پاکستان
عسکری قیادت کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، ‘فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے’
اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے انعقاد سے چند دن قبل حکومتی اور اپوزیشن سیاسی رہنماؤں کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقات ہوئی جس میں فوجی قیادت نے سیاسی رہنماؤں سے کہا کہ سیاست آپ کا کام ہے لہٰذا فوج کوسیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 16ستمبر کو ہونے والی اس ملاقات میں اپوزیشن کے تقریباً 15 رہنماؤں نے شرکت کی جن میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے امیر حیدر ہوتی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اسد محمود، مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف، احسن اقبال، پی پی پی کی سینیٹر شیری رحمٰن اور کچھ حکومتی وزرا نے شرکت کی۔
اس اجلاس میں شرکت کرنے والے کچھ رہنماؤں کے مطابق اجلاس کے طے شدہ اصولوں کے مطابق اسے عوامی سطح پر ظاہر نہیں کرنا تھا۔
تحریر جاری ہے
رپورٹس کے مطابق یہ ملاقات گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے لیے سیاسی اتفاق رائے کے لیے تھی مگر یہ ملاقات اس وقت مختلف شکل اختیار کر گئی جب اس میں گلگت بلتستان انتخابات، قومی احتساب بیورو (نیب) سمیت دیگر سیاسی معاملات بھی زیر بحث آئے۔
تاہم اپوزیشن نے اس موقع کو دیگر معاملات پر اپنے تحفظات پیش کرنے کے لیے استعمال کیا بالخصوص فوج کی سیاست میں مبینہ مداخلت اور احتساب کے بہانے اس کے رہنماؤں پر ظلم و ستم کے الزامات وغیرہ۔
مشاہدہ کرنے والوں نے اس ملاقات کے وقت اور اسے منظر عام پر لانے کو اپوزیشن کی اتوار کے روز ہونے والی ملٹی پارٹیز کانفرنس سے منسلک کیا جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے فوج پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی تھی کہ ‘یہ ریاست کے اندر ریاست ہے’۔
نجی ٹی وی چینل ‘جیو نیوز’ کے پروگرام ‘آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ عسکری قیادت نے مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے سے کہا کہ جب اسمبلی سے صدر کا ووٹ لینا ہو تو آپ کے والد کے لیے یہ اسمبلی حلال ہوتی ہے اور جب وہ ناکام ہو جائیں تو یہ اسمبلی حرام ہو جاتی ہے، اگر وہ صدر منتخب ہو جاتے تو یہ اسمبلی ٹھیک تھی، اب وہ ہار گئے ہیں تو یہ اسمبلی حرام ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ عسکری قیادت نے واضح کیا کہ ہمیں کسی مسئلے میں نہ لائیں، آپ جانیں اور آپ کا کام جانے، نیب کا چیئرمین، الیکشن کمشنر آپ نے لگایا ہے، اصلاحات آپ نے کرنی ہیں، معاملات آپ نے طے کرنے ہیں، ہمیں کوئی سول حکومت بلائے گی تو ہم لبیک کہیں گے، ہمیں بھاشا ڈیم، نیلم جہلم، فاٹا، ٹڈی دل، سیلاب اور نالوں کی صفائی میں حکومت بلائے گی تو فوج اس کا فیصلہ مانے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ اگر کل آپ کی حکومت ہوئی تو آپ بھی ہمیں جو کہیں گے وہ ہمیں کرنا ہو گا کیونکہ اس یونیفارم میں ہم سول گورنمنٹ کی جانب سے دیے گئے آرڈر پر لبیک کہنے کے پابند ہیں، یہ آرمی چیف نے سب کے سامنے کہا تو لوگوں نے کہا کہ یہ بات سن کر بڑی حیرانی ہوئی، انہوں نے کہا کہ حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے، ہم برسر اقتدار حکومت کے حکم پر لبیک کہیں گے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘عسکری قیادت کا کہنا تھا کہ کل اگر آپ کی حکومت ہوگی تو فوج آپ کا بھی فیصلہ مانے گی لیکن فوج کو خواہ مخواہ مسائل میں مت گھسیٹیں اور یہ یاد رکھیں کہ جمہوریت ناصرف پاکستان کی ضرورت بلکہ اشد ضرورت ہے، اگر جمہوریت کو نقصان پہنچا تو یہ بات بہت دور جاتی ہے’۔
شیخ رشید نے مزید بتایا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے پر قانون سازی پر عسکری قیادت نے کہا کہ آپ فیصلہ کر لیں کہ الیکشن سے پہلے کرنا ہے یا بعد میں، جس پر پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے کہا کہ الیکشن کے بعد اس کو بنائیں گے اور اس میں ہر طرح کے الیکشن کرائیں گے۔
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے بتایا کہ آرمی چیف نے کہا کہ ہمیں اس بات سے کوئی مسئلہ نہیں کہ آپ الیکشن سے پہلے کریں یا بعد میں لیکن شیعہ، سنی مسئلے پر آپ سب کی نظر ہونی چاہیے کیونکہ ملک فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا، کسی قیمت پر بھی ملک میں فسادات کی اجازت نہیں ہوگی، جو ملک کی سالمیت اور اس کے خلاف سازش میں شریک ہو گا فوج اس کے سامنے کھڑی ہوگی، باقی سیاست جانے اور آپ کا کام جانے، سیاست آپ کا کام ہے، ہمارا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دوستانہ ماحول میں باتیں ہوئیں، کوئی تناؤ نہیں تھا، کوئی تلخ بات نہیں ہوئی اور ہلکے پھلکے انداز میں ملاقات ہوئی۔
ملاقات کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کا مؤقف
ملاقات میں شرکت کرنے والے ایک فرد نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ نیب کے اقدامات نے بیوروکریسی کو خوفزدہ کردیا ہے جس کی وجہ سے حکام اہم فیصلے نہیں کررہے، رپورٹس میں کہا گیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ بیوروکریسی ڈلیور نہیں کررہی۔
مسلم لیگ (ن) اپنے رہنماؤں کی اس ملاقات میں شرکت کے حوالے سے خاموش نظر آئی۔
دوسری جانب پی پی پی نے کہا کہ وہ منگل کو (آج) اپنے ترجمان فرحت اللہ بابر کے ذریعے باقاعدہ بیان جاری کرے گی تاہم ایک ٹی وی ٹاک شو میں پی پی پی رہنما شیری رحمٰن نے کہا کہ انکی پارٹی کے چیئرمین نے گلگت بلتستان کی حیثیت اور اس کے انتخابات کے حوالے سے بات کی۔
شیری رحمٰن نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے اس خطے کی حساسیت کے اعتبار سے گلگت بلتستان میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی ضرورت پر زور دیا۔
شیری رحمٰن نے اس بات کی تردید کی کہ ان کی جماعت نے احتسابی عمل پر اپنے تحفظات پیش کیے۔
دوسری جانب پیر کے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان کی ملاقات ہوئی تا ہم اس حوالے سے کوئی میڈیا بیان جاری نہیں کیا گیا۔
‘نواز شریف نے اپنی سیاست کو خود دفن کیا ہے’
آل پارٹیز کانفرنس کے سخت اعلامیے پر کیے گئے سوال پر شیخ رشید نے کہا کہ نواز شریف نے اپنا سیاسی گلا خود دبایا ہے، خود اپنے پاکستانی پاسپورٹ کو پھاڑا اور سیاست کو دفن کیا ہے، یہ وہی نواز شریف ہیں جو ضیاالحق کی گود میں پیدا ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے سندھی وزیر اعظم جونیجو کی پیٹھ میں چھڑا گھونپا اور خود آ کر عبوری حکومتیں اور عبوری وزرا بنائے، ان کی تقریر کی کوئی ریٹنگ نہیں کیونکہ لوگ پسند ہی نہیں کرتے کہ کوئی فوج کے خلاف بات کرے، فوج اور آئی ایس آئی اس ملک کا آخری سہارا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے زیر اثر ایجنٹ ہیں، جو کوئی بھی پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا وہ اس ملک کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے، جو کوئی بھی ایسا کرتا ہے ہم اسے نہیں بھولیں گے۔
شیخ رشید نے کہا کہ عمران خان کی حکومت معاشی اعتبار سے بہتر ہونے جا رہی ہے، پاکستان کا سی پیک لوگوں کو کھٹک رہا ہے، سی پیک کا محور گلگت بلتستان ہے اور وہاں کے عوام کو شناخت ملنے جا رہی ہے لیکن اس کے برعکس بھارت کی معیشت 30 فیصد نیچے جا رہی ہے جہاں کورونا کے روزانہ ایک لاکھ کیسز آرہے ہیں، روز 1300 لوگ مر رہے ہیں، چین کے ساتھ لداخ میں وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہے۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ نواز شریف کی تقریر نشر کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ اکیلے عمران خان کا تھا، انہوں نے نظریے کی بدولت دیوار کے اس پار دیکھا کہ یہ ضرور کوئی حماقت کرے گا، اس ملک میں جب تک سیاست ہے، پاک فوج کے خلاف کوئی بات نہیں ہو سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ سال کے آخر تک کچھ اہم واقعات ہوں گے کیونکہ سینیٹ الیکشن ہونے والے ہیں اور اپوزیشن چاہے گی کہ عمران خان کو سینیٹ میں اکثریت حاصل نہ ہو لیکن مارچ میں سینیٹ میں عمران خان کو اکثریت حاصل ہو جائے گی اس کے بعد یہ ایوان میں صرف بحث کرنے آیا کریں گے۔
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی اسمبلی سے استعفیٰ نہیں دے گی، وہ سندھ کی اسمبلی سے کبھی استعفیٰ نہیں دیں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے بتایا تھا کہ تین چار دن پہلے اپوزیشن کے پارلیمانی رہنماؤں کی عسکری قیادت سے ملاقات ہوئی تھی۔
انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ اس ملاقات میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، خواجہ آصف، فضل الرحمٰن کے بیٹے اسد الرحمٰن، شاہ محمود قریشی، پیپلز پارٹی کی شیری رحمٰن، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ نہ ہم نے نیب چیئرمین لگایا ہے، نہ الیکشن کمشنر لگایا ہے، یہ آپ لوگ لگاتے ہیں اور آپ لوگ اپنے کام خود کریں، ہمیں اس میں ملوث ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور جب کوئی منتخب حکومت ہمیں امدادی کام کے لیے بلائے گی تو ہم اس کی مدد کو آئیں گے۔
انہوں نے کہا تھا کہ عسکری قیادت نے واضح کیا تھا کہ خواہ مخواہ اداروں کوگھسیٹا نہ جائے اور یہ گھسیٹنے والے کسی کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، فوج کسی معاملے میں ملوث نہیں ہے۔
سینئر سیاستدان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپ کے کام میں مداخلت کا کوئی شوق نہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ سول حکومت ہمیں مدد کو بلائے اور ہم مدد کو نہ پہنچیں۔
شیخ رشید کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ فوج کو شوق نہیں کہ وہ پولنگ اسٹیشن کے باہر کھڑے ہوں، ہمیں تو آپ بلاتے ہیں، آپ آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ملاقات میں کسی نے بھی نیب کے کیسز کے سوا کسی بھی چیز پر فوجی قیادت سے تحفظات کا اظہار نہیں کیا جس پر آرمی چیف نے کہا تھا کہ نہ نیب کا بندہ ہم نے تعینات کیا، نہ الیکشن کمشنر ہم نے تعینات کیا ہے، یہ آپ کرتے ہیں اس لیے یہ آپ کا فرض ہے کہ دیکھیں کہ آپ ٹھیک بندہ تعینات کرتے ہیں یا غلط۔
عسکری قیادت سے سیاستدانوں کی ملاقات کا انکشاف اس وقت ہوا ہے جب ایک دن قبل ہی آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت اور اداروں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
اپوزیشن جماعتوں نے اے پی سی میں ‘پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ’ تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔
اجلاس نے اپنی قرارداد میں اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں بڑھتے ہوئے عمل دخل پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے ملک کی سلامتی اور قومی اداروں کے لیے خطرہ قرار دیا تھا اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں ہر قسم کی مداخلت فوری طور پر بند کرے۔(ڈان نیوز)
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
