تازہ ترین
سیو ل لائنز میں 8،9اور10محرم الحرام کے روایتی جلوسو ں کی برآمد گی پر پابندیاں برقرار
دارالحکومت سرینگر میں سہ روزہ سخت پابندیاں وبندشیں عائد
8محرم کے روایتی جلو س نکالنے پر روک،کئی کوششیں بنائی گئیں ناکام،ہلکے لاٹھی چارج کیساتھ درجنوں عزادار گرفتار
خبراردو:-
سرینگر:جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر کے سیول لائنز علاقوں میں 8،9اور10محرم الحرام کے روایتی جلوسوں کی برآمد گی پر عائد 3دہائیوں کی پابندیوں کو برقرار رکھتے ہوئے انتظامیہ نے رواں برس عالمگیر وبا کووڈ۔19اور سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر جمعہ کو شہر کے7پولیس تھانوں کے حدود میں آنے والے علاقوں میں 3روزہ سخت پابندیاں اور بندشیں نافذ کردیں۔
اس دوران 8محرم الحرام کے سلسلے میں عزاداروں کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں نے کئی مقامات سے جلوس نکالنے کی کوششیں کیں،تاہم پہلے سے تعینات بھاری پولیس کی نفری نے اِن کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے درجنوں عزاداروں کو حراست میں لیا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق شہر کے سیول لائنز علاقے میں عزاداری جلوسوں کوروکنے کیلئے جمعہ کو انتظامیہ نے سخت ترین پابندیاں اور بندشیں نافذ کیں۔حکام نے جمعہ کو شہر سرینگر کے تجارتی مرکز لالچوک اور اسکے ملحقہ علاقوں میں سخت ترین پابندیاں اور بندشیں نافذ کیں تاکہ محرم الحرام کے سلسلے میں نکلنے والے روایتی جلوسوں کو روکا جاسکے۔
پابندیوں کا نفاذ بٹہ مالو،شہید گنج،کرن نگر،مائسمہ، کوٹھی باغ، شیر گڑھی،کرالہ کھڑ اور رام منشی باغ پولیس تھانوں کے حدود میں آنے والے علاقوں میں نافذ کی گئی ہیں۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پابندیاں اور بندشیں آئندہ تین روز تک جاری رہیں گی۔ذرائع نے بتایا کہ کووڈ۔19اور سکورٹی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے شہر کے بعض علاقوں میں سہ روزہ پابندیاں اور بندشیں عائد کرنے کا فیصلہ لیا۔دارالحکومت سرینگر کے تاریخی تجارتی مرکز لالچوک کو سہ روزہ پابندیوں اور بندشوں کے پیش نظر جمعرات کی شب کو ہی سیل کردیا گیا تھا۔
دریائے جہلم پر بنائے دئے ”فٹ برج“ پیدل پلوں کیساتھ ساتھ امیر اکدل،بڈشاہ پل،زیر و برج،بربر شاہ پل سمیت سبھی راستوں کو سیل کردیا گیا۔
لالچوک کے تاریخی گھنٹہ گھر کی طرف جانے والے سبھی راستوں کو سیل کردیا گیا جبکہ ریزیڈنسی روڑ اور مولانا آزاد روڑ کو ڈلگیٹ سے لیکر بٹہ مالو تک خاردار تاروں اور بریکریٹوں سے بند کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ بالا 7پولیس تھانوں کے تحت آنے والوں علاقوں میں لوگوں کی نقل و حمل روکنے کیلئے سبھی مرکزی سڑکوں اور گلی کوچوں پر خار دار تار لگائی گئی ہے۔
تاکہ 8محرم الحرام کو نکلنے والے عزا داری کے روایتی جلوس کو روکا جاسکے۔اس دوران پابندی والے علاقوں میں سبھی دکان اور کاروباری ادارے بند رہے۔شہر کے سیول لائینز علاقے میں فورسز کی اضافی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے نیز موبائیل بنکرس اور بلٹ پروف گاڑیوں کو بھی جگہ جگہ تعینات رکھا گیا ہے۔ادھر شہر میں سخت ترین پابندیوں اور بندشوں کے سبب پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب رہا۔نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کو اپنی اپنی منزل مقصود تک پہنچنے میں شدید ترین مشکلات کا سامنا رہا۔
کئی سڑکوں پر پابندیوں اور بندشوں کے سبب لمبے لمبے ٹریفک جام کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔ یاد رہے کہ1990سے 8، 9اور10محرم الحرام کے سلسلے میں برآمد ہونے والی ماتمی جلوسوں پر انتظامیہ نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پابندی عائد کر رکھی،جوہنوز جاری ہے۔8محرم کو شہید گنج علاقے سے جلوس برآمد ہو تا تھا اور مولا نا آزاد روڑ سے گزر کر ڈلگیٹ سرینگر میں واقع امام باڈہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔
تاہم 3دہائیوں سے انتظامیہ اس جلوس کو برآمد کرنے کی اجاز ت نہیں دے رہی ہے۔گزشتہ کئی برسوں سے عزاداروں نے پابندیوں اور بندشوں کو توڑ کر یہ جلوس نکالنے کی کوشش کی،تاہم پولیس نے ہر بار یہ کوشش ناکام بنا دی۔جمعہ کورواں برس بھی 8محرم الحرام کے جلوس کو نکالنے کی کئی کوششیں کی گئیں،تاہم پولیس نے عزاداروں پر ہلکا لاٹھی چار ج کرنے کیساتھ ساتھ درجنوں عزاداروں کو حراست میں لیا۔
عزاداروں نے چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں نے آبی گزر،ڈلگیٹ،بٹہ مالو،شہید گنج اور دیگر کئی مقامات سے ماتمی جلوس نکالنے کی کوششیں کیں۔عزاداروں نواحہ اور مرثیہ خوانی کرتے ہوئے نمودار ہوئے جبکہ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں ”یاحسین“ کے بینر بھی اٹھا رکھے تھے۔
تاہم یہاں پہلے سے تعینات بھاری پولیس کی نفری ان تمام کوششوں کو ناکام بنا تے ہوئے درجنوں عزاداروں کو حراست میں لیا۔دریں اثناء صوبائی کمشنر کشمیر،پی کے پولے نے بتایا کہ کووڈ۔19کے پیش نظر سبھی اضلاع میں مذہبی جلوسوں اور اجتماعات پر پابندی برقرار رہے گی۔انہوں نے مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ لوگوں کو کووڈ۔19سے متعلق بیدا رکریں کیونکہ عالمگیر وبا جان لیواء ہے۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
