تازہ ترین
آئے ملت مسلم تیرا اللہ نگہبان
تحریر:الطاف جمیل ندوی
خبراردو:-
قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام
کشمیر دنیا کا ایک حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے جہاں اب تلک گرچہ مسلکی منافرت یا مذہبی چپقلش کے نام پر کوئی ہنگامہ آرائی نہ ہوئی بلکہ اکثر صبر و تحمل اس قوم کا خاصہ رہا ہے جو اپنی نسبت وادی سے کرتی ہے
پرالمیہ یہ ہے کہ اب یہاں بھی دیدہ و دانستہ ایسے کام کئے جارہے ہیں جس سے کم از کم اسلامی تعلیمات آشناء نہ تھیں آج تک پر اب جب کہ دنیا میں ہر چہار سو یہ مصیبت دندنا رہی ہے اپنی تمام تر غلاظت کے ساتھ تو وادی کشمیر کا علاقہ بھی اس کی لپیٹ میں آہی گیا آئے روز اسلام کے نام پر مساجد میں مقابلہ آرائی مناظرہ بازی کے نام کی دکانوں کو آراستہ کیا جارہا ہے اور کچھ من چلے بڑی ہی چابک دستی سے خود کو بحیثیت مناظر اسلام منوانے میں کامیاب بھی ہورہے ہیں اور ہر کسی کا چہیتا سب سے قابل سب سے بڑا اہل علم تقوی شعار اور محب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بنا پھر رہا ہے اور یہ مشغلہ روز بروز پروان چڑھتا جارہا ہے یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ اکثر کبار علماء کرام جو یہاں کی مختلف فکر و افکار کے روح رواں ہیں ایسی مجالس سے دور ہی رہتے ہیں
ہوتی نہین جو قوم، حق بات پہ یکجا،
اس قوم کا حاکم ہی بس انکی سزا ہے.
غنی شیخ کا نیا فتنہ اور سوشل میڈیا کے مفکر
ویسے تو تب سے جب سے یہاں ہنگاموں نے اپنا بسیرا بنا لیا ہے اس قوم کو ایسے پاسبانوں نے دکھ اور الم کے سوا کچھ بھی نہ دیا جو ان حالات کی پیدا وار ہیں جو یہاں پچھلے تیس پینتیس سال سے بنے ہوئے ہیں حالات نے جہاں یہاں پر طرف ماتم غم کرب یتیم بیوہ قتل دہشت وحشت درندگی بھوک پیاس لاش جیسے الفاظ کو عملی جامہ پہنا دیا وہیں یہاں علوم اسلامیہ کے بارے میں بھی ہنگاموں نے اپنی جگہ بنانے کے لئے کوشاں و سرگرداں رہے تصوف عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کچھ زیادہ ہی تجار پیدا ہوتے رہے جو بجائے اس کے کہ قوم و ملت کے لئے کچھ کرتے بلکہ ان درندہ صفت اور شیطان کے پجاریوں نے یہاں کی قوم کے لئے ایک نہ ختم ہونے والا درد اور کرب پوری قوم کو دیا مثال ہم گلزار پیر نامی اس مبلغ کی دے سکتے ہیں جو اسلام کے نام پر ہزاروں لوگوں کی گمراہی کا سبب بنا جس کے مریدین اسے ڈاکٹر ذاکر نائک کے ہم پلہ ہونے کا سکالر کہتے ہوئے مسرور ہوا کرتے تھے پر تماشہ تب ہوا جب اس پر کچھ خواتین نے جنسی ہراسگی کا دعوی کردیا اور اسے قانون کے محافظ کلمہ یا آیت الکرسی دعائے قنوت سنانے کو کہتے ہیں تو یہ شخص ہاں ہوں کرنے اپنی علمی بصیرت کا چراغ جلانے کے لئے کوشاں ہوجاتا ہے جس کے جواب میں اسے کچھ اس کے لائق الفاظ کا تحفہ ملتا ہے قوم نے اپنا شعور کہاں برباد نہ کیا یہاں ان سالوں میں مختلف ایسے حادثات و واقعات رونما ہوتے گئے جہاں ہماری بیٹیوں کو جاڑ پھونک کے نام پر عزت و رفت کی قیمت ادا کرنی پڑی یہ سلسلہ گر چہ ہر طرف اپنی ابلیسیت کا راج کر رہا ہے پر ہماری وادی اب اس کی زد پر کچھ زیادہ ہی آگئے بڑھ رہی ہے
یہاں آئے روز کوئی نشہ باز خود کو کرامات دیکھانے والا کہتا ہے کوئی صاحب خود کو محافظ جنات کہلانا پسند کرتا ہے تو کوئی کسی اور نام سے اسلام کا لبادہ اوڑ کر قوم کے لئے درد سر بنا پھر رہا ہے یقین کریں کہ یہ من چلے کچھ اس قدر ذہین ہیں کہ بیٹھے بٹھائے لاکھوں کروڑوں کے مالک بن جاتے ہیں بس کچھ ابلیسیت کے کارنامے انجام دینے ہیں جو گر چہ ان کے نافلق ان متوالوں کی افواہ ہی کیوں نہ ہو جسے ہر خاص و عام تک پہنچانے کے لئے یہ ہر طرح سے تیار ہوتے ہیں
کہ اپنے پیر خاص کے بارے میں کچھ اس قسم کے افسانے سناتے پھرتے رہتے ہیں کہ آدمی نہ چاہتے ہوئے بھی ان کو ایک بار دیکھنے کی تمنا کر لیتا ہے
کسی ماں کا لخت جگر غائب ہے یا کسی کا شوہر یا کسی معصوم بیٹی کا بھائی تو یہ مریدین اپنی حاضری لگا کر ان ستم رسیدوں پر اک اور ستم ڈھانے کے فراق میں اپنے پیر کے کمالات کی ڈائری لے کر آ ٹپکتے ہیں اور پھر وہی کام شروع ہوجاتا ہے جسے یہ چلہ کشی یا کسی ولی کامل کے سر تھوپنے کے لئے بکرے مینڈک کے ساتھ ساتھ نقدی بھی وصول کرتے رہتے ہیں جب اس سب سے دل کی تسلی نہیں ہوتی تو ان کی نگاہ و نفس میں حرام کی کمائی اپنی تسکین کے لئے وہ سب کر گزرتے ہیں جو اسلام ہی نہیں بلکہ بقیہ ادیان میں بھی قابل نفرت ہی کہلایا جاتا ہے پر کیا کرئے ایسے بد ضمیروں کا جو قوم کو تلوار کے سایہ میں دیکھ کر بھی اپنی نجاست بھری نگاہوں کی تسکین کے متمنی ہی رہتے ہیں
بات اس بوڑھے کی جس کے سبب کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ہنگامہ آرائی دیکھنے کو مل رہی ہے جب پہلی بار اس بوڑھے جس کا نام غنی شیخ بتایا جارہا ہے کو دیکھا تو میں نے ان دیکھا کردیا یہ سوچ کر کہ پتہ نہیں کیا بات ہوگی کیونکہ اکثر ایسی بیہودگیوں سے بچتا ہی رہنا اپنی عادت بنی ہوئی ہے پر ماتھا تب ٹنکا جب یہ سنا کہ موصوف مسجد کے خطیب اور امام بھی ہیں یہ سن کر حیرت کے ساتھ اس کی تلاش کی تو جو دیکھا بس یہ دل میں آیا کہ یا بری اس قوم کا اب کیا ہوگا جس کا رہبر اس قدر بد زبان اور دریدہ دہن ہو میرے لئے اول یہ تصور ہی عبث تھا کہ ایسا بد زبان شخص امام ہے اور ماتم کرنے کو جی چاہا جب اس ے سامنے بیٹھے لوگ مسکرا کر اس کی باتیں سن رہے تھے لفظ فقیری پر موصوف گفتگو کر رہے تھے شاید تصور دے رہے ہوں کہ موصوف فقیر قسم کے آدمی ہیں چلے اس فقیر لفظ کو تصوف کی نظر سے سمجھیں
تصوف میں ایک ایسے شخص کو کہتے ہیں جو نفسی خواہشات کی بجائے صرف خدا کی رضآ کا طالب اور محتاج ہو۔ فقیر مسلمان صوفیاء کے لیے استعمال ہوتا ہے جنہوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی کی بجائے صرف اللہ کے سامنے اپنا سر جھکایا۔ فقیر لوگ اکثر غریب ہوتے ہیں اور اپنا زیادہ وقت خدا کے ذکر میں گزارتے ہیں البتہ ان کے مریدوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے پچھلے ادوار میں بادشاہان وقت ان کے در کی سلامی دیتے تھے
یہ لفظ کتاب و سنت و فقہ کی کتب میں بھی استعمال ہوتا ہے جہاں اس کی اپنی افادیت اور معنی الگ ہیں پر المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر تبصروں کو دیکھیں اس لفظ پر تو اس کا حلیہ بگاڑا گیا ہے جبکہ اس پر توجہ ہی نہ دی گئی کہ موصوف ایک فتنہ گر ہیں نہ کہ کوئی داعیانہ کردار ادا کر رہے ہیں
چلے بڑا ہورہی تھی جناب کی جو کہ پیشہ سے ایک خطیب و امام ہیں امام کے اوصاف میں جہاں کتاب و سنت کا عالم ہونا اہم ہے وہیں اس کا کردار و گفتار بھی نیک اور پاکیزہ ہونا لازمی ہے اب جب امام ان اوصاف حمیدہ کے ساتھ ساتھ ہی کتاب و سنت سے بے بہرہ ہو تو اس صورت میں خطا ان کی بھی ہے جو انہیں سر کا تاج بنا کر رکھتے ہیں نہ صرف کسی جاہل ملا کی ہی یہ ایک ایسا حساس اور نازک کام ہے جہاں علم و عمل دونوں میں یکسانیت لازمی ہے پر کیا کرے کہ جب لوگ شعوری طور پر بے حسی اور فکری سطح پر زوال کا شکار ہوگئے ہوں تو پھر ایسے حادثات ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے بلکہ ہم یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ کوئی بات نہیں ہے بس ہنسی مذاق ہورہا تھا میرے پیار و کیا ہنسی مذاق کے لئے لازمی ہے کہ اسلامی تعلیمات کو ہی تختہ مشق بنایا جائے
نہیں بلکہ یہ ہماری دین و ایمان کے تئیں بے حسی و بے توجہی
کا ثبوت ہے کہ اب مسخرے ہمارے امام بنے ہوئے ہیں مجھے یاد آرہا ہے کہ تاریخ اسلامی میں اس کا شکار پہلی بار سنت صلاح الدین ایوبی کے زمانے میں ہوئی جب حشیش بھنگ کا استعمال کرنے والے افراد کو پہنچی شخصیت کیا جارہا تھا جب ایسے ہی فتنے آئے روز اٹھا کرتے تھے جب حکومت کو اس کی خبر ہوئی تو اس کا تدارک کیا گیا اور یہ فتنہ اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے ساتھ فنا ہوگیا جبکہ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے بلکہ علی الاعلان اسلامی تعلیمات کا مذاق کا مذاق بنایا جاتا ہے اور ہم مسکرا کر شکریہ ادا کر دیتے ہیں
فکری دیوالیہ پن کے شکار لوگ کبھی بحیثیت ملت کبھی کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتے اور نہ ہی اس کی کوئی نظیر آج تک جہاں میں مل سکتی ہے کہ کوئی قوم فکری دیوالیہ پن کی شکار ہوکر کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکی ہو اقوام جہاں میں وہی پنپتی ہیں جن کی فکر بلند ہو جن کے حوصلے بلند ہوں جو مسخرون کی ماتحت رہ کر نہیں جیتی بلکہ بلند کردار بلند افکار رکھنے والوں کا استقبال کیا کرتی ہیں
جہاں تک مجھ سا کم علم سمجھتا ہے ایسے افراد کو توبہ کرنی چاہئے اور ان کا حق باطل ہے کہ وہ خطابت کا فریضہ انجام دیں نہ ہی ان کی اقتداء صحیح ہے جو عقل و خرد سے بے بہرہ اور پاکیزہ اخلاق و اوصاف سے عاری ہوں
چلتے چلتے
سوشل میڈیا پر جو لوگ متحرک ہیں اسلام کے نطریہ رحمت کی آبیاری کے لیئے ان کے لئے بھی صحیح نہیں ہے کہ ہر چیز کو عام کریں بلکہ بہتر ہے ایسے باتوں ایسے بچا جائے جن کے سبب اسلامی تعلیمات مجروح ہورہی ہوں اور نہ کہ ایسے افراد کو قابل توجہ سمجھتا جائے جو اسلامی تعلیمات کے برعکس کسی اور نحوست کے ساتھ جینے کی قسم کھائے ہوئے ہوں یہ کوئی خدمت دین نہیں ہے بلکہ صرف رزالت ہی رزالت ہے ارباب علم اس پر اپنی نگاہیں جمائے رکھیں یہ ہنسی مذاق نہیں ہے بلکہ ایک ایسا ستم ہے کہ گر اس پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو کوئی پوچھنے والا بھی نہ رہے گا جب تک یہ ستم ظریفی کی مصیبت اپنی تمام سیاہ کاریوں کے ساتھ بام عروج پر ہوگئی اور پھر ہمارے لئے رحمتوں کے دروازے بند ہوجائیں گئے
آئے قوم تجھے کیا ہوا تیری داستان ہی ہے لٹ رہی
آئے قوم تجھے کیا کہوں تونے رہزنوں کو ہے خادم قوم بنا دیا
آئے قوم تیری سوچوں کا معیار کیا ہوا کہ تجھے منچلوں نے تباہ کیا
آئے قوم تیری فکر کا یہ زوال کیا ہوا کہ تونے محراب و منبر گرا دیا
آئے قوم تیری کیا بنے گا کہ تیرا رہنما کوئی اب نہیں
آئے قوم للہ اپنا تعلق اہل بصیرت سے جوڑ فسانہ گروں کے طلسم سے نکل جا
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
