تازہ ترین
ہم ختم رسل کے پروانے

مصنف: الطاف جمیل
ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسا عقیدہ ہے جس کے بارے میں امت میں کوئی تضاد نہیں کوئی تفریق نہیں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جسکے بارے میں امت مسلمہ جسے دنیا میں ہزاروں افتراق انتشار کے مسائل میں الجھایا گیا ہے پر ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ اب بھی پوری یکسوئی اور پورے عظم کے ساتھ کھڑی ہے اس میں کوئی سمجھوتہ ہی نہیں کوئی تفریق ہی نہیں بلکہ اس کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے اس عقیدے سے ہلکا سا بھی چھیڑو تو تڑپ اٹھے گا دل پوری امت مسلمہ کا اجتماعی عقیدہ احادیث کی روشنی میں جو اس نے اختیار کیا ہے کہ ہماری آنکھوں کا نور دل کا سکون ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا انا خاتم النبی اور امت نے عقیدہ دل میں بسا لیا دلیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے
ختم نبوت کے منکر کو بلکہ امت مسلمہ کا اس مسئلہ میں شرح صدر ہے اور لافانی عقیدہ بھی کہ مر جائیں گے مگر ایمان کا سودا نہ کریں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ میرے بعد جو نبوت کا دعوی کریں گئے وہ کذاب ہیں اب کب کس نے کیا ہے یہ الگ بات ہے پر سب سے اول جب مسلمہ کذاب نے دعوی کیا تو اصحاب نبوی علیہ السلام نے اس ملعون کو اپنے نیزوں کی نوک پر رکھ لیا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی نے مدینہ منورہ کے تحفظ کے بجائے اس ملعون کو سزا دینا ضروری مانا وہ حفاظ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کو مچلتے رہے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوتے رہے جب بھی ایسا ہوا کہ کوئی ملعون کھڑا ہوگیا تو امت مسلمہ نے اس کی خبر لی اور آج تک یہ عقیدہ اپنی اصل ہیئت پر موجود ہے جس میں ذرا کو بھی چھیڑو تو دنیا میں امت مسلمہ ایک جان ہوکر تڑپ جاتی ہے
ایسا کیا ہے اس میں
یہ بات بہت کم لوگوں کی سمجھ میں آئے گی کہ ایک ایسی قوم جسے خاک و خون میں ملایا جارہا ہے جس کی بقائے دوام کا مسئلہ دم توڑ رہا ہے جس کے مقدس مقامات مٹی میں ملایئے جارہئے ہیں جس کی عزت و احترام کو دھول میں ملایا جارہا ہے جس کے وقار کو ہر لمحہ مجروح کیا جارہا ہے جس کی دنیا میں اب کوئی خاص طاقت بھی نہیں رہی ہے جو خاموشی سے اپنے اوپر ہورہے مظالم سہہ رہی ہے جو اپنی دنیا کے اجڑنے پر سوائے آنسوؤں بہانے کے کچھ کرنے سے قاصر ہے جو اب کچھ اس انداز سے جی رہی ہے کہ لگتا ہے آخری سانسیں لے رہی ہے جس کا انگ انگ رس رہا ہے اور اسے کوئی قوت بھی اس مدہوشی کے عالم سے نہیں جنجھوڑ پاتی لگتا ہے یہ مر گئی ہے اب اس میں کوئی جان نہیں یہ مردہ جسم کی مانند ہوچکی ہے اب جیسے چاہئیں اسے مسل سکتے ہیں یہ تر نوالہ بن چکی ہے مگر عقیدہ ختم نبوت کو چھیڑو تو تڑپ اٹھتی ہے اور پوری قوت سے ایمانی حمیت و غیرت سے اٹھ جاتی ہے اور سینہ تان کر کھڑی ہوجاتی ہے یہ جان آتی کہاں سے ہے کوئی نہیں سمجھ سکتا تو سنو یہ صرف امت کا عقیدہ نہیں ہے بلکہ یہ محبت کا تعلق ہے تسکین قلب و جگر کا تعلق ہے یہ ایسا تعلق ہے کہ امت مسلمہ جسے دنیا کا ہر ذی جاہ و جلال روند رہا ہے جس کے جنازوں کا شمار نہیں جس پر ٹوڑے جارہے مصائب کی انتہا نہیں پر یہ خاموشی اختیار کئے ہوئے تک رہا ہے تحمل بردباری پاکیزگی کی مثال پیش کئے جارہا ہے پر جوں ہی ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات آئی ناموس رسالت کے سلسلے میں گستاخی سنی تو بپھرے ہوئے شیر کی طرح دھاڑتا ہے اپنی جان اپنے اسباب اپنی اولاد کسی کی فکر نہیں کرتا یہ تعلق جاننا ہو تو عقل کو چھوڑئے چلے صدیق اکبر کی صداقت فاروق اعظم کا جلال و کمال عثمان کی سخاوت علی کی شجاعت حسین کی شہادت بلال کی استقامت اصحاب نبوی کی قربانیاں یہ سب تاریخ کے پنوں میں ملے گا خاتمہ نہیں ہوا آگئے چل کر بھی امت بانجھ نہیں ہوئی نہ بخل کیا ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے پروانے فراہم کرنے میں یہ ایسی سعادت ہے جہاں والدین اپنے لخت جگر کو بن سنور کر جانے کو کہتی ہیں تو آئے دنیا کے فاجرو سنو کسی گنہگار سے گنہگار مسلمہ کو روضہ اطہر پر کھڑا کردو نظر پڑتے ہی اس کی نگاہیں نیچے جھک کر اپنا بچا کچا پانی قربان کردیں گئیں یہ تعلق دل کا ہے ایمان کا ہے عقیدہ کا ہے بڑے سے بڑے لیڈر کو اٹھاؤ بڑے سے بڑے مزہبی پیشوا کو لاؤ بس کچھ لوگ دکھا دو جو ان کے نام پر خود کو قربان کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو کہنا
آئے اہل دنیا تم نے کیا خاک سمجھا ہے اس آتش دل کو جو مسلسل اپنے ہونے کا احساس دلا رہی ہے کہ چنگاری اب بھی باقی ہے جو کافی ہے گستاخوں کے جرمن کو بھسم کرنے کے لئے یہاں جان قربان بھی کی جاتی ہے اور اس اسم منورہ پر کوئی ملعون زبان دراز کرے تو کھینچ بھی لی جاتی ہے کوئی عالم نہیں فقیہ نہیں محدث نہیں صاحب علم و عرفان نہیں کسی ایسے مسلم کو دیکھ لیں جو انتہا کا گنہگار لگتا ہو جس کا ہر پل چرس افین کی نظر ہورہا ہو اس کو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر چھیڑ کے دیکھ لو اپنے حواس کس قدر تیزی سے مجتمع کرکے جھپٹ پڑے گا
اور دنیا دیکھتی ہی رہ جائے گئی
کیوں کر امت یہ سوچتی ہے
تو سوچو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب چھوٹی چھوٹی باتوں سے مطلع کیا تو کیا اس قدر حساس اور ضروری معاملہ میں رہنمائی نہیں فرماتے کیوں نہیں انہوں نے کی ہے اور امت اس عقیدے کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتی ہے
امت کا مجموعی عقیدہ
نبی کر یمﷺ اپنی امت کو خلفائے راشدین کے اقتداء کا حکم فرماتے ہیں ،ائمہ دین اور امراء کی اطاعت کی تعلیم دیتے ہیں؛ بلکہ ایک حبشی غلام کی بھی (جب کہ وہ امیر بن جائے )اطاعت امت پر واجب قرار دیتے ہیں ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور عمار بن یاسرؓ کی اقتداء کی دعوت دیتے ہیں ، حضرت زبیرؓ ، ابو عبیدۃ بن الجراح، معاذ بن جبلؓ عبداللہ بن عباس ؓ وغیرہ صحابہ کرامؓ کے نام لے لے کر انہیں واجب التکریم اور قابل اقتداء فرماتے ہیں، اویس قرنی کے آنے کی خبر اور ان سے استغفار کرانے کی تعلیم دیتے ہیں، مجددینِ امت کا ہر صدی پر آنا، ابدال کا ملک شام میں پیدا ہونا، اور اُن کا مستجاب الدعوات ہونا وغیرہ وغیرہ مفصل بیان فرماتے ہیں۔
لیکن ایک حدیث میں بھی یہ بیان نہیں فرماتے کہ ہمارے بعد فلاں نبی پیدا ہوگا، تم اس پر ایمان لانا اور اس کی اطاعت کرنا۔
اگر پہلو میں دل اور دل میں ایمان یا انصاف کا کوئی ذرہ بھی ہے تو تمام احادیثِ سابقہ کو چھوڑ کر صرف یہی احادیث ایک انسان کو اس پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہیں کہ آپﷺ کے بعد تا قیامت کسی قسم کا کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔
یہ دو سو دس احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن میں آںحضرتﷺ نے ختمِ نبوت کا قطعی اعلان فرماکر ہر قسم کی تاویل اورتخصیص کا راستہ بند کردیا ہے۔
جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سُنے۔ إن في ذلک لَعِبْرۃً لِمَنْ کان لہ قلبٌ أو القیٰ السمعَ وھو شھید۔ (ختم نبوت : ص۲۹۵ تا ۲۹۶)
اسی لیے علامہ انورشاہ کشمیری نوراللہ مرقدہٗ فرماتے ہیں:
’’ختم نبوت کا مسئلہ شریعت محمدی میں متواتر ہے، قرآن و حدیث سے اجماع بالفعل سے اور یہ پہلا اجماع ہر وقت اور ہر زمانہ میں حکومت اسلامی نے اس شخص کو جس نے دعوئ نبوت کیا، سزائے موت دی ہے، ایک شاعر کو صلاح الدین ایوبیؒ نے بہ فتویٰ علماء دین، ایک شعر کہنے پر قتل کرادیا تھا ۔
کان مبدأ ھذا الدینِ من رَجُلٍ سَعٰی فأصبحَ یُدْعیٰ سیدُ الأُممٖ
(صبح الأعشی: ۳۰۵، ۱۳۹)
اس شعر سے اس شخص نے نبوت کو کسبی قرار دیا کہ نبوت ریاضتوں سے حاصل ہوسکتی ہے، اس لیے اسے قتل کروادیا۔ (احتساب قادیانیت: ج۴/ص۴۲)
اس سے آپ اندازہ لگایے کہ مسئلہ ختم نبوت کتنا حساس مسئلہ ہے۔
علامہ کشمیری قدس اللہ سرہٗ ’’ماکان محمد‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’نبی کریمﷺ اشخاص نبوت کے بھی خاتم ہیں، اور آپﷺ کے تشریف لانے کے بعد نبوت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے
ہمارا ماننا ہے کہ ہمارے لئے کائنات میں جو قابل فخر قابل عقیدت زات ہے وہ بس اللہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یہ عقیدے لامثال بھی ہے لافانی بھی ان جیسا نہ کائنات نے دیکھا نہ دیکھئے گی
مسخرہ پن چھوڑے حقائق تسلیم کیجئے
آج کل مادیت کے اس دور میں جہاں نفرت عناد تعصب ہی سب کچھ مانا جارہا ہے جہاں تہذیب کے نام پر تہذیب کا جنازہ اور حیا کے نام پر ردائے عفت امن کے نام پر قتل و غارت کی جاتی ہے جب شرافت پاکیزگئی کو قدیم تہذیب بتا کر ہوس کو تہذیب و تمدن بتایا جارہا ہے جہاں انسانیت انسانوں کے ہاں سسک رہی ہے جہاں قانون و سسٹم کے نام پر دلالی کی جاتی ہے ایسے میں کہیں کسی مسلمان سے کوئی خطا سرزد ہوئی اس نے ملکی قانون کے احترام کرنے کے بجائے خود ہی کوئی حرکت کی کسی گستاخ پر حملہ کیا دوسری طرف اسلامی علوم کے ماہرین نے اس چیز کی مذمت کی کہ ملکی قوانین کو مسمار کرنا صحیح نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی گنجائش ہے اسلام میں کیونکہ اسلام جزباتی قسم کے جنون کا خواہاں نہیں اور نہ ہی کسی قسم کے تشدد کا قائل مگر کیا قوانین میں اسلام کے احترام کے لئے کوئی گنجائش نہیں یا اسلامی شعائر پر حملہ کوئی جرم نہیں ہے یا اسلام پسندوں کا دل نہیں یا ان کے وجود کی کسی ملک کو فکر نہیں کیوں پھر کسی مسلمان کی طرف سے کئے گئے جزباتی عمل پر ہی یہ سب آسمان سر پر اٹھانے والے مینڈک ٹپک پڑتے ہیں جبکہ کوئی اور کتنا بھی اخلاقیات سے عاری کام انجام دے یہ گندے مینڈک اچھل کود نہیں کرتے بس اسلام کے ماننے والوں سے انہیں دماغی مرض ہوتا ہے ہلکا سا کوئی معاملہ ہوا یہ اپنی زبان سے رال ٹپکانے نکل پڑتے ہیں اور اپنے دماغ میں بسی نحوست انڈیل دی آئے دنیا والو ہم اپنا حق مانگتے ہیں کوئی بھیک نہیں تو اگر ہم سے خائف ہی ہو تو پھر ہمارے معاملات میں بھی تم اپنی حاضری نہ لگاؤ ہمیں کسی کی حاجت نہیں یا تو برابری کی بات کرو یا خاموش تماشائی بن کر رہو
پچھلے کچھ سالوں میں کوئی کہیں مجمع سے اٹھا اور کسی حکمران کو جوتا دے مارا تو قانونی کارندے فوری حرکت میں آئے
اس کی مشکیں کس لیں اسے جیل ہوئی اس سے سزا ہوئی حتی کہ ہاتھا پائی کے دوران گر ایسا کوئی جوتا مارنے والا مر جائے تو اس کی سزا کسی کو نہیں دی جاتی کیونکہ یہ ملکی مفادات کے خلاف مانا جاتا ہے امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہوا تو افغاستان کو قبرستان بنایا گیا کسی مسلمان نے کسی جگہ پر حملہ کیا تو دہشت گرد بنا کر اسے پھانسی دی گئی اسے قتل کیا گیا پاکستان میں بھی کئی بار ایسا ہوا کہ کسی کو دھشت گرد بتا کر ملکی مفادات کے تحفظ کے لئے پھانسی دی گئی اور ایسے معاملات کو جلد جلد نپٹایا گیا مسلمان جو دنیا میں دوسری بڑی اکثریت ہے کیا انہیں یہ حق نہیں کہ وہ اپنے عقیدے کے تحفظ کے لئے کوشاں رہیں
تو دوہرا معیار کیوں کیا امت مسلمہ کے اس پاک عقیدے کے تحفظ کے لئے قانون نہیں یا ان کے عقیدے کی اہمیت نہیں کیا دنیا کا کوئی مہذب معاشرہ ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے کہ کسی طبقہ کے جذبات کو ہر بار مجروح کیا جاتا رہے کوئی بھنگی کوئی بدترین انسان اٹھے اور مخالف فکر یا مذہب کی ذی عزت شخصیات پر بکنا شروع کرے کوئی گلی کا غنڈہ جب چاہتا ہے تب آنحصور صلی اللہ علیہ وسلم پر تبصرہ کرتا ہے تو کیوں تم خاموشی کا روزہ رکھ لیتے ہو یہ کسی بھی مہذب قوم کو زیب نہیں دیتا کہ مذہبی تشخص بگھاڑنے کے لئے کسی بھی مذہبی پیشوا کی تذلیل و تحقیر کرے اور یہاں صرف مذہبی پیشوا ہی نہیں بلکہ یہ ایمان و عقیدے کی بات ہے اسی لئے امت مسلمہ نے ہمیشہ ایسے غلیظوں کو جوتے کی نوک پر رکھا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ امت مسلمہ کو گرچہ دہشت گرد بنا کر پیش کیا جاتا ہے پر جس قدر احترام انسانیت اور قتل نا حق کی برائی اسلام کرتا ہے کوئی اور مذہب اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا
ہم کل بھی اجتماعی طور پر ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ و نگہبان تھے ہم تا قیامت اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے رہیں گئے دنیا چاہئے کچھ بھی کہئے ہم کہتے رہیں گے کہ ہم ختم نبوت کے پروانے دنیا کو دکھا کر دم لیں گئے
ہمارا نعرہ ہے احترام دو گئے تو احترام کیا جائے گا جو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرے گا اسے ذلیل کیا جائے گا اسے رسوا کیا جائے گا
آئے ختم نبوت کے پروانو سلام تم پر
آئے ختم نبوت کے شاہینو سلام تم پر
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
