھ ساتھ جانے مانے صاحب علم ہیں اور مختلف کتابوں کے مصنف
امام حسین نے یزید کے اقتدار کو تسلیم نہیں کیا، اس کے خلاف اٹھے اور اس کے حکم پر شہید کئے گئے، یہ ناقابل انکار حقیقت ہے، تاہم حسین یزید کے خلاف اس لئے نہیں اٹھے تھے کہ وہ اسے کافر سمجھتے تھے، اور نہ اس لئے اٹھے تھے کہ وہ اسے فاسق سمجھتے تھے۔ وہ اس لئے اٹھے تھے کہ وہ یزید کو غاصب اور ظالم سمجھتے تھے۔۔۔
یزید نے حسین کا حق غصب کیا تھا نہ حسین کے خاندان کا حق غصب کیا تھا، اس نے امت کا حق غصب کیا تھا۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار ایک امت کو اپنے اس حق تک رسائی ملی تھی کہ وہ اپنا حاکم خود منتخب کرے۔ اس وقت کی پوری انسانی دنیا میں یہ ایک دھندلے خواب سے زیادہ نہیں تھا۔ یزید نے امت سے یہ حق چھین کر اسے ایک بہت بڑے امیتاز سے محروم کردیا۔ شورائی نظام کے ذریعہ بہترین اور صالح ترین فرد کا انتخاب، اور پھر خدا ترسی کے ساتھ ملک کا انتظام وانصرام چلانا اس امت کا عظیم امتیاز تھا جس سے وہ راتوں رات یکسر محروم کردی گئی اور نہ جانے کتنے ہزار سال کے لئے محروم کردی گئی
جس کا خمیازہ پھر امت مسلمہ کو برابر چکانا پڑا ایک ہی جگہ امت مسلمہ کبھی جمع نہ ہوسکی کوئی بھی حکومت پھر ٹھر نہ سکی اور امت مسلمہ خون میں نہاتی گئی کس قدر دلخراش مناظر تھے وہ جو اس سانحہ کے بعد پیدا ہوئے کہ جو امت آپسی محبت عقیدت احترام بھائی چارے کے لئے اپنی نظیر نہ رکھتی تھی وہ اب نعرہ تکبیر لگاتے ہوئے اپنے ہی کلمہ گو مسلمانوں کے شہر و دیہات میں تباہی و بربادی کے لئے دوڑ لگا رہی تھی پر اس خون ریزی کا تتمہ وہی ملوکیت تھی جس کی بنیاد یزید نے رکھی تھی
یہ کیسا سانحہ ہے کہ کبھی جس مسلم دنیا میں انسانی تاریخ کا سب سے مثالی سیاسی نظام قائم ہوا تھا، آج اس مسلم دنیا کی سیاسی اصلاح بالکل ناقابل علاج بنتئی جارہی تھی، کل جو ہر طرح سے بہترین امت تھی آج سیاسی پسماندگی اور سیاسی بگاڑ اس کا حتمی مقدر بنتی جارہی تھی، یہ تبدیلی کب آئی یہ شرمناک تبدیلی اس وقت آئی جب یزید نے اپنی عسکری طاقت کے بل پر اسلامی امت کو اس کے عظیم امتیاز یعنی نظام خلافت وشورائیت سے محروم کردیا، اور اسے نظام ظلم وجبر کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھ دیا۔ وہ دن اور آج کا دن، امت کی سیاسی پسماندگی کو کوئی دور نہیں کرسکا امت کتنی بلندی سے کتنی پستی پر گرادی گئی اس کا اندازہ لگانا کسی تاریخ اسلامی سے واقف طالب علم کے لئے کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ امت مسلمہ پر کیا کیا قیامتیں نہ توڑی گئیں کہ تاریخ کے خونی ابواب پھر بنتے گئے ورنہ دنیا جانتی ہے کہ خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی کی شہادت جب ہوئی اول بلوائیوں نے جب حملہ کیا تو خلیفہ راشد نے کسی خون ریزی کا حکم دینے کے بجائے شہادت کو قبول کیا اور امت اس وقت ایک بہت بڑی تفریق سے بچ گئی امت کو ایسے ہولناک نظام ظلم سے بچانے کے لئے ( جو شہادت کے بعد آیا) اگر حسین کھڑے نہ ہوتے تو کون کھڑا ہوتا، اور حسین شہادت نہ دیتے تو کون دیتا۔ حسین نے قیامت تک کے لئے اس طرح کی جاہلی ملوکیت اور اس طرح کے ظالم حاکموں کو بے نقاب کردیا۔ بلاشبہ بہت عظیم کارنامہ انجام دیا حسین نے۔ بالکل اپنی شخصیت کے شایان شان کارنامہ انجام دیا اور رہتی دنیا کے لئے ایک مثال قائم کردی کہ جب فاجرانہ نظام یا ظالمانہ نظام استوار کیا جارہا ہو تو پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ انجام کیا ہوگا بلکہ نظام عدل و انصاف کے لئے ہر کوشش کی جاتی ہے
امام حسین رضی اللہ تعالی کا ایک مشہور قول ہے کہ کتنی آسان ہے موت جب وہ عزت کے حصول اور حق کے احیاء کے راستے میں ہو؛ بے شک عزت کے راستے میں موت دائمی حیات ہے اور ذلت کے ساتھ زندگی ایسی دائمی موت ہے جس کے بعد کوئی زندگی نہيں
اس لئے کیونکہ واقعہ کربلا کمزوروں کو حوصلہ مظلوموں کو جرات پیکار،بے وسیلوں کو خدائے لم لیزل پر توکل اور غم زدوں کو زندہ رہنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔افسوس ہم نے کربلا کے سانحہ فاجعہ کو صرف اور صرف نالہ و شیون تک محدود کردیا ہے۔ہم حق وباطل کے اس عظیم واقعے کی یاد تو بڑی شدومد سے مناتے ہیں لیکن اس میں پنہاں انسانیت کی فلاح اور رہنمائی سے ان زریں اصولوں اور ضابطوں سے کوئی علاقہ نہیں رکھتے جن کی سربلندی کی خاطر احسین رضی اللہ تعالی اور دیگر شہدائے کربلا نے اپنی قیمتی جانیں قربان کی تھیں۔اگر ہم اسلام کے سچے پیروکار ہونے اور امام حسین رضی اللہ تعالی سے عقیدت رکھنے کے دعویدار ہیں تو ہمیں اپنی موجودہ روش کوبدلنا ہوگا۔ہمیں نفرت،عداوت،بعض، ریاکاری، مکر و فریب، تکبر، حسد،لالچ اور بے راہ روی کے زہریلے کانٹوں سے اپنے دامن کو بچانا ہوگا اور سب سے بڑھ کرلسانی، گروہی اور فرقہ واریت کی دیواروں کو گرانا ہوگا۔شہدائے کربلا کی یاد منانے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم گروہوں اور مختلف طبقات اور فرقوں میں تقسیم ہونے کے بجائے ملت واحدہ کے طور پر خود کو پیش کریں اور اپنے معاشرے سے ظلم اور نا انصافی کا خاتمہ کرنے کے لئے کوشش کریں اسی میں ہماری بقا ہے اور یہی کربلا کا پیغام ہدایت ہے اور یہی پیغام سعادت ہے کہ نظام عدل کے لئے کوشاں رہا جائے نہ کہ مخصوص ایام میں ان کی یاد میں آہین بھر کر تمام عمر اس نظام عدل کو پامال و سبوتاژ کرنے والوں کے ساتھ کھڑا رہا جائے یا ازخود اس نظام عدل کا گلہ گھونٹ دیا جائے جس کی بقاء کے لئے امام حسین رضی اللہ تعالی نے مرتبہ شہادت کو قبول کیا اور لذت دنیاوی سے منہ پھیر لیا امام حسین رضی اللہ تعالی عظمت و جرآت کا اک باب ہیں جو رہتی دنیا تک اپنی حمیت و غیرت کے لئے یاد رکھا
جس کے حصول کے لئے امام حسینؓ کی قربانی بہت بڑی تھی جو کہ بہت بڑے مقصد کے لیے تھی انہوں نے صرف جان کا نذرانہ پیش نہیں کیا بلکہ اپنا خاندان ذبح کرادیا۔ لیکن انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ اس لیے کہ وہ یزید کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے تھے جس پر اس سے پہلے حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ فائز رہ چکے تھے۔ حضرت حسینؓ خلافت کے اس معیار کو قائم رکھنا چاہتے تھے اور اسی کے لیے میدان میں آئے تھے گویا حضرت ابوبکر صدیق عمر فاروق عثمان و علی رضوان اللہ تعالی نے محنت، ایثار، قربانی اور جرأت و حوصلہ کے ساتھ حکومت میں دیانت و اہلیت کا جو معیار قائم کیا تھا حضرت حسینؓ کو اس میں کمی گوارا نہ تھی اور وہ اس طرز حکومت اور مزاجِ حکمرانی کو باقی رکھنے کے لیے اڑ گئے تھے حتٰی کہ انہیں اپنے خاندان سمیت جام شہادت نوش کرنا پڑا اور دنیا ظلم و جبر کے سامنے سربسجود ہونے کے بجائے رضائے الہی کو ترجیح دے کر دارین کی سعادت پا گئے جو کہ سب سے عظیم سعادت ہے اور ہمارے لئے صرف دو ہی راستے ہیں یا امام حسین رضی اللہ تعالی کا انتخاب کیا ہوا جہاں سعادت ہے رضائے الہی پے یا قاتلین امام کی صف میں کھڑے رہ کر دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی کو اپنے حصہ میں شامل کریں یہ ہمارے لئے اہم ہے کہ ہم کس کا انتخاب کرتے ہیں
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
