تازہ ترین
آر ایس پورہ کے باسمتی چاول عرب اور یورپ ممالک کے کچنوں کی ضیافت کیسے بنی؟
عاصم محی الدین
[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=_j3_I3a2gzY[/embedyt]
جموں ضلع کے آر ایس پورہ قصبے میں، ایک نوجوان پنکج مہاجن اپنی رائس مل کے دفتر کے باہر دھوپ ساک رہا ہے۔ اس کے چہرے پر اضطراب اور تناؤ غالب نظر آتا ہے۔
“کچھ سال پہلے تک، ہمارا بہت اچھا کاروبار تھا۔ یہاں تک کہ ہماری ملیں چوبیس گھنٹے کام کر رہی تھیں لیکن اب ہمارے لئے شاید ہی کوئی کاروبار باقی ہے۔
اگر آنے والے وقت میں صورتحال بہتر نہیں ہوئی تو، پنکج کی جاوادرگا رائس اور جنرل ملوں کے ساتھ ساتھ، آر ایس پورہ ریجن میں چلنے والی پچاس سے زاید ملوں کے شٹر بند ہونے کا امکان ہے۔ مل مالکان کا دعوی ہے کہ چاول کی خریداری میں خاطر خواہ کمی کے باعث ان کے اخراجات پورے کرنا مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔
آر ایس پورہ میں کاشت کی جانے والی چاول جو سیالکوٹ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد پر واقع ہے اس کے معیار اور خوشبو کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ لیکن اس کی اقتصادی صلاحیت کو استعمال کرنے کی ناقص مارکیٹ حکمت عملی کے پیش نظر اسے کبھی برآمد نہیں کیا گیا۔
چار سال پہلے، متعدد MNC نے آر اس پورہ اراضی میں داخلہ لیا تھا اور کاشتکاروں سے براہ راست پیداوار اٹھانا شروع کی گئی تھی۔ اس سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، تاہم اس نے یہاں کے باسمتی چاول کو عالمی سطح پر فوقیت بخشی ہے، جسے تکنیکی طور پر 370 یا رنبیر پورہ چاول کہا جاتا ہے۔
“کئی دہائیوں سے ہم پرمقامی مل مالکان استحصال کرتے رہے ہیں۔ ان کی یونین ہے اور وہ کسانوں سے مشورہ کیے بغیر نرخیں طے کررتے ہیں، “آر ایس پورہ کے ایک نوجوان کسان، دھیرج شرما کہتے ہیں۔ “انتہائی کم شرحیں طے کرنے کے باوجود ان فصلوں کی ادائیگی وقت پر نہیں کی جاتی تھی۔”
دھیرج، پیشہ سے ایک کاشتکار ہے جو اطمینان بخش اپنی پیداوار ابرو انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کو فراہم کررہا ہے۔ تاہم، وہ ایک ایسا تاجر بھی بن گیا ہے جو اپنے گاؤں کے کسانوں سے حاصل ہونے والی پیداوار کو خرید لیتا ہے اور بعد میں کمیشن کی بنیاد پر اسی کمپنی کو سپلائی کرتا ہے۔
“ہمیں اعلی کمپنیوں سے معاہدہ کرنے کے بعد ادائیگی وقت پر ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ فصل کے ہر بیگ پر مراعات اور بونس بھی ملتا ہیں۔
اس علاقے میں چلنے والی ملز باسمتی چاول کی بدلتی ہوئی مارکیٹنگ کی حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ تقریبا تمام ملیں ایک ہی شفٹ میں کام کر رہی ہیں اور ہفتوں تک کبھی کبھی بند رہتی ہیں۔
“پنکج جو ‘فیڈریشن آف رائس شیلنگ انڈسٹریز’ کا ممبر بھی ہے کا کہنا ہے “پچھلے چار سالوں میں ہمارے کاروبار میں پچاس فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ زیادہ تر لوگ اپنی فصلوں کو بیرونی کمپنیوں کو فروخت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے ہم سب متاثر ہوئے ہے۔
آربو انڈیا پرائیوٹ لمیٹڈ جیسی بڑی کاروباری گھروں اور کمپنیوں کے لئے آر ایس پیورا میں چاول کی منڈی کھلنے کے ساتھ، ایل ٹی فوڈز، سن سٹار اور سیز، نرنجن ایکسپوٹس، کے آر بی ایل اور بہت ساری کمپنیا براہ راست کسانوں کے ساتھ روابط استوار کر رہے ہیں، وہیں فیڈریشن کو اس بات کا کوئی پتہ نہیں ہے کہ اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں کیسے زندہ رہنا ہے۔
پنکج نے اپنے کاروبار کا کمزور رخ بتایا۔”ہم بس انتظار کر رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ معاملات کس طرح بدلتے ہیں۔ ایک چھوٹا کاروباری یونٹ کس طرح بڑی صنعتوں کا مقابلہ کر سکتا ہے جو کاشتکاروں کو اچھے منافع کا وعدہ کرتے ہوئے چاول کے کھیتوں میں داخل ہوگئے ہے، ”
جموں وکشمیر میں، آر ایس پورہ ہر سال 10 لاکھ کوئنٹل سے زیادہ باسمتی چاول کی پیداوار کرتا ہے۔ لیکن یہ عالمی سطح پر کچھ سال پہلے تک قبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا کیونکہ یہ سب کچھ مقامی طور پر کیا جاتا تھا۔
سوچیٹ گر گاؤں کے ایک کسان سوورن لال کہتے ہیں ”مقامی ملیوں کی ناقص مارکیٹنگ اس چاول کو جموں صوبے میں ہی فراوق کررہی تھی۔ اس کے نتیجہ میں یہاں کے چاول کو کم قیمت ملتی تھی، “۔
“ہماری پیداوار 370 باسمتی چاول کی اب عالمی منڈی ہے اور اس کی خوشبو مشرق وسطی اور یورپی ممالک کے صارفین کو راغب کررہی ہے۔ اب 370 ہماری شناخت بن گیا ہے۔
سوورن لال کا کہنا ہے کہ 85 فیصد اراضی آر ایس پورہ میں دھان کی کاشت کے تحت ہے اور ہر ایک ہیکٹر رقبے میں 32 کنوٹل بسمتی چاول تیار ہوتا ہے۔ اس کی کاشت ہر سال جون سے نومبر کے درمیان کی جاتی ہے۔
کئی دہائیاں قبل جب ہمارے گھر پر چاول تیار ہوتے تھے تو پڑوسیوں کو اس کی خوشبو کی وجہ سے پتہ چل جاتا تھا کہ چاول پک رہے ہیں۔ لیکن ہندوستان میں سبز انقلاب شروع ہونے کے بعد اور زیادہ سے زیادہ فصل کی پیداوارکے لئے کاشتکاروں کو مفت کھاد فراہم کی گئی، اس سے اصل ذائقہ کھونے لگا۔
چونکہ اس فصل کو اب عالمی سطح پر فروخت کیا جارہا ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، لہذا لال نے ایک چھوٹی سی کمپنی آرگنائک ڈریمز قائم کی ہے تاکہ سوچیٹ گاؤں میں ارگینک کاشتکاری کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔
اگر آپ مارکیٹ میں براہ راست فصل بیچ رہے ہیں تو، ایک کوئنٹل آپ سے تقریبا 5000 روپے میں لے جاتا ہے۔ اگر آپ ارگینک طریقے سے فصل تیار کرتے ہیں تو، قیمتیوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ لہذا میں اپنے گاؤں میں کاشتکاری کے ارگنک طریقوں کو زندہ کرنے کے لئے کام کر رہا ہوں تاکہ اس بات کو یقین کیا جاسکے کہ اس کا اصل ذائقہ پھر سے واپش اگیا ہے۔
سورن لال، تاہم، اپنے گاؤں والوں سے ایک قدم آگے لگتے ہے۔ وہ پوری طرح سے کمپنیوں پر انحصار نہیں کر رہا ہے کہ وہ گاؤں کا دورہ کر کے پیداوار اٹھیے۔ اس نے اپنا کسٹمر سپ سوشل میڈیا پر بنایا ہواہے جہاں سے وہ دنیا میں کہیں سے بھی آرڈر لیتا ہے۔
پورے ہندوستان سے کمپنیوں نے اس علاقے سے پیداوار وصول کرتے ہوئے دیہاتوں میں اپنے دفاتر قائم کیے ہیں۔ کسانوں کے لئے ان کے نمائندے صرف ایک کال کی دوری پر ہیں۔
“ہم یہاں تعینات ہیں،جب بھی ضرورت ہو کسانوں کی مدد کرتے ہیں، ہم کسانوں کو ماہرین کے مفت مشورے پیش کرتے ہیں، انہیں کاشتکاری کے جدید طریقے سکھاتے ہیں اور پریشانی کے وقت انہیں امید دیتے ہیں۔
ہر ایک کوئنٹل اناج پر، یہ بڑی کمپنیاں ایک کسان کو 100 روپے کا بونس بھی دیتی ہیں۔ اگر وہ ’پروجیکٹ‘ میں شامل ہونا چاہے تو وہ آزادانہ تجارت کے فوائد کا حقدار ہے جو کسان کے کل اناج کی لاگت کا 10 فیصد بنتا ہے۔
پروجیکٹ کسانوں کے لئے ایک اسکیم ہے جس میں کمپنی کے ذریعہ چھوٹے گروپ بنائے جاتے ہیں۔ بیرونی ممالک کے صارفین اس کی خریداری کا 10 فیصد اضافی بطور عطیہ کاشت کار کو دیتے ہیں۔ شیوم کا دعویٰ ہے کہ، “جتنی زیادہ فصل پیدا ہوتی ہیں، اتنا ہی زیادہ کاشتکار وصول کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں منڈی کا نظام موجود نہیں تھا۔ سسٹم کی عدم فراہمی کی وجہ سے، کسانوں کے لئے براہ راست MNC کے ساتھ معاہدہ کرنا آسان ہوگیا ہے۔
فصلوں کے سیزن کے آغاز سے یہ کمپنی کسانوں کو معیار اور مقدار میں سمجھوتہ ناکرنے کو یقینی بنانے میں مدد فراہم کررہی ہے۔
“تقریبا تمام کسان مویشی پالتے ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کاشت کار سائنسی طریقوں سے مویشیوں کے گوبر اور پیشاب کو کھاد کے طور پر استعمال کریں۔ یہ لاگت کو کم کرتا ہے اور معیاری فصل کو یقینی بناتا ہے۔
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
