پاکستان
کیا کچھ نہیں دیا گوا کی مسیحی برادری نے کراچی کو
ایک صدی پرانی کراچی گوان ایسوسی ایشن کی عمارت سر اٹھائے آج بھی اس عہد رفتہ کی یاد دلاتی ہے، جب انیسویں صدی میں گوا سے نقل مکانی کر کے آنے والی اس مسیحی کمیونٹی نے کراچی میں قدم رکھے۔
کراچی کے گورا قبرستان میں مقدس صلیب کے سائے میں بیٹھے تریپن سالہ پیٹرک جیمز کے آباء و اجداد گوا سے نقل مکانی کر کے کراچی آئے تھے۔ پیٹرک جمیز کے مطابق انہوں نے بہت سارے پادریوں کے ہمراہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ عمر کا ایک بہت بڑا حصہ اپنی والدہ کی خدمت میں گزارا۔ ان کی والدہ کا انتقال 2015 ء میں ہوا، یہی وجہ ہے کہ پانچ بھائیوں اور دو بہنوں میں صرف پیٹرک نے ہی ابھی تک شادی نہیں کی۔
معاشی زبوں حالی کا شکار پیٹرک جیمز کہتے ہیں، ”میں خداوند کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے زندگی دی، یہ ملک اور یہ زندگی دونوں خداوند کی طرف سے ایک تحفہ ہیں۔‘‘
تنہا پن کا احساس پیٹرک کو پچھلے پینتیس برسوں سے گورا قبرستان لے آتا ہے، جہاں وہ گھنٹوں مقدس سلیب کے نیچے بیٹھ کر اپنے پیاروں کو یاد کرتا ہے۔ گوا برادری کے ایک فعال سماجی کارکن رونالڈ ڈیسوزہ کے مطابق گوا کے مسیحیوں نے 1820ء میں گوا سے نقل مکانی شروع کی۔ انہوں نے مزید بتایا، ”انیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں گوا سے نقل مکانی کرنے والے کم پڑھے لکھے عیسائیوں کے بعد پڑھے لکھے افراد نے بھی یہاں کا رخ کیا۔ انگریزی زبان سے واقفیت کی بناء پر برطانوی راج میں اچھی نوکریاں ان کے حصے میں آئیں۔‘‘
پاکستان میں آباد کیتھولک مسیحیوں کی کل تعداد میں سے گوا سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ ان میں سے بہت سارے اب ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ دوران گفتگو پیٹرک نے بتایا، ”صدر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے سارے مسیحی ملک سے باہر چلے گئے ہیں، کوئی امریکا اور کوئی یورپ، وہ لوگ واپس آکر اب یہاں کیا کریں گے۔‘‘
ایک اندازے کے مطابق قیام پاکستان کے وقت تقریبا 20 ہزار گوا کے مسیحیوں میں سے اکثریت کراچی میں آباد تھی۔ لیکن آج ان کی تعداد صرف چھ ہزار سے آٹھ ہزار کے درمیان ہی رہ گئی ہے۔ پاکستان میں آج انہیں بہت کم لوگ ہی جانتے ہیں۔ کراچی کی ترقی میں بھی اس برادری کے کردار سے اکثریت ناواقف ہی ہے۔
سن 1862ء میں پیدا ہونے والے سنسنّاٹس فیبین ڈی ابیرو کے والد نے گوا سے سندھ 1846ء میں نقل مکانی کی۔ سینٹ پیٹرک سے ابتدائی تعلیم کے بعد ترقی کے زینے طے کرتے کرتے اسسٹنٹ کلکٹر سکھر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ کراچی واپسی کے بعد وہ بلدیہ کے صدر بنے۔ فیبین ڈی ابیرو کو سندھ کی بارہ معتبر شخصیات میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ اسی دوران انہوں نے شہر کراچی کی ترقی کے لیے بہت سے کام کیے۔ انہوں نے 1908ء میں ایک زمین خریدی جسے بعد میں کراچی کا پہلا باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بنایا گیا ٹاؤن شپ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
اس ٹاؤن شپ کا نام سنسنّاٹس ٹاؤن رکھا گیا۔ اس کی منصوبابندی کرنے والے پیڈروڈی سوزا اور جارج بریٹو تھے۔ ان کی یہ کاوش اپنے دور میں شہری منصوبہ بندی کا ایک شاندار نمونہ تھی۔ بعد میں اس کا نام تبدیل کر کے گارڈن ایسٹ رکھ دیا گیا۔ آج بھی پیڈرو روڈ اور بریٹو روڈ کراچی کے علاقے گارڈن ایسٹ میں موجود ہیں۔
فرینک ڈی سوزا بھی اس برادری کا ایک اور بہت اہم نام ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ریلوے گارڈ سے کیا اور پھر زینہ بزینہ ترقی کرتے ہوئے 1929ء میں ریلوے بورڈ آف انڈیا کے پہلے انڈین ممبر بنے۔ تقسیم ہند کے بعد محمد علی جناح نے فرینک کو درخواست کی کہ وہ پاکستان آ کر ریلوے کا نظام ترتیب دیں۔ اس کام کے اختتام پر فرینک اپنی جائیداد عمر رسیدہ افراد کے نام وقف کر کے خود ہندوستان چلے گئے۔
جیروم ڈی سلوا کا شمار کراچی کے ان لوگوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے اس شہر کو بے تحاشہ رہائشی عمارتیں، پارک، حکومتی کوارٹر اور شاپنگ پلازہ دیے۔ انہوں نے اپنے ساتھی حسین کے ساتھ مل کر 500 گھروں پر مشتمل حسین ڈی سلوا ٹاؤن نارتھ ناظم آباد بنایا۔ حسین ڈی سلوا کراچی کی پہلی بلند رہائشی عمارت تھی۔ کراچی میں ان کی تعمیرات کی ایک طویل فہرست ہے، جس نے نئے کراچی کی بنیاد رکھی۔
برصغیر کی تاریخ کے پہلے کیتھولک میئر مینول مسقوٹہ 1945ء سے 1946ء تک کراچی کے میئر رہے۔ انہوں نے دو بار کراچی گوا ایسوسی ایشن کے سربراہ کے طور پر خدمات بھی انجام دیں۔ کراچی اور ہندوستان کے پہلے کارڈنل والیریان گراسیاس اور جوزف کوردیرو کا تعلق بھی گوا سے تھا۔ کارڈنل والیریان گراسیاس کا ذکر ٹائمز میگزین میں اگلے ممکنہ پوپ کے طور پر بھی کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ اور پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین چارلس لوبو، جنہیں یو این میں پاکستان کا سفیر بھی بنا کر بھیجا گیا تھا، گوا برادری کا معتبر نام ہے۔
ہرمن ریمنڈ ہائی کورٹ کے جج ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور سندھ کے چیف پراسیکیوٹر بھی رہے۔ اس کے علاوہ سڈنی پریرا جوہری توانائی کمیشن کے چیئرمین کے عہدے پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ اگر کھیل کے میدان کی بات کی جائے تو مینن سوریز نے مردوں کے اور فوبی باربوزہ نے خواتین کی بیڈمنٹن، مائیکل روڈریگز نے ٹیبل ٹینس میں پاکستان کا نام روشن کیا۔
ایک بہت لمبے عرصے تک اس برادری نے اپنی موسیقی سے بھی کراچی کے باسیوں کا دل لبھایا ہے۔ رالف ڈی ارانج گزشتہ پچاس برسوں سے کلاسیکی گٹار بجا رہے ہیں۔ یہ پاکستان میں موجود چند پرتگالی فنکاروں میں سے ایک ہیں۔ آج بھی پاکستان کے ایک انتہائی مایہ ناز فنکار لوئس جے پنٹو عرف گمبی اپنے فن سے مداحوں کو محضوظ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے بتایا، ”پاکستان کے سابق صدر جرنل ضیاء الحق سے پہلے کراچی میں گوا برادری نے موسیقی میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ تقریباً سارے کلبوں اور ہوٹلوں میں یہی لوگ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔ ضیاء الحق کے برسرِاقتدار آنے کے بعد ان فنکاروں نے مغربی ممالک کا رخ کیا۔‘‘
انہوں نے مزید بتایا، ”میں یہ سمجھتا ہوں کے میری پہچان ہمیشہ پاکستان کے اس موسیقار کی حیثیت سے ہی ہو گی، جس نے موسیقی میں مشرقی رنگ شامل کیا۔‘‘ گوانس کی مادری زبان کونکنی آج بھی اس برادری میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ کسی بھی محفل میں کونکنی زبان میں موسیقی کا ہونا لازمی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے کھانے بھی بہت مشہور رہے ہیں۔ کراچی میں سو سال پرانی مسقوٹہ بیکری آج بھی اپنے ذائقے دار کیک کی وجہ سے مشہور ہے۔
شہر کراچی میں گوا مسیحیوں کی ایک صدی پرانی نشانی کراچی گوان ایسوسی ایشن کے بارے میں کینیڈا میں مقیم 62 سالہ مینن روڈریگز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ”یہ کلب گوا پرتگالی ایسوسی ایشن کے نام سے 1887ء میں وجود میں آیا تھا۔ اس کی خوبصورت عمارت 1905ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ 1936ء میں اس کا نام تبدیل کر کے کراچی گون ایسوسی ایشن رکھ دیا گیا۔‘‘
مینن روڈریگز نے گوانس کے عیسائیوں پر ایک تحقیقی کتاب”کراچی کے گوانس” بھی مرتب کی ہے۔ یہ کتاب اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس دور میں بہت کم لوگ ہیں، جو گوان کمیونٹی کے بارے میں جانتے ہیں۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد ہی گوا کےمسیحیوں نے بیرونی ممالک کا رخ کر لیا تھا۔ مینن نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا گیا، 1953 ’’ء کے بعد سے ہی گوانس نے انگلستان، کینیڈا، آسٹریلیا اور امریکا کا رخ کیا۔ یہ لوگ سیاسی اور اقتصادی تبدیلیوں کے تناظر میں اچھی زندگی کی تلاش میں ملک سے باہر گئے۔‘‘
جب کہ رونالڈ ڈی سوزا کا کہنا تھا کہ ”1925ء میں جب کینیڈا میں اچھے مواقع موجود تھے تو بہت سے گوانس نے وہاں کا رخ کیا۔ لیکن ضیاء الحق کی حکومت میں جب بین المذاہب ہم آہنگی میں کمی آنا شروع ہوئی تو بہت سے لوگ اچھی زندگی اور مذہبی آزادی کی تلاش میں بھی دوسرے ممالک چلے گئے۔‘‘
کراچی شہر میں اتنے عرصے تک فعال رہنے والی گوان برادری آج بھی اپنے کلب میں کرسمس اور دیگر تقریبات منعقد کرتی ہے مگر یہ اب اس چار دیواری تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
اس حوالے سے کراچی گوانس ایسوسی ایشن کے ٹرسٹی لیذلی روڈریگز نے ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ”اس وقت کا کراچی کچھ اور ہی تھا، کرسمس پر پورا صدر سجایا جاتا، گلیوں میں چراغاں ہوتا تھا۔ ہم سب بلا کسی خوف و خطر خوشیاں مناتے تھے۔ کوئی کسی سے اس کے مذہب اور عقیدے کے بارے میں نہیں پوچھتا تھا کہ وہ پارسی ہے مسلمان یا عیسائی۔ ہم سب بس ایک ہو کر خوشیاں مناتے تھے مگر اب یہ سب کچھ ممکن نہیں رہا۔‘‘
ملک چھوڑ کر جانے کے حوالے سے اک سوال پر انہوں نے کہا کہ ”میں ملک چھوڑ کر کہاں جاؤں گا۔ کراچی جیسا کوئی شہر نہیں، اس شہر کی بات ہی کچھ اور ہے۔ میں یہ ملک اور شہر چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا۔‘‘ انیسویں اور بیسویں صدی میں گوا کے مسیحیوں نے تعلیم، موسیقی، کھیل اور سماجی کاموں میں وہ خدمات سرانجام دیں، جو فراموش نہیں جا سکتیں۔ آج بھی گوانس مختلف محکموں میں اپنی خدمات ایک محبِ وطن شہری کے طور پر سرانجام دے رہے ہیں۔(قومی آواز)
پاکستان
پاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے
اسلام آباد، پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ۔ایران جنگ بندی کے لئے 60 روزہ مذاکرات کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
پاکستان کے حکومتی ذرائع کی اج بروز بدھ انادولو ایجنسی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کی غرض سے 60 روزہ نئے مذاکراتی دور کے آغاز کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کے تحت تجویز کردہ نئے شیڈول کا مقصد، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے معاملے پر تعطل کے شکار، براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ اطلاع کے مطابق پاکستان کی تجویز کا مقصد فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔
پاکستان کی نئی تجویز کے حوالے سے واشنگٹن، تہران یا اسلام آباد کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد کی یہ نئی کوشش ابتدائی 60 روزہ مدت گزشتہ ہفتے ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ فریقین نے اس مدت میں توسیع کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔ یہ مدت 17 جون کو شروع ہوئی اور 16 اگست کو ختم ہوگئی تھی۔
پاکستانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اس بات پر ایک غیر اعلانیہ مفاہمت موجود ہے کہ دونوں ممالک نیا تنازعہ شروع نہیں کریں گے۔
بتایا گیا ہے کہ تازہ پیش رفت پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران کے بعد سامنے آئی ہے۔ منیر کی ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں طویل عرصے سے تعطل کے شکار امریکہ-ایران براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز پر غور کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، کم از کم 15 نومولود بچے جاں بحق
اسلام آباد، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک سرکاری اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے کم از کم 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ بدھ کی صبح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کی تیسری منزل پر لگی۔
مقامی نشریاتی ادارے جیو ٹی وی نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 15 بتائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے کچھ دیر پہلے لگی اور اب اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔ جیو ٹی وی نے بتایا کہ صرف ایک نومولود بچے کو زندہ بچایا جا سکا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے ’’گہری تعزیت‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ’’فوری تحقیقات‘‘ کی ہدایت کی۔
انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف ’’سخت ترین کارروائی‘‘ کی جائے گی۔
جیو ٹی وی نے امدادی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ خراب ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات عام ہیں، جہاں حفاظتی ضوابط اور تعمیراتی قوانین پر اکثر عمل نہیں کیا جاتا یا ان کا نفاذ مؤثر نہیں ہوتا۔ جنوری میں جنوبی بندرگاہی شہر کراچی کے ایک گنجان تجارتی مرکز میں شدید آتشزدگی سے کم از کم 65 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
بدھ کا واقعہ پاکستان کی تاریخ میں اسپتالوں میں پیش آنے والے ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعات میں سے ایک ہے۔ حکومت سرکاری اسپتالوں کے ذریعے رعایتی طبی سہولیات فراہم کرتی ہے، تاہم سرکاری شعبہ صحت شدید مالی قلت، ناقص انتظام اور گنجائش سے زیادہ مریضوں کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
کیا پاکستان کے عاصم منیر ایرانی فوجی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں
اسلام آباد، پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کے روز تہران میں طاقت کے اہم مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر، پارلیمنٹ، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی، جو امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار ہیں۔تاہم امن مذاکرات میں تعطل کے درمیان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ثالث کے طور پر منیر کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ آیا وہ ایک بااثر فوجی رہنما کی حیثیت سے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
منیر کے دورہ ایران سے چند روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ڈاکٹروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ ختم کی جائے، جبکہ ایران کو برتری حاصل ہے۔ ان کا یہ پیغام واشنگٹن کے ساتھ ساتھ تہران کے اپنے سکیورٹی اداروں کے لیے بھی تھا۔انہوں نے کہا، ’’بہتر ہے کہ ہم اب جنگ ختم کر دیں کیونکہ اس وقت ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے۔‘‘
چند گھنٹے بعد، 21 اگست کو ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کسی بھی امریکی غلط اندازے کی صورت میں ’’انقلابی، تباہ کن، پشیمان کردینے والے اور ہلاکت خیز‘‘ ردعمل کا وعدہ کیا۔
یہ ایرانی صدر اور اب ملک کی فوجی قیادت سنبھالنے والے افراد کے درمیان موجود خلیج کی واضح مثال تھی، اور تجزیہ کاروں کے مطابق منیر کو اسی صورتحال سے بھی نمٹنا ہوگا۔
اسی لیے پیر کے روز منیر کی سب سے اہم ملاقات جنرل محسن رضائی سے قرار دی جا رہی ہے، جو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری ہیں۔ رضائی بنیادی طور پر فوج اور خامنہ ای کے درمیان رابطے کا پل ہیں۔
منیر کا تہران کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے اور دنیا بھر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکی آمیز ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ پابندیوں کے اعلان کی توقع کی جا رہی تھی، جن کے تحت تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو بھی سزا دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔
بعد میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے نام سے وسیع پابندیوں کی مہم کا اعلان کیا، جس میں ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، ہوا بازی، ٹیکنالوجی اور جہاز رانی کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تاہم دیگر ممالک کو ایران سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کی وارننگ دینے کے باوجود بیسنٹ نے ان ممالک کے خلاف فوری طور پر کسی سزا کا اعلان نہیں کیا اور اعتراف کیا کہ ایسا قدم ’’عالمی مالیاتی نظام کو تباہ کر سکتا ہے۔‘‘
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملوں کا امکان برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا، ’’اگر ہمیں فوجی حملوں کی ضرورت پڑی تو ہم کریں گے۔ اگر ایران اتنا بے وقوف ہوا کہ اپنی حد سے تجاوز کیا یا امریکی فوج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو ہم وہ کریں گے جو ضروری ہوگا۔‘‘
یہ واضح نہیں کہ منیر کا دورہ ایران کے خلاف وسیع تر امریکی کارروائی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا یا نہیں۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق دورے کا وقت اہم تھا۔ منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے چند روز بعد تہران کا سفر کیا۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسلام آباد سے کہا تھا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔
پاکستان کی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایک روزہ دورے کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ’’جامع مذاکرات‘‘ ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایرانی حکام نے ’’پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں‘‘ کو سراہا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی، جو منیر کے ہمراہ تہران گئے تھے، نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے مذاکرات کو ’’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’اہم پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔
یہ رواں سال منیر کا تہران کا چوتھا دورہ تھا، تاہم اس ماہ کے اوائل میں ایران کی فوجی قیادت میں تبدیلیوں کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔
10 اگست کو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عبداللہی کو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا جبکہ رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں منتقل کیا گیا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر احمد وحیدی مارچ سے اپنے عہدے پر موجود ہیں، جب ان کے پیشرو جنگ کے ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہی فوجی رہنما ایران کی جنگ سے متعلق حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں، جس سے کسی فوجی ہم منصب کے لیے روایتی سفارت کاروں کے مقابلے میں تہران کو مذاکرات پر آمادہ کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
پاکستانی بحریہ کے سابق وائس ایڈمرل اور دفاعی تجزیہ کار احمد سعید نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا، ’’اس بحران کے دوران جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں آئی آر جی سی اور وسیع تر سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔‘‘
وزیر داخلہ محسن نقوی اپریل سے اب تک آٹھ مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن ان دوروں سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔تاہم منیر سیاست دان نہیں بلکہ ایک جنرل ہیں اور بظاہر انہیں ایرانی قیادت اور اہم طور پر امریکی صدر ٹرمپ، دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ٹرمپ پاکستانی آرمی چیف کو اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دے چکے ہیں۔
احمد سعید نے کہا، ’’چند روز قبل منیر کو کی جانے والی فون کال خود ٹرمپ نے شروع کی تھی اور پاکستانی قیادت سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔‘‘
ایرانی حکام نے منیر کو جو کچھ بتایا، ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق، وہ ان بیانات سے زیادہ مختلف نہیں تھا جو وہ گزشتہ پورے ہفتے سے اپنے ملک کے میڈیا کو دے رہے تھے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنرل محسن رضائی نے منیر سے کہا، ’’ہم امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے اور اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے اس سے بھی زیادہ واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے کام کر رہے ہیں اور امریکہ کو مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔‘‘
دوسری جانب پزشکیان نے منیر سے کہا کہ وہ واشنگٹن کو ’’اپنا لہجہ اور طریقہ کار درست کرنے‘‘ کا پیغام دیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ ’’طاقت اور دھونس پر انحصار کرنا عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔‘‘
عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی بھی منگل کو تہران پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ خصوصی طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے ایک الگ دور میں شرکت کریں گے۔ یہ سفارتی کوشش کئی ماہ سے پاکستان کی ثالثی کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔
عمان کا کردار نیا نہیں ہے۔ البوسعیدی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے قوانین کے حوالے سے ایران کے ساتھ مسلسل مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
لاہور میں مقیم دفاعی تجزیہ کار اعجاز حیدر کے مطابق عمان اور پاکستان کے سفارتی راستے ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔انہوں نے الجزیرہ سے کہا کہ ’’عمان اور اسلام آباد کے راستے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 5 میں آبنائے کے حوالے سے عمان اور ایران کے درمیان دوطرفہ مفاہمت پر زور دیا گیا ہے۔‘‘
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں سے گزرتی ہے۔
حیدر نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے کے مشترکہ انتظام سے متعلق معاہدہ امریکہ کے مفاد میں نہیں، اسی لیے ٹرمپ نے عمان پر بمباری کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب سابق پاکستانی بحری عہدیدار احمد سعید کے مطابق ثالث کے طور پر اسلام آباد کا فائدہ یہ ہے کہ اسے ’’وحیدی، عبداللہی اور رضائی تک براہ راست رسائی حاصل ہے، جو ایران کے فیصلہ سازی کے اصل معمار ہیں۔‘‘
مذاکرات کے قریب ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ البوسعیدی تہران میں ’’بنیادی طور پر یہ سننے کے لیے ہوں گے کہ ایران نے کیا فیصلہ کیا ہے اور اپنے پاکستانی ثالث کے ساتھ کیا بات چیت کی ہے۔‘‘
کنگز کالج لندن میں دفاعی مطالعات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ کے مطابق ایرانی فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان سامنے آنے والے اختلافات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کی موجودہ صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق پزشکیان اور قالیباف ’’بنیادی طور پر یہ خبردار کر رہے ہیں کہ ایران اس صورتحال میں غیر معینہ مدت تک نہیں رہ سکتا‘‘، جبکہ ’’آئی آر جی سی کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کے برعکس وقت واشنگٹن کے خلاف جا رہا ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ’’محسن رضائی، احمد وحیدی اور آئی آر جی سی اس بات کے تعین میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی مفاہمت پر عمل درآمد ہو سکتا ہے یا نہیں۔‘‘
ان کے مطابق، ’’ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کسی معاہدے پر مذاکرات کر سکتے ہیں اور قطر ثالثی کر سکتا ہے، لیکن اگر سکیورٹی ادارہ اس کے عملی نتائج کو قبول نہیں کرتا تو ان سب کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘
فی الحال منیر کو ان ثالثوں میں سب سے زیادہ موزوں امیدوار سمجھا جا رہا ہے جو ایرانی جرنیلوں کو جنگی کمرے سے مذاکرات کی میز تک لانے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
