تازہ ترین
اٌمت میں اختلافات وہ بھی منظرِ عام پر!

مصنف: جاوید اختر بھارتی
خبراردو
یہ سچ ہے کہ اتحاد زندگی ہے،، اور اختلاف موت ہے ،، اسے سمجھنے کی اور غور کرنے کی ضرورت ہے،، اگر جماعت میں اختلاف ہوجائے تو جماعت کی موت، قوم میں اختلاف ہوجائے تو قوم کی موت، آبادی میں اختلاف ہوجائے تو آبادی کی موت، شناخت اور پہچان اور تعداد میں اختلاف ہوجائے تو بھی موت یعنی پھر کثیر تعداد میں ہوتے ہوئے بھی احساس کمتری کی چادر اوڑھنا بچھونا بن جایا کرتی ہے سوچ کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے
رونا رونے کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا جب قوم اختلافات کا شکار ہوتی ہے تو اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ کو بھلا دیتی ہے اور جو قوم اپنے آباؤ اجداد کی، اپنے اسلاف کی تاریخ بھلادیتی ہے تو وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹنے لگتی ہے پھر اس کا پرسان حال کوئی نہیں ہوتا اور سیاسی پارٹیاں بھی اس قوم کو کرکٹ کے میدان کا بارہواں کھلاڑی سمجھتی ہیں،، جبکہ اتحاد سے آنکھوں میں اور پیشانی پر چمک آتی ہے قوم منظم اور متحرک ہوتی ہے، معاشرہ فعال ہوتا ہے، سوچ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے، احساس برتری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جماعت طاقتور ہوتی ہے تو دل دماغ اتنا روشن ہوتا ہے کہ اسلاف کی، آباؤ اجداد کی تاریخ یاد رہتی ہے اور وہی تاریخ قوم کیلئے رہنمائی کا ذریعہ بناکرتی ہے
مذہب اسلام نے اتحاد کا پیغام دیا ہے اور اتحاد کی تعلیم دی ہے خلفائے راشدین نے اسی پاکیزہ تعلیم پر عمل کیا تو سربلندی حاصل رہی ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمان غنی، مولا علی رضوان اللہ علیہم اجمعین نے صداقت، عدالت، سخاوت، شجاعت کا پرچم لہرا کر صبح قیامت تک کیلئے اعلان کردیا کہ امت مسلمہ میں اتحاد کتاب و سنت کی ہی بنیاد پر ممکن ہے اور اسی میں کامیابی و کامرانی ہے
لیکن دور خلافت کے آخری مراحل میں جو اختلافات کا سلسلہ شروع ہوا تو پھر بڑھتا ہی گیا یہاں تک کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت بھی ہوئی پھر بھی یہ سلسلہ نہیں ٹھہرا یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بھی شہادت ہوئی اس کے بعد تو ایسا بھی موقع آیا کہ جب ملک شام میں یزید تخت نشین ہوا تو وہ بدبخت آل رسول سے ہی دشمنی کربیٹھا رب کے قرآن اور نبی کے فرمان سے ہی بغاوت کر بیٹھا یہاں تک کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ اور انکے جانثاروں کو سرزمین کربلا پر قتل کروا دیا،، اور آج معرکہء کربلا پر بھی مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوگیا جبکہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو امام حسین کے بچپن میں ہی بتادیا تھا کہ آپکی امت آپ کے نواسے کو قتل کردیگی کربلا کی مٹی بھی بارگاہ رسالت میں پیش کرنیکی روایت ملتی ہے –
بہرحال اس کے بعد اختلاف شروع ہوا مسلک کے نام پر اور اس کے بعد تو اختلافات کی رفتار اتنی تیز ہوگئی کہ بیان کرنا اور تحریر کرنا اور شمار کرنا انتہائی مشکل ہوگیا مکتب فکر کے نام پر، فرقہ بندی کے نام پر، مساجد و مدارس کے نام پر، مزاروں و خانقاہوں کے نام پر، بزرگانِ دین کے نام پر، یہاں تک کہ رسول پاک صل اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے مختلف گوشوں کے نام پر اتنا اختلاف کہ اب تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ اسلام اتحاد کا پیغام دیتا ہے لیکن اسلام کے ماننے والے اتحاد سے کوسوں دور ہیں اور یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہم جس نبی کا کلمہ پڑھیں تو انکی حیات مبارکہ پر بھی اختلاف رکھیں
اور اختلاف بھی اتنا شدید کہ تقریریں بھی اختلافی، تحریریں بھی اختلافی یعنی اختلافات اسٹیج پر بھی، کتاب کی شکل میں بھی،، ایک تو اختلاف دوسرے زور و شور کے ساتھ اختلافات کا پرچار،، یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس سے مذہب اسلام کا اور ملت اسلامیہ کا کس قدر نقصان ہورہا ہے کوئی بول بول کر نذرانے میں مست ہے تو کوئی اس مقرر آتش فشاں کی تعریف میں مست ہے اور حالت یہ ہے کہ نماز پر اتفاق ہے تو نماز کی ادائیگی پر اختلاف، امام کا ہونا ضروری ہے تو امام کے انتخاب پر اختلاف، تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کے مقام پر اختلاف، ہاتھ باندھنے کے بعد امام کے ساتھ سورہ فاتحہ پڑھنے نہ پڑھنے پر اختلاف، قرآن کے آخری کتاب ہونے پر اتفاق ہے تو قرآن کے ترجمے و تفسیر پر اختلاف، نذر و نیاز پر اختلاف، تراویح سنت مؤکدہ ہونے پر اتفاق ہے تواسکی رکعتوں پر اختلاف اسی کو دیکھتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا ہے کہ
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں، کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں افسوس اس بات کا بھی ہے کہ مسلمانوں کے سارے کے سارے اختلافات منظر عام پر ہیں جبکہ دوسرے مذاہب میں بھی اختلافات ہیں لیکن منظر عام پر نہیں ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اختلافات باعث رحمت ہیں باعث زحمت نہیں جبکہ یہ نہیں بتایا جاتا کہ کس طرح کے اختلافات باعث رحمت ہیں یہاں تو اختلافات کی وجہ سے رشتہ داریاں ختم ہوجاتی ہیں، دل ٹوٹ جاتے ہیں، مانگیں اجڑجاتی ہیں، نکاح،، طلاق میں تبدیل ہوجاتا ہے، گالی گلوج مارپیٹ کی نوبت اجاتی ہے مقدمہ بازی تک ہوجاتی ہے پھر اختلافات کیسے باعث رحمت ثابت ہوئے کبھی آواز اٹھتی ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد ہونا چاہیے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان ذمہ دار رہنماؤں کے ذریعے اور ذمہ دار اداروں کے ذریعے آج بھی اتحاد کی آواز بلند نہیں ہوتی کہ جن کی آواز پر اتحاد قائم ہوسکتا ہے خانقاہوں سے اتحاد کا نعرہ بلند ہو تو بات بنے، مدارس سے اتحاد کا نعرہ بلند ہو تو بات بنے، ایک مکتب فکر کے ادارے کے جلسے میں دوسرے مکتب فکر کے علماء و ذمہ داران کو مدعو کیا جائے اور شرکت کیا جائے تو بات بنے لیکن ایسا کرنا بہت مشکل ہے اور کبھی اس طرح کی آواز نہیں اٹھتی کیونکہ سب کو اپنی اپنی مسند پیاری ہے اپنی اپنی انفرادیت والی پہچان پیاری ہے چاہے بھلے ہی پوری قوم مسلم خسارے کے دلدل میں دھنس جائے آج کسی کے اندر اپنی غلطی تسلیم کرنے کا جذبہ نہیں ہے اور اخلاص و فا کے ساتھ اصلاحی جذبے کا بھی فقدان ہے یہی وجہ ہے کہ بھائی بھائی کے مابین دشمنی بڑھتی جا رہی ہے زندگی میں بعض ایسے بھی مواقع آتے ہیں کہ ان موقعوں پر دشمنی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے لیکن اب ایسے مواقع پر بھی نظرانداز کردیا جاتا ہے جبکہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسليم کے زمانے میں ایک شخص قربانی کرنے کیلئے اپنے جانور کو زمین پر لٹاچکا تھا لیکن اس کی اپنے حقیقی بھائی سے دشمنی تھی اللہ کے رسول جلدی جلدی اس کے مکان پر پہنچے اور کہا خبردار جانور کی گردن پر چھری نہ چلانا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے اور تمہارے بھائی کے درمیان دشمنی ہے، بات چیت بند ہے اور تم نے اسے منانے کی کوشش نہیں کی ہے یاد رکھنا اگر تم دونوں کے درمیان دشمنی بغض اور حسد قائم رہا تو تمہاری قربانی تمہارے منہ پر مار دی جائے گی بارگاہ خداوندی میں قبول نہیں ہوگی اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اختلاف، دشمنی، کینہ بغض و حسد کتنی بری چیز ہے اسلام ایک سچا مذہب ہے، اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اسلام نے دنیا کو جو امن پیار اور محبت کا پیغام دیا ہے وہ پوری انسانیت کیلئے ہے امت اسلامیہ امت دعوت ہے امت مسلمہ کا ظہور ہی تمام بنی نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کیلئے ہوا ہے ملت اسلامیہ کی موجودہ ذلت اور رسوائی و پستی کا اہم سبب امت کا اپنی اصل حیثیت کو فراموش کرنا ہے، اپنے اسلاف کے بتائے ہوئے راستے سے منہ موڑ لینا ہے آج مذہب اسلام سے متعلق الکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا نے غیر مسلموں میں بہت زیادہ غلط فہمیاں پھیلا رکھی ہیں تو ایسی صورت میں اسلام سے متعلق شکوک و شبہات کا ازالہ کرنا اور اسلام کی سچی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ساتھ ہی ساتھ میڈیا کے ذریعے پھیلائے جارہے غلط پروپیگنڈوں کو بے نقاب کرنا بھی ضروری ہے تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ اسلام انسانیت کا جس قدر محافظ ہے اتنا دنیا کا کوئی اور مذہب نہیں ہے،، انسانیت کو امن و سلامتی کی سعادتوں اور برکتوں سے بہرہ ور کرنے اور اسے فتنہ و فساد اور ظلم و ستم سے بچانے کیلئے اسلام کے پاکیزہ نظام امن کی اشد ضرورت ہے اور اسی سے دنیا امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکتی ہے آج بھی کچھ لوگ ہیں جو اس طرح کا فریضہ انجام دے رہے ہیں مگر ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے اور وہ لوگ سیاسی و سماجی پہچان رکھنے والے ہیں، وہ یونیورسٹیوں سے آنے والے لوگ ہیں تو یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ان کے اوپر دوسرا لیبل لگا دیا جاتا ہے اور انکی اپیلیں بے اثر ہو جایا کرتی ہیں جبکہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے دامے درمے قدمے سخنے تعاؤن ہونا چاہیے –
آجکل مغربی ممالک میں بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں وہ لوگ آج کے مسلمانوں کے کردار و اخلاق اور معاشرے کو دیکھ کر نہیں بلکہ قرآن و حدیث کی مقدس تعلیمات سے متاثر ہوکر مذہب اسلام قبول کر رہے ہیں اور آجکل قوم مسلم داخلی اور خارجی دونوں سطح پر اسلام دشمن قوتوں کے نرغے میں پھنسی ہوئی ہے اور آج صرف ایک ہی راستہ نظر ارہا ہے کہ قوم و ملت کی حفاظت کیلئے ہر قسم کے آپسی اختلافات کو بھلا کر اتحاد و اتفاق کے ساتھ فرقہ پرستوں کو زیر کیا جائے، آپسی اتحاد و اتفاق کو قائم رکھنے کے لیے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھاما جائے،، امت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق کتاب و سنت کی بنیاد پر ہی ممکن ہے جب سبھی لوگ قرآن و حدیث کا حوالہ دیتے ہیں اور اپنی بات کو حق بجانب قرار دیتے ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ کہیں نہ کہیں اندھیرا ہے اور اسی اندھیروں میں بھولی بھالی عوام کو لے جایا جاتا ہے اور کبھی کبھی یہ کہہ کر پلہ جھاڑ لیا جاتا ہے کہ نبی نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں 72 فرقے تھے اور میری امت میں 73 فرقے ہوں گے ایک فرقہ حق پر ہوگا اور باقی 72 فرقے جہنمی ہوں گے اور ہر فرقہ اپنے کو حق پر قائم ہونے کا ثبوت پیش کرے گا،، تو آج سبھی مکتب فکر کے لوگ اپنے کو حق پر کہتے ہیں لیکن نبی نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ تم فرقوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے پر لعن و طعن کرکے اپنے کو حق پر ہونا ثابت کرنا تو پھر کیوں ایک دوسرے کے خلاف تقریریں ہوتی ہیں، کیوں ایک دوسرے کے خلاف کتابیں لکھی جاتی ہیں سب لوگوں کو صرف اپنا نظریہ پیش کرنا چاہئیے کہ ہم کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے،، کبھی تو سنجیدگی سے غور کیجئے قرآن کہتا ہے کانہم بنیان مرصوص یعنی شیشہ پلائی دیوار بن جاؤ اور ہم بکھرتے جارہے ہیں، منتشر ہوتے جا رہے ہیں اور نہیں تو کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر سیاسی اتحاد ہونا چاہیے شرم آنی چاہیے دین کی بنیاد پر انتشار اور سیاسی بنیاد پر اتحاد،، یعنی دنیا میں اقتدار حاصل کرنے کی خواہش ہے اور اس خواہش کی تکمیل کے لیے سب مسلمان ہیں اور جہاں اسلام کی ترویج و اشاعت کی بات آئے، اللہ و رسول کی بات آئے تو وہاں ایک دوسرے کو مسلمان ہی تسلیم کرنے کو تیار نہیں یہی وجہ کہ ہم سیاسی، سماجی، دینی و ملی بیداری سے بہت دور ہو چکے ہیں اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جمہوریت میں وہی قوم سربلند ہوتی ہے جو سیاسی طور پر بیدار ہوتی ہے-
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یوپی
رابطہ 8299579972، javedbharti508@gmail.com
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
