تازہ ترین
اْردوصحافت سے وابستہ صحافیوں کا جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوناوقت کی ضرورت
اصل حقائق پرمبنی نامہ نگاری ہی سچی صحافت
ڈاک بنگلہ سمبل میں منعقدہ تربیتی ورکشاپ سے ریاض مسرورسمیت سینئرصحافیوں کاخطاب
سرینگر:’دورِ جدید میں صحافت کے بدلتے تقاضے‘عنوان کے تحت ڈاک بنگلہ سمبل بانڈی پورہ میں اتوارکویک روز تربیتی ورکشاپ منعقد ہوا،جس کااہتمام انجمن اْردوصحافت جموں وکشمیر اوربانڈی پورہ ورکنگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے باہمی اشتراک سے کیاتھا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق صبح ساڑھے10شروع ہوئے اس تربیتی ورکشاپ میں بانڈی پورہ اورگاندربل سے تعلق رکھنے والے تقریباً30سے زیادہ صحافیوں،نامہ نگاروں اورپرنٹ والیکٹرانک میڈیاسے وابستہ دیگرافرادنے شرکت کی جبکہ میزبان کی حیثیت سے بانڈی پورہ ورکنگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے ذمہ داروں نے یہاں سارے انتظامات کئے۔
انجمن اْردوصحافت جموں وکشمیر کاایک اعلیٰ سطحی وفد اس تربیتی ورکشاپ میں معاون مہتمم کے بطورشامل ہوا۔افتتاحی تقریب کے فوراًبعدپہلی نشست میں ’دیہی نامہ نگاری،تقاضے مسائل اور حل‘کے موضوع سینئرصحافی اور بی بی سی اردو کے بیورو چیف برائے جموں وکشمیر ریاض مسرور نے اپنے تجربات اور مشاہدات کے مطابق مفصل روشنی ڈالی۔انہوں نے واضح کیاکہ نامہ نگاری کودیہی یاشہری بنیاد پرتقسیم کرناٹھیک نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ خبر زیادہ ترمضافاتی علاقوں سے ہی نکل کرآتی ہے۔انہوں نے اپنے تجربات اورمشاہدات کی روشنی میں کہاکہ ایک نامہ نگارکیلئے کسی خاص ڈگری یاسندکی اتنی ضرورت نہیں،جتنی اسبات کی کہ ایک نامہ نگارکسی علاقہ میں پیش آئے کسی حادثے یاواقعے کواصل حقائق کیساتھ رپورٹ کرے۔ریاض مسرورکاکہناتھاکہ یہ کہنادرست نہیں کہ اْردوزبان کوکوئی خطرہ لاحق ہے،یاکہ اْردوصحافت زوال پذیر ہے۔
اس حوالے سے انہوں نے ملکی اوربین الااقوامی سطح کے کچھ اداروں کی تجزیاتی یاسروے رپورٹس کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اب بھی اْردوبہت سارے ممالک میں پڑھی،بولی اورلکھی جاتی ہے۔
کشمیر میں اْڑدوصحافت کے ماضی اورحال کے تناظرمیں مستقبل کاذکر کرتے ہوئے سینئرومعروف صحافی ریاض مسرورکاکہناتھاکہ اْردوصحافت سے وابستہ صحافیوں کاعصرحاضر کے تقاضوں سیہم آہنگ ہونالازمی بن گیاہے۔انہوں نے کہاکہ آج سوشل میڈیاکادورہے،کوئی حادثہ یاواقعہ پیش آتے ہی اس کوشیئرکیاجاتاہے۔تاہم انہوں نے کہاکہ خبرتب تک نامکمل رہتی ہے،جب تک اس سے جڑے سبھی معاملات اورحقائق کورپورٹ نہ کیاجائے۔
ریاض مسرورنے انجمن اْردوصحافت کے رول اورمشن کواہم قراردیتے ہوئے کہاکہ اْردوصحافت کوجدیدتقاضوں اوربنیاد اصولوں سے روشناس ہوناپڑے گا،اوراس ضمن میں تربیتی ورکشاپ کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ کوئی صحافی یانامہ نگارچاہئے کتنے برسوں سے میدان عمل میں سرگرم کیوں نہ ہو،اْس میں سیکھنے کاجذبہ ہوناچاہئے،تاکہ وہ خودکودورجدیدیاعصرحاضر کے نئے تقاضوں سے آراستہ رکھ سکے۔
ورکشاپ میں شامل سبھی صحافیوں اورنامہ نگاروں کوتازہ دم رکھتے ہوئے معروف مزاحیہ شاعر وفن کار تاثیرافضل نے اپنے منفرداندازمیں کشمیری زبان میں اپنامزاحیہ اورطنزیہ کلام پیش کیا،جس سے حاضرین کافی محظوظ ہوئے۔دوسری نشست میں ایک اورسینئرصحافی ہارون رشید نے ’صحافت کے ماعصرتقاضے‘عنوان کے تحت اپنے تجربات اورمشاہدا ت بیان کئے۔انہوں نے کہاکہ اْردوصحافت کوکوئی خطرہ لاحق نہیں ہے لیکن ہم سب کونئی چیزوں،نئی تیکنیک اورنئے تقاضوں کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے رہناپڑے گا۔
ہارون ریشی کاکہناتھاکہ ہرصحافی کی اپنی اہمیت ہوتی ہے،لیکن صحافت کے میدان میں ڈٹے رہناآسان نہیں۔انہوں نے کہاکہ ایک صحافی یانامہ نگارچاہئے کسی بھی زبان میں لکھے،اْس کواْس زبان پراتنی حدتک عبورہوناچاہئے کہ وہ اپنی تحریریابات قارئین اورناظرین تک آسان لفظوں میں پہنچاسکے۔
وقفہ ظہرانہ کے بعدتیسری نشست میں وادی کے ایک سینئر صحافی منوہر لال گامی نے ’خبر نگاری کا صحافتی اسلوب‘ کے موضوع پر شرکائے ورکشاپ کو اپنے تجربات اور مشاہدات سے مستفید کیا جبکہ ’ملٹی میڈیا کی اہمیت اور تقاضے‘ کے موضوع پربراڈ کاسٹ جرنلسٹ سید تجمل الاسلام نے روشنی ڈالی۔
دو نشستوں اور چار الگ الگ موضوعات پرمشتمل پر ورکشاپ کے دوران زاہد مشاق،اظہر رفیقی،زبیر قریشی اور شوکت ساحل نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ورکشاپ کی نظامت کے فرائض انجمن کے سینئررْکن وصدارتی مشیر ناظم نذیر نے انجام دیئے جبکہ انجمن کے ترجمان اعلیٰ زاہد مشتاق نے انجمن اْردو صحافت جموں وکشمیرکاتعارف دیااورانجمن کے اغراض ومقاصد بیان کئے۔ انجمن اردو صحافت کے صدر ریاض ملک نے صدارتی خطبہ دیا جبکہ بانڈی پورہ ورکنگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ساجد رسول نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔
انجمن اردو صحافت کے صوبائی صدر کشمیربلال برقانی نے تحریک شکرانہ پیش کی۔ورکشاپ کو منعقد کرنے میں انجمن اردو صحافت کے جنرل سیکریٹری امتیاز احمد خان، آر گنائز فردوس رحمان اورسوشل میڈیاانچارج شوکت ساحل نے کلیدی کردار ادا کیا۔
انجمن کے رْکن بلال مولوی اور بانڈی پورہ ورکنگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے خصوصی نمائندے نذیر ساحل نے شرکائے ورکشاپ کی رجسٹریشن خدمات انجام دیں۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکائے ورکشاپ میں توصیفی اسناد تقسیم کی گئیں۔
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
سری نگر، کشمیر کے نو تعینات انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سجیت کمار نے جمعہ کے روز کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں پولیس کی اولین ترجیح برقرار رہیں گی۔
سجیت کمار نے جمعرات کو کشمیر کے آئی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں پولیس کی پہلی ترجیح تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کے پیش نظر سری نگر کے حضرت بل درگاہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حالیہ دنوں وادی میں عسکریت پسندوں کے معاونین (او جی ڈبلیوز) کی گرفتاریوں اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے دوران برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ’’کارروائیاں ہماری پہلی ترجیح تھیں اور اب بھی ہماری ترجیح ہیں۔‘‘
آئی جی پی نے کہا کہ عید میلاد کے موقع پر جمعہ کے دن بڑے اجتماعات کے پیش نظر پولیس کی توجہ نمازوں کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بڑے اجتماعات کے مؤثر انتظام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس ٹیموں اور دیگر سکیورٹی و سول ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سجیت کمار نے کہا کہ سری نگر کے دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ زونل پولیس ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں عوام سے پولیس کا تعاون کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
