تازہ ترین
جے کے کیڈر کا خاتمہ:کیا ہونے والا ہے جموں کشمیر میں؟
عاصم محی الدین
تقریبا 17 ماہ ہوگئے ہیں جب وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں مرکزی حکومت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو کالعدم قرار دے کر ریاست کو دو مرکز ی علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں منتشر کردیا۔
اس کے بعد ، اہم پیش ر فتیوں کا سلسلہ جس میں جموں کشمیر انڈین اڈمنسٹرشن سروسز کیڈر کو اے جی ایم یو ٹی میں ضم کرنے والے حالیہ ایک منصوبے کے ساتھ بدستور جاری ہیں۔
وہیں جب اس سلسلے میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے گزٹ پاس کیا تو موسم سرما کے دارالحکومت جموں میں UT کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے 285000 کروڑ روپے کے میگا صنعتی پیکیج کا اعلان کیا۔
اگرچہ مقامی اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے دونوں امور پر ابھی تک کوئی واضح رد عمل ظاہر نہیں ہوا ہے۔ وہیں صنعتی پیکیج کی تفصیلات کے بارے میں ابھی تک کچھ حاص پتہ نہیں چل پایا ہے ، تاہم ، جے کے کیڈر کو اے جی ایم یو ٹی میں ضم کرنے نے مرکز کے محرکات کوواضح طور پر ضاہر کردیا ہے۔ جوطویل عرصے سے جموں و کشمیر میں انتظامی اصلاحات کا مطالبہ کررہی تھے۔
دہلی میں موجودہ حکومت کی تفہیم کے مطابق ، حال ہی میں تیار کردہ مرکزی خطے میں پیش آنے والے نصف مسائل اقربا پروری ، ریڈ ٹیپ اور نظام میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی وجہ سے ہیں۔ وہ لوگ جو نظام میں ریڈ ٹیپ اور بدعنوانی کو فروغ دیتے ہیں انتظامیہ میں اعلی عہدوں پر فائز ہیں۔
ایم ایچ اے میں خدمات انجام دینے والے ایک سینئر عہدیدار نے خبر اردو کو بتایا ، “جے کے کیڈر کو اے جی ایم یو ٹی میں ضم کرنے سے مرکزی حکومت کو نئی سونچ رکھنے والے افسران ، اروناچل پردیش ، گوا ، میزورم اور ہندوستان کی دیگر UTs سے جموں کشمیر میں لانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔”
“ان عہدے داروں کی کئی سالوں سے بنائی گئی چین اور لابی کو توڑنے کی ضرورت ہے جو جموں کشمیر کی تعمیرو ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔”
امکان ہے کہ انتظامی اصلاحات کو پٹری پر لانے کی غرض سے نئی دہلی جموں وکشمیر میں اہم عہدوں پر فائز ہونے کے لئے اعلی افسران کی نئی ٹولی بھیج سکتی ہے۔
“نئی دہلی جانتی ہے کہ اس کا مشن کشمیر اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک وہ انتظاما میں بڑی تبدیلیاں نہیں لاتی۔
نئی پالیسیوں پر موجودہ انتظامیہ سے ان پر عمل درآمد کرانا نئی بوتلوں میں پرانی شراب پیش کرنے کے مترادف ہے ، ”یو ٹی کے ایک سینئر عہدیدار ، نام ظاہر نہ کرنے کی خوہش جتاتے ہوئے ،نے کہا۔
بڑے منصوبوں کے ایک حصے کے طور پر ، اگر ذرائع پر یقین کیا جائے تو آنے والے وقتوں میں 150 کے قریب سینئر عہدیداروں کو جموں و کشمیر بھیجا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ، بیش تر عہدے دار جن پر بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات ہیں ان کو ملک کے دیگر حصوں میں منتقل کیا جائے گا۔ جوکہ جے کے کیڈر کو AGMUT میں ضم کیے بغیر مرکز کے لئے قانونی طور ممکن نہیں تھا۔
ذرائع نے بتایا ، اس کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے کہ مستقبل میں تمام ضلعی سربراہان اور انتظامیہ میں HOD کے فرائز آئی اے ایس اور آئی پی ایس کے درجے سے کم کسی بھی افسر کے پاس نہیں ہوگئے ۔ ابھی تک ، جموں وکشمیر میں جے کے پی ایس سی کے عہدیداروں کو ضلعی افسران کی حیثیت سے بھی تعینات کیا گیا تھا جو آئی اے ایس اور آئی پی ایس رینک کے افسران کے ہمراہ محکموں کی سربراہی کرتے تھے۔
تاہم ، یہ اقدام عوام کی نظر میں کڑی تنقید کا نشانہ نہیں بن رہا ہے۔ UT کے بیشتر افراد اسے ریاستی کیڈر کے خاتمے کے ساتھ مقامی لوگوں کی منظم طور پر منتقلی سمجھتے ہیں۔
“اب مرکز جموں و کشمیر میں امور چلانے کے لئے دہلی سے تمام افسران کی تعیناتی کرسکتا ہے۔ یہ مقامی افسران کومنظم طور پر اختیارات سے دوچار کرنا ہوگا“ ۔ شیخ مقبول نے کہا۔
جموں کے مشہور صحافی ظفر چوہدری نے اپنے ویڈیو بلاگ میں یہ بھی تجویز کیا کہ جے کے کیڈر کے خاتمے اور اے جی ایم یو ٹی میں ضم ہونے کے بعد مقامی جے کے اے ایس افسران کو بھی حکومت کے صحارے کی ضرورت ہے۔
دریں اثنا ، انتظامیہ میں توازن برقرار رکھنے ، مشینری کو صحیح طریقے سے کام کرنے اور عام لوگوں کے لئے اچھی حکمرانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے مرکز کے لئے مقامی جے کے اے ایس افسران کی ہینڈ ہولڈنگ اہم ہے۔
صنعتی پیکیج
اگرچہ حال ہی میں اعلان کردہ 28500 روپے کے صنعتی پیکیج کی کوئی تفصیلات عوامی نہیں ہیں مانا جا رہا ہے کہ یہ رقم بلاک سطح پر نئے اسٹارٹ اپس کے قیام کے لیے خرچ کی جائے گی ، وہیں موجودہ صنعتی ادارے جنہوں نے ان تمام سالوں میں خطے میں کام کیا ہے بھی اسی طرح کی ہنڈ ہولڈنگ کا مطالبہ کررہے ہیں۔
اس پر جموں و کشمیر خطے کے صنعت کاروں کا دعوی ہے کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں مشکل ترین حالات میں کام کیاہے جبکہ ان کے لئے اس پیکیج میں کچھ نہیں ہے۔
چیمبر آف انڈسٹریز کشمیر کے صدر شاہد کاملی کا کہنا ہے ، “ہم چاہتے ہیں کہ بنیادی توجہ موجودہ اندسٹریز پر مرکوز رکی جائے۔”
کشمیر میں ، تاجر برادری کا بھی مطالبہ ہے کہ یونٹوں کے قیام کے لئے مقامی لوگوں کو پہلے موقع فراہم کرنا چاہئے۔
“مقامی افراد اس اسکیم کے سب سے پہلے مستفید ہونے چاہیں۔ کے سی سی آئی کے سابق صدر ، شیخ عاشق نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت کو چائیے کہ وہ مقامی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں اسٹارٹ اپ سرگرمیوں میں شامل کرے۔
نئی انڈسٹریزپالیسی میں نوجوانوں کے لئے ملازمت کے چار لاکھ مواقع پیدا کرنے کا تصور کیا جارہا ہے۔ اس پالیسی کے تحت جو 2037 تک نافذ العمل ہوگی ، جموں و کشمیر میں دو آئی ٹی شہر قائم ہوں گے۔ یہ پالیسی سرمایہ کاروں کو خاطر خواہ مراعات بھی فراہم کرگی ۔
جموں وکشمیر حکومت نے پہلے ہی مختلف اضلاع میں 6000 ایکڑ اراضی کو نئے یوننٹز کی اسٹیبلش منٹ کے لئے نشان دئے کیا ہے جس کے لئے پہلے ہی محکمہ محصول سے 3000 ایکڑ زمین حاصل کی جاچکی ہیں۔
لفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ، “ہماری شفاف پالیسیوں ، بنیادی ڈھانچے ، مارکیٹ پر مبنی پالیسی ماحول اور ہنرمند سرمایہ کاری کے ساتھ ، ہم موجودہ دہائی میں ہندوستان کے لئے ترقی کا ستون بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔
” سنہا نے پریس بریفنگ میں نامہ نگاروں کو بتایا ، اس اسکیم سے خطے میں گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے گا اور جموں و کشمیر کو خود انحصاربننے میں مدد ملے گی۔
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
