تازہ ترین
دسویں کے کامیاب طلبہ اور تعلیم
الطاف جمیل ندوی
کل یعنی ۲۶ فروری کو صبح ہی صبح یہ نوید مسرت سنائی دی کہ ہماری وادی کے دسویں جماعت کے طلبہ و طالبات کی کامیابی و ناکامی کا اعلان ہوچکا ہے تو اس لحاظ سے سوشل میڈیا پر مبارکبادیاں پیش کی گئی ہر جگہ یا تو مبارکباد لکھی گی یا انگریزی زبان میں congratulations یا best wishes جیسے الفاظ کا تبادلہ ہوتا رہا کسی نے اپنے بچوں کی کامیابی پر اظہار مسرت کیا تو کسی نے اپنے کسی عزیز کی کامیابی پر خوشی کا اظہار اچھی بات ہے کہ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کی چھوٹی یا بڑی کامیابی پر ان سے اظہار محبت کرنا ان معصوم بچوں کو حوصلہ دینے کے لئے اہم ہے ان کی کامیابی پر انہیں تہنیت دینا ایک طرح سے انہیں تحریک دینا ہے مزید کامیابی سمیٹنے کے لئےاکثر یہ سب ہوتا رہا ہے کہ جب بھی خاص کر دسویں یا بارہویں جماعت کے نتائج ظاہر کئے جاتے ہیں تو بچوں میں امید اور خوف کی کیفیت یکساں ہوتی ہے تب تک جب تک انہیں آئے نتائج معلوم نہیں ہوتے اپنے بارے میں اب جوں ہی انہیں معلوم ہوجاتا ہے یا تو کھلکھلا جاتے ہیں چہرے ان کے اپنی کامیابی کی نوید سن کر یا مرجھا جاتے ہیں ان کی پیاری اور حسین صورتیں پر امسال آئے نتائج اس لحاظ سے کچھ زیادہ اہم نہیں ہیں اہل تفھیم کی نظر میں کیونکہ پورے سال کبھی طلبہ نے ایک لفظ بھی اساتذہ سے نہیں پڑھا
پورے سال طلبہ نے تعلیم سے آشنائی تو کیا ملاقات تک بھی نہیں کی اور آخر پر انہیں کامیابی اور ناکامی کی نوید سنائی گئی جب کہ سوائے پرچہ دینے کے طلبہ نے کبھی اسکول کالج کو مسلسل ایک سال تک دیکھا بھی نہیں خیر یہ ایک ایسا نقصان ہے کہ جس کی بھرپائی کرنا ممکن ہی نہیں کیونکہ ایک سال بیکار ہوجانا یا تعلیمی کوششوں سے دور ہوجانا نقصان ہے پر جو ہوگیا سو ہوگیا اب اس پر آنسو بہانے سے کیا ہوگا اصل میں ہماری تعلیمی پالیسی ہی کچھ ایسی ہے کہ جہاں یہ ممکنات میں سے ہے کہ تعلیم کا کچو مر ہی کیوں نہ نکل جائے تو بھی ہم خوشی سے پھولے نہیں سماتے کہ ایسا ہوا ہے مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ ایران چین وغیرہ جیسے ممالک میں تعلیمی اداروں نے کوشش کی کہ بچوں کو دوران لاک ڈاؤن تعلیم سے محروم نہ ہونے دیا جائے اس کے لئے انہوں نے جہاں مختلف کام کئے وہیں انہوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھا اس کے لئے کسی خاص کلاس کی تخصیص نہیں کی گئی بلکہ پہلی کلاس سے آخری کلاس تک کے بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کی کوشش مسلسل کی گئی ہم اپنی وادی کی بات کریں تو ہم اس سلسلے میں انتہائی بدنصیب لوگ ہیں کہ اس تیز رفتار اور ترقی پذیر دور میں بھی ہمیں انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھانے کے لئے لیپ ٹاپ موبائل میں سگنل آنے کے لئے اس قدر انتظار کرنا پڑتا ہے کہ بال سیاہ سے سفید تو ہوجاتے ہیں پر انٹرنیٹ سگنل کو نہیں آنا ہوتا ہے وہ آتا نہیں ہے نتیجہ پہلے ہمارے لمحے پھر دن پھر مہینے اسی انتظار میں بیت جاتے ہیں کہ کب سگنل آجائے اور میں پڑھنا شروع کر دوں پر اسے نہیں آنا تھا نہیں آیا اور بچے دیکھتے ہی رہ گئے
ہمارے ہاں بھی تعلیمی اداروں کے اساتذہ نے زوم یا ویڈیوز کے ذریعے پڑھانے کی کوشش کی پر نیٹ کا سگنل نہ ہونے کے سبب یہ تعلیم سے زیادہ وقت کا زیاں ثابت ہوا کئی ایسے بچوں کو بھی دیکھا کہ جو آنسو بہا رہے تھے کہ اب کیا ہوگا ہماری پڑھائی کا بہرحال تعلیم کے نہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے بچے کامیاب ہوگئے یہ ایک معجزہ یا کرامت ہی ہوسکتی ہے اب ایسا کیا کیا جائے کہ تعلیم کی یہ کمی پوری ہوسکے اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم خود کو اس بات کے لئے آمادہ کرلیں کہ تعلیم کی اپنی اہمیت ہے اور ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم علم کے زیور سے آراستہ ہوجائین ایسا نہیں کہ صرف ڈگری حاصل کرنے کی دوڑ لگا کر ہم صاحب استعداد ہیں یہ سوچ و فکر انتہائی درجہ کی پستی کی علامت ہے کہ ڈگری حاصل کرکے کوئی کبھی کمال کرسکے ایسا نہیں ہوا ہے جو لوگ بھی علمی دنیا خواہ وہ دنیاوی علوم ہوں یا مذہبی علوم دونوں کے لئے ایک چیز لازم ہے کہ مسلسل اس تاک میں رہا جائے کہ علم سے مزید آشنائی کے ذرائع میسر ہوں اور ان سے فائدہ اٹھایا جاسکے مطالعہ کتب علم کی دنیا کا سب سے کارآمد وسیلہ ہے مطالعہ سے ہی آدمی کسی بھی بات کو سمجھ سکتا ہے جیسے کہ گر آپ پی ایچ ڈی کسی بھی شعبہ یا شخصیت پر کر رہے ہیں اس کے لئے لازم ہے کہ آپ اس شعبے یا شخصیت کا خاکہ بنانے کے لئے اس بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہوں اور معلومات سوائے مطالعہ کتب کے میسر ہونا ناممکن ہے آپ چاہیں کتاب نیٹ پر پڑھیں یا کتاب اصلی صورت میں پڑھیں دونوں صورتوں میں کتاب تو پڑھنی ہی پڑھنی ہے اس کے سوا کوئی صورت ہے ہی نہیں معلومات کی جو تعلیمی نقصان امسال کرؤنا وائرس کے چلتے ہوا ہے اس کا ازالہ کرنے کے لئے آپ سب پیارے بچوں کو مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے
تعلیم سے ہی ہے وجود اقوام عالم
تعلیم زندہ اقوام کی زندگی کے لئے ایسی ہی حیثیت رکھتی ہے جیسے کہ انسانی جسم کے لئے اس کا سانس لینا لازم ہے اس کی نگاہ کے لئے روشنی ایسے ہی تعلیم بھی لازم ہے میں اپنے ان پیارے اور ذہین و فطین بچوں سے مخاطب ہوں جو وادی کشمیر یا بیرون وادی کے مکین ہیں پہلی بات جو آپ کو سمجھنا لازمی ہے آپ کسی بھی مذہب کی مقدس کتاب کو لے لیجیے تعلیم کے لئے ہر مذہب ترغیب ہی دیتا ہے اسی طرح ہمارے دین اسلام میں تعلیم کی بہت زیادہ اہمیت بھی اور فضائل بھی بیان کئے گئے ہیں آپ قرآن کریم احادیث سیرت طیبہ یا فقہ میں سے کوئی سی بھی کتاب اٹھائیں ہر جگہ تعلیم کے سلسلے میں ترغیب کے احکام و فضائل واضح بھی اور اشارے کنایہ میں بھی مل جائیں گئیں اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ خواہ کچھ بھی ہو تعلیم کے سوا اہل ایمان کو چارہ ہی نہیں تعلیم کے سلسلہ میں ہمارے اسلاف نے کس قدر آلام و مصائب برداش کئے یہ معلومات ہم آسانی سے ان کی کتابوں سے حاصل کرسکتے ہیں یہ فرائض سے بھی ہے اور سنن واجبات آپ جہاں چاہیں اس کے احکام مل جائیں گئے آسان لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں بنا تعلیم کے ہمارا ایمان مکمل ہونا محال اور دشوار ہے جہالت اور لاعلمی اسلام میں ایک نا پسندیدہ کام ہے جس کی حوصلہ شکنی کرنا اہم ہے
والدین کی خوشی
آپ کے والدین اپنا وجود کھو دیتے ہیں رات دن محنت و مشقت بھوک پیاس برداشت کر لیتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ ہمارے بچے کامیاب ہوکر ہمارے مصائب کا مداوا کریں گئے کیا آپ نے کبھی یہ تصور کیا ہے کہ آپ کے والد جو صبح سویرے ہی گھر سے نکل جاتا ہے اور دن پر بھر کام میں مصروف رہ کر تھکاوٹ سے چور ہوکر شام کو گھر پہنچ جاتا ہے وہ آپ کو خوشیاں میسر رکھنے کے لئے اپنا آرام اپنا درد اپنی کمزوری اپنی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتا ہے کبھی آپ نے سوچا ہے کہ گر آپ اس کی امیدوں کو پورا نہیں کرتے یا اس کے لئے کوشش بھی نہیں کرتے تو یقین کریں آپ کا والد ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے پر آپ کو احساس تک نہیں ہونے دیتا پر یہاں والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ فضول قسم کے مشورے دے کر بچے کو پریشان نہ کریں اپنی تمنائیں سوچ کر ان کی تکمیل کے لئے اپنے بچوں کو مختلف کورسسز کرنے کے لئے دباؤ نہ ڈالیں اس صورت میں بچہ پڑھنے کے بجائے الٹا پریشان ہوکر اپنی پسند سے بھی دور ہوجاتا ہے نتیجہ نہ ہی ادھر رہتا ہے نہ ادھر مثال کے طور پر بچے کی خواہش ہے اور اسکی پسند بھی کہ یہ انجینئر بن جائے اس کے لئے بچہ ہر طرح کی کوشش از خود کر رہا ہے پر اچانک والدین کہہ دیں کہ نہیں بیٹا آپ کو ڈاکٹر کسی صورت بھی بننا ہے تو یقین کریں بچہ کچھ بھی نہیں بنے گا الٹا یہ تعلیم سے بیزار ہوجائے گا بہتر ہے جن مضامین میں اس کی کارکردگی اچھی ہے اسے حق دیں ان کا ہی انتخاب کرنے کا
پیارے بچو
یہ جو ٘اپ اقوام عالم میں سے کچھ ممالک کو کامیاب یا کامیاب ممالک کہتے ہیں یا دیکھتے ہیں اس کے پیچھے بھی ان نوجوانوں کی محنت اور ہمت ہی پوشیدہ ہے جو تعلیم سے آراستہ ہیں ورنہ جاہل و مجہولوں کی افواج کتنی بھی زیادہ ہوں وہ کسی ملک اور قوم کی کامیابی اور فلاح کے ضامن ہو ہی نہیں سکتے آپ بڑے سے بڑے یا چھوٹے سائنس دانوں کو دیکھیں یا ڈاکٹر انجینئر دیکھیں ہر جگہ کامیابی کا واحد ذریعہ ہے تعلیم تو کیوں ہم اس جانب توجہ نہ دیں اور اپنی ملت و قوم کو ملک کا نام روشن کرنے کے لئے خود کو کیوں نہ زیور تعلیم مزین کریں اس میں صرف ہم دوسروں کے لئے ہی نہیں بلکہ خود اپنے لئے بھی کامیابیاں اور عزت نفس کے حصول کی راہ پاتے ہیں
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
