تازہ ترین
یو اے ای کے نقش قدم پر بحرین: اسرائیل کے ساتھ تاریخی ’امن معاہدے‘ کا اعلان
خبراردو:-
سرینگر:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور بحرین کے درمیان امن معاہدے کا اعلان کردیا ہے اور بحرین نے متحدہ عرب امارات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
کے این ایس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق امریکی صدر نے اسے تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور بحرین صحیح معنوں میں سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کر رہے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی’اے ایف پی‘کے مطابق انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سفارتخانوں اور سفارتکاروں کا تبادلہ کریں گے، دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کا آغاز ہو گا اور تعلیم، صحت، کاروبار، ٹیکنالوجی، سیکیورٹی اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا آغاز کریں گے۔بحرین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انہوں نے آئندہ منگل کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں اسرائیل سے باضابطہ طور پر تعلقات کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے جہاں متحدہ عرب امارات بھی اسی تقریب میں اپنے معاہدے پر دستخط کرے گا۔
بیان کے مطابق بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اس نئی پیشرفت کے اعلان سے قبل جمعہ کو بات کی تھی۔بحرین نے کہا کہ فون کال کے دوران بادشاہ نے دو ریاستی حل اور بین الاقوامی قراردادوں کے تحت اسٹریٹیجک آپشن کے طور پر وسیع تر امن تک رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔بحرین کے دارالحکومت ماناما میں ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ اس معاہدے سے سیکیورٹی، امن، خوشحالی اور استحکام میں اضافہ ہوگا۔
اسرائیل نے اس سے قبل اس طرح کے محض دو امن معاہدے کیے ہیں جس میں سے ایک1979 میں مصر اور1994 میں اردن کیا گیا تھا اور ٹرمپ کو امید ہے کہ یہ سفارتی کامیابی 3نومبر کو ہونے والیامریکی صدارتی انتخاب میں ان کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔
وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ نے جشن مناتے ہوئے اس پیشرفت کو ناصرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا کے لیے انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ انتہائی دلچسپ ہے کہ وہ امریکا میں 11 ستمبر2001 کو کیے گئے حملوں کی برسی کے موقع پر یہ اعلان کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب میں صدر بنا تھا تو اس وقت مشرق وسطیٰ عجیب افراتفری کا شکار تھا۔دوسری جانب اسرائیل میں وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا۔
انہوں نے ہیبرو میں اپنے پیغام میں کہا کہ میں اسرائیل کے شہریوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس شام ہم ایک اور عرب ریاست سے امن معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات سے پہلے ہونے والے امن معاہدے کی روشنی میں تاریخی امن کا موجب بنے گا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ میں اسٹریٹیجک کمیونیکیشنز کی ڈائریکٹر ہند العتیبہ نے بحرین اور اسرائیل کو مبارکباد کے پیغامات بھیجے اور کہا کہ آج ایک اہم اور تاریخی کامیابی کا دن ہے اور یہ اقدام خطے میں بے پناہ استحکام اور خوشحالی کا سبب بنے گا۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید عرب ریاستیں بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کریں گی اور اسرائیل کے لیے اپنے دروازے کھولیں گی۔ریپبلیکن صدر نے دعویٰ کیا کہ وہ امریکی تاریخ میں اسرائیل کے سب سے زیادہ حمایت کرنے والے صدر ہیں اور ان کا یہ دعویٰ غلط بھی نہیں محسوس ہوتا کیونکہ انہوں نے کئی ایسے فیصلے کیے جو اسرائیل کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوئے جس میں سب سے اہم متنازع یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا تھا۔
اپنی علیحدہ ریاست کے حصول کے لیے عربوں کی حمایت کو انتہائی اہم تصور کرنے والے فلسطینیوں نے بحرین اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اس کی بھرپور مذمت کی۔فلسطین کے وزیر برائے سماجی امور احمد مجدلانی نے کہا کہ یہ معاہدہ فلسطین کے مقاصد اور فلسطینی عوام کی پیٹھ میں خنجر کی مانند ہے جبکہ حماس نے بھی اس اقدام کو جارحیت قرار دیا ہے۔بحرین گزشتہ ایک ماہ کے دوران اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کرنے والی دوسری عرب ریاست ہے جہاں اس سے قبل متحدہ عرب امارات نے گزشتہ ماہ یہ اعلان کیا تھا۔
بحرین کے اسرائیل سے1990 کی دہائی سے تعلقات ہیں اور وہ پہلا خلیجی ملک تھا جس نے متحدہ عرب امارات کے اقدام کا خیر مقدم کیا تھا اور توقع یہی کی جا رہی تھی کہ ہ وہ امارات کے اس اقدام کی پیروی کرنے والا پہلا ملک بن جائے گا۔دیگر خلیجی ممالک کی طرح ایران، بحرین اور اسرائیل کا مشترکہ دشمن ہے، بحرین نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بحرین کے سنی حکمران الخلیفہ خاندان کے خلاف ملک کی اہل تشیع برادری کو احتجاج کے لیے اکسا رہا ہے۔
البتہ یہ ممکن نہیں کہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کا فیصلہ بحرین نے ازخود اور سعودی عرب کی رضامندی کے بغیر کیا ہو گا کیونکہ ان کے سعودی عرب سے قریبی تعلقات ہیں اور ان کے آشیرباد کے بغیر بحرین کا یہ اقدام ناممکن محسوس ہوتا ہے۔گزشتہ ماہ سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کے اقدام کی پیروی نہ کرنے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں کر سکتے جب تک صہیونی ریاست فلسطین کے ساتھ بین الاقوامی امن معاہدے پر دستخط نہیں کر دیتی۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جرمنی کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے فلسطینیوں کے ساتھ بین الاقوامی معاہدہ شرط ہے کیونکہ فلسطینیوں کو امن میسر آنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ ایسا ہو گیا تو کچھ بھی ممکن ہے۔
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
سری نگر، کشمیر کے نو تعینات انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سجیت کمار نے جمعہ کے روز کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں پولیس کی اولین ترجیح برقرار رہیں گی۔
سجیت کمار نے جمعرات کو کشمیر کے آئی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں پولیس کی پہلی ترجیح تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کے پیش نظر سری نگر کے حضرت بل درگاہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حالیہ دنوں وادی میں عسکریت پسندوں کے معاونین (او جی ڈبلیوز) کی گرفتاریوں اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے دوران برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ’’کارروائیاں ہماری پہلی ترجیح تھیں اور اب بھی ہماری ترجیح ہیں۔‘‘
آئی جی پی نے کہا کہ عید میلاد کے موقع پر جمعہ کے دن بڑے اجتماعات کے پیش نظر پولیس کی توجہ نمازوں کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بڑے اجتماعات کے مؤثر انتظام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس ٹیموں اور دیگر سکیورٹی و سول ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سجیت کمار نے کہا کہ سری نگر کے دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ زونل پولیس ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں عوام سے پولیس کا تعاون کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
