تجزیہ
کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل
کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل
۲۵ ربیع الثانی ۲٤٤١ ھ
بمطابق 11 دسمبر 2020ء
مفتی نذیر احمد قاسمی حفظہ اللہ
رکن فقہ اکیڈمی
سوال :1
صورت ِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے زید کو بطورِ خانہ داماد گھر میں لایا ، اُس کی شادی اپنی بیٹی سے کرلی اور اُس کو حصۂ وراثت سے بھی نوازا اور زید کے بچے بھی ہوئے۔ چنانچہ زید اس علاقہ کا پشتینی باشندہ نہیں تھا ، جہاں وہ خانہ داماد لایا گیا ۔ اب پوری زندگی دوسرے علاقہ میں گذارنے کے بعد زید وفات پاگیا۔ حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا زید کو اپنے سُسر کے قبرستان میں دفن کرنے کا شرعی جواز ہے یا نہیں؟ کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اس کو یہاں قبرستان نہیں ملے گا بلکہ زید وہاں ہی دفن ہوگا جہاں کا وہ پشتینی باشندہ تھا اور نہ ہی زید کے بچوں کو نانا کے قبرستان میں دفن ہونے کا حق ہے۔
براہِ کرم اس مسئلہ پر تفصیلاً روشنی ڈالیں تاکہ یہ اختلاف ہمیشہ کے لئے پوری وادی بالعموم شہر سرینگر میں ختم ہوجائے گا ۔
طارق احمد ملہ۔ نور باغ سرینگر
جواب :1
مقبرہ جب بستی کے تمام باشندگان کے لئے وقف ہو اور تمام باشندے اس میں اپنے مُردے دفن کرتے آئے ہیں تو اب اس بستی یا محلہ میں جو بھی آباد ہوجائے ، اُس کو اِس میں دفن ہونے کا حق ہے اور کسی مسلمان کے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ اُسے اس حق سے محروم کرے۔ حقِ تدفین بلا تخصیص سب کا حق ہے ، لہٰذا وہ شخص جو خانہ داماد بن کر، اپنے گاؤں کو چھوڑ کر دوسری بستی میں یا اپنے محلے کو چھوڑ کر دوسرے محلے میں رہائش پذیر ہوگیا ، اُسے اس نئی جگہ کے مقبرہ میں دفن ہونے کا پورا حق حاصل ہے اور یہ شرعی حق ہے۔ جیسے اس شخص کو مسجد میں آنے کا حق ہے ایسے ہی مقبرہ بھی وقف ِعام ہوتا ہے۔ ہاں! اگر کوئی مقبرہ کسی خاص قوم ، ذات یا طبقہ کے لئے پہلے سے مخصوص ہو تو اُس کا حکم الگ ہے۔
جو شخص خانہ داماد بن کر اپنے سُسرال میں رہائش پذیر ہوا، اگر بالفرض یہ مرد نہیں عورت ہوتی اور وہ خاتون جو اس کے نکاح میں آئی وہ مرد ہوتا ، مثلاً شفیق احمد اگر شفیقہ بیگم اور عارفہ بیگم اگر محمد عارف ہوتا ، تو پھر اس خاتون کو اپنے سُسرال کے مقبرہ میں دفن ہونے کا پورا حق ہوتا ، اسی طرح اس داماد کو بھی اپنے سُسرال میں دفن ہونے کا پورا حق ہے۔۔۔۔، یعنی یہ خانہ داماد اگر بہو بن کر آئے تو حق ِ دفن حاصل ہے ۔ ایسے اس میں بھی ہے۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ خانہ داماد کو اپنے پشتینی مقبرہ میں ہی دفن ہونے کا حق ہے کیا وہ یہ ہمت کرسکتے ہیں کہ ہر گھر میں آنے والی بہو کو بھی یہ کہیں کہ اس کو پشتینی مقبرہ میں دفن ہونے کا حق ہے اور ہم اپنے مقبرے میں دفن ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ؟ ہرگز نہیں۔ یاد رکھیں ! مقبرہ کے لئے پشتینی باشندہ یا نئے باشندہ ہونے کی کوئی تقسیم اسلام میں نہیں ہے۔ غور کیا جائے کہ : حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام خلفائے راشدین اور تمام مہاجر صحابہ، مدینہ منورہ کے پشتینی باشندے نہیں تھے، یہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے اور جب جس وقت یہ دنیا سے رخصت ہوئے ، اُس وقت سارا مکہ مسلمان تھا اور مکہ مکرمہ کا مقبرہ جس کا نام ’’المعلاۃ‘ ہے ، میں بہت سارے صحابہ اور حضرت خدیجتہ الکبریٰؓ بھی مدفون تھیں۔۔۔
کیا اہلِ مدینہ حضرات مہاجر صحابہ کو کہہ سکتے تھے کہ آپ کا پشتینی مقبرہ مدینہ میں نہیں بلکہ مکہ مکرمہ میں ہے ، لہٰذا مدینہ میں دفن کرنے کا حق نہیں۔پھر اسی مدینہ کے مشہور مقبرہ ’ البقیع الغرقد ‘ میں آج تک اور آج بھی وہ تمام مسلمان دفن ہوتے ہیں جو مدینہ میں فوت ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہر خانہ داماد کو بلکہ محلہ کے ہر باشندے کو اس محلے کے مقبرہ میں دفن ہونے کا برابر حق ہے ۔ محلہ کا قدیم باشندہ اور نیا باشندہ اس حق میں مساوی درجہ کا شریک ہے ۔ وقفِ عام مقبرہ کا یہ حکم دنیا بھر کے تمام مقبروں کے لئے ہے اور پوری اسلامی تاریخ میں ہمیشہ اسی پر عمل رہا ، کوئی بھی وہ مسلمان جو دوسری جگہ فوت ہوتا ہے وہ اس جگہ کے مقبرہ میں غیر پشتینی ہونے کے باوجود دفن ہوتا ہے ، یہی اخوت اسلامی ہے۔
سوال : 2
بہت سارے لوگ اپنے بال قسم قسم کے رنگوں سے رنگ دیتے ہیں۔ کئی ایک اپنی داڑھی کو کبھی سیاہ اور کبھی کبھی دوسرے رنگوں سے رنگ دیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا خضاب کرنا جائز ہے اور اس میں کون کون سا رنگ لگانا جائز ہے؟ برائے مہربانی تفصیل سے رہنمائی فرماکر مشکور و ممنون فرمائیں۔
نور الحق کسانہ ۔ ڈوڈہ
خضاب کا استعمال۔ چند اہم مسائل
جواب :2
خضاب کرنے کے مختلف حالات میں مختلف احکام ہیں ، اُس کو مختلف صورتوں میں بیان کیا جاتا ہے۔
پہلی صورت یہ ہے کہ سفید بالوں کو سفید ہی رکھنا بھی جائز اور ہر طرح درست ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سفید بالوں کو سیاہ خضاب کے علاوہ ہر قسم کا خضاب لگانا درست ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ سفید بالوں کو مکمل طور پر خالص سیاہ خضاب کیا جائے تو یہ سخت منع ہے۔ اس کے لئے حدیث میں جو وعید ہے وہ یہ ہے:
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آْخری زمانہ میں ایسے لوگ ہونگے جو سیاہ خضاب کرتے ہونگے، جیسے کبوتر کے پپوٹے ہوتے ہیں۔ وہ جنت کی بُو بھی نہیں سونگھ پائیں گے ۔ یہ حدیث نسائی اور ابو داؤد میں ہے۔ اس حدیث کی وجہ سے حکم یہ ہے کہ سیاہ خضاب منع کرنا ہے۔
یہ جو آخری صورت ہے ، اس میں وہ شخص کہ جس کا نکاح ہونے والا ہو اور سَر کے بال سفید ہوگئے ہوں اور وہ نکاح کرنے میں رکاوٹ پاتے ہوں ، اُن کو سیاہ رنگ کا خضاب کرنے کی وقتی اجازت ہے ۔ اگر کسی کے بال سیاہ ہوں اور وہ اپنے بالوں کو براؤن یا زعفرانی بنانے کے لئے اس طرح کا خضاب کرتے ہوں، بالکل جائز نہیں ۔اس لئے کہ یہ فطری رنگ کو تبدیل کرنے کا عمل جو جائز نہیں کیونکہ یہ عمل صرف فیشن کی وجہ سے ہوتا ہے نہ کہ ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمعہ نماز اور سنتوں کی ادائیگی
سوال:-3
نماز جمعہ سے پہلے کتنی رکعت سنت ہیں ؟ اور نمازِ جمعہ کے بعد کتنی رکعت سنت پڑھنی چاہئے۔ جواب حدیث سے نقل کرتے ہوئے باحوالہ درج فرمائیے ۔
عاشق احمد وانی… سرینگر
جواب:-3
جمعہ کی نماز سے پہلے چار رکعت سنت موکدہ ہے ۔ اس سلسلے میں صحاح ستہ کی کتابوں میں سے ابن ماجہ میں یہ حدیث ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم جمعہ سے پہلے چار رکعت سنت پڑھتے تھے ۔
اور ترمذی میں حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓجمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے ۔
ظاہر ہے صحابی کوئی بھی عمل اگر انجام دیتا ہو تو وہ خود اپنی طرف سے وضع کردہ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے حنفیہ نے جمعہ سے پہلے چار رکعت کو سنت قرار دیا ہے ۔ نماز جمعہ کے بعد چار رکعت سنت مؤکدہ اور دو رکعت سنت غیر مؤکدہ ہیں ۔ حدیث یہ ہے : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جمعہ کی نماز پڑھ لو تو پھر اُس کے بعد چار رکعت ادا کرو اور ایک روایت میں ہے جب تم نمازِ جمعہ کے بعد نماز پڑھو تو چار رکعت پڑھو۔ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے ۔ ابن ماجہ میں بھی ہے ۔
حضرت عبداللہ ؓ بن عمرؓ کا معمول یہ تھا کہ وہ جب جمعہ کی نماز سے فارغ ہوکر گھر آتے تھے تو دو رکعت پڑھتے تھے اور پھر فرماتے تھے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ یہ حدیث بھی مسلم میں ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہؓ میں ہے ابو عبد الرحمان ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود ہم کو حکم دیتے تھے کہ جمعہ کے بعد چار رکعت پڑھا کریں ۔
پھر حضرت علیؓ کا ارشاد ہم نے یہ سنا کہ وہ چھ رکعت پڑھنے کا حکم دیتے تھے ۔ حضرت علی کا ارشاد سن کر ہم نے چھ رکعت پڑھنے کا معمول بنایا۔
ترمذی میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود جمعہ سے پہلے چار رکعت اور جمعہ کے بعد چار رکعت پڑھتے تھے اور حضرت علی ؓسے منقول ہے کہ وہ یہ حکم دیتے تھے کہ نمازِ جمعہ کے بعد پہلے دورکعت پھر چار رکعت پڑھا کرو۔
مسلم ترمذی اور مصنف ابن ابی شیبہ کی ان احادیث کی بناء پر حضرت علامہ کشمیری نے فرمایا کہ ان احادیث کی بناء پر امام شافعی ؒ نے فرمایا نماز جمعہ کے بعد دو رکعت ، امام ابوحنیفہ ؒ نے فرمایا چار رکعت ، اور قاضی ابو یوسف اور امام محمد نے فرمایا چھ رکعت سنتیں پڑھی جائیں۔
حنفیہ کی تمام کتابوں میں چھ رکعت کا قول لکھا گیا کیونکہ کثرت عبادت ہرحال میں مطلوب ہے اور حضرت علی ؓخلیفہ راشد ہیں وہ جب تاکید سے اس کا حکم فرماتے تھے تو ظاہر ہے کہ وہ کسی ایسی چیز کا حکم نہیں دے سکتے ۔ جو خود اُن کی خودساختہ ہو۔ یقیناً اُن کے سامنے عمل نبیؐ ہوگا۔ (صلی اللہ علیہ وسلم)
بہرحال چار رکعت سنت مؤکدہ اور دو سنت غیر مؤکدہ میں ہیں۔ کفایت المفتی میں یہی خلاصتہً لکھا گیا ۔
تجزیہ
مصنوعی ذہانت اور ہندوستانی زراعت: موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی نئی راہیں
خصوصی مضمون: ظفراقبال
موسمیاتی تبدیلی آج دنیا بھر میں زراعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، غیر متوقع بارش، خشک سالی، سیلاب اور پانی کی قلت نے زرعی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔ ہندوستان جیسے زرعی ملک میں اس صورت حال کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں لاکھوں خاندانوں کا روزگار کھیتی باڑی سے وابستہ ہے۔ ایسے حالات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے یہ امید وابستہ کی جارہی ہے کہ وہ کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور زرعی پیداوار بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
اسی مقصد کے تحت گوگل نے حیدرآباد میں قائم انٹرنیشنل کراپ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار دی سیمی اَرِڈ ٹراپکس (آئی سی آر آئی ایس اے ٹی) اور دنیا کے دیگر تحقیقی اداروں کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت اور جدید سائنسی تحقیق کی مدد سے ایسی فصلوں کی تیاری کو فروغ دینا ہے جو خشک سالی اور موسمیاتی دباؤ کا بہتر مقابلہ کرسکیں۔ اس منصوبے میں جوار جیسی غذائیت سے بھرپور فصلوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
ہندوستان میں زراعت کا بڑا حصہ مون سون کی بارشوں پر منحصر ہے۔ بارشوں میں بے قاعدگی، شدید گرمی اور پانی کی کمی کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہے۔ کبھی بارش وقت پر نہیں ہوتی اور کبھی مختصر مدت میں اتنی زیادہ بارش ہوجاتی ہے کہ کھیتوں میں کھڑی فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ اس صورت حال سے سب سے زیادہ متاثر چھوٹے اور متوسط کسان ہوتے ہیں، جن کے پاس فصلوں کے نقصان کو برداشت کرنے کے لیے محدود وسائل ہوتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث روایتی زرعی طریقوں پر انحصار بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں جدید ٹیکنالوجی کسانوں کو موسم کی پیش گوئی، آب پاشی، بیجوں کے انتخاب اور فصلوں کی دیکھ بھال کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بڑی مقدار میں موسمیاتی اور زرعی معلومات کا تجزیہ کرکے ان مسائل کے ممکنہ حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
گوگل اس منصوبے کے لیے اپنی مصنوعی ذہانت کی تحقیقی شاخ گوگل ڈیپ مائنڈ اور غیر منافع بخش اقدامات سے متعلق ادارے گوگل ڈاٹ آرگ کی مدد لے رہا ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں قائم آئی سی آر آئی ایس اے ٹی، ہڈسن الفا انسٹی ٹیوٹ فار بایوٹیکنالوجی اور واشنگٹن یونیورسٹی کے شعبہ جینوم سائنسز کے ساتھ بھی تعاون کیا جارہا ہے۔
اس شراکت داری کا مقصد ایسی فصلوں کی ترقی کو تیز کرنا ہے جو کم پانی اور زیادہ درجہ حرارت جیسے ناموافق حالات میں بھی بہتر طور پر نشوونما پاسکیں۔ اس کے لیے فصلوں کی جینیاتی خصوصیات کا مطالعہ اور ان اقسام کی شناخت اہم ہوگی جو موسمیاتی دباؤ برداشت کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہیں۔
گوگل انڈیا کی کنٹری منیجر پریتی لوبانا اور گوگل ڈیپ مائنڈ کی چیف اے آئی ریڈی نیس آفیسر لیلا ابراہیم کے مطابق، یہ کوشش زرعی لچک کے ایک اہم ذریعے کے طور پر جوار پر ہندوستان کی توجہ سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس طرح مقامی تحقیق کو عالمی غذائی تحفظ کے وسیع تر مقصد سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
جوار ہندوستان کی ایک اہم غذائی فصل ہے، جو نسبتاً کم پانی میں بھی اگ سکتی ہے۔ اس کی یہی خصوصیت اسے خشک سالی اور پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں کے لیے مفید بناتی ہے۔ جوار میں توانائی، غذائی ریشہ اور مختلف غذائی اجزا پائے جاتے ہیں، اس لیے یہ متوازن غذا کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔
اس فصل کی اہمیت صرف انسانی خوراک تک محدود نہیں۔ اسے مویشیوں کے چارے اور بعض صنعتی مقاصد، بشمول حیاتیاتی ایندھن کی تیاری کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر سائنسی تحقیق کے ذریعے جوار کی ایسی اقسام تیار کی جاسکیں جو کم پانی میں زیادہ پیداوار دیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کو بہتر طور پر برداشت کریں تو اس سے کسانوں اور غذائی تحفظ دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
گوگل کے منصوبے کا ایک اہم مقصد جوار کی مقامی اقسام کی جینیاتی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے ایک جینیاتی اٹلس تیار کرنا ہے۔ اس سے محققین کو مختلف اقسام کے درمیان فرق جاننے اور مفید خصوصیات کی شناخت کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
فصلوں کی نئی اور بہتر اقسام تیار کرنے کے لیے سائنس دانوں کو ان کی جینیاتی خصوصیات اور مختلف ماحول میں ان کی کارکردگی کا تفصیلی مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔ مصنوعی ذہانت بڑی مقدار میں موجود معلومات کا تجزیہ کرکے ان جینیاتی عوامل کی شناخت میں مدد دے سکتی ہے جو خشک سالی برداشت کرنے، بیماریوں کے خلاف مزاحمت یا بہتر پیداوار جیسی خصوصیات سے وابستہ ہوتے ہیں۔
جینیاتی اٹلس کی مدد سے محققین جوار کی مختلف اقسام کی خصوصیات کو منظم انداز میں سمجھ سکیں گے۔ اس سے مستقبل میں فصلوں کی افزائش کے لیے زیادہ مؤثر حکمتِ عملی تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم یہ عمل فوری نتائج دینے والا نہیں۔ نئی اقسام کی تیاری، تجرباتی کاشت اور مختلف علاقوں میں ان کی موزونیت جانچنے کے لیے وقت اور مسلسل تحقیق درکار ہوگی۔
مصنوعی ذہانت کا استعمال موسم کی پیش گوئی، فصلوں کی بیماریوں کی شناخت اور پانی کے بہتر استعمال میں بھی مددگار ہوسکتا ہے۔ اگر ان سہولتوں کو کسانوں کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے تو زرعی نقصانات کم کرنے اور پیداوار بہتر بنانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی مشورے اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گے جب وہ کسانوں کی عملی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ کسانوں کو مقامی زبانوں میں معلومات فراہم کرنا، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سہولتوں تک رسائی بڑھانا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت دینا ضروری ہے۔
اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ نئی ٹیکنالوجی کے فوائد صرف بڑے کسانوں تک محدود نہ رہ جائیں۔ چھوٹے کسانوں کے لیے کم خرچ اور آسانی سے دستیاب سہولتیں فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت کے مشوروں کی درستگی جانچنا اور انہیں مقامی موسمی حالات، زمین اور پانی کی دستیابی کے مطابق بنانا بھی ضروری ہے۔
روایتی زرعی علم کو نظرانداز کرنے کے بجائے اسے جدید تحقیق کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔ مقامی بیجوں اور فصلوں کے تنوع کا تحفظ بھی اہم ہے، کیونکہ یہی تنوع مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قیمتی وسائل فراہم کرسکتا ہے۔
گوگل اور تحقیقی اداروں کی شراکت داری ہندوستان میں زراعت کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ جوار جیسی فصلوں پر تحقیق اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے جینیاتی معلومات کا تجزیہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے نئے امکانات پیدا کرسکتا ہے۔
تاہم اس اقدام کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب تحقیق کے نتائج کسانوں تک پہنچیں، نئی فصلیں مقامی ضروریات کے مطابق ہوں اور ان کے فوائد عام کسانوں کے لیے قابلِ حصول بنائے جائیں۔ مصنوعی ذہانت موسمیاتی تبدیلی کا مکمل حل نہیں، لیکن سائنسی تحقیق، روایتی علم اور پائیدار زرعی پالیسیوں کے ساتھ مل کر یہ ہندوستان کے غذائی تحفظ اور کسانوں کی معاشی بہتری میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
ال نینو اور سمندری حدت: تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو بڑھتا ہوا خطرہ
خصوصی مضمون: ظفراقبال
سمندر زمین کے موسمیاتی نظام کا ایک اہم ستون ہیں۔ یہ نہ صرف عالمی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ بے شمار جانداروں کو پناہ فراہم کرنے، غذائی وسائل مہیا کرنے اور ساحلی آبادیوں کے معاشی استحکام میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ سمندری ماحولیاتی نظام کے اہم ترین اجزا میں مرجان کی چٹانیں شامل ہیں، جنہیں سمندر کے بارانی جنگلات بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چٹانیں اپنی غیر معمولی حیاتیاتی تنوع، قدرتی خوب صورتی اور ماحولیاتی افادیت کے باعث دنیا بھر میں اہمیت رکھتی ہیں۔ تاہم، عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور سمندری پانی کے مسلسل گرم ہونے نے ان کے وجود کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
ہندوستان کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں خلیجِ منار اور پالک بے کے علاقے مرجان کی چٹانوں کے اہم مراکز ہیں۔ یہاں موجود مرجان نہ صرف سمندری حیات کے تحفظ میں معاون ہیں بلکہ ماہی گیروں کی روزی روٹی، ساحلی تحفظ اور مقامی معیشت سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سمندری پانی کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے اور ال نینو جیسے موسمیاتی مظاہر نے ان چٹانوں کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔
سائنس دانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 2026-27 میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والا انتہائی شدید ال نینو مرجان کی وسیع پیمانے پر بلیچنگ کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورت حال نے مرجان کے تحفظ، سائنسی نگرانی اور طویل مدتی ماحولیاتی منصوبہ بندی کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مرجان کی چٹانیں سمندر میں پائے جانے والے چھوٹے جانداروں یعنی مرجان کے پولپس کی طویل عرصے میں تشکیل پانے والی ساختیں ہیں۔ یہ جاندار کیلشیم کاربونیٹ پر مشتمل سخت ڈھانچے بناتے ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ وسیع چٹانوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کے اندر اور آس پاس مختلف اقسام کی مچھلیاں، مولسکس، کرسٹیشینز اور دیگر سمندری جاندار رہتے ہیں۔ اس طرح مرجان کی چٹانیں سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے انتہائی اہم مسکن فراہم کرتی ہیں۔
ان چٹانوں کی اہمیت صرف سمندری جانداروں تک محدود نہیں۔ یہ ساحلی علاقوں کو لہروں کی شدت سے بچانے، ساحلی کٹاؤ کم کرنے اور بعض حالات میں طوفانی لہروں کے اثرات محدود کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان سے وابستہ سمندری وسائل مقامی ماہی گیری اور سیاحت کے لیے بھی اہم ہیں۔ چنانچہ مرجان کی چٹانوں کو پہنچنے والا نقصان دراصل ایک پورے ماحولیاتی اور معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے۔
مرجان کی بلیچنگ اس وقت ہوتی ہے جب سمندری پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ بڑھنے کے باعث مرجان اپنے اندر رہنے والی خوردبینی کائی کو کھو دیتے ہیں یا ان کے ساتھ ان کا تعلق متاثر ہو جاتا ہے۔ ان کائی کو زوکسانتھیلی (Zooxanthellae) کہا جاتا ہے۔ یہ مرجان کو خوراک بنانے میں مدد دیتی ہیں اور انہیں ان کے مخصوص رنگ بھی فراہم کرتی ہیں۔ جب مرجان شدید حرارتی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں تو وہ ان کائی کو خارج کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کا رنگ مدھم یا سفید پڑ جاتا ہے۔ اسی کیفیت کو بلیچنگ کہا جاتا ہے۔بلیچنگ کا مطلب لازماً مرجان کی موت نہیں ہوتا۔ اگر درجہ حرارت بروقت معمول پر آ جائے اور حرارتی دباؤ زیادہ دیر برقرار نہ رہے تو مرجان صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر پانی طویل عرصے تک گرم رہے تو مرجان کو خوراک کی کمی، بیماریوں اور دیگر ماحولیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ال نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی حصوں میں سمندر کی سطح کے پانی کے غیر معمولی طور پر گرم ہونے سے وابستہ ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے۔ یہ دنیا کے مختلف خطوں میں بارش، خشک سالی، درجہ حرارت اور ہواؤں کے معمولات کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے اثرات ہر خطے میں یکساں نہیں ہوتے، تاہم بعض حالات میں یہ پہلے سے جاری عالمی حدت کے اثرات کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔عالمی حدت کے باعث سمندر پہلے ہی اضافی حرارت جذب کر رہے ہیں۔ جب ال نینو کی کیفیت اس صورت حال کے ساتھ ملتی ہے تو بعض سمندری علاقوں میں پانی کا درجہ حرارت مرجان کی برداشت کی حد سے تجاوز کر سکتا ہے۔ نتیجتاً بلیچنگ کے وسیع واقعات رونما ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
موسمیاتی ماہرین نے 2026-27 کے دوران شدید ال نینو کے ممکنہ خطرے کی جانب توجہ دلائی ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے کلائمیٹ پریڈکشن سینٹر نے اس عرصے میں انتہائی شدید ال نینو واقعے کے امکان کو 90 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ تاہم، کسی موسمیاتی پیش گوئی کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے، ال نینو کی شدت، دورانیے اور علاقائی اثرات کے بارے میں مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ اس کے باوجود ممکنہ خطرے کے پیش نظر مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔
تمل ناڈو میں خلیجِ منار اور پالک بے مرجان کی چٹانوں کے اہم علاقے ہیں۔ خلیجِ منار اپنی سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے مشہور ہے، جبکہ پالک بے بھی مرجان اور دیگر سمندری جانداروں کے لیے اہم مسکن فراہم کرتی ہے۔ ان علاقوں کی چٹانیں سمندری ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے ساتھ مقامی ماہی گیروں کی معاشی سرگرمیوں میں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔تاریخی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو 1998، 2010، 2016 اور 2024 کے ال نینو سے وابستہ برسوں میں شدید بلیچنگ اور مرجان کی ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید یہ کہ 2005 سے گرمیوں کے دوران پانی کا درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے پر ہر سال بلیچنگ کے واقعات دیکھے گئے ہیں۔ تاہم، درجہ حرارت کم ہونے کے بعد بعض چٹانیں دوبارہ صحت یاب بھی ہوئی ہیں۔یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ مرجان کی بقا کے لیے صرف درجہ حرارت میں اضافے کا جاننا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ پانی کتنی دیر تک گرم رہتا ہے اور مرجان کو بحالی کے لیے کتنا وقت ملتا ہے۔ مختصر دورانیے کی حدت کے مقابلے میں طویل عرصے تک بلند درجہ حرارت زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
تمل ناڈو کے محکمہ جنگلات اور سگنتھی دیواداسن میرین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی ایم آر آئی) کے تعاون سے خلیجِ منار میرین نیشنل پارک کے تحت مرجان کی چٹانوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس سال 7 سے 12 مئی کے درمیان کیے گئے مشترکہ زیرِ آب سروے میں خلیجِ منار کے 12 جزیروں اور شمالی پالک بے کے مرجانی علاقوں کا جائزہ لیا گیا۔سروے کے دوران سمندری پانی کا درجہ حرارت 31.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو مرجان کی بلیچنگ کے لیے تشویش ناک حد ہے۔ تاہم، جون میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے آنے کے باعث بلیچنگ کی شدت محدود رہی اور اس کے نتیجے میں مرجان کی ہلاکت ریکارڈ نہیں کی گئی۔رپورٹ کے مطابق، خلیجِ منار میں بلیچنگ کا اوسط دائرہ 3.69 فیصد تھا، جبکہ پالک بے میں یہ شرح 13.9 فیصد رہی۔ پالک بے میں 10.8 فیصد مرجانی حصہ مکمل اور 3.1 فیصد جزوی بلیچنگ سے متاثر ہوا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں علاقوں میں بلیچنگ کی شدت مختلف رہی اور پالک بے میں صورت حال نسبتاً زیادہ تشویش ناک تھی۔ستمبر اور اکتوبر کے دوران غیر معمولی طور پر بلند درجہ حرارت نے خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ اس مدت میں بلیچنگ کی اطلاع نہیں ملی، لیکن درجہ حرارت کی روزانہ نگرانی جاری ہے۔ یہ نگرانی اس لیے اہم ہے کہ بلیچنگ کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے بھی پانی کا مسلسل گرم رہنا مرجان پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے لیے بروقت اور قابلِ اعتماد سائنسی معلومات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ خلیجِ منار میرین بایوسفیئر ریزرو کے وائلڈ لائف وارڈن اکھل تامبی کے مطابق تمل ناڈو کو طویل مدتی بنیادی معلومات اور نگرانی کے پہلے سے موجود نظام کا فائدہ حاصل ہے۔ اس نظام کی مدد سے بڑے پیمانے پر نقصان ہونے سے پہلے غیر معمولی تبدیلیوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔اسی طرح ایس ڈی ایم آر آئی کے ڈائریکٹر ایڈورڈ جے کے پیٹرسن نے نشاندہی کی ہے کہ نگرانی کے ذریعے قلیل مدتی حرارتی دباؤ اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی بلیچنگ کے درمیان فرق سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے محکمہ جنگلات کو مناسب وقت پر اقدامات کرنے کا موقع ملتا ہے۔نگرانی کے مؤثر نظام میں سمندری درجہ حرارت کی باقاعدہ پیمائش، مرجان کی صحت کا جائزہ، بلیچنگ کے پھیلاؤ کی نقشہ بندی اور متاثرہ علاقوں کی مسلسل جانچ شامل ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ مختلف اوقات میں حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تقابل بھی ضروری ہے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مرجان کن حالات میں زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور کون سے علاقے نسبتاً زیادہ حساس ہیں۔
مرجان کی چٹانوں کو پہنچنے والا نقصان صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی زندگی اور معاشی سرگرمیوں سے بھی براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ ان چٹانوں پر انحصار کرنے والی متعدد سمندری انواع کو خوراک، پناہ اور افزائش کے لیے موزوں ماحول ملتا ہے۔ اگر مرجان بڑے پیمانے پر تباہ ہو جائیں تو ان سے وابستہ جانداروں کی تعداد متاثر ہو سکتی ہے۔اس کے نتیجے میں مقامی ماہی گیروں کو مچھلیوں کی دستیابی میں کمی، ماہی گیری کے اخراجات میں اضافے اور آمدنی میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مرجان کی چٹانوں سے وابستہ سیاحت بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مقامی کاروبار اور روزگار کے مواقع محدود ہونے کا خدشہ ہے۔مزید برآں، مرجان کی چٹانیں ساحلی علاقوں کو لہروں کی توانائی کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کی خرابی بعض مقامات پر ساحلی کٹاؤ اور طوفانی لہروں کے اثرات کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے مرجان کا تحفظ ماحولیاتی پالیسی کے ساتھ ساتھ ساحلی آبادیوں کے معاشی اور سماجی تحفظ کا بھی اہم جزو ہونا چاہیے۔
تمل ناڈو کا محکمہ جنگلات مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے لیے طویل مدتی انتظامی منصوبہ تیار کر رہا ہے۔ ریاست کے چیف وائلڈ لائف وارڈن راکیش کمار ڈوگرا کے مطابق، ماضی میں بلیچنگ کے واقعات اور آب و ہوا سے متعلق دیگر خلل کے تجربات کو خلیجِ منار میرین نیشنل پارک اور بایوسفیئر ریزرو کے آئندہ دس سالہ انتظامی منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔یہ ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، کیونکہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے محض ہنگامی اقدامات کافی نہیں ہوتے۔ ضروری ہے کہ واقعے سے پہلے اس کے دوران اور بعد میں اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی واضح ہو۔ اس میں ابتدائی انتباہ، متاثرہ علاقوں کی فوری جانچ، نقصان کی سائنسی تشخیص اور بحالی کے اقدامات شامل ہونے چاہئیں۔اس کے ساتھ مرجان کی چٹانوں پر انسانی دباؤ کم کرنا بھی ضروری ہے۔ غیر پائیدار ماہی گیری، سمندری آلودگی، پلاسٹک کے فضلے، ساحلی ترقی اور دیگر مقامی عوامل مرجان کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ان مسائل کا خاتمہ عالمی حدت کو فوری طور پر نہیں روک سکتا، لیکن ان میں کمی مرجان کی قدرتی بحالی کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
تحفظ کی کوششوں میں مقامی ماہی گیروں، سائنس دانوں، تعلیمی اداروں اور سرکاری محکموں کی شمولیت بھی اہم ہے۔ مقامی آبادی کو مرجان کی اہمیت، بلیچنگ کی علامات اور سمندری ماحول کے تحفظ کے طریقوں سے آگاہ کر کے نگرانی اور تحفظ کے نظام کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں پر بڑھتا ہوا خطرہ اس وسیع تر ماحولیاتی بحران کی علامت ہے جس میں عالمی حدت، سمندری درجہ حرارت میں اضافہ اور قدرتی موسمیاتی مظاہر ایک دوسرے کے اثرات کو بڑھا سکتے ہیں۔ ممکنہ شدید ال نینو کے پیش نظر خلیجِ منار اور پالک بے کی چٹانوں کی نگرانی کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ماضی کے تجربات، حالیہ سروے کے نتائج اور سائنس دانوں کی تنبیہات واضح کرتی ہیں کہ بروقت اقدامات سے نقصان کی شدت کم کرنے کے امکانات موجود ہیں۔ اس مقصد کے لیے مسلسل سائنسی نگرانی، مؤثر انتظامی منصوبہ بندی، مقامی آلودگی میں کمی، پائیدار ماہی گیری اور ساحلی آبادیوں کی شمولیت کو ترجیح دینا ہوگی۔
مرجان کی چٹانوں کا تحفظ دراصل سمندری حیاتیاتی تنوع، غذائی وسائل، ساحلی سلامتی اور انسانی روزگار کے تحفظ کی مشترکہ کوشش ہے۔ اگر تمل ناڈو میں پیشگی اقدامات کو سنجیدگی سے نافذ کیا جائے تو ممکنہ موسمیاتی بحران کے اثرات کم کرنے اور ان قیمتی قدرتی وسائل کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، طویل مدتی کامیابی کے لیے مقامی سطح کے تحفظ کے ساتھ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی بھی ناگزیر ہے، کیونکہ سمندروں کی بڑھتی ہوئی حدت کا بنیادی حل موسمیاتی تبدیلی کی رفتار کو کم کرنے میں پوشیدہ ہے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
کیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، جیسے جیسے برکس سربراہ اجلاس قریب آ رہا ہے، دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹ کے کھلاڑیوں سے لے کر طاقتور مرکزی بینکوں کے سربراہوں تک سبھی کی نظریں ان ابھرتی ہوئی معیشتوں کے رہنماؤں کی میٹنگ میں سامنے آنے والے کسی بھی ایسے اقدام پر ہوں گی جن سے عالمی تجارت اور مالی لین دین میں امریکی ڈالر کی برتری کو خطرہ لاحق ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
ڈی ڈالرائزیشن کا عمل اپنی سست رفتاری کے باوجود اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ بیانات ہیں جن میں انہوں نے برکس ممالک کے گروہ کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے عالمی تجارت میں ڈالر کی برتری کو ختم کرنے کی کوشش کی تو ان پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔ ماسکو، نئی دہلی یا بیجنگ کے رقم اور تجارتی منڈیوں کا انتظام سنبھالنے والے تمام متعلقہ وزراء اور حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ برکس ممالک میں سے کوئی بھی ڈالر کے خلاف کسی قسم کی نظریاتی جنگ نہیں لڑ رہا ہے۔ تاہم، جغرافیائی اورسیاسی خطرات سے تجارت کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی پالیسیوں کا عملی اثر یقیناً اس مالیاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بین الاقوامی نظام کی بنیاد رہا ہے۔
اگرچہ رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں ڈی ڈالرائزیشن پر واضح طور پر گفتگو نہ ہو، لیکن کانفرنس کے حاشیے پر ملک بہ ملک مذاکرات میں کرنسی کی منتقلی اور تجارتی نظام کے چھائے رہنے کا قوی امکان ہے۔ اصل رکن ممالک – ہندوستان، روس، چین، برازیل اور جنوبی افریقہ – کے رہنماؤں کی اپنے درمیان اور حال ہی میں برکس میں شامل ہونے والے متعدد دیگر ممالک جیسے ایران، سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات اور ایتھوپیا کے رہنماؤں کے ساتھ کئی اہم دوطرفہ بات چیت کی توقع ہے۔
برکس کے اندرونی ارکان کے درمیان تجارتی حجم 2024 میں 1.17 کھرب امریکی ڈالر رہنے کا تخمینہ تھا اور اس میں 13 فیصد کے سالانہ اوسط سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کل برآمدات کے لحاظ سے دنیا میں برکس کا حصہ 24 فیصد ہے۔ قومیت کی بنیاد پر قومی کرنسیوں میں ادائیگیوں کو طے کرنے کے لیے برکس ممالک کی مختلف کوششیں، جیسے ہندوستان اور روس کے درمیان روپیہ-روبل معاہدہ، یا چین کی جانب سے ڈالر کے بجائے یوآن میں خرید و فروخت کی کوششیں، اب تک بین الاقوامی تجارتی لین دین میں کسی بڑے ڈی ڈالرائزیشن کو تیز کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ 2026 تک، عالمی سطح پر تجارت کی انوائسنگ اور تصفیے کا تقریباً 54 فیصد حصہ ڈالر میں ہی ہوتا ہے اور یہ صورتحال کئی سال سے برقرار ہے۔ درحقیقت یہ سال 2000 کے تقریباً 50 فیصد سے بڑھ کر یہاں تک پہنچا ہے۔
تاہم، تجارتی انوائسنگ اور تصفیے مستحکم رہنے کے باوجود غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں ڈالر کے حصے میں تدریجی لیکن یقینی کمی واقع ہو رہی ہے۔ سال 2000 میں تمام ممالک کے کل غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کا تقریباً 71 فیصد حصہ ڈالر کی شکل میں تھا۔ 2026 تک یہ کم ہو کر تقریباً 57 فیصد پر آ گیا ہے، جو ایک صدی کے چوتھائی حصے میں 14 فیصد کی کمی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی بنانے والی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، “یہ واضح طور پر اس بات کی علامت ہے کہ متعدد ممالک کے مرکزی بینکرز ڈالر کا بڑا ذخیرہ رکھنے میں جیو پولیٹیکل خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور دیگر کرنسیوں یا محفوظ ترین راستے یعنی سونے کی خریداری کے ذریعے اس خطرے کو تقسیم کر رہے ہیں۔”
عدم اعتماد کا یہ سلسلہ اب خود امریکہ میں مرکزی بینکوں کے ذریعے سونے کا بلین رکھنے تک پھیل چکا ہے۔ ڈچ سینٹرل بینک نے اس سال مارچ اور اگست کے درمیان شمالی امریکہ سے لندن میں 10 ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کا تقریباً 86 ٹن سونا منتقل کیا۔ اس سے قبل، جنوری 2026 میں فرانس نے امریکہ میں موجود اپنے 129 ٹن سونے کو فروخت کر دیا، جو کہ اس کے ذخائر کا تقریباً 5 فیصد تھا۔ اس فروخت سے ملنے والی رقم سے فرانس نے یورپ میں بلین خریدا اور اسے اپنے مرکزی بینک کے والٹس میں محفوظ کر لیا۔ یہ عمل صدارت کے پہلے دور میں اٹھائے گئے اس قدم کی عکاسی کرتا ہے جب جرمنی کے بنڈس بینک نے 300 ٹن سونا فرینکفرٹ میں واقع اپنے والٹس میں منتقل کر دیا تھا.
منگل کے روز کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے موجودہ صورتحال کا خلاصہ بتاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ برکس کسی ڈی ڈالرائزیشن کی پالیسی کے حق میں نہیں ہے، لیکن اس کے رکن ممالک—جن میں سے کئی پابندیوں کی وجہ سے ڈالر میں لین دین نہیں کر سکتے—”صرف وہی کر رہے ہیں جو ہمارے قومی مفادات کے عین مطابق ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ “امریکی اقدامات نے ہی ڈالر پر اعتماد کو مجروح کیا ہے”۔ پیسکوف نے اشارہ کیا کہ پابندیوں کی وجہ سے مغربی مالیاتی منڈیوں سے تیزی سے الگ تھلگ کیے جانے کے مسئلے پر روس کا جواب متبادل ادائیگی کے ذرائع تیار کرنا رہا ہے۔
ہندوستان کے نقطہ نظر سے، یہ مسئلہ خاص طور پر پیچیدہ ہے کیونکہ نئی دہلی ایک طرف روسی خام تیل کا دنیا کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے تو دوسری طرف وہ مغربی منڈیوں، ٹیکنالوجی اور سرمائے تک اپنی رسائی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہیں سے برکس زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس گروپ کے پاس کوئی ایک مشترکہ کرنسی، مرکزی بینک یا یورو زون جیسا ادارہ جاتی اتحاد نہیں ہے، لیکن یہ اپنے ارکان کو قومی کرنسیوں میں تجارت طے کرنے اور قومی کرنسیوں میں طے شدہ کرنسی تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تدریجی تبدیلیاں قومی کرنسیوں کو دوطرفہ اور کچھ کثیر جہتی تجارتی تصفیوں میں زیادہ قابل استعمال بناتی ہیں، اور اس کے ساتھ ادائیگی کا نظام زیادہ متنوع ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت کہ یہ لین دین موجودہ مغربی کنٹرول والے مالیاتی تصفیے کے ڈھانچے کے دائرہ کار سے باہر ہوتا ہے، واشنگٹن کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔
جینت رائے چودھری
یواین آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
