تازہ ترین
آئے ملت مسلم تیرا اللہ نگہبان
تحریر:الطاف جمیل ندوی
خبراردو:-
قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام
کشمیر دنیا کا ایک حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے جہاں اب تلک گرچہ مسلکی منافرت یا مذہبی چپقلش کے نام پر کوئی ہنگامہ آرائی نہ ہوئی بلکہ اکثر صبر و تحمل اس قوم کا خاصہ رہا ہے جو اپنی نسبت وادی سے کرتی ہے
پرالمیہ یہ ہے کہ اب یہاں بھی دیدہ و دانستہ ایسے کام کئے جارہے ہیں جس سے کم از کم اسلامی تعلیمات آشناء نہ تھیں آج تک پر اب جب کہ دنیا میں ہر چہار سو یہ مصیبت دندنا رہی ہے اپنی تمام تر غلاظت کے ساتھ تو وادی کشمیر کا علاقہ بھی اس کی لپیٹ میں آہی گیا آئے روز اسلام کے نام پر مساجد میں مقابلہ آرائی مناظرہ بازی کے نام کی دکانوں کو آراستہ کیا جارہا ہے اور کچھ من چلے بڑی ہی چابک دستی سے خود کو بحیثیت مناظر اسلام منوانے میں کامیاب بھی ہورہے ہیں اور ہر کسی کا چہیتا سب سے قابل سب سے بڑا اہل علم تقوی شعار اور محب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بنا پھر رہا ہے اور یہ مشغلہ روز بروز پروان چڑھتا جارہا ہے یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ اکثر کبار علماء کرام جو یہاں کی مختلف فکر و افکار کے روح رواں ہیں ایسی مجالس سے دور ہی رہتے ہیں
ہوتی نہین جو قوم، حق بات پہ یکجا،
اس قوم کا حاکم ہی بس انکی سزا ہے.
غنی شیخ کا نیا فتنہ اور سوشل میڈیا کے مفکر
ویسے تو تب سے جب سے یہاں ہنگاموں نے اپنا بسیرا بنا لیا ہے اس قوم کو ایسے پاسبانوں نے دکھ اور الم کے سوا کچھ بھی نہ دیا جو ان حالات کی پیدا وار ہیں جو یہاں پچھلے تیس پینتیس سال سے بنے ہوئے ہیں حالات نے جہاں یہاں پر طرف ماتم غم کرب یتیم بیوہ قتل دہشت وحشت درندگی بھوک پیاس لاش جیسے الفاظ کو عملی جامہ پہنا دیا وہیں یہاں علوم اسلامیہ کے بارے میں بھی ہنگاموں نے اپنی جگہ بنانے کے لئے کوشاں و سرگرداں رہے تصوف عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کچھ زیادہ ہی تجار پیدا ہوتے رہے جو بجائے اس کے کہ قوم و ملت کے لئے کچھ کرتے بلکہ ان درندہ صفت اور شیطان کے پجاریوں نے یہاں کی قوم کے لئے ایک نہ ختم ہونے والا درد اور کرب پوری قوم کو دیا مثال ہم گلزار پیر نامی اس مبلغ کی دے سکتے ہیں جو اسلام کے نام پر ہزاروں لوگوں کی گمراہی کا سبب بنا جس کے مریدین اسے ڈاکٹر ذاکر نائک کے ہم پلہ ہونے کا سکالر کہتے ہوئے مسرور ہوا کرتے تھے پر تماشہ تب ہوا جب اس پر کچھ خواتین نے جنسی ہراسگی کا دعوی کردیا اور اسے قانون کے محافظ کلمہ یا آیت الکرسی دعائے قنوت سنانے کو کہتے ہیں تو یہ شخص ہاں ہوں کرنے اپنی علمی بصیرت کا چراغ جلانے کے لئے کوشاں ہوجاتا ہے جس کے جواب میں اسے کچھ اس کے لائق الفاظ کا تحفہ ملتا ہے قوم نے اپنا شعور کہاں برباد نہ کیا یہاں ان سالوں میں مختلف ایسے حادثات و واقعات رونما ہوتے گئے جہاں ہماری بیٹیوں کو جاڑ پھونک کے نام پر عزت و رفت کی قیمت ادا کرنی پڑی یہ سلسلہ گر چہ ہر طرف اپنی ابلیسیت کا راج کر رہا ہے پر ہماری وادی اب اس کی زد پر کچھ زیادہ ہی آگئے بڑھ رہی ہے
یہاں آئے روز کوئی نشہ باز خود کو کرامات دیکھانے والا کہتا ہے کوئی صاحب خود کو محافظ جنات کہلانا پسند کرتا ہے تو کوئی کسی اور نام سے اسلام کا لبادہ اوڑ کر قوم کے لئے درد سر بنا پھر رہا ہے یقین کریں کہ یہ من چلے کچھ اس قدر ذہین ہیں کہ بیٹھے بٹھائے لاکھوں کروڑوں کے مالک بن جاتے ہیں بس کچھ ابلیسیت کے کارنامے انجام دینے ہیں جو گر چہ ان کے نافلق ان متوالوں کی افواہ ہی کیوں نہ ہو جسے ہر خاص و عام تک پہنچانے کے لئے یہ ہر طرح سے تیار ہوتے ہیں
کہ اپنے پیر خاص کے بارے میں کچھ اس قسم کے افسانے سناتے پھرتے رہتے ہیں کہ آدمی نہ چاہتے ہوئے بھی ان کو ایک بار دیکھنے کی تمنا کر لیتا ہے
کسی ماں کا لخت جگر غائب ہے یا کسی کا شوہر یا کسی معصوم بیٹی کا بھائی تو یہ مریدین اپنی حاضری لگا کر ان ستم رسیدوں پر اک اور ستم ڈھانے کے فراق میں اپنے پیر کے کمالات کی ڈائری لے کر آ ٹپکتے ہیں اور پھر وہی کام شروع ہوجاتا ہے جسے یہ چلہ کشی یا کسی ولی کامل کے سر تھوپنے کے لئے بکرے مینڈک کے ساتھ ساتھ نقدی بھی وصول کرتے رہتے ہیں جب اس سب سے دل کی تسلی نہیں ہوتی تو ان کی نگاہ و نفس میں حرام کی کمائی اپنی تسکین کے لئے وہ سب کر گزرتے ہیں جو اسلام ہی نہیں بلکہ بقیہ ادیان میں بھی قابل نفرت ہی کہلایا جاتا ہے پر کیا کرئے ایسے بد ضمیروں کا جو قوم کو تلوار کے سایہ میں دیکھ کر بھی اپنی نجاست بھری نگاہوں کی تسکین کے متمنی ہی رہتے ہیں
بات اس بوڑھے کی جس کے سبب کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ہنگامہ آرائی دیکھنے کو مل رہی ہے جب پہلی بار اس بوڑھے جس کا نام غنی شیخ بتایا جارہا ہے کو دیکھا تو میں نے ان دیکھا کردیا یہ سوچ کر کہ پتہ نہیں کیا بات ہوگی کیونکہ اکثر ایسی بیہودگیوں سے بچتا ہی رہنا اپنی عادت بنی ہوئی ہے پر ماتھا تب ٹنکا جب یہ سنا کہ موصوف مسجد کے خطیب اور امام بھی ہیں یہ سن کر حیرت کے ساتھ اس کی تلاش کی تو جو دیکھا بس یہ دل میں آیا کہ یا بری اس قوم کا اب کیا ہوگا جس کا رہبر اس قدر بد زبان اور دریدہ دہن ہو میرے لئے اول یہ تصور ہی عبث تھا کہ ایسا بد زبان شخص امام ہے اور ماتم کرنے کو جی چاہا جب اس ے سامنے بیٹھے لوگ مسکرا کر اس کی باتیں سن رہے تھے لفظ فقیری پر موصوف گفتگو کر رہے تھے شاید تصور دے رہے ہوں کہ موصوف فقیر قسم کے آدمی ہیں چلے اس فقیر لفظ کو تصوف کی نظر سے سمجھیں
تصوف میں ایک ایسے شخص کو کہتے ہیں جو نفسی خواہشات کی بجائے صرف خدا کی رضآ کا طالب اور محتاج ہو۔ فقیر مسلمان صوفیاء کے لیے استعمال ہوتا ہے جنہوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی کی بجائے صرف اللہ کے سامنے اپنا سر جھکایا۔ فقیر لوگ اکثر غریب ہوتے ہیں اور اپنا زیادہ وقت خدا کے ذکر میں گزارتے ہیں البتہ ان کے مریدوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے پچھلے ادوار میں بادشاہان وقت ان کے در کی سلامی دیتے تھے
یہ لفظ کتاب و سنت و فقہ کی کتب میں بھی استعمال ہوتا ہے جہاں اس کی اپنی افادیت اور معنی الگ ہیں پر المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر تبصروں کو دیکھیں اس لفظ پر تو اس کا حلیہ بگاڑا گیا ہے جبکہ اس پر توجہ ہی نہ دی گئی کہ موصوف ایک فتنہ گر ہیں نہ کہ کوئی داعیانہ کردار ادا کر رہے ہیں
چلے بڑا ہورہی تھی جناب کی جو کہ پیشہ سے ایک خطیب و امام ہیں امام کے اوصاف میں جہاں کتاب و سنت کا عالم ہونا اہم ہے وہیں اس کا کردار و گفتار بھی نیک اور پاکیزہ ہونا لازمی ہے اب جب امام ان اوصاف حمیدہ کے ساتھ ساتھ ہی کتاب و سنت سے بے بہرہ ہو تو اس صورت میں خطا ان کی بھی ہے جو انہیں سر کا تاج بنا کر رکھتے ہیں نہ صرف کسی جاہل ملا کی ہی یہ ایک ایسا حساس اور نازک کام ہے جہاں علم و عمل دونوں میں یکسانیت لازمی ہے پر کیا کرے کہ جب لوگ شعوری طور پر بے حسی اور فکری سطح پر زوال کا شکار ہوگئے ہوں تو پھر ایسے حادثات ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے بلکہ ہم یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ کوئی بات نہیں ہے بس ہنسی مذاق ہورہا تھا میرے پیار و کیا ہنسی مذاق کے لئے لازمی ہے کہ اسلامی تعلیمات کو ہی تختہ مشق بنایا جائے
نہیں بلکہ یہ ہماری دین و ایمان کے تئیں بے حسی و بے توجہی
کا ثبوت ہے کہ اب مسخرے ہمارے امام بنے ہوئے ہیں مجھے یاد آرہا ہے کہ تاریخ اسلامی میں اس کا شکار پہلی بار سنت صلاح الدین ایوبی کے زمانے میں ہوئی جب حشیش بھنگ کا استعمال کرنے والے افراد کو پہنچی شخصیت کیا جارہا تھا جب ایسے ہی فتنے آئے روز اٹھا کرتے تھے جب حکومت کو اس کی خبر ہوئی تو اس کا تدارک کیا گیا اور یہ فتنہ اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے ساتھ فنا ہوگیا جبکہ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے بلکہ علی الاعلان اسلامی تعلیمات کا مذاق کا مذاق بنایا جاتا ہے اور ہم مسکرا کر شکریہ ادا کر دیتے ہیں
فکری دیوالیہ پن کے شکار لوگ کبھی بحیثیت ملت کبھی کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتے اور نہ ہی اس کی کوئی نظیر آج تک جہاں میں مل سکتی ہے کہ کوئی قوم فکری دیوالیہ پن کی شکار ہوکر کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکی ہو اقوام جہاں میں وہی پنپتی ہیں جن کی فکر بلند ہو جن کے حوصلے بلند ہوں جو مسخرون کی ماتحت رہ کر نہیں جیتی بلکہ بلند کردار بلند افکار رکھنے والوں کا استقبال کیا کرتی ہیں
جہاں تک مجھ سا کم علم سمجھتا ہے ایسے افراد کو توبہ کرنی چاہئے اور ان کا حق باطل ہے کہ وہ خطابت کا فریضہ انجام دیں نہ ہی ان کی اقتداء صحیح ہے جو عقل و خرد سے بے بہرہ اور پاکیزہ اخلاق و اوصاف سے عاری ہوں
چلتے چلتے
سوشل میڈیا پر جو لوگ متحرک ہیں اسلام کے نطریہ رحمت کی آبیاری کے لیئے ان کے لئے بھی صحیح نہیں ہے کہ ہر چیز کو عام کریں بلکہ بہتر ہے ایسے باتوں ایسے بچا جائے جن کے سبب اسلامی تعلیمات مجروح ہورہی ہوں اور نہ کہ ایسے افراد کو قابل توجہ سمجھتا جائے جو اسلامی تعلیمات کے برعکس کسی اور نحوست کے ساتھ جینے کی قسم کھائے ہوئے ہوں یہ کوئی خدمت دین نہیں ہے بلکہ صرف رزالت ہی رزالت ہے ارباب علم اس پر اپنی نگاہیں جمائے رکھیں یہ ہنسی مذاق نہیں ہے بلکہ ایک ایسا ستم ہے کہ گر اس پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو کوئی پوچھنے والا بھی نہ رہے گا جب تک یہ ستم ظریفی کی مصیبت اپنی تمام سیاہ کاریوں کے ساتھ بام عروج پر ہوگئی اور پھر ہمارے لئے رحمتوں کے دروازے بند ہوجائیں گئے
آئے قوم تجھے کیا ہوا تیری داستان ہی ہے لٹ رہی
آئے قوم تجھے کیا کہوں تونے رہزنوں کو ہے خادم قوم بنا دیا
آئے قوم تیری سوچوں کا معیار کیا ہوا کہ تجھے منچلوں نے تباہ کیا
آئے قوم تیری فکر کا یہ زوال کیا ہوا کہ تونے محراب و منبر گرا دیا
آئے قوم تیری کیا بنے گا کہ تیرا رہنما کوئی اب نہیں
آئے قوم للہ اپنا تعلق اہل بصیرت سے جوڑ فسانہ گروں کے طلسم سے نکل جا
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
