اداریہ
دیر سے شادی کرنا ہمارے سماج کا بڑا المیہ ہے!
1989 کی بات ہے. جب کشمیر میں مسلح تحریک کی شروعات ہوئی.جس کی وجہ سے ہر طرف افرا تفری پھیل گئی.کرفیو، ہڑتال،روز مرہ کی ہلاکتوں نے کشمیری سماج کے تانے بانے کو بکھیر کر رکھ دیا.ہزاروں لوگ اس تنازعے کی بھینٹ چڑھ گئے.سن 2002کے بعد حالات کسی حد تک سنبھل گئے.لیکن 2008کے بعد سے حالات ہر دو تین سال کے بعد خراب ہوتے جارہےہیں.جس کی وجہ سے یہاں کی سماجی،اقتصادی،تعلیمی،اور ثقافتی سرگرمیاں بری طرح سے متاثر ہوگئی.جبکہ پچھلے اگست نے اسے تباہی کے دہانے پر پہونچا دیا ہے. دو سال پہلے کے اعدادوشمار جوکہ یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبہ عمرانیات نے شائع کئے تھے کے مطابق کشمیر کی کل آبادی کا 55فیصد غیر شادی شدہ ہے.اُن کے مطابق 20 سے 35 سال کی عمر کے 897289غیر شادی شدہ ہیں.اب یہ تعداد بڑھ کر 13 لاکھ تک پہونچ گئی.یہ اعدادوشمار ایک ایسے مسئلے کی جانب نشاندہی کررہے ہیں .جو ہمارے سماج کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے.
کشمیری سماج میں لاکھوں کی تعداد میں لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی نہ ہونا ایک بڑا المیہ ہے. اس کی کئی وجوہات ہیں.جس میں سرفہرست یہاں کے نامساعد حالات ہے. جس نے ہزاروں نوجوانوں کو موت سے ہمکنار کردیا اور بے روزگاری کو حد سے زیادہ بڑھادیا. نوجوانوں کی ایک نسل ختم ہوگئی.اور بھی کئی وجہیں ہیں، جن میں اعلی تعلیم حاصل کرنا،شادی سے پہلے روزگار کا حصول ،شادی کے مالی پہلو جس میں شادی بیاہ کے انتظامات اور جہیز وغیرہ پر کافی لاگت آتی ہے.غریب اور نیم متوسط گھرانوں کی ہزاروں لڑکیوں کی شادی نہیں ہو رہی ہے.کیونکہ وہ شادی کے اخراجات اُٹھانے کے قابل نہیں ہوتے.کیونکہ کشمیر میں شادی پر اوسط دس لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیںاور غریب ماں باپ اتنا پیسہ کہاں سے لائیں گے.اسی لئے ”کشمیر میرج سنٹر” سمیت کئی اداروں نے لین دین اور وازہ وان کے بغیر ”سادہ نکاح” کے لئے پہل کی.اس کے کافی حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے.ان اداروں کے ذریعے ہزاروں لوگ شادی کے بندھن میں بندھ گئے.شادی سادہ طریقہ پر انجام دی جاتی ہے.جس میں نہ کوئی لین دین ہوتا ہے.اور نہ کوئی وازہ وان .بالکل سادہ طریقہ پر ” نکاح” کی رسم انجام دی جاتی ہے.
کشمیر میں بے روزگاری کی وجہ سے 83 فیصدی شادیاں دیر سے ہوتی ہے.اس سلسلے میں سماج کے ہر فرد کو سماج میں شادی بیاہ کو آسان بنانے کی طرف دھیان دینا چاہیئے.تاکہ درست عمر میں شادی ہوجائےاورسماج ”لیٹ میرج” کے مضر اثرات سے دور رہے.
تجزیہ
دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین
یہ سوال آج ناگزیر ہے کہ جن خاندانوں کو دہشت گردی نے سب سے پہلے نشانہ بنایا، انہیں انصاف سب سے آخر میں کیوں ملا۔ کشمیر میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد حکومتیں بدلتی رہیں، پالیسیاں بدلتی رہیں، مگر دہشت گردی کے متاثرہ خاندان خاموشی، خوف اور نظراندازی کے اندھیروں میں جیتے رہے۔ جن گھروں کے چراغ دہشت گردی نے بجھا دیے، ان کے لیے نہ فوری انصاف تھا، نہ روزگار، نہ بحالی، نہ عزت۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان خاندانوں کو وہ سہولتیں اور حقوق دہائیوں بعد ملے، جو ریاست کو ترجیحی بنیادوں پر فوراً فراہم کرنے چاہیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں دیا گیا؟ کیوں دہشت گردی کے اصل متاثرین کو برسوں انتظار کرنا پڑا؟ باپ مارا گیا، ماں بیوہ ہوئی، بچے یتیم ہوئے، مگر نظام خاموش رہا۔ فائلیں دبتی رہیں، درخواستیں گرد میں دفن ہو گئیں، اور متاثرین کو یا تو خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا یا پھر شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
کئی خاندانوں نے اپنی کہانی سنانے کی ہمت بھی اس خوف سے نہ کی کہ کہیں انہیں ہی نشانہ نہ بنا دیا جائے۔ یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ ایک طویل عرصے تک دہشت گردی کے متاثرین کو وہ عزت نہیں دی گئی جس کے وہ حقدار تھے، جبکہ اسی دوران دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام سے جڑے عناصر کو مواقع، مراعات اور حتیٰ کہ سرکاری تحفظ بھی حاصل رہا۔ ایک طرف اصل متاثرین در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، دوسری طرف نظام نے ان کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ یہ سوال صرف انصاف میں تاخیر کا نہیں، بلکہ انصاف سے انکار کا ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے، تو کم از کم انہیں فوری انصاف، بازآبادکاری اور وقار تو دینا چاہیے۔ مگر یہاں دہائیوں تک ایسا نہیں ہوا۔
آج اگر کچھ خاندانوں کو روزگار، بحالی اور پہچان ملی ہے، تو یہ خوش آئند ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی کھڑا ہے کہ اتنی دیر کیوں؟ کیا ان خاندانوں کا درد کم تھا؟ کیا ان کی قربانیاں کم تھیں؟ یا نظام نے انہیں کبھی اپنی ترجیح سمجھا ہی نہیں؟ انصاف اگر دہائیوں بعد ملے، تو وہ انصاف نہیں، ایک تاخیری اعتراف ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے متاثرین خیرات نہیں مانگ رہے تھے، وہ اپنا حق مانگ رہے تھے—وہ حق جو ریاست کو بہت پہلے ادا کرنا چاہیے تھا۔ یہ وقت صرف اقدامات کا نہیں، بلکہ احتساب کا بھی ہے۔ یہ پوچھنے کا وقت ہے کہ ماضی میں کن فیصلوں، کن غفلتوں اور کن ترجیحات نے دہشت گردی کے متاثرین کو اتنے طویل عرصے تک انصاف سے محروم رکھا۔ اگر واقعی ایک منصفانہ اور انسانی نظام کی بات کی جاتی ہے، تو دہشت گردی کے متاثرین کو آخری نہیں، بلکہ پہلی ترجیح بنانا ہوگا—ورنہ تاریخ یہ سوال بار بار دہراتی رہے گی: انصاف اتنا دیر سے کیوں؟
اداریہ
ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار
نئی دہلی، 5 فروری (یو این آئی) ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے تقریباً تین دہائیوں کی تلاش کے بعد 1993 کے ممبئی سیریل بلاسٹ کے کلیدی ملزم ابوبکر عبدالغفور شیخ کو گرفتار کر لیا ہے۔
ابوبکر 1993 کے حملے کے ماسٹر مائنڈ داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی اور دھماکوں کا اہم سازشی ہے۔ 12 مارچ 1993 کو ہونے والے ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ ممبئی میں 12 مختلف مقامات پر ہوئے سلسلہ وار دھماکوں نے ممبئی (تب بمبئی) کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ ہندوستان میں سب سے بڑے دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ ابو بکر پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کی تربیت دینے، دبئی میں داؤد ابراہیم کی رہائش گاہ پر دھماکوں کی سازش رچنے اور منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔
ممبئی دھماکوں کو داؤد ابراہیم کی جانب سے کوآرڈینیٹ کیا گیا تھا۔ یہ دھماکے ٹائیگر میمن اور یعقوب میمن کے ذریعے انجام دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کاروبار میں دلچسپی رکھنے والا ابوبکرعبد الغفور شیخ، خلیجی ممالک سے ممبئی میں سونے اور الیکٹرانکس کے سامان کی اسمگلنگ میں بھی ملوث رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسے ہندستان کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی فوری کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
اداریہ
یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ
لندن 04 فروری (یو این آئی/ اسپوتنک) برطانیہ کے وزیر خارجہ لِز نے پینٹاگن کے اس بات کو’حیران کُن‘ قرار دیا ہے جس میں اس نے جعلی ویڈیو کے ذریعے روس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
پینٹاگن کے ترجمان جان کِربے نے جمعرات کو کہا کہ روس یوکرین کی فوج پر حملہ کرنے کے فراق میں ہے اور مشرقی یوکرین میں روس کے لوگ غیر قانونی طور پر دراندازی کر رہے ہیں۔
پینٹاگن کا ماننا ہے کہ روس تصویری نشر و اشاعت کے لیے ویڈیو بنانے جا رہا ہے جس میں مردہ افراد اور اداکار شامل ہوں گے جو ماتم اور برباد کیے گئے مقامات اور فوجی آلات کی تصویر سازی کریں گے۔
غور طلب ہے کہ یورپی یونین میں روس کے نمائندے ولادیمیر چیژوف نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ انھوں نے جمعرات کی دیر رات یہ واضح اور پختہ ثبوت ہے کہ یوکرین کو غیر مستحکم کرنے کے لیے روس مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ممالک کے ساتھ ایسا سلوک ہرگز قابل قبول نہیں۔ ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔
گذشتہ چند ماہ سے روس نے یوکرین کی سرحد پر فوجیوں کا ہجوم لگا رہا ہے مغرب اور یوکرین نے روس پر حملے کا الزام لگا رہے ہیں۔ روس مسلسل اس الزام کی تردید کر رہا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
