تازہ ترین
امشی پورہ شوپیان انکاؤنٹر:گرفتار2ملزمان ڈسٹرکٹ کورٹ شوپیان میں پیش
8روز تک جوڈیشل ریمانڈ میں بھیج دیا گیا
خبراردو:-
سرینگر:امشی پورہ شوپیان انکاؤنٹر معاملے میں گرفتار 2ملزمان کو پولیس نے منگلوار کے روزڈسٹرکٹ کورٹ شوپیان میں پیش کیا گیا،جہاں سے دونوں ملزمان کو 8روزہ کے لئے جوڈیشل ریمانڈ میں بھیج دیا گیا۔
کشمیر نیوز سروس کو ملی اطلاعات کے مطابق امشی پورہ انکاؤنٹر معاملے کی مزید پیش رفت ہوئی ہے۔پولیس نے اس مقابلے کے حوالے سے اپنی تفتیش آگے بڑھا تے ہوئے 2ملزمان کو گرفتار کیا۔دونوں ملزمان کو منگل کے روز پولیس نے ڈسٹرکٹ کورٹ شوپیان میں پیش کیا۔
عدالت نے اپنی کارروائی کے دوران دونوں ملزمان کو اگلی سماعت تک8روز کے لئے جوڈیشل ریمانڈ میں بھیج دیا۔دونوں ملزمان کو شوپیان پولیس نے ایف آئی آر42/2020کے تحت گرفتار کیا ہے۔پولیس معاملے کی مزید تفتیش کررہی ہے،تاکہ حقائق کو منظر پر عام پر لایا جاسکے۔یاد رہے کہ سوموار کو جموں کشمیر پولیس کے سر براہ، دلباغ سنگھ نے کہا تھا کہ جنوبی ضلع شوپیان کے امشی پورہ میں ہوئے انکاونٹر معاملے کی تحقیقات آخری مرحلے میں ہے۔
انہوں نے کہا تھاکہ ایس ایس پی شوپیان تحقیقات کی نگرانی کررہے ہیں اور عنقریب اس سلسلے میں ساری تفاصیل منظر عام پر لائی جائیں گی۔یاد رہے کہ یہ مبینہ فرضی انکاونٹراس سال18جولائی کو پیش آیا تھا۔دلباغ سنگھ کا کہنا تھا’ہماری تحقیقات آخری مرحلے میں ہیں‘۔فوج اور پولیس الگ الگ سے امشی پورہ انکاونٹر کی تحقیقات کررہی ہے جس میں راجوری ضلع کے تین نوجوان جاں بحق ہوگئے۔
مہلوکین کے ڈی این اے نمونے اْن کے والدین سے پہلے ہی مل گئے ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو مزدور قرار دیتے ہوئے اْنہیں فرضی معرکہ آرائی میں جاں بحق کرنے کا الزام عائد کیاہے۔ڈی این اے نمونے میل کھانے کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ اُنکے بچوں کے جسد خاکی واپس کئے جائیں،تاکہ وہ اُنکی تدفین آبائی قبرستانوں میں کی جاسکے۔گزشتہ جمعہ کو پولیس کنٹرول سرینگر میں جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون،وجے کمار نے کہا تھاکہ شوپیاں واقعہ کی تحقیقات کے سلسلے میں لئے گئے ڈی این اے نمونے جاں بحق کئے گئے 3نوجوانوں اور راجوری کے دعویٰ کرنے والے لواحقین کے ڈی این اے نمونے یکساں ہیں۔
وجے کمار نے بتایا تھا’ہم نے راجوری کے تین گھرانوں کے ڈی این اے نمونوں کی جانچ رپورٹ حاصل کر لی ہے جو اْن تین نوجوانوں سے میل کھاتی ہے جو امشی پورہ شوپیان میں مارے گئے تھے۔ہم آگے کی کارروائی لوازمات پوری ہونے کے بعد ہی شروع کریں گے‘۔
یاد رہے کہ18جولائی کو امشی پورہ شوپیان میں فوج وفورسز نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک جھڑپ میں 3عدم شناخت جنگجو جاں بحق کئے گئے۔تاہم جاں بحق کئے گئے تین نوجوانوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں،جسکے بعد راجوری کے تین گھرانے سامنے آئے جنہوں نے دعویٰ کیا کہ جاں بحق نوجوان اُنکے لخت جگر ہیں۔
اس کے بعد سوشل میڈیا میں ایک بحث شروع ہوئی جسکے بعد فوج نے اس معاملے کی نسبت کورٹ آف انکوائری کا اعلان کیا۔ادھر پولیس نے اس معاملے کی اپنی سطح پر تحقیقات شروع کردی اور تین ہلاکتوں کے پس منظر میں راجوری کے تین گھرانوں کے دعوؤں کے بعد ڈی این اے نمونے حاصل کئے گئے۔
آج چالیس روز بعد ڈی این اے نمونوں کی جانچ رپورٹ حاصل ہونے کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ راجوری کے تین گھرانوں کا دعویٰ صحیح ہے، جنہوں نے الزام عائد کیاہے کہ امشی پورہ شوپیان میں جاں بحق نوجوان اْن کے چشم و چراغ تھے جو بقول اْنکے مزدوری کیلئے جنوبی ضلع شوپیان گئے ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ فوج نے بھی اس سے قبل اپنے ایک بیان میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ فوجی اہلکاروں نے امشی پورہ آپریشن کے دوران ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی۔یہ تینوں نوجوان مزدوری کے لیے17 جولائی کو راجوری سے شوپیاں پہنچے تھے، جہاں انہوں نے ایک کمرہ کرائے پر لیا تھا اور اسی شام اپنے گھر والوں کو فون پر مطلع کیا تھا کہ انہیں ایک مقامی باغ میں کام مل گیا ہے جسے وہ اگلے روز شروع کر رہے ہیں۔
اس کے بعد ان کا اپنے گھر والوں سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ ان کے اہل خانہ نے پولیس اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ یہ سمجھے تھے کہ کشمیر میں چوں کہ فون اور دوسری مواصلاتی سروسز اکثر بند ہو جاتی ہیں، اس لیے ان کے عزیز ان سے رابطہ نہیں کر پا رہے۔ فوج نے 18 جولائی کو شوپیاں کے امشی پورہ نامی علاقے میں ایک آپریشن کے دوران تین مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اس حوالے سے پولیس حکام نے بتایا تھا کہ ہلاک کیے گئے ’عسکریت پسندوں‘کی شناخت نہیں ہو سکی ہے اور ان کی لاشیں وصول کرنے کے لیے بھی کوئی سامنے نہیں آیا۔ تو انہیں بارہ مولا کے اس قبرستان میں دفن کر دیا گیا جہاں عمومی طور پر کشمیر میں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے غیر ملکی عسکریت پسندوں کو دفن کیا جاتا ہے۔
لاپتہ نوجوانوں کے والدین نے جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کو خط ارسال کیا جس میں یہ شکایت کی گئی کہ فوج اور پولیس تحقیقات کو بلاوجہ طول دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں جان بوجھ کر غیر سنجیدگی اور کوتاہی کا مظاہرہ بھی کیا جا رہا ہے۔
لاپتہ نوجوانوں کے والدین نے لیفٹیننٹ گورنر سے معاملے میں ذاتی مداخلت کی اپیل کی تھی۔لیفٹیننٹ گورنر سنہا نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کے استفسار پر یقین دلایا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کو ضرور انصاف ملے۔ اس دوران فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ جھڑپ سے متعلق شروع کی گئی تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں۔
بیان کے مطابق تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ آپریشن میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ 1990 سے تجاوز کیا گیا۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
