تازہ ترین
سدرشن ٹی وی معاملہ: فرقہ ورانہ بیانات سے نفرت پھیلا رہا چینل، کئی سابق افسران نے مودی حکومت کو لکھا خط
تنازعہ کی شکل اختیار کر چکے ‘یو پی ایس سی جہاد’ کو لے کر 91 سابق سول سرونٹ کے ایک گروپ نے وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات و نشریات کو خط لکھ کر سدرشن نیوز ٹی وی کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
تنویر:-
سدرشن ٹی وی چینل کے ذریعہ ایک متنازعہ پروگرام کا مسئلہ طول پکڑ چکا ہے۔ ‘جامعہ کے جہادی’ پرومو اور ‘یو پی ایس سی جہاد’ ہیش ٹیگ چلائے جانے کے بعد سدرشن ٹی وی اور اس کے ایڈیٹر اِن چیف چوہان کے خلاف لوگوں کی سخت ناراضگی لگاتار ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔ اس سلسلے میں اب 91 سابق سول سرونٹ کے ایک گروپ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات پرکاش جاوڈیکر کو خط لکھ کر ضروری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ سدرشن نیوز ٹی وی کے خلاف قانونی اور ایڈمنسٹریٹو کارروائی کی جائے کیونکہ اس نے ماحول میں نفرت کا زہر گھولنے کی کوشش کی ہے۔
خط تحریر کرنے والوں کا کہنا ہے کہ سول سروسز میں مسلم افسران کے سازش کے تحت دراندازی یا یو پی ایس سی جہاد اور سول سروسز جہاد جیسے بیانات بیمار ذہنیت کی مثال اور قابل سزا جرم ہے۔ خط میں دستخط کنندگان نے یہ بھی کہا ہے کہ “ایسے فرقہ وارانہ اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نفرت پھیلتی ہے اور پورے طبقہ کی بدنامی ہوتی ہے۔” خط میں وزیر داخلہ، اطلاعات و نشریات کے وزیر، قومی حقوق انسانی کمیشن سربراہ، اقلیتی کمیشن سربراہ، یو پی ایس سی چیئرمین، نیوز براڈکاسٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر اور دہلی کے وزیر اعلیٰ، سکریٹری، وزارت داخلہ سکریٹری، اطلاعات و نشریات کی وزارت اور پولس کمشنر دہلی کو مخاطب کیا گیا ہے۔
سابق سول سرونٹس نے خط میں کہا ہے کہ “ہم اس خط کے ذریعہ سدرشن نیوز ٹی وی چینل کے ایک فرقہ وارانہ الزام، تقسیم کرنے اور سنسنی خیز سیریز کے نشریہ کو لے کر ایک ضروری ایشو اٹھا رہے ہیں۔ یہ سیریز ملک کے دو سب سے باوقار سروسز آئی اے ایس اور آئی پی ایس میں مسلم افسران کی تعداد میں اچانک اضافہ کو لے کر بھرتی کے عمل میں سازش کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔”
دستخط کنندگان نے چینل کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آگے لکھا ہے کہ “اس سلسلے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو منتخب کیا گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ دہلی ہائی کورٹ نے سیریز کے ٹیلی کاسٹ پر عبوری روک لگا دی ہے۔ حالانکہ ہمیں لگتا ہے کہ اسے لے کر مضبوط قانونی اور ایڈمنسٹریٹو کارروائی کی ضرورت ہے۔”
خط میں کہا گیا ہے کہ “یہ الزام لگانا کہ سول سروسز میں مسلم افسران کی سازشاً دراندازی کرنے، یا اس سلسلے میں یو پی ایس سی جہاد یا سول سروس جہاد جیسے لفظوں کا استعمال انتہائی نامناسب ہے۔ ایسے فرقہ وارانہ اور غیر ذمہ دارانہ بیان اور تقریر سے نفرت پھیلنے کے ساتھ پورے طبقہ کی بدنامی ہوتی ہے۔”
دستخط کنندگان نے کہا کہ “اگر اس پروگرام کے نشریہ کی اجازت دی جاتی ہے تو یہ ملک کے سب سے بڑے اقلیتی طبقہ یعنی مسلمانوں کے تئیں بغیر کسی ٹھوس بنیاد کے نفرت پیدا کرے گا۔ ملک میں مسلمانوں کے خلاف کورونا جہاد اور لو جہاد کے الزام سمیت کئی نفرت آمیز باتیں پہلے ہی فضا میں گونج رہی ہیں، جسے مختلف عدالتوں نے بھی غلط مانا ہے۔ یہ ٹیلی کاسٹ اسی آگ کو بڑھانے میں ایندھن کا کام کرے گا۔”
خط میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ سول سروس داخلہ کے لیے اہم ادارہ یو پی ایس سی کی خامی سے پاک نظام کے وقار کو، اس کے داخلہ عمل کے جانبدارانہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے دھومل کرے گا۔ خط میں آگے کہا گیا ہے کہ “یہ سرکاری سروسز میں، خاص کر آئی اے ایس اور آئی پی ایس سروسز کے لیے چنے جانے والے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کے بارے میں غلط سوچ پھیلائے گا۔” خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ “یو پی ایس سی جہاد اور سول سروس جہاد جیسے الفاظ کا استعمال ملک کے شہری انتظامیہ کو مذہب کی بنیاد پر بانٹنے کی ایک کوشش ہے اور پورے ہندوستان کی ترقی کے لیے قائدین کے ذریعہ کیے گئے بہترین تعاون کو نظر انداز کرنے والا ہے۔”
واضح رہے کہ حال ہی میں سدرشن ٹی وی کے اس پروگرام کے تعلق سے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں پروگرام کے نشریہ پر کوئی روک نہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ “ہم دھیان دیں کہ اہل اتھارٹی، قانونی ضابطوں کے تحت قانون کے عمل کو یقینی کرنے کے لیے طاقتوں کے ساتھ موجود ہے، جس میں سماجی خیر سگالی اور سبھی طبقات کے پرامن وجود کو یقینی کرنے کے لیے مجرمانہ قانون کے ضابطے بھی شامل ہیں۔”
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ “اس لیے ہم مرکزی وزارت داخلہ، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر، دہلی کے وزیر اعلیٰ، دہلی پولس کمشنر سے متعلق قانونی ضابطوں کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے کی گزارش کرتے ہیں۔ ہم وزارت اطلاعات و نشریات اور نیوز براڈ کاسٹنگ اسٹینڈرڈس اتھارٹی آف انڈیا سے یہ بھی جانچ کرنے کی گزارش کرتے ہیں کہ وہ یہ شول کیبل ٹیلی ویژن نیٹورک ایکٹ 1994، کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس (ریگولیشن) ایکٹ کے تحت چلنا چاہیے یا نہیں اور اس کے بعد کوڈ آف ایتھکس اور براڈکاسٹنگ اسٹینڈرڈ کے مطابق ان پر کارروائی کریں۔”
اس خط پر دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ، آئی ایف ایس (سبکدوش) اور سابق خارجہ سکریٹری اور سابق قومی سلامتی مشیر شیوشنکر مین،، انڈین ٹیلی مواصلات ریگولیٹری اتھارٹی کے سابق سربراہ راہل کھلر، مدھیہ پردیش حکومت میں کام کر چکے ہرش مندر، سماجی انصاف حقوق محکمہ میں سابق سکریٹری انیتا اگنی ہوتری اور سی بی آئی میں سابق اسپیشل ڈائریکٹر کے. سلیم علی نے دستخط کیے ہیں۔
دیگر دستخط کنندگان میں راجستھان میں سابق چیف سکریٹری صلاح الدین احمد، کابینہ سکریٹریٹ میں سابق اسپیشل سکریٹری آنند ارنی، مدھیہ پردیش میں سابق چیف سکریٹری شرد بیہر، سابق ہیلتھ سکریٹری جاوید چودھری، یونائٹیڈ کنگڈم کے سابق ہائی کمشنر نریشور دیال، وزارت مالیات میں سابق سکریٹری اور چیف معاشی مشیر نتن دیسائی، سابق ہیلتھ سکریٹری کیشو دیسی راج، سابق سکریٹری (خزانہ) اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے سابق ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پی کے لاہڑی بھی شامل ہیں۔
اتنا ہی نہیں، خط پر سبکدوش آئی اے ایس افسر اور سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی، وزارت ثقافت کے سابق سکریٹری اور پرسار بھارتی کے سابق سی ای او جوہر سرکار، انٹر اسٹیٹ کونسل کے سابق سکریٹری امیتابھ پانڈے، گجرات حکومت میں سابق پولس ڈائریکٹر جنرل پی جی جے نامپوتھری، سابق خارجہ سکریٹری اور نیشنل سیکورٹی ایڈوائزری کے سابق چیئرمین شیام سرن اور وزارت مالیات میں سابق سکریٹری نریندر سسودیا کے بھی دستخط ہیں۔(قومی آواز)
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
