تازہ ترین
برطانیہ اور کورونا: سوا لاکھ سے زائد اموات، ہزارہا میتیں تدفین کی منتظر
برطانیہ میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران اب تک سوا لاکھ سے زائد انسان ہلاک ہو چکے ہیں اور ہزارہا میتیں تاحال تدفین کی منتظر ہیں۔ مردوں کی تدفین یا میتیں نذر آتش کرنے والے اداروں کو بہت بڑا چیلنج۔
اس بہت پریشان کن صورت حال کے بارے میں برطانوی دارالحکومت لندن سے موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران شروع میں ہر کوئی بس ایک ہی بات سے ڈرتا تھا کہ ایک سوال کبھی نا پوچھنا پڑے۔ یہ سوال تھا: اتنی زیادہ لاشوں کا کیا کیا جائے؟ لیکن المیہ یہ ہے کہ اب برطانیہ میں مردوں کی تدفین کا اہتمام کرنے والے ادارے یہی سوال پوچھنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
صورت حال المناک اور سہ جہتی
برطانیہ میں کووڈ انیس کے وبائی مرض سے پیدا شدہ مجموعی صورت حال اور اس کے نتائج کا براہ راست مقابلہ کرنے والے سماجی طبقات کافی زیادہ ہیں مگر ان میں سے تین کو درپیش حالات کا اندازہ لگا کر تو کوئی بھی حساس انسان انتہائی رنجیدہ ہو جاتا ہے۔
ان میں سے ایک تو وہ ڈاکٹر اور طبی کارکن ہیں، جنہیں مسلسل لاکھوں مریضوں کی دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے۔ دوسرے انتقال کر جانے والے مریضوں کے وہ لواحقین ہیں، جو اپنے عزیزوں کی آخری رسومات میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے عائد پابندیوں کے باعث حسب خواہش شرکت نہیں کر سکتے۔
تیسرا طبقہ مردوں کی تدفین کرنے والے اداروں کے وہ کارکن ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی میں ماضی میں ایسی کوئی صورت حال کبھی دیکھی ہی نہیں تھی۔ یہ کارکن مسلسل چوبیس گھنٹے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں مگر ان کی ذمے داریاں ہیں کہ پوری ہی نہیں ہوتیں۔
ایک لاکھ 26 ہزار سے زائد ہلاکتیں
برطانیہ کا شمار مغربی یورپ کے سب سے زیادہ آبادی والے تین بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ وہاں کورونا وائرس کی وبا اب تک ایک لاکھ 26 ہزار سے زائد انسانوں کی موت کی وجہ بن چکی ہے۔
مردوں کی آخری رسومات کا اہتمام کرنے والے برطانوی پیشہ ور اداروں کے سربراہان کی ملکی تنظیم کی سرکردہ رکن ڈیبرا اسمتھ کہتی ہیں، ”مردوں کی قبروں میں تدفین سے لے کر میتیں نذر آتش کرنے والے اداروں کے کارکنوں اور تابوت تیار کرنے والے افراد تک، موجودہ صورت حال ہر کسی کے لیے قطعی غیر معمولی ہے۔‘‘
ڈیبرا اسمتھ کہتی ہیں، ”اتنے زیادہ انسانوں کی موت ایک ناقابل فہم نقصان ہے۔ ہمارے اداروں کے سالہا سال سے یہ کام کرنے والے کارکن بھی انسانی برداشت کی آخری حدوں کو پہنچ چکے ہیں۔ وہ بھی ان حالات سے اتنی ہی بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جتنا ہم سب میں سے کوئی بھی دوسرا انسان۔‘‘
میتیں رکھنے کے لیے بنائے گئے عبوری ہال بھی بھر گئے
گزشتہ ماہ جب برطانیہ میں کورونا کے باعث اموات کی روزانہ تعداد مسلسل ایک ہزار سے زیادہ رہنے لگی تھی اور نئی انفیکشنز کی یومیہ تعداد بھی کئی ہزار بنتی تھی، تب لندن کے مغرب میں مقامی حکومت نے ایک ایسی عمارت عارضی طور پر قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جہاں انتقال کر جانے والے مریضوں کی میتوں کو تدفین سے پہلے رکھا جا سکے۔
اس عبوری ‘ڈیڈ باڈی ہال‘ میں ایک ہزار تک میتیں رکھنے کی گنجائش ہے۔ مگر یہ گنجائش بھی کب کی پوری ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ انتقال کر جانے والے مریضوں کی میتیں رکھنے کے لیے کینٹ کاؤنٹی میں بھی حکام کو گاڑیوں کے شو رومز اور ورکشاپس والے ایک علاقے میں ایک عارضی لیکن بہت بڑا ہال تعمیر کرنا پڑ گیا۔
لاکھوں اموات، لاکھوں مرتبہ آخری رسومات
کورونا کی وبا کے باعث لاکھوں اموات کا مطلب ہے جتنی میتیں اتنی ہی مرتبہ آخری رسومات کی ادائیگی۔ دیگر یورپی ممالک کی طرح برطانیہ میں بھی یہ روایت عام ہے کہ اکثریتی مسیحی آبادی سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی میتین دفن کرنے کے بجائے نذر آتش کر دی جاتی ہیں اور پھر ان کی راکھ دفنا دی جاتی ہے۔ لیکن اس کام کے لیے شمشان بھی عام قبرستانون کی طرح ہر جگہ تو نہیں ہوتے۔
ڈیبرا اسمتھ کہتی ہیں، ”ایک تو کورونا کی وبا کے باعث بے تحاشا اموات ہو رہی ہیں۔ لیکن اس بیماری کے علاوہ بڑھاپے، خرابی صحت یا دیگر امراض کی وجہ سے بھی تو اموات معمول کے مطابق ہی ہو رہی ہیں۔ اس لیے مرنے والوں کی آخری رسومات کا پیشہ وارانہ اہتمام کرنے والے اداروں کو غیر معمولی حد تک دباؤ کا سامنا ہے۔ اس سے بھی المناک بات یہ ہے کہ یورپ میں موسم سرما میں فلو، بخار اور دیگر وجوہات کی بنا پر انسانی اموات کی شرح موسم گرما کے مقابلے میں زیادہ رہتی ہے۔‘‘
برطانیہ کی طرح باقی ماندہ یورپ میں بھی ان دنوں سردیوں کا موسم عروج پر ہے اور ساتھ ہی کورونا کی وبا بھی۔ یہ دونوں عوامل مسلسل بہت زیادہ انسانی ہلاکتوں کی وجہ بن رہے ہیں۔ اسی لیے جہاں ایک طرف ہزارہا میتیں تدفین کے انتظار میں ہیں، تو دوسری طرف اس ‘بہت مختلف موسم سرما‘ میں اجتماعی معاشرتی زندگی کے چہرے پر دکھ اور تعزیت کے سائے بہت گہرے ہو چکے ہیں۔(قومی آواز)
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
