تازہ ترین
علاقہ ترال کے آسمان علم کا سورج غروب ہوگیا
مصنف: الطاف جمیل ندوی
یہ کون چلا اک بستی سے جس کا جانا ٹھہرا غم
ہر سو ایک ہی آہ بلند ہم کو کے نقش کو دیکھیں گے
ہر روز کی طرح جمعہ کو بھی جوں ہی سوشل میڈیا کو دیکھا ایسا لگا کہ زبان خشک اور آنکھیں نم ہورہی ہیں جوں ہی یہ خبر جانکاہ دیکھی کہ علاقہ ترال کے سرکردہ عالم دین حضرت مولانا نور احمد ترالی رحمہ اللہ کا انتقال ہوگیا ہے مرنا تو ہر کسی کو ہے پر کسی کی موت سانحہ ہوتی ہے اس لحاظ سے کہ عوام کو ان کی سرپرستی کی ضرورت ہوتی ہے یا جن کا اوڑھنا بچھونا خدمت خلق ہو وہ نقصان ہی کہلاتا ہے بہرحال ہونی کو ٹال دینا ہمارے بس میں نہیں وہ ہوکر ہی رہتی ہے یہی قانون قدرت ہے بس کسی کے غم جدائی میں آنکھیں از خود برستی ہیں تو کسی کی جدائی پر صرف آہ نکل جاتی ہے کیونکہ دل ہے ہی ایسا کہ جہاں اس کی وابستگی ہوجائے وہیں کا ہوکر رہتا ہے میرے لئے یہ خبر اس لئے بھی انتہائی پریشان کن تھی کیونکہ اب تسلسل کے ساتھ علماء کرام کا انتقال ہورہا ہے یہ کوئی عام سی بات نہیں ہے بلکہ ایک حساس بات ہے کہ اہل علم دنیا سے جارہے ہیں اور ہم جیسے جہلا ان کے پیچھے رہ گئے کیونکہ علماء کسی بھی معاشرے کا حسن اور وقار ہوتے ہیں۔
علماء کا وجود معاشروں کے لیے اس اعتبارسے انتہائی ضروری ہے کہ عوام الناس ان سے شرعی‘ دینی ‘ سماجی و دیگر معاملات میں رہنمائی حاصل کرتے رہتے ہیں اور ان کے خطبات ‘ دروس‘ مجالس اور تحریروں کے ذریعے اپنے عقائد ‘ نظریات اور اعمال کی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔
تاریخ اسلام اس بات پر شاہد ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد ہر دور میں پختہ علماء اور آئمہ کے ساتھ وابستہ رہی اور ان کے دروس اور خطبات کو نہایت جوش وخروش اور عقیدت واحترام کے ساتھ سنا جاتا رہا۔ پختہ اور سنجیدہ علما کے ساتھ تعلق ہونا یقینا ہر سنجیدہ اور باشعور شخص کے لیے باعث عزت وافتخار ہے۔ جید علماء کی رفاقت یقینا دین و دنیا کی بہتری کا ذریعہ ہوتا ہے‘ اسی طرح کسی بھی جید عالم کی رحلت یقینا بہت بڑا سانحہ ہوتی ہے اور اس کی وفات سے پیدا ہو جانے والا خلا مدت مدید تک پر نہیں ہوتااور انسان تادیر معاشرے میں ان کی کمی کو محسوس کرتا ہے۔ کسی بھی باعمل عالم کی رحلت پر ہر دین پسند انسان بہت زیادہ بے چینی اور غم کو محسوس کرتا ہے۔ اس لیے کہ اُس کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ علماء کی روحوں کے قبض ہوجانے سے انسان نہیں ‘بلکہ علم بھی اُٹھ رہا ہے‘جس طرح سنن ترمذی کی حدیث ہے کہ عبداللہ بن عمر وبن عاص ؓ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ علم اس طرح نہیں اُٹھائے گا کہ اُسے لوگوں کے سینوں سے کھینچ لے‘ لیکن وہ علم کو علماء کی وفات کے ذریعے اُٹھائے گا تو ایسا ہی اب ہورہا ہے کہ علماء دنیا سے اٹھ رہے ہیں اور ہم باقی رہ گئے تنہا اللہ نہ کرے کہ وہ زمانہ آجائے کہ علماء نہ ہوں اور دنیا مصائب و مشکلات میں بے یارومددگار رہ جائے
بہرحال بات ہو رہی ہے مولانا نور احمد ترالی مرحوم کی جن کا پرسوں ہی انتقال ہوگیا ہے میرے تب آنسو نکل پڑے جب ایک صاحب سے ان کے بارے میں استفسار کیا تو جواب میں انہوں نے فرمایا کہ
اب کی بار کون رولایاگا شب میں
سوچتے سوچتے ہم رو پڑے
شب قدر میں ان کے جاننے والے کہتے ہیں کہ مولانا رحمہ اللہ کی آواز میں سوز گداز جو تھا اسی سبب شب قدر میں ایک بڑا مجمعہ سامعین کا ہوتا جو رات کے کسی پہر اچانک پھوٹ پھوٹ کر رو دیتے جب مولانا دعا کرتے اور مولانا کی بھی ہچکیاں سنی جاتی تھی شاید ہی اب ایسی مجالس دیکھنے کو ملیں گئیں مولانا اتحاد امت کے سلسلے میں کافی متحرک تھے وہ مسلکی منافرت کے بجائے امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر دیکھنے کے متمنی تھے اسی لئے اس کوشش میں اکثر اوقات تبلیغ کا سہارا لیتے فکر سید مودودی غالب تھی پر مجال ہے کہ دوسرے علماء سے چڑھتے یا ان کی برائی کرتے بلکہ ہمہ وقت ان کی مجالس کراتے ان سے ملاقاتیں کرتے اس کے لئے اپنے قائم کردہ مدرسہ میں بھی انہیں مدعو کیا کرتے
اور انہیں سنتے بھی اور ان سے درد مندانہ اقدام اٹھانے کی تلقین بھی کرتے فرقہ واریت اور مسلکی رسا کشی کے اس دور میں وہ داعی وحدت و اخوت تھا۔تفرقات کو صرفِ نظر کر کے اور مساویت کی بنیاد پر عالموں کا ایک ساتھ ملن اُن ہی کی بدولت دیکھنے کو ملتا تھا
آپ توحید کے داعی، نڈر، اللہ تعالی کی ذات کے سوا کسی سے ڈرنے والے نہیں، علم و عمل کے پیکر، اخلاقیات سے پُر، داعیِ اتحاد اور سب سے بڑھکر امتِ مسلمہ کے خیر خواہ تھے۔نرم دمِ گُفتگو، گرم دمِ جُستجو،رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز” جیسی صفات کی متحمل شخصیت تھے
مولانا کے بارے میں کچھ معلومات جو میں نے کل سے جمع کیں کچھ یوں ہیں کہ
مختصر تعارفی خاکہ
مولانا نور احمد ترالی کا تعلق کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ (ترال )سے تھا، وہ اپنے والد معروف عالم دین مولانا نور الدین ترالی قاسمی کے زیر تربیت پروان چڑھے، مولانا نور احمد ترالی جموں و کشمیر مجلس دعوت حق کے سربراہ تھے، وہ دارالعلوم نورالاسلام ترال کے سرپرست بھی تھے، جسکی بنیاد انکے والد مرحوم نے 1940ء میں عمل میں لائی تھی، مدرسہ تعلیم الاسلام ترال بائز و گرلز ونگ انہی کے زیرنگرانی فعال تھا، وہ مجلس اتحاد امت سے بھی وابستہ تھے، جموں و کشمیر میں اتحاد و اخوت بین المسلمین کے حوالے سے انہوں نے کئی کارنامے انجام دیئے، جن میں نمایاں کارنامہ انکی مشہور تصنیف ’’دعوت حق‘‘ ہے، ۲۰۰۲ ء سے وہ مجلس دعوت حق تعلیم الاسلام کی سربراہی کر رہے تھے اور جموں و کشمیر کے اطراف و اکناف میں مختلف سیمیناز و کانفرنسز کا انعقاد بھی کراتے ایک صاحب کے تاثرات کچھ یوں تھے مولانا نور احمد ترالی کا فن خطابت موثر اور یکتا تھا۔ قرآن و حدیث کی تشریح کے دوران مولانا روم، علامہ اقبال اور شیخ نور الدین نورانی کے اشعار کا بروقت استعمال انکے تبحر علم کا آئینہ دار تھا۔ وہ بے باکی کے ساتھ کشمیر کے حالات کے پس منظر میں عالموں اور عوام کے رول پر بات کرتے تھے۔ جب کبھی بھی انکا خطبہ جمعہ یا عیدین سننے کا موقعہ ملا تو ذہن کے دریچے وا ہوئے۔نور احمد مرحوم ، گزشتہ صدی کے ولی کامل حضرت مولانا نور الدین ترالی کے فرزند تھے لہٰذا انہیں علم و حلم، فصاحت و بلاغت اور تدبر و حکمت ورثے میں ملی تھی۔انکے انتقال پر میرا آبائی علاقہ ترال ہی نہیں بلکہ پورا کشمیر سوگوار ہے۔ مجھے دور دور تک انکی سطح کا کوئی دینی عالم۔نظر نہیں آتا جنہیں عوام میں اتنی قبولیت حاصل ہو
مولانا مرحوم کے بارے میں انکے ایک چاہنے والے محترم منیب سلفی صاحب کہتے ہیں کہ
مولانا نور احمد ترالی رح کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے وادی کشمیر کے مایہ ناز عالم دین مولانا نور الدین ترالی رح کے بطن جلیل لائق و فایق جانشین تھے
مولانا نور احمد ترالی رح نہ صرف ایک داعی تھے بلکہ بذات خود ایک تحریک تھے سکھ برادری کے ساتھ
چھٹی سنگھ پورہ کا المناک واقعہ جب پیش آیا تو سکھ برادری ہجرت کرنے پر بہ ضد رہے تو مولانا نور احمد ہی وہ مرد غیور تھے جس نے انہیں دلاسہ دیا اور ان کا حوصلہ بنائے رکھا اور ہجرت کرنے سے روک دیا
شہر و گام جب بھی کوئی آفت آتی تھی تو مولانا آگے آگے ہوتے تھے
بات 2014کی ہے جب سیلاب نے پوری وادی کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو مولانا میدان میں خود اتر آئے اور ہزاروں غریبوں،مفلوک الحال افراد کی بھر پور معاونت کی
2016میں جب نا مساعد حالات کے سبب لاکھوں افراد بے گھر ،بےسہارا ہورہے تھے تب ان کی بازآبادی کیلئے کلیدی کردار ادا کرتے تھے اتنا ہی نہیں بلکہ کشمیر میں مزدوری کے پیشہ سے وابستہ مختلف ریاستوں کے لوگوں کے لئے بھی کھانے پینے کا انتظام کردیا بقول نور احمد رح ہماری جدوجھد پاک ہے ان بے چاروں کا کوئی قصور نہیں ہے یہ ہمارے مہمان ہیں
اب رہا مسلکی تشدد
ڈاکٹر حمید نسیم رفیع آبادی کہتے ہیں
یہ خبر سن کر بہت دکھ ہوا کہ مولانا نور احمد ترالی کا انتقال ہوگیا ہے ایک ایسی دینی شخصیت جو بے لوث مخلص اور اعلی پائے کی علمی حثیت رکھتی تھی دینی و دنیاوی تعلیم کے امتزاج کے داعی دعوت الی اللہ اور اصلاح بین المسلمین کے علمبردار علماء کے قدر دان اور اسلام پسند دانشوروں کے مربّی نور احمد ترالی اس زمانے میں ایک منفرد شناخت کے حامل تھے کم گو متقی اور سنجیدہ عالم دین ہونے کے باوجود بڑے بڑے دینی اجتماعات کا انعقاد کرنا ان کا معمول تھا تقریبا ہر سال ایک بڑی دینی تقریب کا اہتمام پابندی سے کرنا اور اس میں علماء کے ساتھ دانشوروں کو بھی مدعو کرنا آپ کی ایک قابل ستائش کوشش رہی ہے مجھے بھی ایسے بہت سارے پروگراموں میں شمولیت کی سعادت حاصل ہوئی اور کتنی بار ترال کے مردم خیز علاقے کے دانشوروں اور علماء کے ان مشترکہ جلسوں سے خطاب کرنے کا موقعہ مرحوم نور احمد ترالی صاحب نے فراہم کیا ان جلسوں میں تمام مکاتیب فکر اور مسالک کے علماء کو بلا تفریق مدعو کیا جاتا رہا ہے اور ہر سال کوئی نیا عنوان سمیناروں کا اور جلسوں کا نور صاحب مرحوم تجویز فرماتے تھے ایسے جلسوں میں شمولیت کے وقت قیام و طعام کا بڑا اچھا انتظام ہوتا تھا اور مرحوم نور صاحب مہمانوں کے پاس بیٹھ کر اکثر ان کی مہمان نوازی کا پابندی سے اہتمام کرتے تھے خود اکثر روزہ سے ہوتے تھے مگر مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی تکریم کا بھر پور خیال رکھتے تھے
اسی طرح جب میں اسلامک ریلیف اینڈ ریسرچ ٹرسٹ کے ساتھ وابستہ تھا اس کے جلسوں میں ہم مرحوم ترالی صاحب کو بلاتے تھے اور آپ کئی بار ہماری دعوت پر تشریف لائے اور ہمیں اپنے زرین خیالات اور قیمتی مشوروں سے مستفید فرمائے
میرے پیارے بھائی زبیر ندوی صاحب کہتے ہیں
بڑی مدت بعد علاقہ ترال کے معروف و مشہور، عالم دین، اپنا خاص مدرس و معلم و مربی مولانا نور احمد ترالی دام ظلہ سے ان کے آشیانہ پرملاقات کا شرف حاصل ہوا
مولانا نے اپنے در پر مجھ کو دیکھتے ہی بڑی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اندر آنے کو کہا… اندر بیٹھ کر چند اہم امور پر گفت و شنید ہوئی….. مستقبل کے تئیں چند قیمتی نصائح سے بھی نوازا . تحریک اسلامی سے تعلق اور خدمت دین کرنے پر بھی مولانا نے بڑی خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کلمات دعائیہ سے نوازا . ایک نصیحت جس کو میں اپنے تمام رفقاء تک پہنچا رہا ہوں تاکہ آپ بھی مستفید ہوں.. فرمایا
روح مخلوقِ رب نہیں ہے بلکہ امرِ رب ہے اس لئے روح کو حاکم بنایا جائے جسم کو محکوم…… دعوت الی اللہ کا فریضہ روح انجام دیتا ہے جبکہ جسم اس کا صرف ایک معاون کی حیثیت رکھتا ہے. روح کی طہارت و پاکیزگی کرنا لازمی ہے تب جا کے آپ دنیا کے کسی محاز پر دعوت الی اللہ کا فریضہ کما حقہ سر انجام دے پاؤ گے. قیامت میں آپ کے روح سے ہی پوچھ گچھ ہوگی. اس لئے روح کو پاک و صاف کر کے اللہ کا قرب حاصل کر کے رضا الہی کی فکر دامن گیر رہے گی .. ورنہ صرف جسم کا بناؤ سنگار کوئی مفید نہ ہو گا.
ان کی کچھ تالیفات بھی ہیں جن میں سے ہر کتاب اپنے اندر محبت و اخوت کا پیغام لئے ہوئے ہے اور نام کی طرح اندرون بھی علمی شاہکار ہیں جن میں سے ۱ ایمان مفصل ۲ فرائض و حقوق ۳ طریقہ حج ۴ پیر مرید ۵دعوت حق ۶ صلوتہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۷ ماثور دعائیں
اس کے علاوہ محترم کا ایک انٹرویو اسلام ٹائمز نامی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے جس میں سے دو اقتباسات آپ کی نظر کرنے کی جسارت کررہا ہوں تاکہ ان کا نظریہ محبت اور درس توکل کے ساتھ ساتھ ان کو سمجھنے میں آسانی ہو
نمبر ۱ ہمارے مادہ پرست مولوی حضرات سیاسی طور پر بالکل نابلد ہیں، وہ سیاست کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہیں، سیاسی شعور کا انکے اندر فقدان ہے، اسلئے وہ استعمال ہو رہے ہیں، وہ بظاہر اسلام کے لئے کام کرتے ہیں لیکن درحقیقت اسلام مخالف مہم کا حصہ ہیں، وہ اسلام کے خلاف کام کرتے ہیں، دین کے ساتھ ساتھ سیاسی شعور کا ہونا لازمی ہے، ہندوستان اور ہندوستانی سیاست برسوں سے اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ کشمیر میں حقیقی اسلام باقی و زندہ نہ رہنے پائے، اسلام ناب یہاں پنپنے نہ پائے اور بھارت کی کوشش ہے کہ اسلام بھی یہاں وہی سطح و معیار اختیار کرے جو برھمن و ہندوں کا معیار ہے (نمبر ۲ ) بہت ضروری ہے کہ مسلمان منظم ہو جائیں، متحد ہو جائیں، اس وقت مغربی طاقتیں متحد ہو رہی ہیں اور اسلام کے خلاف ایک ہو کر سازشیں کر رہی ہیں، اب اپنے بچاو اور دفاع کے لئے مسلمانوں کو متحد ہونا پڑے گا، تاکہ مسلمان مغربی طاقتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکیں، مسلمانوں کو اسلام کے تقدس کو بچانے کیلئے متحد ہونا ہی ہوگا، ایک کعبے کی پاسبانی کیلئے مسلمانوں کو متحد ہونا ہی پڑے گا، مسلمان چاہے مغرب میں ہوں یا مشرق میں ہوں، جنوب میں ہوں یا شمال میں ہوں ’’لا الہ الا اللّہ، محمد رسول اللہ‘‘ سب کی آواز ہے، سب کا نعرہ ہے، سب کا دستور العمل ہے، اللہ اور اللہ کے رسول (ص) نے تمام مسلمانوں کو متحد کر دیا اور ہمارے کلمہ توحید کا یہی تقاضا ہے، نماز کا بھی یہی تقاضا ہے، حج کا بھی یہی مطالبہ ہے اور قرآن مجید کا بھی یہی دستور ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ متحد ہو جائیں اور اسلام کی پرخلوص خدمت کریں اور مسلمان اسلام کا دفاع مل کر کریں، اسلام کے خلاف جو یلغار چلی آ رہی ہے، اس کو نیست و نابود کرنے کیلئے مسلمان متحد ہوجائیں، اتحاد بہت ضروری ہے، تاکہ ہم اسلام کا دفاع کرسکیں، اکیلے کوئی فرد یا کوئی ملک اسلام کا دفاع نہیں کرسکتا۔ اسکے لئے سب مسلمانوں کا متحد ہونا بہت ضروری ہے
ہم کہہ سکتے ہیں کہ علاقہ ترال اس لحاظ سے انتہائی خوش قسمت واقع ہوا کہ کہ انہیں مولانا جیسی ہمت جہت شخصیت کی سرپرستی میسر تھی جن کی کاوشوں کا اعتراف غیر مسلم بھی کر رہے ہیں آج علاقہ ترال اپنے ہمدرد اور آفتاب علم سے محروم ہوگیا میں ان کے ہی خانوادہ سے ہی نہیں بلکہ تمام علاقہ ترال کے عوام سے تعزیت کرتا ہوں کیونکہ ایسے صاحب بصیرت اور صاحب علم لوگ صرف ایک گھر کے نہیں ہوتے بلکہ ان کی ذاتی ایک انجمن ہوتی ہے ایک روشن چراغ ہوتی ہے جس کی ضیاع پانی سے ہزار ہا لوگ استفادہ کرتے ہیں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار لیتے ہیں اللہ تعالی علاقہ ترال کو اس کا نعم البدل عطا فرمائے یوں مولانا مرحوم ہزاروں لوگوں کی معیت میں سفر آخرت پر روانہ ہوئے کہ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ان کے جنازے کے مناظر بتا رہے تھے کہ اک شخص نہیں اک انجمن تھی جو مدفن کی اور چلی جارہی ہے
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
