تازہ ترین
فکرِمساجد بھی منزل پار ہے صاحب
مصنف:مفتی نظرالاسلام قاسمی الظہیری
حدیث پاک میں جناب نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کل قیامت کے دن میدان محشر میں سارے کے سارے لوگ حیران و پریشان ہونگے نفسا نفسی کا عالم ہوگا اپنی ذات کو لیکر عام اور خاص دونوں حتی کہ انبیاء کرام بھی فکر مند ہونگے سایہ سایہ کی آواز ہونگی اور اس دن خدائے پاک کے سایہ کے علاوہ کسی اور کا سایہ بھی نہیں ہوگا اس ہولناکی کے عالم میں بھی سایہ پانے کے لئے رسولؐ کی ایک حدیث شریف مروی ہے جو کہ امت مسلمہ کے ضمیر کو زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے
ارشاد فرمایا کل قیامت کے دن سوائے اللہ کے سائے کے کسی کا سایہ نہ ہوگا اس ماحول میں سات طرح کے لوگ ایسے بھی ہونگے جن کو اللہ بلا کر سایہ دیگا مضمون کا جو عنوان ہے اس وقت اور زیادہ اظہر من الشمس ہوگا جبکہ میدان محشر کو بھی سامنے لایا جائے اور تحریری شکل میں کچھ نقشہ کھینچا جائے ۔
قیامت کی ابتداء نفخ صور سے ہوگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جناب اسرافیل علیہ السّلام صور اپنی منھ میں دبائے ہوئے اور سر کو جھکائے ہوئے منتظر ہیں جیسے ہی ندائے الہی گونجے گی وہ صور پھونکنا شروع کردیں گے کتب احادیث کے مطابق یہ جمعہ کا دن ہوگا لوگوں کے صبح وشام کے معمولات جنکے جو چلے آرہے ہیں وہ چلتے ہی رہینگے لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہونگے اچانک چاروں سمت ایک آواز کو سنیں گے جو آہستہ آہستہ بڑھ تی ہی جائے گی
آواز کی سختی اور ہولناکی سے جو جہاں ہونگے وہیں گڑ پڑینگے نظام کائنات درھم برھم ہوجائے گا آسمان پھٹ جائے گا سورج چاند ستارے بے نور ہوجائنگے دریاؤں سمندروں میں آگ بھڑک نے لگیں گے اونچے اونچے پہاڑ غبار بن کر اڑنے لگیں گے مخلوقوں کی بستی میں چوں چرا کی بھی آواز نہیں ہونگی فرشتے بھی فنا ہوجائنگے ۔میدان محشر کا عالم یہ ہوگا کہ ننگے پاؤں ننگے بدن ہونگے جسم پگھل رہے ہونگے پسینے پسینے سے لوگ شرابور ہونگے پسینے کا عالم یہ ہوگا کہ کسی کو ٹخنوں تک تو کسی کو پنڈلی تک کسی کو گھٹنوں تک تو کوئی زانؤں تک اور کسی کو ادھا دھر اور کسی کا تو سارا کا سارا جسم ہی لبا لب ہوگا آج سورج کا جو ہماری زمین سے فاصلہ ہے وہ 9/ کروڑ 30 / لاکھ میل ہے اس کے باوجود گرمی کے زمانے میں ننگے پاؤں اور بدن رہنا ایک منٹ بھی بھاری پڑتا ہے اور آج کے مقابلہ میں درجہ حرارت 9/ کروڑ درجہ زیادہ ہوگا ایسے ماحول میں اگر کسی کو سکون مل سکتا ہے اور سایہ نصیب ہوسکتا ہے تو وہ وہ لوگ ہونگے کہ فرمایا رسولؐ نے جس نے اپنے دل مسجد سے معلق کر رکھا ہوگا جس کے دل ودماغ میں دنیاوی فکروں کے ساتھ فکر مساجد بھی پلتے ہونگے ۔۔۔لیکن آج نظام مساجد کو لیکر اتنی بے راہ روی اور ذمداران مساجد کی طرف سے اس قدر لاپرواہی برتی جارہی ہے جو پوری امت کو شرمسار کر دینے کے لئے کافی ہے مسجدوں کے اندرونی معاملات کو لیکر جو کمیٹی تجویز کئے جاتے ہیں وہ تو انانیت کی چادریں اوڑھ کر سوتے ہیں ۔اور متولی کی طرف سے عموماً یہ منظر کم و بیش ہر جگہ نظر آتا ہے کہ کافی آمدنی ہوتے ہوئے بھی مسجد کا نظم خراب سے خراب تر ہورہا ہے نہ مسجد میں صفائی ہے نہ روشنی کا درست انتظام ہے فرش ٹوٹ رہا ہے دیواروں کی خستہ حالت وضو خانہ میں پانی ناپید ہے اور امام و مؤذن وقت کی پابندی سے کام نہیں کرتے مزید یہ اور غضب ہے کہ وقف نامہ کی صراحت کے باوجود امام کا انتخاب مشاہرہ کی وجہ سے نامعقول ہے ایسا امام جو خود مسائل ضروریہ سے واقفیت نہیں رکھتا ہو دوسروں کی رہنمائی کیا کرےگا متولی کو اس بات پر کامل یقین رکھنا چاہئے کہ کل اس کو مرنا ہے افسوسناک بات تو یہ کہ وقف کی آمدنی کا نہ کوئی حساب کتاب ہے نہ اخراجات کے اصول و ضوابط پیسے کو بیجا استعمال کرنے کو فخر سمجھتے ہیں اس لئے متولی حضرات کو اپنے کا ر کو حسن وخوبی کے ساتھ انجام دینا چاہئے یا پھر اس سے علیحدہ ہونا چاہئے
آج اس وقت نظام مساجد کو بھی درست کرنے کی ضرورت ہے اور لوگوں کے ذہن میں مساجد کی جو فضیلت و اہمیت ہونی چاہیئے وہ کچھ کی ہی حد تک محدود ہے مساجد تو امت مسلمہ کا مرکز ہے اور مسجدوں ہی کے نظام درھم برھم ہوجائنگے تو پھر امت کا کیا ہوگا بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں دو دو تین تین مسجدیں ہیں اور جن مسجد میں جمعہ کی نماز نہیں ادا کی جاتی جگہ نہ ہونے کی بناء پر ان مسجدوں کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ امام و مؤذن بھی نہیں مساجد سے نکلنے والی آوازیں اور تحریریں امت کے لئے آب حیات کے مانند ہونا چاہئے تھا لیکن بڑا افسوس ہوتا ہے ایسے لوگوں پر جو ان سب چیزوں سے ناآشنا ہوتے ہیں
کچھ روز قبل بذریعہ ٹیلفون ایک مخلص دوست سے باتیں ہورہی تھی دوران گفتگو انہوں نے بتایا کہ چند روز قبل گھر آنا ہوا تھا چھٹی گذار کر جس جگہ امامت کے فرائض کو انجام دے رہاتھا جب وہاں جانا ہوا تو کمیٹی کے لوگوں نے کہا کہ آپ اخباروں میں آتے ہیں اور موجود دہ دور کو لیکر خیالات کا اظہار کرتے ہیں آپ کو صحافت چھوڑ نی ہوگی ہم کمیٹی کے لوگوں پر خطرہ ہے انکار کی صورت میں آئندہ نہ رکھنے کا فیصلہ کرلیا افسوس ان کمیٹیوں پر جو اپنے اندر ایسی ذہنیت کو پلنے دیے تے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ذمداران مساجد اس طرح کی ذہنیت کو ختم کریں اور امت کے رہبر و رہنما اپنی تقاریروں میں فضائل مساجد کو بھی شامل کریں ۔۔
مفتی نظرالاسلام قاسمی الظہیری۔۔خادم مدرسہ نورالعلوم موریٹھا ۔دربھنگہ ۔۔9608720882
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
