اہم خبریں
لوگوں کا پولنگ مراکز پر بھاری جماؤ
سیکورٹی پہرے اور سرد موسم کے بیچ جمعہ کو وادی میں ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کے تیسرے مرحلے میں16نشستوں سمیت مجموعی طور پر33نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے،جبکہ پنچایتی و بلدیاتی ضمنی انتخابات میں بھی رائے دہندگان نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ انتخابات کے دوران شمالی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں جہاں لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملی وہیں جنوبی کشمیر کے اکثر علاقوں میں ووٹنگ کی شرح کم رہی۔ پولنگ مراکز میں عملہ دن بھر مصروف بھی دیکھنے کو ملا وہیں بیشترمراکز پر وہ دن بھر ووٹروں کے انتظار میں بھی دیکھے گئے۔وادی میں مجموعی طور پر32فیصد کے قریب ووٹنگ ریکارڑ کی گئی۔جمعہ کو وادی کے16حلقوں بارہمولہ میں سنگرامہ، واگورہ،کپوارہ میں ہائیہامہ، قاضی آباد،پلوامہ دوم ،کولگام کے کونڈاور آری پل ترال،بڈگام میں سکھ ناگ،بانڈی پورہ میں بنکوٹ،شوپیاں اول، دوئم کے علاوہ گاندربل اے،بی ،سی کے علاوہ اننت ناگ میں ہلر اور کھوری پورہ شامل ہیں،میں صبح7بجے سے ہی ووٹ ڈالے گئے ،جس کے دوران166امیدواروں کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ مشینوں میں بند ہوا۔جمعہ کو جموں کشمیر میں مجموعی طور پر33 ڈی ڈی سی نشستوں پر انتخابات ہوئے،جن پر305امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا۔تیسرے مرحلے میں خالی بلدیاتی اور پنچ و سرپنچ نشستوں پر بھی ضمنی انتخابات ہوئے جن میںسرپنچ ضمنی اِنتخابات کیلئے 66 حلقوںپر 184 اُمید واروں کے درمیان مقابلہ تھا۔
پنچ ضمنی انتخابات میں 1738 حلقوں میں 327 حلقوں میں 749 امیدوار میدان میں تھے۔تیسرے مرحلے میں مجموعی طور پر7لاکھ37ہزار648رائے دہندگان کو رائے دہندگی کے اہل قرار دیا گیا ہے، جبکہ وادی میں رائے دہندگان کی تعداد3لاکھ74ہزارتھی۔ مجموعی طور پر حکام نے2046انتخابی مراکز کا قیام عمل میں لایا ہے،جن میں وادی میں1254اور جموں میں792شامل ہیں۔ارشاد احمد کے مطابق وسطی ضلع گاندربل میں ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ چند ایک انتخابی مراکز پر لوگوں میں جوش و خروش تھا جبکہ چند ایک پر دن بھر عملہ آپسی گپ شپ میں مشغول رہا،اور ان میں برائے نام پولنگ ہوئی۔ضلع کی تین نشستوں،سرپنچ کی 7 نشستیں اور چار پنچ نشستوںکے لئے رائے دہندگان نے اپنے من پسند امیدواروں کو ووٹ دیئے۔ کچھ پولنگ اسٹیشن پر صبح سے ہی لمبی لمبی قطاریں کھڑی تھی اور کچھ پولنگ اسٹیشن پر موجود عملہ دن بھر رائے دہندگان کے انتظار میں بیٹھا رہا لیکن کوئی بھی ووٹ ڈالنے نہیں آیا۔بڈگام میں سکھ ناگ نشست پر انتخابات کے دوران کئی مراکز پر لوگوں کی چہل پہل تھی جبکہ کئی ایک میں عملہ ووٹروں کا انتظار کر رہے تھے۔ اشرف چراغ کے مطابق شمالی ضلع کپوارہ کی دو انتخابی نشستو ں کے لئے59 ہزار 307ووٹوں میں سے27ہزار 464ووٹ ڈالے گئے اور کل ملا کر ضلع میں ووٹنگ کی شرح فی صد 46رہی اور دوسرے مرحلے کے مقابلے میںکم ووٹ ڈالے گئے ۔ قاضی آ باد میں ضلع ترقیاتی کونسل کے علاوہ سر پنچ کی7نشستیں خالی تھیں جبکہ 96پنچ نشستیں بھی خالی پڑی تھیں اور ان کے لئے بھی جمعہ کو ہی ووٹ ڈالے گئے ،ہایہامہ حلقہ میں ضلع ترقیاتی کونسل کی 1اور پنچو ں کی 28نشستیں خالی پڑی تھیں ۔ عازم جان کے مطابق بانڈی پورہ ضلع میں تیسرے مرحلے کے ڈی ڈی سی و ضمنی پنچ وسرپنچ انتخابات میں13 68.فیصدی ووٹ بنہ کوٹ بانڈی پورہ بلاک میں ڈالے گئے ۔شدت کی سردی میں صبح 7بجے سے ہی لوگوں کی لمبی قطاریں پولنگ بوتھوں کے سامنے دیکھی گئی جبکہ معیاری عملیاتی طریقہ کارکی دھجیاں بکھیر دی گئیں ہیں بغیر ماسک لوگوں کی بڑی تعداد پولنگ بوتھوں کے سامنے انتظار کرتے ہوئے دیکھے گئے۔فیاض بخاری کے مطابق بارہمولہ میں سنگرامہ، واگورہ میں بھی جمعہ کو ووٹ ڈالے گئے۔بیشتر پولنگ مراکز پر لوگوں کا جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ ہائر اسکینڈری اسکول کریری میں105برس کی ایک خاتون نے بھی ووٹ ڈالا۔ شاہد ٹاک کے مطابق شمالی کشمیر کے شوپیاں اول اور دوئم نشستوں پر جمعہ کو انتخابات کے دوران بیشتر پولنگ مراکز پر صحرائی منظار دیکھنے کو ملے۔
گزشتہ مرحلوں کے مقابلے میں انتخابی مراکز میں کوئی چہل پہل دیکھنے کو نہیں ملی اور اکثر پولنگ اسٹینوں میں دن بھر عملہ رائے دہندگان کے انتظار میں رہا۔ چند ایک علاقوں کو چھوڑ کر مجموعی طور پر انتخابی مراکز میں الو بولتے ہوئے نظر آئے۔پلوامہ سے نامہ نگار سید اعجاز کے مطابقترال کے آری پل بلاک میں ڈی ڈی سی انتخابات کیلئے آری پل کے ساتھ دیگر کئی علاقوں کو سخت سیکورٹی حصار میں رکھا گیا تھا ۔ووٹنگ کے دوران جواہر پورہ لام ،نارستان اوردیگر کئی گوجر بستی والے علاقوں میں پولنگ مراکز کے باہر لوگوں کی قطاریں دیکھنے کو ملیں جہاں معمر لوگ اور خواتین کی ایک بڑی تعداد اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔اس دوران بٹہ گنڈ پستونہ کو چھوڑ کر میدانی علاقوں کے مراکز میں لوگوں کی زیادہ بھیڑ نہیں تھی۔ عارف بلوچ کے مطابق اننت ناگ میں ہلر اور کھوری پورہ نشستوں پر جمعہ کو انتخابات کے دوران رائے دہندگان نے اپنے امیدواروں کو ووت دیں۔کوکر ناگ علاقے میں نامعلوم بندوق برداروں کی جانب سے ایک امیدوار کو گولی کا نشانہ بنانے کے بعد ووٹنگ کی رفتار میں کمی واقع ہوئی۔ اکثر پولنگ مراکز میں لوگوں کی بہت کم تعداد نے ووٹ ڈالے۔ دونوں نشستوں پر13ہزار735ووٹ ڈالے گئے۔نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق کولگام کے کونڈ حلقے میں بھی جمعہ کو وٹ ڈالے گئے،جس کے دوران بیشتر انتخابی مراکز میں چہل پہل دیکھنے کو ملی اور خواتین کے علاوہ بزرگوں اور نوجوانوں نے بھی ووٹ ڈالے۔ انتخابی مراکز پر طویل قطاریں نظر آئیں اور لوگ ووٹ ڈالنے کیلئے بے تاب نظر آرہے تھے۔ مجموعی طور پر5ہزار468ووٹ ڈالے گئے۔
انٹرنیٹ بند
جموں کشمیر میں ضلع ترقیاتی کونسل چنائو کیلئے تیسرے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران حکام نے تیسری مرتبہ جنوبی ضلع پلوامہ اور شوپیان میں 2جی موبائیل انٹر نیٹ خدمات بندکیں جبکہ گاندربل میں اسکی رفتار مزید کم کی گئی۔ ڈی ڈی سی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے پیش نظر جنوبی ضلع پلوامہ اور شوپیان میں2جی موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کی گئیں جس کی وجہ سے انٹرنیٹ صارفین خاص کر طلاب کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس عمل کو مذاق کے مترادف قراردیا۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے تما م اضلاع میں پولنگ ہورہی تھی لیکن صرف پلوامہ اور شوپیان ضلع میں انٹر نیٹ خدمات معطل کرنا کہاں کا انصاف ہے ۔ترال میں جمعرات کی شام جبکہ پلوامہ اور شوپیان میں جمعہ صبح سے ہی دونوں اضلاع میںموبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کر دی گئیں۔
بانڈی پورہ میں سر پنچ نشست کیلئے 2دیورانیوں کے درمیان مقابلہ ہوا
عازم جان
بانڈی پورہ//سنر ونی پنچایت حلقہ میں سرپنچ کی خالی نشست کیلئے 2دیورانیوں کے درمیان مقابلہ ہوا۔دونوں کی چنائوی مہم دو سگے بھائی ایک دوسرے کیخلاف چلارہے تھے۔سنر ونی پنچایت حلقہ میں پچھلی بار سبھی6 نشستیں خالی رہ گئی تھیں، جن پر تیسرے مرحلے میں پولنگ کی گئی۔لیکن پہلے ہی یہاں 3پنچ بلا مقابلہ کامیاب ہوئے تھے جبکہ جمعہ کو 2پنچوں اور سرپنچ کی نشست کیلئے ووٹنگ ہوئی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سنرونی پنچایت حلقہ میں سر پنچ کی نشست کیلئے 2دیورانیاں آپس میں مقابلہ کررہی تھیں۔محمد انور وانی کی اہلیہ جاویدہ اختر اسی گائوں کی ہے اور یہی بیاہی گئی ہے جبکہ اسکی دیورانی محمد رمضان وانی کی اہلیہ دلشادہ اختر کا ارن بانڈی پورہ میں میکا ہے۔چنائوی مہم کے دوران محمد انور وانی کی اہلیہ مقامی ہونے کی وجہ سے گائوں کے قریبی رشتہ داروں کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی اور چنائو جیت گئی۔چنائو جیتنے کے فوراً بعد اسے جلوس کی صورت میں گھر لیجایا گیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ دونوں دیورانیاں ایک ہی مکان میں الگ الگ رہتی ہیں
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
