جموں و کشمیر
جان ہے تو جہان ہے،، پھر دعوت میں لفافہ تو عیادت میں کیوں نہیں!!
جاوید اختر بھارتی
یہ ایک بہت ہی مشہور کہاوت ہے کہ جان ہے تو جہان ہے یعنی جان سلامت ہے تو سب کچھ ہے جب جان ہی نہیں تو کچھ بھی نہیں،، حالانکہ اس کہاوت کی حقیقت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور یہ بھی کہنا چاہئیے کہ صحت ہے تو جہان ہے،، بڑے بڑے شہروں میں دیکھا گیا ہے.
آپ کار یا موٹر-سائیکل چلارہے ہیں روڈ کے کنارے مختلف قسم بورڈ لگے ہوئے ملتے ہیں کہیں اسپتال ہے تو وہاں بیڈ کا نشان بنا ہوا وہاں آپ کو آہستہ چلنا ہے ہوسکتا ہے کوئی جلدی میں دوا لینے کے لئے نکل رہا ہو، وہاں آپ ہارن بھی نہیں بجانا ہے کیونکہ اسپتال کے اندر نہ کیسے کیسے مریض ہیں آپ کے ہارن کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرانے کی وجہ سے انہیں خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اس لئیے مریض کو بھی بچانا ہے اور دوا لینے جارہے شخص کو بھی بچانا کیونکہ جان ہے تو جہان ہے،، آگے آپ کو اسکول کا بورڈ ملتا ہے اس پر لکھا ہوا بھی ہے کہ برائے کرم آہستہ چلیں اس لیے کہ ہوسکتا ہے کوئی بچہ اچانک آپ کی کار کی زد میں آجائے اور جان گنوا بیٹھے .
وہاں پر بھی ہارن بجانے میں احتیاط برتنا ہے اس لیے کہ کہیں کوئی بچہ چکمہ نہ کھا جائے تو آپ کو اس بچے کو چکمہ کھانے سے بھی بچانا ہے کیونکہ جان ہے تو جہان ہے،،آگے آپ کو ریلوے کراسنگ کا بورڈ بھی ملتا ہے وہاں پر آپ کو انتہائی احتیاط سے کام لینا ہے کیونکہ جان ہے تو جہان ہے،،اور شاعر نے بھی یہی کہا ہے کہ تنگدستی گرچہ ہو غالب،، تندرستی ہزار نعمت ہے،،
اس لیے کہ جان جب تک جسم میں ہے انسان زندہ ہے لیکن جسم میں جان رہتے ہوئے انسان مرض میں مبتلا ہے اور اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے سے مجبور ہے تو کیا اس کے سامنے بھی کہا جاسکتا ہے کہ جان ہے تو جہان ہے حالانکہ یہ کہاوت دہرانے اور بار استعمال کرنے کا مطلب تو یہی واضح ہوتا ہے کہ جان ہے تو پوری دنیا ہے وہ کہیں بھی جاسکتا ہے، .
کسی بھی محفل میں شرکت کر سکتا ہے، گھر سے لیکر بیرون ملک تک کا سفر کرسکتا ہے کیونکہ اس کے جسم میں جان ہے،، تو جب جان ہے تو جہان ہے،، اب ایک آدمی زندہ ہے طویل عرصے سے بیمار ہے، بستر پر زندگی اور موت سے جنگ لڑ رہا ہے یعنی موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے سال کا بارہ مہینہ گذر گیا،، محرم سے ذی الحج تک کا مہینہ گذر گیا، دیکھا جائے تو عید و بقرعید، عاشورہ و عید میلاد النبی، شب برات اور پورا رمضان المبارک کا مہینہ بھی آیا اس کی زندگی میں لیکن رمضان میں روزے نہیں رکھ سکا، عید و بقرعید کے موقع پر نماز دوگانہ نہیں پڑھ سکا، کسی سے مصافحہ و معانقہ نہیں کر سکا، کسی کے گھر تہوار کی مبارکباد دینے نہیں جاسکا،.
خود اس کے گھر پر بھی کوئی آیا تو بستر سے اٹھ کر استقبال نہیں کرسکا، آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے ہیں لیکن سب کچھ کے بعد اس کے جسم میں جان تو ہے لیکن کیا اس کی عیادت کرتے وقت یہ کہا جاسکتا ہے کہ تم بھلے ہی بیمار ہو، بستر پر اپنی زندگی کی سانسیں گن رہے ہو لیکن تم زندہ تو ہو اس لئے کہ تمہارے جسم میں ابھی جان باقی ہے اور جب تمہارے جسم میں جان ہے تو تم یہی سمجھو کہ جان ہے تو جہان ہے کیا اسے اس طرح سے تسلی دی جاسکتی ہے ہرگز نہیں،، ہاں وہ صحت مند ہوتا، تندرست ہوتا تب اس سے یہ بات کہی جاسکتی ہے.
ایسی حالت میں اس کے پاس دولت ہے، علاج کر نے کی وسعت ہے اور وہ علاج نہیں کر رہا ہے تب اسے بطور مشورہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ تمہارے پاس دولت ہے تمہیں اپنا علاج کرانا چاہئیے کیونکہ تم جانتے ہو کہ جان ہے تو جہان ہے اور یاد رکھنا چاہیے کہ وسعت ہوتے ہوئے بیماری کا علاج نہ کرانا بھی غلط ہے اس لیے کہ دوا اور دعا یہ ضروری ہے اور یہ دینی تعلیم بھی ہے لیکن ہاں اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ایک شخص سخت بیمار ہے اور علاج بھی نہیں کرا رہا ہے کسی طبیب، کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جارہا ہے تو آخر کیا وجہ ہے اور ضروری ہے کہ اس بات کی معلومات انتہائی خفیہ طریقے سے کی جائے تاکہ اس بیمار شخص کی دل آزاری نہ ہو انسان کی زندگی میں خوشی اور غم دونوں مواقع پیش آتے ہیں یہ دنیا کا دستور ہے کہ کسی گھر سے دلہن کی ڈولی اٹھتی ہے تو کہیں سے کسی کا جنازہ اٹھتا ہے.
ڈولی سجانے کے لیے تو رشتہ دار، اعزہ و اقرباء جوق درجوق آتے ہیں، کسی کو نوشہ اور دولہا بنانے کے لیے بھی آتے ہیں، پھر ولیمہ میں بھی آتے ہیں اور بلائے بھی جاتے ہیں، تحفے تحائف بھی لے کر آتے ہیں، روپیہ پیسہ بھی لے کر آتے ہیں، جہاں سازوسامان ہوا کرتے ہیں وہیں لفافے میں روپے اور پیسے بھی ہوتے ہیں جبکہ ان رشتہ داروں کو اور دوست احباب کو اور عزیز و اقارب کو یہ خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم یہ سامان نہیں لے جائیں گے اور پیسہ نہیں دیں گے پھر بھی یہ شادی رکنے والی نہیں ہے اس لیے کہ لڑکی اور لڑکے کے سرپرست، والدین، گھر والے سب لوگ شادی کے انتظامات بہت پہلے سے کرتے ہیں وہ اس دن کی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کے بھروسے نہیں رہتے ہیں ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس شادی بیاہ کی تقریبات کے موقع پر جو تحفے تحائف آتے ہیں اور ان میں جو نقد رقم ہوتی ہے وہ تقریبات کے اختتام پر اس تقریبات کا انعقاد کرنے والے کے لیے کچھ راحت کا ذریعہ بنتی ہے .
لیکن کوئی پہلے سے اپنی بیماری کے علاج کے لیے تیاری نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم ہی نہیں ہے کہ میری زندگی میں کب بیماری لگے گی اب ایسی صورت میں جو دولتمند ہیں وہ بیماری کی حالت میں بڑے بڑے اسپتال میں جاتے ہیں اور بڑے بڑے ڈاکٹر سے اپنا علاج کراتے ہیں لیکن بیماری کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، بیماری کی کوئی ذات برادری نہیں ہوتی، بیماری لگنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی دنیا میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جو طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور اس قدر کمزور ہیں کہ وہ کسی کے گھر جانا تو دور کی بات ہے جس کمرے میں رہتے ہیں اس کے علاوہ دوسرے کمرے میں نہیں جاسکتے، لیٹے ہیں تو کھڑے نہیں ہوسکتے، مالی حالت اتنی خستہ ہے کہ وہ اپنا علاج بھی نہیں کرا سکتے تو عیادت کے لیے وہی لوگ آتے ہیں جو شادیوں میں تحفے تحائف لے کر آتے تھے، جو لفافے میں بند کرکے پیسے لے کر آتے تھے لیکن آج وہی رشتہ دار، عزیر و اقارب آتے ہیں تو بس خالی ہاتھ جبکہ انہیں معلوم ہے کہ میں جس کی عیادت کرنے آیا ہوں اس کے پاس علاج کرانے کے لئے پیسہ نہیں ہے تو اس موقع پر بھی اسی لفافے میں حسب حیثیت کچھ پیسے لے کر کیوں نہیں آتے.
اور اسی طرح بطور امداد لفافے میں پیسے رکھ کر کیوں نہیں دئیے جاتے لہذا اب سے ہمیں یہ طریقہ اپنانا چاہیے کہ کسی مریض کی عیادت کرنے جائیں تو جس طرح پھل فروٹ لے کر جاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ ہم اپنی وسعت کے مطابق لفافوں میں پیسے رکھ کر لے جائیں اور مریض کے جو ذمہ دار ہیں انہیں انتہائی خلوص کے ساتھ دیں اور مریض کی شفایابی کے لیے دعائیں کریں اور مریض سے عیادت کرنے والے لوگ اپنے لئے بھی دعا کرنے کے لیے کہیں جب ہم ایسا ماحول بنائیں گے تو انشاءاللہ لوگوں کو اپنا علاج کرانے میں آسانی ہوگی، انسانیت کو فروغ حاصل ہوگا، ایک دوسرے کے تئیں ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوگا دنیا میں جہاں بہت ساری رسمیں ایجاد ہوئیں وہیں اس رسم کے ایجاد کی ضرورت ہے رب کریم سب کو سلامت رکھے ہر آفت و بلا و بیماری سے محفوظ رکھے…………. آمین –
javedbharti508@gmail.com
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
