تازہ ترین
کلونجی کے چند متاثر کن فائدے جان لیں
کلونجی کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا جسے مختلف کھانوں کا ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں بھی اس کے استعمال کے فوائد ملتے ہیں۔
مگر کیا آپ واقعی اس کے فوائد سے واقف ہیں جو آپ معمولی محنت سے حاصل کرسکتے ہیں؟
درحقیقت صدیوں سے کلونجی کا استعمال مختلف امراض سے بچاؤ کے گھریلو ٹوٹکے کے طور پر کیا جارہا ہے۔
یہاں آپ اس کے چند فوائد کو درج ذیل جان سکتے ہیں۔
اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور
اینٹی آکسائیڈنٹس جسم میں گردش کرنے والے نقصان دہ اجزا کی روک تھام اور خلیات کو تکسیدی تناؤ سے بچاتے ہیں۔
طبی سائنس کے مطابق اینٹی آکسائیڈنٹس صحت اور امراض پر طاقتور اثرات مرتب کرتے ہیں۔
کچھ تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا کہ اینٹی آکسائئیڈنٹس سے متعدد امراض جیسے کینسر، ذیابیطس، امراض قلب اور موٹاپے وغیرہ سے تحفظ مل سکتا ہے۔
کلونجی میں متعدد ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو اینٹی آکسائیڈنٹس خصوصیات رکھتے ہیں، ایک ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی کا تیل اینٹی اکسائیڈنٹ کی طرح کام کرتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کلونجی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس انسانی صحت پر کس طرح اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
کولیسٹرول میں کمی
کولیسٹر ہمارے جسم میں چربیلا مواد کو کہا جاتا ہے اور اچھی صحت کے لیے کچھ مقدار میں کولیسٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔
مگر اس کی زیادہ مقدار خون میں جمع ہونے سے امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور کلونجی بلڈ کولیسٹرول کی سطح میں کمی کے لیے موثر سمجھی جاتی ہے۔
17 تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی کے سپپلیمنٹس مجموعی اور نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کے ساتھ ساتھ بلڈ ٹرائی گلیسڈر کی سطح میں نمایاں کمی لاتے ہیں۔
کلونجی کا تیل اس کے سفوف کے مقابلے میں زیادہ بہتر اثر کرتا ہے مگر سفوف صحت کے لیے فائدہ مند سمجھے جانے والے ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح کو بڑھاتا ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی کے سلیمنٹس سے ایک سال کے دوران نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی جبکہ فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح بڑھ گئی۔
ذیابیطس کے مریضوں پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں بھی اسی طرح کے نتائج سامنے آئے، جس میں بتایا گیا کہ روانہ 2 گرام کلونجی کا استعمال 12 ہفتے تک کرنا کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاتا ہے۔
کینسر سے لڑنے والی خصوصیات
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ کلونجی کے بیج اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم میں گردش کرنے والے نقصان دہ مواد کی روک تھام کرتے ہیں، جو دوسری صورت میں کینسر جیسی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
ٹیسٹ ٹیوب تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی میں کینسر سے لڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ایک ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی میں موجود ایک متحرک مرکب thymoquinone خون کے سرطان میں خلیات کی موت کا عمل روکتا ہے، ایک اور تحقیق میں دریافت کیا کہ کلونجی کا ایکسٹریکٹ بریسٹ کینسر خلیات کو غیرمتحرک کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
دیگر ٹیسٹ ٹیوب تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا کہ کلونجی اور اس کے اجزا ممکنہ طور پر متعدد اقسام کے کینسر جیسے مثانے، جلد، پھیپھڑوں، لبلبے اور قولون کینسر کے خلاف موثر ثابت ہوسکتے ہیں۔
تاہم ابھی انسانوں میں ان بیجوں کے کینسر کش اثرات کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں اور اس حوالے سے گہرائی میں جاکر تحقیق کی ضرورت ہے۔
بیکٹریا کے خاتمے میں مددگار
بیماریوں کا باعث بننے والے بیکٹریا کانوں کے انفیکشنز سے لے کر نمونیا سمیت متعدد امراض کا باعث بنتے ہیں۔
کچھ ٹیسٹ ٹیوب تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی میں بیکٹریا کش خصوصیات ہوتی ہیں جو بیکٹریا کی مخصوص اقسام کے خلاف موثرانداز سے مقابلہ کرتی ہیں۔
ایک تحقیق میں کلونجی کو ننھے بچوں کے جسم پر جلد کے ایک انفیکشن کے لیے لگایا گیا اور دریافت کیا گیا کہ یہ کسی روایتی اینٹی بائیوٹیک کی طرح موثر ثابت ہوسکتی ہے۔
اسی طرح بیکٹریا کی ایسی قسم MRSA جو اینٹی بائیوٹیکس کے خلاف مزاحمت دکھاتے ہیں، ان کے خلاف بھی اسے موثر دریافت کیا گیا۔
اس حوالے سے انسانوں پر تحقیق محدود ہے اور جسم میں بیکٹریا کی مختلف اقسام پر اس کے اثرات کو جاننے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ورم سے نجات دلائے
اکثر تو ورم ایک معمول کا مدافعتی ردعمل ہوتا ہے جو جسم کو انجری اور بیماری سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
مگر جب یہ ورم دائمی ہوجائے تو یہ متعدد امراض جیسے کینسر، ذیابیطس اور امراض قلب کا شکار کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔
کچھ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی ممکنہ طور پر جسم میں طاقتور ورم کش اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
جوڑوں کے امراض کے شکار 42 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں انہیں 8 ہفتے تک روزانہ ایک ہزار ملی گرام کلونجی کا تیل استعمال کرایا گیا، جس سے ورم اور تکسیدی تناؤ کم ہوگیا۔
چوہوں پر ایک تحقیق میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی میں ورم میں کمی کو دیکھا گیا۔
جگر کو تحفظ فراہم کرے
جگر ہمارے جسم کا انتہائی اہم عضو ہے جو زہریلے مواد کے اخراج، غذائی اجزا کو پراسیس کرنے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے ضروری پروٹینز اور کیمیکلز بناتا ہے۔
جانوروں پر ہونے والی مختلف تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی جگر کو انجری اور نقصان سے تحفظ دینے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔
ایک تحقیق میں چوہوں کو زہریلے کیمیکل کلونجی کے ساتھ یا اس کے بغیر دیئے گئے اور دریافت ہوا کہ کلونجی نے کیمیکل کے زہریلے اثرات کو کم کرکے جگر اور گردوں کو نقصان سے بچایا ہے۔
ایک اور جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں ایسے ہی اثرات کو دریافت کیا گیا۔
اس حوالے سے انسانوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کلونجی کس حد تک جگر کی صحت پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں بھی مدد دے
جسم میں بلڈ شوگر کی سطح میں اضافہ منفی علامات کا باعث بنتا ہے جیسے ہر وقت پیاس لگنا، جسمانی وزن میں غیرمتوقع اضافہ، تھکاوٹ اور توجہ مرکوز کرنے مین مشکل۔
اگر بلڈشوگر پر نظر نہ رکھی جائے تو طویل المعیاد بنیادوں پر زیادہ سنگین نتائج کا سامنا ہوتا ہے جیسے اعصاب کو نقصان پہنچنا، بینائی میں تبدیلی اور زخم بھرنے کا عمل سست ہوجانا۔
کچھ شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ کلونجی بلڈشوگر کو مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتی ہے اور اس کے خطرناک اثرات کی روک تھام کرسکتی ہے۔
7 تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں ثابت کیا گیا کہ کلونجی کے سپلیمنٹس خالی پیٹ اور اوسط بلڈ شوگر کی سطح کو بہتر کرسکتے ہیں۔
اسی طرح 94 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی کا 3 ماہ تک روزانہ استعمال خالی پیٹ بلڈ شوگر، اوسط بلڈ شوگر اور انسولین کی مزاحمت کو نمایاں حد تک کم کرسکتا ہے۔
معدے کے السر کی روک تھام
معدے کے السر انتہائی تکلیف دہ زخم ہوتے ہیں اور کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق کلونجی اس سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔
عام طور پر السر کا سامنا ہوسکتا ہے جب معدے میں موجود تیزابیت حفاظتی جھلی کی تہہ کو ختم کردیتی ہے اور زخم بننے لگتے ہیں۔
جانوروں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں کلونجی کو السر سے تحفظ کے لیے موثر قرار دیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے انسانوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
اگرچہ ابھی تک اس کے بیشتر فوائد ٹیسٹ ٹیوب یا جانوروں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں سامنے آئے ہیں اور انسانوں میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے، مگر غذا میں اس کا استعمال یا سپلیمنٹ کی شکل میں استعمال کرنا صحت کو متعدد پہلوؤں سے فائدہ پہنچاسکتا ہے۔(ڈان نیوز)
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
