تازہ ترین
بھارت۔ چین کشیدگی:’بھارت بڑے اور سخت اقدامات اٹھانے کے لیے تیار‘:راج ناتھ سنگھ
خبراردو:-
سرینگر:وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مشرقی لداخ میں سرحد پر چین کے ساتھ کشیدگی کے بارے میں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں ایک سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مفاد میں چاہے کتنے بھی بڑے یا سخت اقدامات اٹھانے پڑیں بھارت پیچھے نہیں ہٹے گا۔کے این ایس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’بھارت نہ تو اپنے سر کو جھکنے دے گا اور نہ ہی کسی کا سر جھکانا چاہتا ہے۔‘
وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت ہر قسم کا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے اور فوج بھی پوری طرح تیار ہے۔ انھوں نے کہا ’ہمارے فوجیوں کے حوصلے بلند ہیں۔‘ان کا کہنا تھا ’یہ سچ ہے کہ لداخ میں ہمیں ایک چیلنج کا سامنا ہے، لیکن ہمیں اس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم اپنے ملک کا سر نہیں جھکنے دیں گے۔ ہمارے جوان چینی فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہیں اور ان کی اس حوصلہ افزائی کے لیے ایوان کی طرف سے پیغام دیا جانا چاہیے۔‘
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت کا خیال ہے کہ باہمی تعلقات استوار ہو سکتے ہیں اور ساتھ ہی سرحدی مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔وزیر دفاع نے کہا ’ہم یہ دونوں کام کر سکتے ہیں۔ لیکن ایل اے سی پر امن کی کسی بھی سنگین صورتحال کا دو طرفہ تعلقات پر یقینی طور پر اثر پڑے گا۔ دونوں فریق کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے۔‘
موجودہ صورتحال پر وزیر دفاع نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ سنہ1993 اور سنہ1996 کے معاہدے میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کم از کم ایل اے سی کے پاس اپنی افواج کی تعداد کم سے کم رکھیں گے۔انھوں نے بتایا کہ معاہدے میں یہ بھی ہے کہ جب تک سرحدی تنازع کو مکمل طور پر حل نہیں کیا جاتا تب تک ایل اے سی کا سختی سے احترام کیا جائے گا اور کسی بھی صورت میں اس کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔
انھوں نے وضاحت کی کہ ’اس کی بنیاد پر سنہ1990 سے سنہ2003 تک دونوں ممالک نے ایل اے سی کے بارے میں مشترکہ تفہیم پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے بعد چین اس اقدام کو مزید آگے بڑھانے پر راضی نہیں ہوا۔ اس کی وجہ سے چین اور بھارت کے درمیان بہت سی جگہوں پر ایل اے سی کے خیال پر مسلسل اوورلیپ رہتا ہے۔‘وزیر دفاع نے کہا کہ اپریل کے مہینے سے چین نے لداخ کی سرحد پر فوج اور فوجی ہتھیاروں اور فوجی سازو سامان کی تعداد میں اضافہ کیا ہے جو واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔
انھوں نے کہا ’مئی کے آغاز میں چین نے وادی گلوان میں ہمارے فوجیوں کے معمول کی گشت میں خلل ڈالنا شروع کیا۔ جس سے فیس آف کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ گراؤنڈ کمانڈر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف معاہدوں اور پروٹوکول کے تحت بات کر رہے ہیں۔‘’چین کو دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا‘:وزیر دفاع راج ناتھ نے کہا کہ مئی کے وسط میں چین نے مغربی سیکٹر میں متعدد مقامات پر ایل اے سی میں دراندازی کی کوشش کی ہے ’لیکن یہ کوششیں ہماری فوج نے وقت پر نوٹس کر لیں اور ضروری جوابی کارروائی بھی کی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے سفارتی اور فوجی چینلز کے توسط سے چین کو آگاہ کیا کہ اس طرح کی سرگرمیاں یکطرفہ طور پر جمود کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے اور یہ بھی واضح کر دیا کہ ہمیں کسی بھی طرح سے اس کی اجازت نہیں دیں گے اور یہ بات دوٹوک الفاظ میں چین کو بتا دی گئی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’ایل اے سی پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے دونوں فریقین کے فوجی کمانڈروں نے 6جون2020 کو ایک میٹنگ کی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ باہمی کارروائی کی بنیاد پر ڈس انگیجمینٹ ہونا چاہیے۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ایل اے سی کو مانا جائے گا اور اس طرح کی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی جو صورتحال کو بدل دے۔‘
بھارت چین تنازع:راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ’اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چین نے 15 جون کو گلوان میں پْرتشدد حالات پیدا کر دیے۔
ہمارے جوان ہلاک ہوئے اور چین کو بھی بہت نقصان پہنچا اور ہم اپنی سرحد کی حفاظت میں کامیاب ہو گئے۔ اس پورے عرصے کے دوران ہمارے بہادر فوجیوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور جہاں بہادری کی ضرورت تھی وہاں بہادری کا مظاہرہ بھی کیا۔‘راج ناتھ سنگھ نے ایوان سے درخواست کی کہ فوجیوں کی بہادری کی تعریف کی جائے۔
’ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی احترام بھی ضروری ہے‘:انھوں نے یہ بھی کہا کہ کسی کو بھی سرحد کی سلامتی کے ہمارے عزم پر شک نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری طرف بھارت یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ ہمارے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن تعلقات میں بھی باہمی احترام اور حساسیت ہونی چاہیے۔ چونکہ ہم اس موجودہ صورتحال کا بات چیت سیحل تلاش کرنا چاہتے ہیں اس لیے ہم نے چین کے ساتھ سفارتی اور فوجی رابطے برقرار رکھے ہیں۔‘
راج ناتھ سنگھ نے کہا ’اس بات چیت میں تین اصول ہمارے نقطہ نظر کا تعین کرتے ہیں۔ پہلے دونوں فریقین ایل اے سی کا سختی سے احترام کریں اور ان کی پابندی کریں دوسری بات کسی بھی فریق کو اپنی طرف سے جمود کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے اور تیسرا دونوں فریق کے درمیان تمام معاہدوں اور افہام و تفہیم پر پوری طرح عمل ہونا چاہیے۔‘
’چین کے قول و فعل میں فرق‘:انھوں نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ یہ چین کا موقف ہے کہ صورتحال کو ذمہ دارانہ انداز میں نبھایا جائے اور دوطرفہ معاہدوں اور پروٹوکول کے ذریعہ امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے۔’اس کے باوجود چین کی سرگرمیوں سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس کے بیانات اور اقدامات میں فرق ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب بات چیت جاری تھی، چین کی جانب سے29 اور30اگست کی درمیانی رات کو اشتعال انگیز فوجی کارروائی کی گئی تھی۔‘
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ چین دو طرفہ معاہدوں کو نظرانداز کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ’چین کی جانب سے بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی 1993 اور1996 کے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ چین نے ابھی بھی ایل اے سی اور اس کے داخلی علاقوں میں بڑی تعداد میں فوج اور گولہ بارود جمع کیا ہے۔ ’چین کی کارروائی کے جواب میں ہماری سیکیورٹی فورسز نے علاقوں میں مناسب طور پر کاؤنٹر تعینات کیا ہے تاکہ بھارت کی سرحد مکمل طور پر محفوظ رہے۔‘
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
