تازہ ترین
ڈی اے وائی- این آر ایل ایم تغذیاتی باغیچوں اور پائیں گاہ پولٹری کو فروغ دے رہا ہے، تاکہ روزگار اور تغذیاتی تحفظ کی صورت حال کو بہتر بنایا جاسکے
نیتا کیجریوال
کووڈ-19 کی وبا کے سبب روزگار، غذائیت اور صحت خدمات کے متاثر ہونے کے سبب ڈی اے وائی- این آر ایل ایم پوشن ماہ 2020 کے دوران تغذیاتی باغیچوں کو فروغ دینے کے لیے ایک مہم کی قیادت کررہا ہے۔ اس سے تغذیاتی تحفظ اور غریب ترین اور سوئے تغذیہ سے متاثرہ لوگوں کے لیے آمدنی کے اسباب پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
کووڈ-19 کی غیرمعمولی وبا کے سبب متعدد سوالات کھڑے ہورہے ہیں، جن میں دیہی برادریوں کے روزگار، خوراک اور تغذیاتی تحفظ سے متعلق مسائل کا ازالہ کیے جانے کی ضرورت ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران غذائیت پر مبنی روزگار جیسے تغذیاتی باغیچوں اور پائیں گاہ پولٹری میں شروع شروع کی سرمایہ کاری ایک نعمت ثابت ہوئی ہے۔ اس سے کنبوں کو مقامی سطح پر اس وقت انڈوں اور غذائیت بخش سبزیوں تک رسائی میں مددملی، جب سپلائی چین، نقل وحمل اور بازاروں تک رسائی بری طرح متاثر تھی۔ دیہی ترقیات کی وزارت کے تحت دین دیال انتودیہ یوجنا –قومی دیہی روزگار مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) نے اس تجربے سے فائدہ اٹھایا ہے۔
ژچگی کی عمر والی 50 فیصدسے زیادہ خواتین میں خون کی کمی کی شکایت ہے اور تقریبا 23 فیصد بی ایم آئی کی قلت کا شکار ہیں۔ اس بات کا اظہار این ایف ایچ ایس -4 (2015-16) کے اعداد وشمار سے ہوتا ہے۔ صحت اور تغذیاتی خدمات تک حقدار خواتین کی رسائی ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان 51.2 فیصد خواتین میں سے محض 4 یا اس سے زیادہ خواتین اینٹی نیٹل کیئر وزٹ کرسکیں اور 30.3 فیصد خواتین نے کم از کم 100 دنوں تک آئی ایف اے لیا۔ (ایل ایف ایچ ایس-4) رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیسے ملک گیر لاک ڈاؤن کے سبب خواتین اور بلوغت کی عمر کو پہنچ رہی لڑکیوں کے لیے ضروری خدمات سے متعلق التزامات کی راہ میں رخنہ پڑا،جس سے پہلے ایک ہزار دنوں کے دوران خواتین کی غذائیت اور صحت کو بہتر بنانے کے سلسلے میں جوکامیابیاں ملی تھیں،ان کو دھچکا پہنچا۔
63.3لاکھ سے زیادہ ایس ایچ جی اور6.98کروڑخواتین اراکین پرمشتمل اپنے نیٹ ورک کے ساتھ ڈی اے وائی –این آرایل ایم غذائیت اور صحت کے متعلق اپنی صورتحال میں بہتری سمیت غریب کنبوں کی غریبی کودورکرنے اورسماجی ترقی کی سمت میں کام کرنے کے لئے قدم اٹھارہاہے ۔ مشن اپنی سرگرمیوں کا از سر نو آغاز کررہا ہے، جس میں خصوصی توجہ کمیونٹی پر مبنی اداروں کے لچیلے پن کو مضبوط کرنے پر ہے، تاکہ ہنگامی حالات کے سبب غذائی اور تغذیاتی تحفظ پر،جو ضرب پڑی ہے، اس کا تدارک کیا جاسکے۔
ایس ایچ جی اور ان کے فیڈریشنوں کی طاقت ان کے آؤٹ ریچ، نیٹ ورک اور سماجی سرمایے میں مضمر ہے۔ صلاحیت سازی، کمیونٹی پر مبنی ایس ایچ جی اداروں کو مضبوط بنانا اور غذائیت نیز غذائی عناصر کے تئیں حساس زرعی ماڈل پر کمیونٹی میں ری سورس پرسنس کی ٹریننگ، حکمت عملی کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ ان ابتدائی سرمایہ کاریوں نے ان سرگرمیوں کو بڑھانے کےلیے کمیونٹی پر مبنی مطلوبہ ادارہ جاتی آرکیٹکچربھی فراہم کیا ہے۔ یہ بات تب ہے جب ریاستیں کووڈ-19 کے انفیکشن کے بڑھتے معاملات سے نبردآزما ہیں۔
اس ثبوت کی بنا پر کہ خواتین کی فیصلہ سازی اور اقتصادی آزادی کو بڑھاوا دینے سے کمیونٹی اور کنبے کی سطح پر کھانے پینے اور غذائی تنوع کے تعلق سےاپنی آمدنی میں سے مختص کی جانے والی رقم کی صورت حال بہتر بنتی ہے، مشن نے 2010-11 میں مہیلا کسان سشکتی کرن پریوجنا (ایم کے ایس پی) کا آغاز کیا تھا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ڈی اے وائی – این آر ایل ایم کے تعلق سے ایم کے ایس پی کو آفاتی حیثیت دے دی گئی ہے اور زرعی روزگار کے فروغ کو سبھی ریاستوں کے دیہی روزگار مشن سے متعلق سالانہ کارروائی منصوبے میں شامل کیا جارہا ہے۔ اب تک 40.22 لاکھ کنبوں کو تغذیاتی باغیچوں کے قیام کے کام میں مدد دی گئی ہے۔ ریاستی مشنوں کو تعاون دینے کےلیے بہترین طور طریقوں پر مبنی کی ایک قومی ایڈوائزری بھی لائی گئی تھی۔ ان سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اگائی جانے والی سبزیوں کے غذائی مشمولات سے متعلق بیداری پیدا کرنے کا کا م بھی کیا جارہا ہے۔
چھتیس گڑھ دیہی روزگار مشن (سی جی-ایس آر ایل ایم) نے تغذیاتی باغیچوں کو فروغ دینے کے لیے روزگار سے متعلق اپنے اقدامات کے تحت ایک ریاست گیر حکمت عملی کا آغاز کیا تھا۔یہ پائیں گاہ کچن گارڈن یا تغذیاتی باغیچے مختلف قسم کی غذائیت بخش سبزیوں کی کاشت میں لگے ہوئے ہیں، تاکہ کنبوں کےلیے سالوں بھر غذائی تحفظ کویقینی بنایا جاسکے۔ اس کا مقصد حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں، بلوغت کی عمر کو پہنچ رہی لڑکیوں اور بچوں سمیت ایس ایچ جی کنبوں کو مسلسل تغذیاتی تعاون فراہم کرنا بھی ہے۔ان باغیچوں کو لگانے میں خرچ بھی کم آتا ہے اور اس کی دیکھ بھال کنبے کے استعمال شدہ پانی کو استعمال میں لاکر کی جاسکتی ہے۔
ریاست کے، برتاؤ میں تبدیلی سے متعلق مواصلاتی حکمت عملی میں خصوصی توجہ ماؤں اور نوجوانوں کی صحت پر مرکوز کی گئی ہے، جس میں ایک ہزار دنوں کے اندر ژچگی کی عمر سے متعلق گروپوں کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔چھتیس گڑھ میں پوشن سکھیوں، جنہیں ‘ماگن مٹس’ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، کو اس طرح تربیت دی گئی ہے کہ وہ مشترکہ طور پر سیکھی گئی چیزوں اور تجزیاتی تکنیک کا استعمال حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور بلوغت کی عمر کو پہنچ رہی لڑکیوں کے برتاؤ میں تبدیلی کے لیے کر سکیں۔ یہ کام چھتیس گڑھ کے بستر ضلع میں نافذ کیے جارہے ایک تجرباتی پروگرام ‘سوابھیمان’ کا حصہ ہے۔ اس پروگرام کو تکنیکی تعاون یونیسیف انڈیا کے ذریعے فراہم کرایا جارہا ہے۔ ان ہدف شدہ گروپوں کے درمیان بیداری پیدا کرنے والی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ وہ تغذیاتی خدمات کے مطالبات بھی پیش کرتی ہیں۔ اس کے لیے وہ اے این ایم، اے ایس ایچ اے اور آگن واڑی کارکنوں کے ساتھ تال میل سے کام کرتی ہیں، تاکہ ٹیک ہوم راشن جیسے استحقاق کو یقینی بنایا جاسکے اور اس ہدف شدہ گروپ کو آئی ایف اے ٹیبلیٹس فراہم ہوسکیں۔
پوشن سکھیاں کچن گارڈن اور پائیں گاہ پولٹری کے قیام کے لیے کرشی سکھیوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔یہ سرگرمیاں ان موجودہ سرگرمیوں کے علاوہ ہیں، جن میں بچوں کو ماں کا دودھ پلانے ، بچوں کو لازمی طور پر ماں کا دودھ پلانے اور بچوں کی غذائیت پر زور دیا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ میں اس پروگرام سے جو کچھ سبق ملا ہے، انہیں ریاست کے 6 اضلاع تک وسعت دی گئی ہے اور اسے مزید پھیلایا جائے گا۔
ڈی اے وائی-این آر ایل ایم نے پی آراے ڈی اے این جیسی سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ اشتراک کیاہے ۔ تاکہ غذائی اعتبارسے حساس زرعی طورطریقوں اور روزگارکو مختلف اضلاع میں فروغ دیاجاسکے ۔ چھتیس گڑھ –اسٹیٹ مشن میں زرعی محکموں سے بھی فائدہ اٹھایاہے تاکہ تغذیاتی باغیچوں کے فروغ کے لئے پودے اوربیج دستیاب کرائے جاسکیں ۔ اسی طرح کی کوششیں سبھی ریاستی مشنوں میں جاری ہیں ۔
مشن اپنی غذا، صحت اور واش ( ڈبلیو اے ایس ایچ ) سے متعلق حکمت عملی کو جینڈرٹرانسفارمیٹوبنانے کے تئیں بھی پابندعہد ہے تاکہ خواتین کو اتنابااختیاربنادیاجائے کہ وہ صنفی مسائل کا تدارک کرسکیں جس کا اثران خدمات تک رسائی پرپڑتاہے ۔ خواتین کی قیادت میں روزگاراور صنعتوں کو مضبوط کرکے خواتین کی صحت سے متعلق معاملے کو آگے بڑھایاجاناچاہیے۔خواتین کی صحت کو بہتربنانے اورڈی اے وائی ۔این آرایل ایم اورپوشن ابھیان کے ذریعہ طے شدہ تغذیاتی اہداف کے حصول کی خاطرپائیدارتبدیلی کے لئے یہ اقدامات ضروری ہیں ۔
(مضمون نگار محترمہ نیتا کیجریوال، حکومت ہند کی دیہی ترقیات کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری ہیں)
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
