تازہ ترین
اٌمت میں اختلافات وہ بھی منظرِ عام پر!

مصنف: جاوید اختر بھارتی
خبراردو
یہ سچ ہے کہ اتحاد زندگی ہے،، اور اختلاف موت ہے ،، اسے سمجھنے کی اور غور کرنے کی ضرورت ہے،، اگر جماعت میں اختلاف ہوجائے تو جماعت کی موت، قوم میں اختلاف ہوجائے تو قوم کی موت، آبادی میں اختلاف ہوجائے تو آبادی کی موت، شناخت اور پہچان اور تعداد میں اختلاف ہوجائے تو بھی موت یعنی پھر کثیر تعداد میں ہوتے ہوئے بھی احساس کمتری کی چادر اوڑھنا بچھونا بن جایا کرتی ہے سوچ کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے
رونا رونے کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا جب قوم اختلافات کا شکار ہوتی ہے تو اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ کو بھلا دیتی ہے اور جو قوم اپنے آباؤ اجداد کی، اپنے اسلاف کی تاریخ بھلادیتی ہے تو وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹنے لگتی ہے پھر اس کا پرسان حال کوئی نہیں ہوتا اور سیاسی پارٹیاں بھی اس قوم کو کرکٹ کے میدان کا بارہواں کھلاڑی سمجھتی ہیں،، جبکہ اتحاد سے آنکھوں میں اور پیشانی پر چمک آتی ہے قوم منظم اور متحرک ہوتی ہے، معاشرہ فعال ہوتا ہے، سوچ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے، احساس برتری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جماعت طاقتور ہوتی ہے تو دل دماغ اتنا روشن ہوتا ہے کہ اسلاف کی، آباؤ اجداد کی تاریخ یاد رہتی ہے اور وہی تاریخ قوم کیلئے رہنمائی کا ذریعہ بناکرتی ہے
مذہب اسلام نے اتحاد کا پیغام دیا ہے اور اتحاد کی تعلیم دی ہے خلفائے راشدین نے اسی پاکیزہ تعلیم پر عمل کیا تو سربلندی حاصل رہی ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمان غنی، مولا علی رضوان اللہ علیہم اجمعین نے صداقت، عدالت، سخاوت، شجاعت کا پرچم لہرا کر صبح قیامت تک کیلئے اعلان کردیا کہ امت مسلمہ میں اتحاد کتاب و سنت کی ہی بنیاد پر ممکن ہے اور اسی میں کامیابی و کامرانی ہے
لیکن دور خلافت کے آخری مراحل میں جو اختلافات کا سلسلہ شروع ہوا تو پھر بڑھتا ہی گیا یہاں تک کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت بھی ہوئی پھر بھی یہ سلسلہ نہیں ٹھہرا یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بھی شہادت ہوئی اس کے بعد تو ایسا بھی موقع آیا کہ جب ملک شام میں یزید تخت نشین ہوا تو وہ بدبخت آل رسول سے ہی دشمنی کربیٹھا رب کے قرآن اور نبی کے فرمان سے ہی بغاوت کر بیٹھا یہاں تک کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ اور انکے جانثاروں کو سرزمین کربلا پر قتل کروا دیا،، اور آج معرکہء کربلا پر بھی مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوگیا جبکہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو امام حسین کے بچپن میں ہی بتادیا تھا کہ آپکی امت آپ کے نواسے کو قتل کردیگی کربلا کی مٹی بھی بارگاہ رسالت میں پیش کرنیکی روایت ملتی ہے –
بہرحال اس کے بعد اختلاف شروع ہوا مسلک کے نام پر اور اس کے بعد تو اختلافات کی رفتار اتنی تیز ہوگئی کہ بیان کرنا اور تحریر کرنا اور شمار کرنا انتہائی مشکل ہوگیا مکتب فکر کے نام پر، فرقہ بندی کے نام پر، مساجد و مدارس کے نام پر، مزاروں و خانقاہوں کے نام پر، بزرگانِ دین کے نام پر، یہاں تک کہ رسول پاک صل اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے مختلف گوشوں کے نام پر اتنا اختلاف کہ اب تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ اسلام اتحاد کا پیغام دیتا ہے لیکن اسلام کے ماننے والے اتحاد سے کوسوں دور ہیں اور یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہم جس نبی کا کلمہ پڑھیں تو انکی حیات مبارکہ پر بھی اختلاف رکھیں
اور اختلاف بھی اتنا شدید کہ تقریریں بھی اختلافی، تحریریں بھی اختلافی یعنی اختلافات اسٹیج پر بھی، کتاب کی شکل میں بھی،، ایک تو اختلاف دوسرے زور و شور کے ساتھ اختلافات کا پرچار،، یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس سے مذہب اسلام کا اور ملت اسلامیہ کا کس قدر نقصان ہورہا ہے کوئی بول بول کر نذرانے میں مست ہے تو کوئی اس مقرر آتش فشاں کی تعریف میں مست ہے اور حالت یہ ہے کہ نماز پر اتفاق ہے تو نماز کی ادائیگی پر اختلاف، امام کا ہونا ضروری ہے تو امام کے انتخاب پر اختلاف، تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کے مقام پر اختلاف، ہاتھ باندھنے کے بعد امام کے ساتھ سورہ فاتحہ پڑھنے نہ پڑھنے پر اختلاف، قرآن کے آخری کتاب ہونے پر اتفاق ہے تو قرآن کے ترجمے و تفسیر پر اختلاف، نذر و نیاز پر اختلاف، تراویح سنت مؤکدہ ہونے پر اتفاق ہے تواسکی رکعتوں پر اختلاف اسی کو دیکھتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا ہے کہ
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں، کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں افسوس اس بات کا بھی ہے کہ مسلمانوں کے سارے کے سارے اختلافات منظر عام پر ہیں جبکہ دوسرے مذاہب میں بھی اختلافات ہیں لیکن منظر عام پر نہیں ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اختلافات باعث رحمت ہیں باعث زحمت نہیں جبکہ یہ نہیں بتایا جاتا کہ کس طرح کے اختلافات باعث رحمت ہیں یہاں تو اختلافات کی وجہ سے رشتہ داریاں ختم ہوجاتی ہیں، دل ٹوٹ جاتے ہیں، مانگیں اجڑجاتی ہیں، نکاح،، طلاق میں تبدیل ہوجاتا ہے، گالی گلوج مارپیٹ کی نوبت اجاتی ہے مقدمہ بازی تک ہوجاتی ہے پھر اختلافات کیسے باعث رحمت ثابت ہوئے کبھی آواز اٹھتی ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد ہونا چاہیے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان ذمہ دار رہنماؤں کے ذریعے اور ذمہ دار اداروں کے ذریعے آج بھی اتحاد کی آواز بلند نہیں ہوتی کہ جن کی آواز پر اتحاد قائم ہوسکتا ہے خانقاہوں سے اتحاد کا نعرہ بلند ہو تو بات بنے، مدارس سے اتحاد کا نعرہ بلند ہو تو بات بنے، ایک مکتب فکر کے ادارے کے جلسے میں دوسرے مکتب فکر کے علماء و ذمہ داران کو مدعو کیا جائے اور شرکت کیا جائے تو بات بنے لیکن ایسا کرنا بہت مشکل ہے اور کبھی اس طرح کی آواز نہیں اٹھتی کیونکہ سب کو اپنی اپنی مسند پیاری ہے اپنی اپنی انفرادیت والی پہچان پیاری ہے چاہے بھلے ہی پوری قوم مسلم خسارے کے دلدل میں دھنس جائے آج کسی کے اندر اپنی غلطی تسلیم کرنے کا جذبہ نہیں ہے اور اخلاص و فا کے ساتھ اصلاحی جذبے کا بھی فقدان ہے یہی وجہ ہے کہ بھائی بھائی کے مابین دشمنی بڑھتی جا رہی ہے زندگی میں بعض ایسے بھی مواقع آتے ہیں کہ ان موقعوں پر دشمنی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے لیکن اب ایسے مواقع پر بھی نظرانداز کردیا جاتا ہے جبکہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسليم کے زمانے میں ایک شخص قربانی کرنے کیلئے اپنے جانور کو زمین پر لٹاچکا تھا لیکن اس کی اپنے حقیقی بھائی سے دشمنی تھی اللہ کے رسول جلدی جلدی اس کے مکان پر پہنچے اور کہا خبردار جانور کی گردن پر چھری نہ چلانا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے اور تمہارے بھائی کے درمیان دشمنی ہے، بات چیت بند ہے اور تم نے اسے منانے کی کوشش نہیں کی ہے یاد رکھنا اگر تم دونوں کے درمیان دشمنی بغض اور حسد قائم رہا تو تمہاری قربانی تمہارے منہ پر مار دی جائے گی بارگاہ خداوندی میں قبول نہیں ہوگی اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اختلاف، دشمنی، کینہ بغض و حسد کتنی بری چیز ہے اسلام ایک سچا مذہب ہے، اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اسلام نے دنیا کو جو امن پیار اور محبت کا پیغام دیا ہے وہ پوری انسانیت کیلئے ہے امت اسلامیہ امت دعوت ہے امت مسلمہ کا ظہور ہی تمام بنی نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کیلئے ہوا ہے ملت اسلامیہ کی موجودہ ذلت اور رسوائی و پستی کا اہم سبب امت کا اپنی اصل حیثیت کو فراموش کرنا ہے، اپنے اسلاف کے بتائے ہوئے راستے سے منہ موڑ لینا ہے آج مذہب اسلام سے متعلق الکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا نے غیر مسلموں میں بہت زیادہ غلط فہمیاں پھیلا رکھی ہیں تو ایسی صورت میں اسلام سے متعلق شکوک و شبہات کا ازالہ کرنا اور اسلام کی سچی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ساتھ ہی ساتھ میڈیا کے ذریعے پھیلائے جارہے غلط پروپیگنڈوں کو بے نقاب کرنا بھی ضروری ہے تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ اسلام انسانیت کا جس قدر محافظ ہے اتنا دنیا کا کوئی اور مذہب نہیں ہے،، انسانیت کو امن و سلامتی کی سعادتوں اور برکتوں سے بہرہ ور کرنے اور اسے فتنہ و فساد اور ظلم و ستم سے بچانے کیلئے اسلام کے پاکیزہ نظام امن کی اشد ضرورت ہے اور اسی سے دنیا امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکتی ہے آج بھی کچھ لوگ ہیں جو اس طرح کا فریضہ انجام دے رہے ہیں مگر ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے اور وہ لوگ سیاسی و سماجی پہچان رکھنے والے ہیں، وہ یونیورسٹیوں سے آنے والے لوگ ہیں تو یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ان کے اوپر دوسرا لیبل لگا دیا جاتا ہے اور انکی اپیلیں بے اثر ہو جایا کرتی ہیں جبکہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے دامے درمے قدمے سخنے تعاؤن ہونا چاہیے –
آجکل مغربی ممالک میں بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں وہ لوگ آج کے مسلمانوں کے کردار و اخلاق اور معاشرے کو دیکھ کر نہیں بلکہ قرآن و حدیث کی مقدس تعلیمات سے متاثر ہوکر مذہب اسلام قبول کر رہے ہیں اور آجکل قوم مسلم داخلی اور خارجی دونوں سطح پر اسلام دشمن قوتوں کے نرغے میں پھنسی ہوئی ہے اور آج صرف ایک ہی راستہ نظر ارہا ہے کہ قوم و ملت کی حفاظت کیلئے ہر قسم کے آپسی اختلافات کو بھلا کر اتحاد و اتفاق کے ساتھ فرقہ پرستوں کو زیر کیا جائے، آپسی اتحاد و اتفاق کو قائم رکھنے کے لیے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھاما جائے،، امت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق کتاب و سنت کی بنیاد پر ہی ممکن ہے جب سبھی لوگ قرآن و حدیث کا حوالہ دیتے ہیں اور اپنی بات کو حق بجانب قرار دیتے ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ کہیں نہ کہیں اندھیرا ہے اور اسی اندھیروں میں بھولی بھالی عوام کو لے جایا جاتا ہے اور کبھی کبھی یہ کہہ کر پلہ جھاڑ لیا جاتا ہے کہ نبی نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں 72 فرقے تھے اور میری امت میں 73 فرقے ہوں گے ایک فرقہ حق پر ہوگا اور باقی 72 فرقے جہنمی ہوں گے اور ہر فرقہ اپنے کو حق پر قائم ہونے کا ثبوت پیش کرے گا،، تو آج سبھی مکتب فکر کے لوگ اپنے کو حق پر کہتے ہیں لیکن نبی نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ تم فرقوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے پر لعن و طعن کرکے اپنے کو حق پر ہونا ثابت کرنا تو پھر کیوں ایک دوسرے کے خلاف تقریریں ہوتی ہیں، کیوں ایک دوسرے کے خلاف کتابیں لکھی جاتی ہیں سب لوگوں کو صرف اپنا نظریہ پیش کرنا چاہئیے کہ ہم کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے،، کبھی تو سنجیدگی سے غور کیجئے قرآن کہتا ہے کانہم بنیان مرصوص یعنی شیشہ پلائی دیوار بن جاؤ اور ہم بکھرتے جارہے ہیں، منتشر ہوتے جا رہے ہیں اور نہیں تو کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر سیاسی اتحاد ہونا چاہیے شرم آنی چاہیے دین کی بنیاد پر انتشار اور سیاسی بنیاد پر اتحاد،، یعنی دنیا میں اقتدار حاصل کرنے کی خواہش ہے اور اس خواہش کی تکمیل کے لیے سب مسلمان ہیں اور جہاں اسلام کی ترویج و اشاعت کی بات آئے، اللہ و رسول کی بات آئے تو وہاں ایک دوسرے کو مسلمان ہی تسلیم کرنے کو تیار نہیں یہی وجہ کہ ہم سیاسی، سماجی، دینی و ملی بیداری سے بہت دور ہو چکے ہیں اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جمہوریت میں وہی قوم سربلند ہوتی ہے جو سیاسی طور پر بیدار ہوتی ہے-
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یوپی
رابطہ 8299579972، javedbharti508@gmail.com
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
