پاکستان
مسلم لیگ (ن) کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اور وزیر داخلہ کی وارننگ، آگے کیا ہو گا؟
لاہور —
موسمِ خزاں کی آمد کے باوجود پاکستان میں سیاسی درجۂ حرارت اب بھی زیادہ ہے۔ ایک جانب جہاں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے تو وہیں مسلم لیگ (ن) کے اسیٹبلشمنٹ مخالف بیانیے اور حکومتی وزیر کی وارننگ کے بعد سیاسی ماحول میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کے پاکستانی سیاست میں کردار کے بارے میں جو باتیں پہلے بند کمروں اور سرگوشیوں میں ہوتی تھیں۔ اب وہ سیاسی اجتماعات اور چوراہوں میں ہونے لگی ہیں۔ اِس تمام صورتِ حال پر وائس آف امریکہ نے پاکستان کے چند معروف تجزیہ کاروں سے بات کی ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ کا بیان
چند روز قبل وفاقی وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ نے ننکانہ صاحب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب عوامی نیشنل پارٹی نے طالبان کی مخالفت کی تو انہوں نے ردِعمل میں میاں افتخار کے بیٹے کو مار دیا اور بلور خاندان کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ لہذٰا جو لوگ مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کے ساتھ ہیں اُنہیں بھی خطرہ ہے۔
سینئر تجزیہ کار اور اینکر حامد میر کہتے ہیں کہ وزیرِ داخلہ کی یہ دھمکی کسی فرد یا جماعت کو نہیں بلکہ ایک طرح سے ریاست کو دی گئی ہے جس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔
سینئر صحافی اور انگریزی اخبار ‘ڈان’ کے ایڈیٹر اشعر رحمان سمجھتے ہیں کہ اعجاز شاہ کا ہمیشہ سے یہی انداز ہے کہ وہ دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ اُن پر پہلے بھی الزامات لگتے رہے ہیں۔ اُن کو تھوڑے تھوڑے دنوں کے بعد اِس طرح کی بات کرنی ہوتی ہے۔ جس میں اپنی مرضی کا پہلو نکالا جا سکتا ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار صابر شاکر کہتے ہیں کہ اعجاز شاہ صاحب اپنے بیان کی خود وضاحت کر سکتے ہیں کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے اور وہ کیا کہہ کر گئے ہیں۔
آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا نام جلسوں میں کیوں؟
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ پاکستان کی حزبِ اختلاف کی جماعتیں ریاستی اداروں کے خلاف جو بیانیہ استعمال کر رہی ہیں، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف اور جنرل فیض حمید کی بطور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تعیناتیاں بالکل درست ثابت ہو رہی ہیں۔
اتوار کو گلگت بلتستان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ جب یہ لوگ اُنہیں بلیک میل کرنے میں ناکام ہو گئے تو انہوں نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے خلاف باتیں کرنا شروع کر دیں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ان لوگوں نے اب آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف پر بندوقیں تانی ہوئی ہیں۔ اگر یہ چور اور ڈاکو آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے خلاف بول رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اُنہوں نے دونوں کا بالکل ٹھیک انتخاب کیا ہے۔
حامد میر کہتے ہیں جنرل قمر جاوید باجوہ کا بطور آرمی چیف انتخاب نواز شریف نے کیا تھا۔ اُس کے بعد اُن کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا فیصلہ عمران خان نے کیا تھا۔
اُن کے بقول اُس میں بھی عمران خان اکیلے نہیں تھے۔ اِس فیصلے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور نواز شریف کی پارٹی بھی شامل تھی۔ البتہ فیض حمید کے بارے میں وہ کہتے سکتے ہیں کہ وہ اُنہی کا انتخاب ہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ شاید عمران خان، جنرل باجوہ اور فیض حمید کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نواز شریف نے آپ کو نشانہ بنایا ہوا ہے تو وہ اُن کے پیچھے کھڑے ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اِس صورتِ حال میں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ اُن کا انتخاب درست تھا تو وہ بھی نواز شریف کی طرح فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ “میرا نہیں خیال کہ باجوہ صاحب اور فیض حمید کو اِس وقت عمران خان کی اسپورٹ کی ضرورت ہے۔ اِس وقت اگر عمران خان اُن کا نام لے کر یہ کہیں کہ ہاں اِن کا میں نے انتخاب کیا ہے اور یہ میرا درست انتخاب ہیں تو دراصل وہ نواز شریف کے مؤقف کی تائید کر رہے ہیں، لہذٰا جنرل باجوہ اور فیض حمید کو اِس کا فائدہ نہیں نقصان ہے۔”
صابر شاکر سمجھتے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض کو جتنا ‘پولیٹیسائز’ ہونا تھا وہ ہو گئے۔ وہ براہِ راست کسی کو جواب نہیں دے سکتے جب کہ اپوزیشن جماعتیں عمران خان، فوج، آرمی چیف اور جنرل فیض کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے صابر شاکر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی یہ کوشش ہے کہ کسی طریقے سے یہ پارٹنر شپ (شراکت داری) ٹوٹ جائے۔
اُن کے بقول “ڈی جی آئی ایس پی آر نے بہت محدود گفتگو کی اور وہ نہیں چاہتے کہ براہِ راست کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ اُلجھا جائے۔ اِس پس منظر میں وزیراعظم نے بطور چیف ایگزیکٹو بات کی ہے۔”
اشعر رحمان سمجھتے ہیں کہ جب بھی ایسا کوئی بیان سامنے آتا ہے تو عام آدمی کو یہی لگتا ہے کہ پردے کے پیچھے کچھ نہ کچھ تو ہے جو ایسی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اشعر رحمان نے کہا کہ جس طرح ایاز صادق نے بیان دیا اور اس نوعیت کے دیگر بیانات ماضی میں کم ہی ملتے ہیں۔
اُن کے بقول پاکستان کی سیاست کو ایک خاص تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ جس میں بہت سارے کنگ میکرز ہیں۔ ہمیشہ سے کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کنگ میکرز ہوتے ہیں۔کیا مریم نواز کے بیانیے میں نرمی آ رہی ہے؟
اتوار کو لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کے بیانیے میں ریاستی اداروں بارے بیانیے میں قدرے نرمی محسوس کی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ “آپ لوگوں نے وردی کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی لیکن دیکھنا ہے کہ وردی کو داغ دار کرنے والے دو، تین کردار کون سے ہیں؟”
صابر شاکر کی رائے میں شریف خاندان کا صرف ایک مسئلہ ہے یہ انقلابی ہرگز نہیں ہیں۔ یہ مدبر بھی نہیں ہیں۔ یہ معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اُن کے بقول ہمارے سامنے جنرل جیلانی اور جنرل ضیاءالحق کی ایک پوری تاریخ ہے۔ اِن کے کوئی اصول نہیں ہیں۔ انہوں نے مشرف کو غیر آئینی حکمران کہا، لیکن پیپلز پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت میں اسی مشرف سے وزارتوں کے حلف لیے۔
صابر شاکر کے بقول “یہ انقلابی یا نظریاتی سیاست نہیں ہو رہی۔ یہ مفادات کی سیاست ہے۔ شریف خاندان اِس وقت ڈو اور ڈائی (مر جاؤ یا مار دو) کی پوزیشن میں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاست میں اُنہوں نے بھرپور قسم کی مزاحمت نہ کی تو وہ اپنی قدر کھو دیں گے۔”
صابر شاکر کہتے ہیں کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت فوج پر تنقید کے معاملے پر شہباز شریف کا خاندان بالکل الگ تھلگ نظر آتا ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ مریم نواز کے بیانیے میں کوئی نرمی نہیں آئی ہے کیوں کہ بطور ادارہ نواز شریف نے فوج کی کبھی مخالفت نہیں کی اور نہ ہی مریم نواز کر رہی ہیں۔
اُن کا یہ مؤقف ہے کہ فوج میں کچھ عناصر خرابی کرتے ہیں اور اُن کی مزاحمت ایسے عناصر کے خلاف ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ “میں نہیں سمجھتا کہ مریم نواز نے فوج کو بطور ادارہ کبھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ نام لیتی ہیں لوگوں کے کچھ انفرادی شخصیات کے نام لیتی ہیں۔ نواز شریف بھی نام لیتے ہیں۔ نواز شریف اور مریم نواز کا مؤقف پہلے دن سے ہی واضح ہے۔”
اشعر رحمان کی رائے میں جب سے مریم ںواز دوبارہ متحرک ہوئی ہیں۔ اُن کے لہجے میں اُس طرح کی سختی نہیں ہے جتنی میاں نواز شریف کے لب و لہجے میں ہے۔ اُن کے بقول چند روز قبل شاہد خاقان عباسی بھی غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے قومی مذاکرے کی تجویز دے چکے ہیں جس سے لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے بات چیت کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے۔کیا ن لیگ میں فارورڈ بلاک بن پائے گا؟
ادھر مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما عبدالقادر بلوچ کی جانب سے فوج مخالف بیانیے پر پارٹی چھوڑنے کے اعلان نے بھی سیاسی میدان میں ہلچل پیدا کر دی ہے جس کے بعد پارٹی میں فارورڈ بلاک بننے کی چہ موگوئیاں کی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کار اشعر رحمان سمجھتے ہیں کہ کسی بھی سیاسی جماعت کا فارورڈ بلاک اُسی وقت بنتا ہے جب سیاست دانوں کی بہت بڑی تعداد ہو جو الگ ہو جائے یا پھر چند بڑے پارٹی رہنما جماعت چھوڑ دیں۔
اشعر رحمان نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ابھی فی الحال آج کے دن تک فارورڈ بلاک میں کوئی بڑا نام آیا ہے، ہو سکتا ہے کہ دو چار دن میں یہ بات غلط ثابت ہو جائے۔ نہ تو ابھی اُس میں بڑے رہنما شامل ہوئے ہیں اور نہ ہی بہت بڑی تعداد ہے۔
اشعر رحمان کہتے ہیں کہ “(ن) لیگ کا جو فارورڈ بلاک ہے وہ تو شہباز شریف کی صورت میں ہمیشہ سے موجود ہے۔ اُس سے زیادہ فارورڈ بلاک کی کیا ضرورت ہے۔ اگر اُن سے بات کرنی ہے تو وہ موجود ہیں۔ اِس پارٹی میں تو پہلے سے ہی بہت گنجائش موجود ہے۔”
صابر شاکر سمجھتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حالیہ بیانیے کا کوئی بھی ساتھ نہیں دے سکتا۔ کیوں کہ ملک کی فوج کے خلاف کھڑے ہو کر نہ تو سیاست ہو سکتی اور نہ ہی کوئی اس کی حمایت کر سکتا ہے۔
صابر شاکر کہتے ہیں کہ “سات ستمبر کے بعد یہ سب کچھ خراب ہوا ہے۔ سات ستمبر سے پہلے سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ سات ستمبر کو محمد زبیر نواز شریف اور مریم نواز کے لیے ریلیف لینے آرمی چیف کے پاس گئے، اگر آرمی چیف اُن کی بات مان لیتے تو مسلم لیگ (ن) کا یہ بیانیہ نہ ہوتا اور یہی لوگ جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید کے گُن گا رہے ہوتے۔”
حامد میر کی رائے میں “قادر بلوچ اگر مسلم لیگ (ن) سے الگ ہو جائیں تو بہتر ہے۔ وہ جب مسلم لیگ (ن) میں آئے تھے تو وہ آئے نہیں تھے بلکہ کچھ لوگ خود اُن کو لائے تھے۔ اُن کی واحد قابلیت یہ تھی کہ اُن کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اور ہو سکتا ہے کہ راحیل شریف کی بطور آرمی چیف تعیناتی میں بھی اُن کا کردار ہو۔”
حامد میر کے بقول “نواز شریف کے دور میں جب لاپتا افراد کے لیے نواز شریف نے کچھ کرنے کی کوشش کی تھی اُس میں بھی قادر بلوچ ایک رکاوٹ تھے جب کہ جنرل مشرف کو ریلیف دلوانے میں بھی اُن کا کردار رہا ہے۔”
حامد میر کے بقول پارٹی کے اندر ایک سیاسی رہنما یا سیاسی کارکن کے طور پر کبھی بھی ریٹائرڈ جنرل عبدالقادر بلوچ صاحب کی پہچان نہیں بن سکی۔ اُن کی پہچان صرف یہ ہے کہ ثناء اللہ زہری کے وہ بہت بڑے حمایتی ہیں اور ثناءاللہ زہری اُن کے قبیلے کے سردار ہیں۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ کوئٹہ میں جب پی ڈی ایم کا جلسہ ہوا تھا تو (ن) لیگ کی جانب سے اُنہیں یہی بتایا گیا تھا کہ اُنہوں نے ثناءاللہ زہری کو اسٹیج پر بٹھانے کی کوشش کی، لیکن پارٹی نے اُن کی بات نہیں مانی۔ اَب اگر یہ پارٹی چھوڑنا چاہتے ہیں تو چھوڑ دیں۔ قادر بلوچ صاحب کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان7 days agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
