تازہ ترین
بابری مسجد انہدامی معاملہ:ایڈ وانی،جوشی،اوما بھارتی سمیت سبھی نامزد 32 ملزمان بری
سی بی آئی کی خصوصی عدالت کا 28برس بعدتاریخ ساز فیصلہ
ہندو مذہب اور قوم کی فتح:بری ملزمان
سرینگر:بابری مسجد انہدامی معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)نے28برس بعد تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے ایڈ وانی،جوشی،او ما بھارتی سمیت سبھی نامزد32ملزمان کو بری کردیا۔ادھر بری ملزمان نے عدالتی فیصلے پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو مذہب اور قوم کی فتح ہے۔
کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق بابری مسجد انہدامی کیس میں ’سی بی آئی‘ کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ایل کے اڈوانی،مرلی منوہر جوشی اوما بھارتی اور کلیان سنگھ سمیت تمام 32 ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ جج ایس کے یادو نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کے انہدام کو سازش کے تحت انجام دی گئی، واردات قرار نہیں دیا اور کہا کہ ملزمان نے بھیڑ کو روکنے کی بھی کوشش کی تھی!۔
گزشتہ 28 سالوں سے چل رہے اس معاملہ کے فیصلہ کی راہ میں تمام قانونی پیچیدگیاں حائل رہیں اور انصاف کرنے میں تاخیر ہوئی، اور آخر کار تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ اس طرح پہلے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر بنانے کی جازت دی گئی اور اس کے بعد آج کھلے عام مسجد کا انہدام کرنے والے کسی شخص کی بھی شناخت نہیں ہو پائی۔بابری مسجد انہدام:6دسمبر 1992۔ ایودھیا میں بابری مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔
اسی دن دو فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔ ایک ایف آئی آر میں 8 افراد کے نام شامل ہیں، لال کرشن اڈوانی، ایم ایم جوشی، اوما بھارتی، ونئے کٹیار، سادھوی رتمبھرا اور وشو ہندو پریشد کے رہنما اشوک سنگھل، گریراج کشور اور وشنو ہری ڈالمیا۔ ان رہنماؤں کے خلاف آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مزید 47 ایف آئی آر درج کی گئیں، جس کے بعد ایف آئی آر کی کل تعداد49 ہو گئی۔13 اپریل 1993۔ یوپی کے للت پور کے اسپیشل مجسٹریٹ نے جہاں پہلے مقدمات شروع کیے گئے تھے، ایف آئی آر نمبر197 میں ’لاکھوں کار سیوکوں‘ کے خلاف مجرمانہ سازش (دفعہ120 بی) کا الزام بھی شامل کیا۔8ستمبر1993۔ یوپی حکومت نے لکھنؤ کی خصوصی عدالت کو بی جے پی اور وی ایچ پی رہنماؤں کے ناموں کے علاوہ ایف آئی آر نمبر198 بھی سونپ دی۔ ایف آئی آر نمبر198 کا مقدمہ رائے بریلی کی عدالت کو منتقل کر دیا گیا۔
5 اکتوبر 1993۔ سی بی آئی نے لکھنؤ کی عدالت میں 48 ملزمان کے خلاف مشترکہ چارج شیٹ داخل کی۔ اس میں شیوسینا کے سابق چیف بال ٹھاکرے اور یوپی کے سابق سی ایم کلیان سنگھ کا نام بھی شامل تھا۔8 اکتوبر1993۔ یوپی حکومت نے8 ستمبر کے نوٹیفکیشنمیں ترمیم کی، تاکہ لکھنؤ عدالت ہی میں تمام 49 مقدمات کی سماعت ہو سکے۔1996۔ سی بی آئی نے اڈوانی اور دیگر آٹھ بی جے پی اور وی ایچ پی رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر نمبر 198 میں ضمنی چارج شیٹ دائر کی۔9 ستمبر 1997۔ ایف آئی آر نمبر198 میں لکھنؤ کی خصوصی عدالت کے خصوصی جج نے تمام ملزم رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات لگانے کی ہدایت دی۔12 فروری 2001۔
الہ آباد کی عدالت نے یوپی حکومت کے اکتوبر 1993 کے اس نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر نمبر198کو لکھنؤ کی عدالت کو بغیر کسی دائرہ اختیار کے بھیج دیا گیا تھا۔4 مئی2001۔ لکھنؤ کی عدالت نے اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی، بال ٹھاکرے سمیت 21 ملزمان کے خلاف کارروائی روک دی۔ اس کے بعد اس معاملے کو رائے بریلی کی عدالت منتقل کر دیا گیا۔28 ستمبر2002۔ سی بی آئی نے8 اکتوبر1993 کے ایک نوٹیفکیشن میں عدالتی غلطیوں کی اصلاح پر زور دیا، جسے یوپی حکومت نے مسترد کر دیا۔ سی بی آئی نے یوپی حکومت کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا۔2002۔ سی بی آئی نے رائے بریلی عدالت میں اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی اور پانچ دیگر افراد کے خلاف ضمنی چارج شیٹ دائر کی۔
تاہم، اس نے مجرمانہ سازش کی دفعہ کا تذکرہ نہیں کیا۔22 مئی2010۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے لکھنؤ کی عدالت کے21 ملزمان کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں دو طرح کے ملزمان تھے- ڈائس پر موجود رہنما اور دوسرے کار سیوک۔ عدالت نے کہا کہ دونوں گروہوں کے ملزموں کے خلاف مختلف الزامات ہیں اور ان کی شمولیت مختلف طریقوں سے ہونے والے جرائم میں تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایف آئی آر نمبر198میں آٹھ ملزمان پر کبھی بھی مجرمانہ سازش کا الزام نہیں لگایا گیا تھا۔
19 اپریل 2017۔ سپریم کورٹ نے جرائم نمبر92/198کے معاملے کو رائے بریلی سے لکھنؤ منتقل کر دیا اور لکھنؤ کی عدالت نے اڈوانی، ونے کٹیار، اوما بھارتی، سادھوی رتمبھرا، مرلی منوہر جوشی اور وشنو ہری ڈالمیا کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات طے کرنے کو کہا۔ عدالت عظمیٰ نے 5 اکتوبر1993 کو سی بی آئی کی مشترکہ چارج شیٹ میں چمپت رائے، نرتیہ گوپال داس، کلیان سنگھ اور دیگر جن کے بھی نام تھے، ان کے خلاف مجرمانہ سازش رچنے کا الزام طے کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ بابری انہدام کیس میں روزانہ سماعت کرے گی اور اگلے دو سالوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔30 مئی 2017۔ بی جے پی کے سینئر رہنما ایل کے اڈوانی، اوما بھارتی اور مرلی منوہر جوشی دیگر ملزمان کے ساتھ لکھنؤ کی خصوصی سی بی آئی عدالت میں پیش ہوئے۔مئی2019۔ خصوصی جج نے سپریم کورٹ سے کیس کی سماعت نمٹانے کے لئے چھ ماہ کی مہلت طلب کی۔جولائی 2019۔
سپریم کورٹ نے بابری انہدام کیس کی سماعت کرنے والے خصوصی سی بی آئی جج کی مدت کار میں فیصلہ سنانے تک توسیع کرنے اور مقدمے کی سماعت کو مکمل کرنے کے لئے نو ماہ کی مہلت دے دی۔مئی2020۔ سپریم کورٹ نے خصوصی سی بی آئی جج سے کہا کہ وہ مقدمے کی سماعت مکمل کرے اور اگست 2020 تک اس معاملے میں فیصلہ دے۔2 جولائی2020۔ بی جے پی رہنما اوما بھارتی نے سی بی آئی کے خصوصی جج کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرایا۔13 جولائی2020۔یوپی کے سابق وزیر اعلی اور بی جے پی رہنما کلیان سنگھ سی بی آئی عدالت میں پیش ہوئے اور بیان ریکارڈ کرایا۔23 جولائی 2020۔
بی جے پی کے مارگ درشک منڈل میں شامل سینئر رہنما مرلی منوہر جوشی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اس معاملے میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔24 جولائی 2020۔اپر یل کے اڈوانی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سی بی آئی عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔اگست 2020۔ سپریم کورٹ نے خصوصی سی بی آئی عدالت سے کہا کہ وہ مقدمے کی سماعت مکمل کرے اور 30 ستمبر تک فیصلہ سنائے۔16 ستمبر2020سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بابری مسجد انہدام کے معاملے میں حتمی فیصلہ سنانے کے لئے 30 ستمبر2020 کی ڈیڈ لائن طے کی۔
30 ستمبر 2020: سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے اڈوانی، اوما بھارتی، کلیان سنگھ سمیت تمام 32 ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ بابری مسجد کی گنبد پر غیر سماجی لوگ چڑھے ہوئے تھے اور ملزمان نے اس کے لئے کوئی سازش نہیں کی تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملزمان نے تو الٹے بھیڑ کو روکنے کی کوشش کی تھی۔اچھا ہے تمام ملزمان بری کر دئے گئے، اقبال انصاری:ایودھیا کے بابری مسجد رام جنم بھومی مقدمہ کے ایک مدعی ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری نے بابری مسجد انہدام کے معاملہ کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد کہا، ’ہم قانون کی پاسداری کرنے والے مسلمان ہیں۔
اچھا ہے، اگر عدالت نے بری کر دیا تو ٹھیک ہے، یہ معاملہ جو مدت طویل سے معلق تھا، اب ختم ہوگیا۔ اچھا ہوا، ہم تو چاہتے تھے کہ اس سے پہلے ہی فیصلہ ہو جائے۔ ہم عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔“بابری مسجد انہدام کے معاملہ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے اور اس معاملہ کے تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد انہدام کا واقعہ منصوبہ بند نہیں تھا۔ جج ایس کے یادو نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمان نے بھیڑ کو روکنے کی کئی مرتبہ کوشش کی اور یہ واقعہ اچانک پیش نہیں آیا تھا۔
ہندو مذہب کی فتح:عدالتی کارروائی کے بعد بری ہونے والے ملزمان نے احاطہ عدالت سے باہر نکل کر میڈیا کو اس فیصلے پر اپنا اپنا ردعمل دیا ہے۔بری ہونے والے ملزم ایل کے اڈوانی کے وکیل ومل سریواستو نے فیصلے کے بعد کہا کہ ’تمام ملزموں کو بری کر دیا گیا ہے، اتنے شواہد موجود نہیں تھے کہ الزمات ثابت ہو سکتے۔‘اسی مقدمے میں دوسرے ملزم جے بھگوان گویل نے ٹی وی چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے مندر توڑا تھا، ہمارے اندر سخت غصہ تھا، ہر کارسیوک کے اندر ہنومان جی سما گئے تھے۔ ہم نے مسجد توڑی تھی، اگر عدالت سے سزا ملتی تو ہم خوشی سے اس سزا کو قبول کر لیتے۔ عدالت نے سزا نہیں دی۔ یہ ہندو مذہب کی فتح ہے، ہندو قوم کی فتح ہے۔‘
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
