پاکستان
امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ، معاشی ترقی یا کچھ اور؟
کراچی — پاکستانی کرنسی کی قدر میں گزشتہ دو ماہ کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں 5 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 26 اگست کو ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت میں تاریخی گراوٹ ہوئی اور انٹربینک میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 168.30 روپے ہو گئی تھی، تاہم دو ماہ کے دوران اس کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی جا چکی ہے اور اب یہ شرح 160 روپے سے نیچے گر چکی ہے۔ جمعے کو رواں ہفتے کے اختتام پر انٹربینک میں امریکی ڈالر کی قیمت مزید 37 پیسے کی کمی کے بعد 159 روپے 9 پیسے ہو گئی ہے۔ جب کہ اوپن مارکیٹ میں یہ قیمت 40 پیسے کم ہوئی اور ایک امریکی ڈالر کی قیمت 159 روپے 30 پیسے کا ہو چکا ہے۔ ایکسچینج ریٹ کے کاروبار سے وابستہ افراد کا خیال ہے پاکستانی روپے کی قدر میں مزید بہتری کا امکان نمایاں ہے۔ فاریکس ایکسچینج ڈیلرز روپے کی قیمت میں بہتری کی وجہ مرکزی بینک کی کے اقدامات کو قرار دیتے ہیں۔ فاریکس ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے رہنما ظفر پراچہ کے مطابق رقوم کی منتقلی کے کئی غیر قانونی ذرائع بند کرنے سے ترسیلات زر میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مرکزی بینک نے منی لانڈرنگ اور سرمائے کی بیرون ملک منتقلی روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں جس کے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ کرنٹ اکاونٹ خسارہ جو 40 ارب ڈالرز تک پہنچا ہوا تھا، درآمدات میں کمی سے اب سرپلس میں تبدیل ہو گیا ہے جس سے روپے کی قدر پر مثبت اثرات پڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہماری برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا لیکن کووڈ 19 کی وباء کے باوجود بھی دیگر ممالک کی طرح اس میں نمایاں کمی بھی نہیں ہوئی ہے۔ ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ متعارف کرانے سے بھی ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس ایپلیکیشن سے پہلے 100 ملین روپے روزانہ کی ترسیلات ہوتی تھیں، مگر اب روزانہ کی اوسط 400 ملین سے بڑھ چکی ہے اور ابھی صرف 11 بینک ہی یہ سروس فراہم کر رہے ہیں جب کہ بیرون ملک کام کرنے والے تمام کارکن بھی اس سے مستفید نہیں ہوئے ہیں۔ ظفر پراچہ کے مطابق اب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بینکنگ چینل سے پیسے بھیجنے میں کافی آسانی ہو گئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اپنے ٹریژری بلز میں غیر ملکی کرنسی کی سرمایہ کاری پر دنیا میں سب سے زیادہ منافع دے رہا ہے جس کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ باہر سے یہاں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

Pakistani pedestrians walk past the Pakistan Stock Exchange (PSE) in Karachi on January 11, 2016. The benchmark PSE-100 index was down 32354.43 in mid-day trade. AFP PHOTO / Rizwan TABASSUM / AFP PHOTO / RIZWAN TABASSUM
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کرنسی کی قیمت میں حالیہ اضافے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ کرونا وباء کی وجہ سے کئی ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے پاکستان کے ذمے واجب الادا قرضوں کو ری شیڈول کر دیا ہے۔ جس سے یقینی طور پر پاکستان کو غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے میں مدد مل رہی ہے اور ملکی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے۔
“روپے کی قدر میں اضافہ ہماری کوششوں سے نہیں ہورہا”
ایک جانب جہاں بعض ماہرین حکومتی پالیسیوں کی تائید کرتے اور انہیں معیشت کے لیے سراہتے نظر آتے ہیں تو دوسری جانب کئی معاشی ماہرین اس خیال سے زیادہ اتفاق نہیں کرتے۔ ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن کے خیال میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری کی وجہ حکومتی پالیسیوں سے زیادہ بیرونی عوامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کرونا وبا سے پیدا شدہ معاشی سست روی کی صورت حال میں خود امریکی ڈالر کی قیمت میں تاریخی کمی دیکھنے میں آئی ہے اور اب اس کے ساتھ امریکی انتخابی نتائج کی فضا بھی اس میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اشفاق حسن کا کہنا تھا کہ اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں امریکی ڈالر دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں خود گراوٹ کا شکار ہے۔ اب چونکہ ہم اپنی کرنسی کو امریکی ڈالر سے منسلک کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ جب ایک کرنسی نیچے جا رہی ہوتی ہے تو دوسری کرنسی کی قیمت میں خود بخود اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے امریکی معشیت کو کافی دھچکا پہنچا ہے، جس میں مزید اضافہ امریکی انتخابات کے نتائج سے بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے-

ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا ہے کہ ایسی صورت حال میں جن لوگوں نے پہلے سے امریکی ڈالر میں اپنی سرمایہ کاری کر رکھی ہے وہ ڈالر کو مارکیٹ میں فروخت کر رہے ہیں اور دیگر اثاثے خرید رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس سے پاکستانی روپے کی قدر میں کچھ بہتری دیکھنے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل میں روپے کی قدر میں اضافے کا انحصار ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر سے ہے۔ جب تک ان میں بہتری نہ آئے تو کرنسی کی قیمت پر زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ معاشی ماہرین کے مطابق ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے زرعی اور معاشی ترقی کی رفتار کو بڑھانا ہو گا تاکہ برآمدات کو تیزی سے بڑھایا جائے جس سے پاکستانی روپے کی قیمت میں اصل استحکام آ سکے گا۔ واضح رہے کہ 2019 میں آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج ملنے کے بعد پاکستان نے فری فلوٹ ایکسچینج ریٹ کی پالیسی اپنائی جس کے تحت کئی دہائیوں کے بعد ملک کے مرکزی بینک کی جانب سے سختی کے ساتھ کنٹرول کیے جانے والے ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کی بنیاد پر لچکدار ایکسچینج ریٹ سے تبدیل کیا گیا۔ حکام کے مطابق موجودہ حکومت سے قبل ڈالر کی قیمت مصنوعی طور پر فکس رکھی گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں ملک کو بعد میں بڑے پیمانے پر کرنسی کی قیمت میں کمی کے اثرات سے گزرنا پڑا جو معاشی سست روی کی ایک اور اہم وجہ سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں کرنسی کی قیمت گرنے سے درآمدت مہنگی ہو جاتی ہیں اور یہ اثر صارف تک جا پہنچتا ہے۔ جب کہ کرنسی کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی کم ہونے میں مدد ملتی ہے۔
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے
اسلام آباد، پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ۔ایران جنگ بندی کے لئے 60 روزہ مذاکرات کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
پاکستان کے حکومتی ذرائع کی اج بروز بدھ انادولو ایجنسی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کی غرض سے 60 روزہ نئے مذاکراتی دور کے آغاز کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کے تحت تجویز کردہ نئے شیڈول کا مقصد، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے معاملے پر تعطل کے شکار، براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ اطلاع کے مطابق پاکستان کی تجویز کا مقصد فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔
پاکستان کی نئی تجویز کے حوالے سے واشنگٹن، تہران یا اسلام آباد کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد کی یہ نئی کوشش ابتدائی 60 روزہ مدت گزشتہ ہفتے ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ فریقین نے اس مدت میں توسیع کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔ یہ مدت 17 جون کو شروع ہوئی اور 16 اگست کو ختم ہوگئی تھی۔
پاکستانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اس بات پر ایک غیر اعلانیہ مفاہمت موجود ہے کہ دونوں ممالک نیا تنازعہ شروع نہیں کریں گے۔
بتایا گیا ہے کہ تازہ پیش رفت پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران کے بعد سامنے آئی ہے۔ منیر کی ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں طویل عرصے سے تعطل کے شکار امریکہ-ایران براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز پر غور کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، کم از کم 15 نومولود بچے جاں بحق
اسلام آباد، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک سرکاری اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے کم از کم 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ بدھ کی صبح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کی تیسری منزل پر لگی۔
مقامی نشریاتی ادارے جیو ٹی وی نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 15 بتائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے کچھ دیر پہلے لگی اور اب اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔ جیو ٹی وی نے بتایا کہ صرف ایک نومولود بچے کو زندہ بچایا جا سکا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے ’’گہری تعزیت‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ’’فوری تحقیقات‘‘ کی ہدایت کی۔
انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف ’’سخت ترین کارروائی‘‘ کی جائے گی۔
جیو ٹی وی نے امدادی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ خراب ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات عام ہیں، جہاں حفاظتی ضوابط اور تعمیراتی قوانین پر اکثر عمل نہیں کیا جاتا یا ان کا نفاذ مؤثر نہیں ہوتا۔ جنوری میں جنوبی بندرگاہی شہر کراچی کے ایک گنجان تجارتی مرکز میں شدید آتشزدگی سے کم از کم 65 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
بدھ کا واقعہ پاکستان کی تاریخ میں اسپتالوں میں پیش آنے والے ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعات میں سے ایک ہے۔ حکومت سرکاری اسپتالوں کے ذریعے رعایتی طبی سہولیات فراہم کرتی ہے، تاہم سرکاری شعبہ صحت شدید مالی قلت، ناقص انتظام اور گنجائش سے زیادہ مریضوں کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
